Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 11

اسلام وعلیکم، وانیہ نے باآواز بلند سلام کیا

وعلیکم السلام،،، میری بچی آئی ہے کتنے دنوں بعد ۔سارا مامی نے اسے بے اختیار پیار کیا۔

آؤ ناشتہ کرو وانی، میرے پاس آکر بیٹھو، ریان نے لاڈ سے کہا..

لیکن وہ متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھنے لگی۔،

کسے ڈھونڈ رہی ہو وانی،، میرب کے لہجے میں شرارت تھی،

وہ گڑبڑائی،،نن نہیں،،، وہ میں نے بریک فاسٹ تو کر لیا ہے..
ماموں ،،نمی کہاں ہے مجھے نمی سے ملنا ہے،، دندناتی ہوئی آ تو گئی پر اپنا مدعا بیان کرنا تقریبا ناممکن لگ رہا تھا اسے،

وہ تو ابھی تک سوئی ہوئی ہے نکمی،،، سارا نے بتایا..

وہ خواہ مخواہ ہاتھ مسلنے لگی،،

آخر ریان نے اس کی مشکل حل کی۔وانیہ بیٹے تمہیں بڑوں کا فیصلہ تو پتا چل ہی گیا ہوگا۔لیکن میں چاہتا ہوں تم دونوں آپس ميں مشورہ کر کے ہمیں فائنل ڈیٹ کے بارے میں بتا دو۔، تاکہ ہم اچھے سے ہر فیصلہ لے سکیں، جاؤ شاباش،، شفان اپنے کمرے میں ہے اپنی مرضی بھی بتا دو اس کو،،

ریان نے جان بوجھ کر بہانا بنایا، اس کے چہرے سے انھیں اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ شفان سے ملنے آئی ہے لیکن اب جھجھک رہی ہے۔

جی اچھا،،، ماموں،، وہ پھر رکی نہیں، سب کی معنی خیز نگاہوں سے بچ کر اندر آئی ۔،کوریڈور سے گزر کر آخر میں اس کا روم تھا

اس نے ہلکے سے ناک کیا،،

Yes come in

اندر سے آواز آئی لیکن اس کی ساری ہیکڑی ایک پل میں اڑنچھو ہو گئی،،کل کی اس کی جسارتیں یاد آئیں تو جسم پر کپکپاہٹ سی طاری ہو گئی.

پر ازلی غصہ عود کر آیا، لمبی سی سانس کھینچ کر اندر داخل ہو گئی،،

اندر وہ بیڈ پر نیم دراز اپنے موبائل میں جانے کیا دیکھ کر مسکرا رہا تھا اسے سامنے دیکھ کر چونکا،، سامنے وہ افتا و خیزہ اسے گھور رہی تھی، اس کا تپا تپا سا خفا چہرہ قیامت ڈھانے کے لئے تیار تھا.

رائل بلیو کرتی شلوار میں سلیقہ سے دوپٹہ اوڑھے ہوئے وہ قیامت برپا کرنے کو تیار تھی، شفان اپنے قیمتی جزبوں کا اظہار ایک خاص وقت کے لئے اٹھا رکھنا چاہتا تھا لیکن وانیہ نے اس کی یہ مشکل بڑھا رکھی تھی..

تم آؤ اندر. آ جاؤ، وہ اٹھ کر بیٹھا،، بھاری لہجے کی گھمبیرتا سے وانیہ کا دل ڈگمگایا۔،

وہ اندر آ کر اس کے مقابل کھڑی ہوئی تھی،

آپ،،،، آپ کی ہمت کیسے ہوئی میرا رشتہ تڑوانے کی آپ کو یہ حق کس نے دیا تھا، مجھے آپ کی ہمدردی کی بھیک نہیں چاہیے، آواز رندھ گئی..

جبکہ شفان اس کی گوہر افشانی پر بھنا اٹھا، وہ بھی اٹھ کر اس کے مقابل کھڑا ہوا تھا ۔ آگے بڑھ کر اس کی پیشانی کو چھوا..

لگتا ہے سر پر چوٹ لگنے سے تمھارا کوئی سکرو ڈھیلا ہو گیا ہے،،،،، علاج کرنا پڑے گا ،،،،

چہرہ انتہائی سنجیدہ تھا لیکن آنکھوں میں شرارت جھلک رہی تھی،

وانیہ اس کے اس طرح چھونے سے کرنٹ کھا کر ایک قدم پیچھے ہوئی،

تمھیں کس نے کہا کے مجھے ہمدردی کا بخار آگیا ہے،،

تو پھر آپ نے مجھ سے شادی کا کیوں کہا، آخر آپ چاہتے کیا ہیں،، وہ جانتی تھی کے محبت تو اس سے وہ کرتا نہیں تھا۔تو پھر یہ کیا تھا وہ جھنجھلا اٹھی،

وہ اس کے بہت قریب چلا آیا، لو دیتے جزبوں سے بھر پور مدھم لیکن بھاری آواز سے بولا،

تمھیں کیا لگتا ہے میں نے ایسا کیوں کیا ہوگا،،

وہ بے اختیار پیچھے ہٹی۔ دھڑکن بے قابو ہو گئی، اس کی حالت سے لطف اٹھاتا وہ بھی آگے بڑھتا گیا ،پھر اسے رکنا پڑا اس کے پیچھے دیوار آ گئی،

وہ غصے سے ہونٹ کاٹتی جانے کو پر تولنے لگی تو شفان نے اس کے کندھوں کے قریب سے دونوں طرف دیوار پہ ہاتھ رکھ کے جانے کا رستہ مستود کر دیا،

جواب نہیں دیا تم نے بولو میں سن رہا ہوں، وہ بے حد شرارت سے کان اس کے چہرے کے قریب لے کر گیا،
وانیہ کو تو دن میں ہی چاند تارے نظر آنے لگے تھے،، بولتی کیا۔

میں نے ایسا محبت کے لیے کیا، شفان نے کہا.

آپ سے کس نے کہا کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں، وانیہ نے نظر چرائی،

میں نے کب کہا کہ میں تمھاری محبت کی بات کر رہا ہوں،

وہ اسے بری طرح باتوں کے جال میں پھنسا چکا ہے یہ ادراک ہوتے ہی وہ بری طرح نروس ہوئی،ااور مدھم سا منمنائی..
مجے جانے دیں.. پلیز… دل کمبخت بے قابو ہی ہوا جا رہا تھا

اچھا ادھر دیکھو، میری آنکھوں میں، شفان نے ہاتھوں کے پیالوں میں اس کا چہرہ بھر کر اس کی آنکھوں میں جھانکا، اب بولو کہ مجھ سے محبت نہیں کرتی تم،
بولو،

وانیہ نے اس کی سمندر سی گہری بھوری آنکھوں میں جھانکا اور،،،،، نظریں جھکا لیں،

بھلا ان ایکسرے مشین جیسی آنکھوں میں دیکھ کر کون کمبخت جھوٹ بول سکتا تھا،

تب شفان نے زرا سا جھک کر بڑے استحقاق سے اس کے ماتھے پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی،

وانیہ کے سامنے دنیا گھوم گئی، وہ کسمسائی.. پر شفان اس پر قابض رہا.. شفان اس کے چہرے کے بےحد قریب اس کا ایک ایک نقش اپنے دل میں اتار رہا تھا کہ نظر بھٹک کر اس کے نرم گلاب کی پنکھڑیوں جیسے شربتی کپکپاتے لبوں پر جا رکی.

پھر وہ بے خود سا جھکا اور اپنے لبوں سے اس کی سانسیں مقید کر گیا. وانیہ کی روح فنا ہوئی تھی. وہ نازک ہاتھوں سے اس کی شدت بھری قید سے آزاد ہونے کی کوشش کرنے لگی.. شفان نے ایک ہاتھ میں اس کا ہاتھ قید کر کے دیوار کے ساتھ لگایا.. دوسرا ہاتھ سختی سے اس کی نازک کمر کے گرد حمائل تھا.

وانیہ تڑپی مچلی… جب سانس سینے میں الجھنے لگا تو شفان نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا..اور دلچسپی سے تھر تھر کانپتی سرخ ٹماٹر چہرہ لئے لمبے لمبے سانس بھرتی وانیہ کی طرف محبت سے دیکھ کر بولا..

ہممم……. تو اب تو پتہ چل گیا ہوگا ڈئیر فیوچر وائفی کے میں نے ایسا اپنی محبت کے لئے کیا.. اگر ابھی بھی نہیں سمجھ میں آیا تو میں دوبارہ بلکل اسی طرح سمجھانے کی کوشش کر سکتا ہوں.

وہ ذومعنی سا بولا… اس کی حالت کے پیش نظر اپنی گرفت زرا سی ڈھیلی کی.

وانیہ نے زرا سا جھٹکا دے کر اسے پرے دھکیلا اور گھر ہی آ کر اگلا سانس لیا تھا،.. جبکہ شفان کے جاندار قہقہے نے دور تک اس کے کانوں میں رس گھول دیا تھا،…

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،

شادی کی تیاریوں میں وقت بہت تیزی سے گزرا تھا، اور وہ ملن کے. دن آن پہنچے جن کے لئے شفان نے پل پل انتظار کیا تھا ۔

نکاح ایک ہفتے پہلے ہی کر دیا گیا تھا.. وانیہ وقار سے وہ وانیہ شفان بن گیی تھی اور اسی دن سمیرا تانیہ اور وانیہ ریان ولا ہی شفٹ ہو گئی تھیں.. یہ بھی شفان کے ہی کہنے پر کیا گیا تھا کیونکہ اب وہ اپنی زندگی اپنی وانیہ کو لے کر کوئی رسک لینا نہیں چاہتا تھا.

. ان دنوں وانیہ جان توڑ کوشش کر کے اس سے چھپی رہی اور اس کے سامنے کم سے کم ہی رہی.. شفان بھی تڑپتے ‏کلستے خود سے عہد لیتا رہا کہ اسکا بدلہ تو وہ اپنی جانم سے گن گن کر لے گا.. سارے حساب بے باک کرنے کے ارادے باندھے بیٹھا تھا وہ تو جو وانیہ کی طرف نکلتے ہی چلے جا رہے تھے.

. سارے کسے بل نکال دے گا…… بس ایک مرتبہ وہ ہاتھ آ جاتی. لیکن وانیہ نے اس کو موقع ہی نہیں دیا تھا جس سے وہ خوب سارا تلملایا ہوا تھا. آج ابٹن کا دن تھا..

سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے ریان نے صرف بے حد قریبی لوگوں کو مدعو کیا تھا..

لان میں ہی سارے انتظامات کئے گئے تھے…
ریان ولا کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا.. وانیہ پیلے اور اورنج کلر کمبینیشن میں شرارہ پہنے دوپٹہ سلیقے سے سیٹ کیے ہلکے میک اپ کے ساتھ زمین پر اتری کوئی حور لگ رہی تھی.. شفان بھی سفید شلوار قمیض کے اوپر پیلی اور اورنج چنری گلے میں ڈالے کسی ریاست کا شہزادہ لگ رہا تھا. سب رشک کی نگاہ سے انھیں دیکھ رہے. تھے

سب بے حد مسرور تھے… سارا، ریان اور سمیرہ طمانیت لئے سٹیج پر بچوں کی نوک جھونک انجوائے کر رہے تھے..
شفان مبہوت سا تھا….. بار بار نظر گھوم کر اس دشمن جاں کے ملیح چہرہ پر جا ٹھہرتی.
جس سے سب نے شفان اور وانیہ کا خوب ریکارڈ لگایا ہوا تھا.. وہ بھی کونسا کم تھا… چپکے چپکے کبھی پاؤں سے اس کے پاؤں کو چھوتا تو کبھی ہاتھوں سے نظر بچا کر کوئی گستاخی کر دیتا…

وانیہ شرماتی گھبراتی پہلو بدلتی اور ہی اس کے دل کی گہرائیوں میں اترتی جاتی. اور وہ اور بھی اس کو تنگ کرنے لگتا. 😛

آخر تنگ آ کر اس نے اشارے سے سارا مامی کو پاس بلایا کیونکہ ان دنوں تو وہ ان کے ہاتھ کا چھالا ہی بنی ہوئی تھی.. سارا جلدی سے اس کے پاس آئیں. اس نے آہستگی سے رونی سی شکل بنا کر کہا کہ اس کی طبیعت ٹھیک نہیں… تھک گئی ہے اور آرام کرنا چاہتی ہے…

سارا نے اسے فوراً کسی نازک سی گڑیا کی طرح بازو سے تھام کر اٹھایا اور اسے لئے اپنے کمرے میں چلی آئیں
افف میری گڑیا ہمیں تو خیال ہی نہیں آیا کے تم تھک گئ ہو گی. دیر بھی تو کتنی ہو گئی ہے. رات کے ایک بج گئے ہیں.. میں تمھیں اپنے کمرے میں اس لئے لے کر آئی کے جانتی ہوں تم کتنی لاپرواہ ہو.. تھکاوٹ کی وجہ سے کھانا کھائے بغیر ہی سو جاؤ گی جبکہ میں دیکھ چکی ہوں کہ سٹیج پر میری گڑیا نروس ہو رہی تھی اور سہی طرح کھانا کھایا ہی نہیں.

سارا پیار سے کہتی اسے اپنے بیڈ پر بٹھا چکی اور پھر گویا ہوئی.. میں کھانا بھجواتی ہوں… تم آرام سے ریلیکس ہو کر بیٹھ جاؤ

یہ کہتی وہ باہر لان میں آ گئی. ریان نے آواز دی مہمان جانے لگے.. سب بھی اپنے اپنے کمروں میں آرام کرنے کی غرض سے چلے گئے.. جبکہ اس دوران سارا وانیہ کو یکسر بھول ہی گئی کے وہ اس کے کمرے میں ان کا انتظار کر رہی ہے..
سارے انتظامات دیکھتے ہوئے ریان نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا تو بیگم سے کہنے لگے

بھئی سارا اب جلدی سے اپنے سرتاج کے لیے کھانا لگا دیں.. بہت زبردست بھوک لگی ہے..

کھانے کے نام پہ سارا چونک گئی… اور افسوس سے سر پہ ہاتھ مارا.
اففف میں تو بھول ہی گئی

اب کیا بھول گئ ہیں ہماری بھلکڑ بیگم…

آپ کی پگلی بہو کو… اپنے کمرے میں بٹھا کر آئی تھی کے کھانا بھجواتی ہوں.. اور بھول ہی گئی.. اچھا ایک کام کریں آپ کچن میں چلیں میں اسے بلا کر لاتی ہوں.. پھر اکٹھے ہی بیٹھ کر کھائیں گے..

اوکے جناب… جیسا حکم… وہ مسکراتے کچن کی جانب چل دئیے اور سارا اپنے کمرے میں آئیں تو افسوس سے سر ہلاتی رہ گئیں..
وانیہ وہیں تھکن سے چور بیڈ پر آڑی ترچھی لیٹی تکیے کے گرد بازو لپیٹے سو گئی تھی.. سینڈل والے پاؤں زرا سے بیڈ سے نیچے لٹکا رکھے تھے..
ابھی وہ سوچ ہی رہی تھیں کہ اسے کیسے جگائیں.. فون کی طرف دیکھتا مصروف سے انداز شفان کمرے میں داخل ہوا..

وہ مما… کل…….. اس کے الفاظ منہ میں ہی رہ گئے تھے جب نظر مما سے ہوتے ہوئے مما کی نظروں کے تعاقب میں اس سوئے ہوئے نرم و نازک اور گداز سے وجود پر ٹھر گئی.

سارا نے مڑ کر اپنے بیٹے کو ملاحظہ فرمایا جو ان سے کوئی ضروری بات کرنے آیا تھا اور اب بات بھول کر ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھ رہا تھا.. لیکن مرکز نگاہ ایک ی جگہ پر آ کر ٹھہر جاتا تھا..
کوئی کام تھا شفان… سارا نے بظاہر سنجیدگی سے پوچھا لیکن آنکھوں میں واضح شرارت سی تھی…
نو مما…. میں چلتا ہوں صبح بات ہوگی.. اس نے بڑی مشکل سے وانیہ پر سے نظر چرائی..

ارے نہیں اب آ ہی گئے ہو تو زرا اپنی زمہ داری نبھاؤ. بھئی.. تمھارے پاپا کچن میں ویٹ کر رہے ہیں میرا.. کھانا دینا ہے انھیں… اور یہ تمھاری بیگم بغیر کھانا کھائے پتہ نہیں کونسے جہان کی سیر کو نکل گئی ہے. اسے اٹھا. کچن میں لے کر آؤ اور کھانا کھلاؤ..

جی مما مجھے معلوم ہے اس نے سہی طرح کھانا نہیں کھایا تھا… وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھتا بولا.
ٹھیک ہے بیٹا اسے لے کر آؤ اتنا میں کھانا گرم کر کے لگاتی ہوں. وہ شفان کے ماتھے پر بوسی دیتیں اس کی دائمی خوشیوں کی دعائیں مانگتی کمرے سے نلکتی چلی گئیں..

اس نے جلدی سے آگے بڑھ کر دروازہ لاک کیا اور بیڈ کی طرف آیا..

ہہممممممم…… تو ہماری نیندیں حرام کر کے خود مزے سے سو رہی ہیں.. اس نے دائیں طرف کروٹ لی ہوئی تھی شفان نرمی سے اس کی کمر کے پاس بیٹھ گیا.. دوپٹہ ایک طرف بکھرا ہوا تھا.. شفان نے دراز زلفیں گردن سے ہٹایئں اور گردن پر موجود تل پر اپنے لب رکھے..
وہ زرا سا کسمسائی…..