Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 5

وہ بھاگ کر اوپر پہنچی تو کانپ اٹھی۔ مایا کے کمرے کے سامنے بڑے ہال میں میرب بے ہوش پڑی تھی، وہ پھٹی پھٹی آنکھیں لیے تھوڑا آگے بڑھی

آگے کا منظر بے انتہا بھیانک تھا ۔اس کی روح کانپ گئی اور رونگٹے کھڑے ہوئے تھے. پورا جسم جیسے زلزلوں کی زد میں آیا تھا. ۔صرف ایک نظر ہی دیکھ پائی اور بے یقینی اور دہشت کے مارے چہرے پہ ہاتھ رکھ کر آنکھیں زور سے بھینچیں تھیں،

اندر خون کی ندی بہہ رہی تھی، بیوٹیشن کمرے کے ایک کونے میں بے ہوش پڑی تھی ۔

جبکہ دلہن کی تیزاب سے مسخ شدہ لاش صوفے پر پڑی تھی ۔کسی تیز دھار آلے سے گلا کاٹا گیا تھا ۔

اتنے میں بھگدڑ مچی تھی ۔ریان،سارا سمیرہ اور میرب کے پاپا ہال میں پہنچے تھے، ان کے پیچھے شفان ،ایس پی حارث اور کئ پولیس آفیسر اندر داخل ہوئے تھے ۔

ایک پولیس آفیسر نے باقی کسی کو بھی اندر آنے سے روکا ہوا تھا۔شفان نے کُلا اتار کر پھینکا تھا، اور پاگلوں کی طرح سیڑھیاں پھلانگتے ہوئے اوپر آیا کے تبھی ریان ثمر اور مایا کے پاپا نے اسے اندر جانے سے روکتے ہوئے سختی سے دبوچ لیا تھا ۔

کتنا کم وقت لگا تھا خوشیوں کے لمحوں کو ماتم میں بدلتے ہوئے ۔شفان فرش پر گھٹنوں کے بل گر کر پھوٹ پھوٹ کر رو دیا سب بے تحاشا رو رہے تھے ۔یہ کیا ہوا تھا ان کے ساتھ..

۔مایا کی ماما غش کھا کر بے ہوش ہو گئی تھی ۔
میرب بھی ہوش میں آ کر چلائے جا رہی تھی ۔
مایا کا بھائی سیف بھی دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا ۔سب سے پہلے یہ ہولناک منظر اسی نے ہی دیکھا تھا ۔اسی نے پولیس کو انفارم کیا تھا۔

پولیس اندر اپنی انویسٹیگیشن میں مصروف تھی ۔

وانیہ دیوار سے لگی بے تحاشا رو رہی تھی ساتھ سمیرہ بھی کھڑی تھی ۔وہ دیوانوں کی طرح روتے ہوئے شفان کو دیکھ رہی تھی کہ کتنا دردناک تھا اپنے عشق کو یوں تڑپتے ہوئے دیکھنا
کہ اچانک شفان نے خاموش ہو کر وانیہ کی طرف عجیب سی نظروں سے دیکھا تھا،
اس وقت اس کی زہنی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔
وہ دندناتا ہوا وانیہ کے مقابل آ کر کھڑا ہوا تھا، وہ اس کے جارحانہ تیور دیکھ کر سہمی تھی،،

تم،،،، تم کیوں اتنا سجی سنوری ہوئی ہو کس بات کی اتنی خوشی ہے ۔
سب ہق دق اسے دیکھ رہے تھے ۔
وانیہ نے ادھر ادھر دیکھ کر بے حد بے بسی اور بیچارگی کے ساتھ کہا
یہاں سب ہی تیار تھے،، اکیلی میں،،،،،،

شٹ اپ،،،،، وہ دھاڑا،، وا نیہ سہم گئی اور بلک بلک ہاتھوں میں منہ چھپا کے رو دی
یہی چاہتی تھی ناں تم،،،، لو دیکھ لو ہو گیا ۔۔اب یہ جھوٹے آنسو کیوں بہا رہی ہو ۔جاؤ جا کے جشن مناؤ،،،،تھمارے تو دل کی مراد پوری ہوئی ہے. راہ کا کانٹا جو صاف ہو گیا..

چٹاخ،،،، ریان نے زور کا طمانچہ مار کر شفان کو ہوش دلانے کی کوشش کی۔
سب ہکا بکا رہ گئے تھے اس کے اس عمل سے۔

پاپا یہ یہی چاہتی تھی ۔وہ پھر بے قابو ہوا،،، ثمر اور حارث نے اسے زور کے پکڑا ہوا تھا

شفان تم ہوش میں نہیں ہو بکواس بند کرو ۔اور بند کرو یہ تماشا ۔ ریان بھی دھاڑے تھے،،
پاپا اس کو کہیں یہاں سے چلی جائے ۔میں اس کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا ۔دفعہ ہو جاؤ… میری زندگی سے دور چلی جاؤ.. تمھاری بددعا ؤں نے برباد کر دیا مجھے.. وہ پاگلوں کی طرح اپنے بال مٹھیوں میں دبوچے فرش پر گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا.

وانیہ نے ایک بےبس نگاہ سمیرہ پر ڈالی اور وہاں سے بھاگی۔۔
بے تحاشہ روتے ہوئے وہ نیچے اتری اور باہر آگئ۔

دو اجنبی نگاہوں نے اس کا آخر تک اور بڑی گہرائی سے تعاقب کیا تھا۔

کتنی بدنصیب تھی مایا۔، وہ زندگی کے اس موڑ پہ تھی جہاں 99پر آ کر زندگی ہار گئی تھی اور ایک سانپ نے اسے کٹ کر دیا تھا ۔
اس کی آخری خواہش پوری ہوئی تھی، اپنے پاپا کے گھر سے رخصت ہونے کی ۔۔اور اگر قیامت آنی تھی تو جو مایا کے ساتھ ہوا پھر وہ کیا تھا ۔؟؟؟؟؟؟

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،
وہ باہر لان میں آئی تو سامنے تانی کھڑی رو رہی تھی لیکن وانیہ کی غیر ہوتی حالت دیکھ کر چونکی،،
وانی کیا ہوا؟؟؟؟ بتاو تو سہی،،، اور مایا کو کیا ہوا،،
تانی پلیز ۔،مجھے یہاں سے۔،،، لے جاؤ ۔،۔،،میں مر،، جاؤں گی۔۔رو رو کر اس کی ہچکی بندھ گئی تھی ۔
تانی بےحد پریشان ہوتی اس سنبھالتی ہوئی گھر لے آئی ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،

مایا کا سوئم ہو چکا تھا ۔

سب کی زبان پر ایک ہی بات تھی یہ سب کس نے کیا تھا۔ کیس ایس پی حارث کے پاس تھا ۔ اس نے اپنی پوری جان لگا دی تھی قاتل کو ڈھونڈنے میں ۔،اور اس کا پورا ساتھ دیا تھا شفان نے۔

لیکن اب تک ایک بھی سراغ ہاتھ نہیں لگ پایا تھا ۔
قاتل بہت شاطر تھا ۔اپنے پیچھے ایک بھی سراغ نہیں چھوڑا تھا ۔

بیوٹیشن کا کہنا تھا کہ اسے کچھ نہیں معلوم ۔وہ واش روم میں گئی باہر آئی تو کسی نے چہرے پر رومال رکھ کراسے بےہوش کر دیا تھا ۔وہ صرف اتنا دیکھ پائی تھی کہ مایا کو مظبوطی سے باندھا گیا تھا ۔

اب بھی شفان پولیس اسٹیشن میں حارث کے آفس میں بیٹھا تھا ۔،۔،

حارث مجھے ہر صورت اور ہر قیمت پر قاتل تختہ دار پر لٹکا ہوا چاہئے ۔اس کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا،،
میں اپنی پوری کوشش کر رہا ہوں یار۔،لیکن کوئی سراغ ہاتھ نہیں لگ رہا ۔،،۔یہ دیکھو فون کال ریکارڈ اس میں کچھ نہیں ہے ۔۔تمھارے خاندان کی اندر باہر کوئی دشمنی نہیں ۔،نہ فنگر پرنٹس ۔کچھ بھی نہیں
حارث نے پریشانی سے کہا ۔،

ہاں لیکن ایک بات کنفرم ہوچکی ہے ۔،،کہ قاتل کوئی انتہائی قریبی ہے۔
شفان بے طرح چونکا تھا ۔،

اسے گھر کے تمام معاملات کی خبر تھی ۔ہر راستہ ۔حتی کہ مایا کے روم کا بیک سائیڈ ڈور بھی ۔۔۔اور جس طرح کوئی مزاحمت نہیں ہوئی نہ کوئی آواز ۔۔اس سے یہی بات ثابت ہوتی ہے۔،،

اور ایک بات اور،،،،

کیا۔،،،،،،

جس طرح کوئی قیمتی چیز نہیں گئی اور وکٹم کو اتنا ٹارچر کیا گیا تو معاملہ انتہائی نفرت یا پھر کسی بدلے کا ہے ۔،

شفان گہری سوچ میں تھا کہ حارث نے پوچھا، ۔،

شفان ایک بات تو بتاو۔،تم نے وانیہ کو کیوں ڈانتا تھا ۔کیا وہ تم میں انٹرسٹڈ ہے ۔شفان نے ہڑبڑا کر نظر چرائی تھی۔
نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔،بس میرا دماغ ماؤف ہو گیا تھا ۔،،اس وقت مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ میں یا کر رہا ہوں اور کیوں؟ وہ بڑی ہی صفائی سے اپنا دامن بچا گیا..
یہ سن کر حارث نے سکون کا سانس لیا،

شفان مجھے تم سے اس بےوقوفی کی توقع نہیں تھی ۔،
حارث نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا

تم جانتے ہو تمھاری اس بےوقوفی کی وجہ سے وہ کتنی بڑی مصیبت میں پھنس سکتی تھی۔وہ تو میں ہوں…. جو فیملی کے ہر شخص کو جانتا ہوں کوئی اور ہوتا تو اس کیس سے، جسکا اوپر سے اتنا دباؤ ہے ہم پر۔،،،کیس سے جان چھڑانے کیلئے تمھاری اس بکواس کی بنا پر اس معصوم لڑکی کو کال کوٹھری میں ڈال دیتا اور کیس بڑی آسانی سے کلوز کر دیتا۔،،

حارث نے اسے اس کی سنگین غلطی کا احساس دلایا ۔،
وہ تو پہلے ہی اس دن سے کانٹوں پر لوٹ رہا تھا ۔اب بھی پچھتاوے کے درد سے پہلو بدل کر رہ گیا…

ایک تو زندگی کی سب سے قیمتی چیز کھو بیٹھا تھا اوپر سے کتنا دل دکھایا تھا اس نے سب کا خاص طور پہ اس نازک کومل سی لڑکی کا۔،جو کہ اس کی وجہ سے پہلے ہی اتنے دکھ اور درد برداشت کر رہی تھی…

وہ جانتا تھا سب ،،،،،،شروع دن سے۔،اس کے خالص منہ بولتے اور پاکیزہ جزبوں سے آگاہ ہونے کے باوجود وہ مکمل انجان بنا ہوا تھا ۔

جانتا تھا کے ریان پاپا کو علم ہوا تو وہ یقیناً مایا پر وانیہ کو ترجیح دیتے ۔
اس. لئے وہ اپنے لئے خود غرضی سے سوچتے ہوئے انجان بن گیا ۔
لیکن اب جو اس نے وانیہ کے ساتھ کیا تھا وہ کسی پل اسے چین نہیں لینے دے رہا تھا ،

دل میں پچھتاوے مچل رہے تھے.. بے حد بے چین.. کسی پل قرار نا تھا اسے اس معصوم کا دل دکھا کر
پر معافی کی تھوڑی بہت امید بھی تھی.

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،

وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی تھی کہ آخر اس سے کہاں اور کونسی بھول ہوئی تھی… کب اس نے اپنے قیمتی اور نازک جزبوں کو کسی پر ظاہر ہونے دیا تھا جو یوں سب کے سامنے اس کے نسوانیت و خود داری کی دھجیاں اڑائی گئی تھی، کتنی ٹھیس پہنچی تھی اس کے پندار کو۔،۔،کتنا روئی تھی وہ مایا کے گھر سے آ کر۔۔،

پورا مہینہ ہو گیا تھا ۔وانیہ اور تانیہ تو گھر سے ہی نہ نکلی تھی ۔امی نے ہی ان کو بتایا تھا کہ شفان نے سب سے معافی مانگی تھی اپنے رویے پر۔

اس کا پوری طرح دل ٹوٹ چکا تھا اور جو فیصلہ پچھلے دنوں کرتے ہوئے اس کی جان لبوں پر آ جاتی تھی وہ فیصلہ وہ ان چند دنوں میں بڑی آسانی سے کر گئ تھی

مایا کے چہلم کے بعد اس نے امی جی کو بتایا کہ اسے حارث کے ساتھ رشتے سے کوئی اعتراض نہیں ۔اسے یہ رشتہ منظور ہے۔امی جی بہت خوش ہوئیں تھیں

اور انھوں نے ریان سے بات بھی کی ۔کئی دنوں کے بعد اس سوگ اور گھٹن کے ماحول میں کوئی خوشی کی خبر سننے کو ملی تھی ۔وہ سب بھی خوش ہوئے تھے.

وہ کاری ضرب جو اس کی خودداری اور عزتِ نفس پر پڑی تھی اسے پتھر سے بھی بھی زیادہ سخت بنا گئی ۔

ریان گھر سے سوگ کا سا ماحول ختم کرنا چاہتے تھے اس لئے وہ سب سوائے شفان کے سمیرہ کی طرف چلے آئے۔
وہ سب لان میں بیٹھے تھے، شام کا وقت تھا ۔میرب بھی اچھی خاصی بہل گئی تھی..

سب نے چائے پی ۔ریان سمیرہ سے رشتے کی بات آگے بڑھانے کے بارے ميں پوچھ رہے تھے ۔

سمییرہ نے اثبات میں جواب دے دیا..

ٹھیک ہے سمیرہ میں جمال کو ہاں کہنے کے لئے فون کر دیتا ہوں ۔، مجھے تو اس گھپ اندھیرے میں امید کی یہی کرن نظر آئی اور میرب کی بھی یہی خواہش ہے ۔

شاید اسی سے ہی سب کا دھیان بٹ جائے ۔

جی بھائی ۔،،بس وقت سب سے بڑا مرحم ہے۔،انشاءاللہ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔..