Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 8

شفان اسے لے کر اندر آیا تو سب ڈائینگ ھال میں کھانا شروع کر چکے تھے

وانیہ نے آ کر سلام کیا ریان نے اس کے سر پر پیار دیا
میری بچی کہاں رہ گئی تھی کب سے انتظار کر رہے ہیں ۔،

وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوئی ۔بس ماموں جان بھوک نہیں تھی ۔اس لئے ۔،

بھوک تو خود بخود لگ جائے گی جب اپنا فیورٹ پیزا دیکھو گی جو بھائی سپیشلی لائے ہیں تمھارے لئے ۔،نمی نے بتایا تو وہ آج اس کی ان مہربانیوں پر حیران ہوئی

شفان نے ڈائینگ ٹیبل پر اپنے ساتھ والی چئیر اس کے لئے پیچھے کرتے ہوئے کہا۔

اب جلدی سے بیٹھ بھی جاؤ بھوک لگی ہے۔ اور ساتھ ہی اس کے قریب بیٹھ گیا ۔سب اپنی اپنی باتوں میں بزی تھے۔

جبکہ سیف کی نظر بس شفان پر تھی ۔ شفان سب کو ڈشز پاس کر رہا تھا وانیہ کو بھی زبردستی دو تین پیس کھلائے تھے ۔

شفان کو بڑے واضح طور پر سیف کی آنکھوں میں شعلے بھڑکتے دکھائی دے رہے تھے ۔

یہی تو وہ چاہتا تھا. وہ جلے تڑپے. شفان نے ڈائریکٹ اس کی دم پر پاؤں رکھا تھا. اتنا تو بھی جان گیا تھا اپنے جانی دشمن کو. اور سیف حسب توقع بلبلا اٹھا تھا.. ۔وہ اپنے پلان میں کامیاب ہوا تھا ۔،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔،،،،،

وانیہ بیڈ پر ڈھے سی گئی ۔ وہ لوگ ابھی ابھی ماموں کے گھر سے واپس آئے تھے۔

امی جی تو آتے ساتھ ہی اپنے کمرے میں چلی گئی تھیں ۔
تانی اس کے لئے سر درد کی ٹیبلٹ لینے گئی تھی ۔

سوچ سوچ کے دماغ ماؤف ہوا جا رہا تھا کہ اب وہ ایسا کیوں کر رہا ہے ۔

اسے ایک ہی بات سمجھ میں آئی کہ جس طرح اس نے سب کے سامنے اس کی تزلیل کی تھی وہ اس کا مداوا کرنا چاہتا ہے۔

پر یہ سب اسے اور تکلیف دے رہا تھا ۔وہ اور زیادہ تڑپ گئی ۔تانی اندر ائی تو وہ رو رہی تھی ۔

اف او وانی اب کیا ہوا اب تو سب کچھ ٹھیک ہے ناں، اس نے پیار سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے کہا ۔
وانیہ نے ایک شکایتی نظر تانی پر ڈالی اور بھرائی آواز میں گویا ہوئی۔

کیا ٹھیک ہے تانی۔،تمھیں کیا ٹھیک لگ رہا ہے ۔، میرا رشتہ طے ہو گیا ہے ۔میں اس سے دور رہنا چاہتی ہوں ۔بہت دور ۔جانتی ہوں یہ ممکن نہیں لیکن میں بھولنا چاہتی ہوں اسے ۔وہ بار بار میری برداشت کیوں آزمانے چلا آتا ہے ۔ آخر میں نے بگاڑا کیا ہے اس کا ۔وہ بے بسی سے بولی

تانی بھی اس کی کیفیت سمجھ گئی۔

وہ جو یہ سمجھی تھی کہ خود کو پتھر کا بنائے بیٹھی ہے آج اس کی ذرا سے قریب آنے پر چھناکے سے ٹوٹ گئی تھی۔

اچھا ٹھیک ہے ۔اب جیسے آپ چاہیں گی ویساہی ہوگا۔ آئی پرامس۔، اب یہ لیں ٹیبلٹ اور لے کے سو جائیں ۔اپنی طبیعت نہ خراب کریں ۔

تانی نے فکر مندی سے کہا ۔پھر وہ بھی ٹیبلٹ لے کے چپ چاپ لیٹ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،

شفان ہر قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا۔ حارث بھی اس کے پلان میں برابر شریک تھا۔

اس نے بڑے برے طریقے سے وانیہ کو زچ کیے رکھا.

اور پھر وہ ہر قدم پر وانیہ کے ساتھ اس کے قریب رہا ۔کالج لانے اور لے جانے تک وہ سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتا۔

وانیہ لاکھ جھٹپٹائی ، تلملائی اور اس سے دور رہنے کی پوری کوشش کی لیکن سب بے سود ۔وہ اس کا کوئی احتجاج خاطر میں نا لایا۔

ادھر سیف وانیہ اور شفان کی مسلسل نگرانی کر رہا تھا ۔ وہ ان کی قربت پر انگاروں پر لوٹ رہا تھا ۔، اور ان انگاروں سے انکو اور ان کی زندگی کو جلا کر بھسم کر دینا چاہتا تھا ۔ وہ اگلا پلان تیار کر چکا تھا ۔اس پر عمل کرنے کا دن آن پہنچا تھا ۔

شفان بھی اس کے ہر ہر قدم سے باخبر تھا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،

کالج کا اینول فنکشن تھا ۔،فروری کا ٹھنڈا یخ دن تھا وہ۔،

فنکشن کا انتظام کالج کے وسیع عریض پلے گراؤنڈ میں کیا گیا تھا۔

شفان ،وانیہ اور نمرہ کو ڈراپ کر کے جا چکا تھا ۔ وانیہ نے وائٹ لانگ نفیس نگینوں والی میکسی کے اوپر بلیک لانگ جیکٹ پہنی ہوئی تھی ۔ہلکے میک اپ کے ساتھ وہ بے حد دلنشین لگ رہی تھی ۔نمرہ بھی بہت اچھی لگ رہی تھی ۔
اور پھر وہ دن بے حد تھکا دینے والا ثابت ہوا۔

شام پانچ بجے کے قریب فنکشن اختتام پذیر ہوا۔

سب آہستہ آہستہ واپس جانے لگے۔ وہ بھی نمرہ کو ڈھونڈتی ہوئی مین گیٹ کی طرف نکل آئی

متلاشی نگاہوں سے ادھر ادھر دیکھا۔ کہ تب ہی سیف وہاں چلا آیا ۔،

ہائے وانیہ ۔،

ہیلو سیف بھائی ۔،

کسے ڈھونڈ رہی ہو؟

نمرہ کو ۔،

وہ تو ابھی ابھی اپنی فرینڈ کے ساتھ اس کے گھر چلی گئی ہے۔گھر بتا کر گئی ہے۔ شفان کو کوئی ضروری کام تھا اس لئے اس نے مجھے بھیجا ہے ۔ کیونکہ اسے پتا ہے ناں کہ میں یہاں قریب ہی کام کے سلسلے ميں آتا ہوں ۔،

کتنی صفائی سے جھوٹ بول رہا تھا وہ۔ نمرہ تو اندر ہی اسے ڈھونڈ رہی تھی اور شفان پاگل تو نہیں تھا جو اسے بھیجتا۔

وانیہ جانے کیوں جھجھک محسوس کر رہی تھی ۔

چلو تمھیں ڈراپ کر دونگا پھر میں نے بھی کہیں جانا ہے.
۔بڑا مصروف سا انداز تھا۔

اوکے۔ چلیں۔،،،

وہ چپ چاپ آکر گاڑی میں بیٹھ گئی
۔
سیف نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔،

گاڑی میں خاموشی ہی رہی آخر سیف بولا۔،

آج تو کافی تھکن ہوئی ہو گی۔

جی ۔،،،کافی تھک گئے تھے ۔،

یہ لو یہ جوس ہے گاڑی میں ہی رکھتا ہوں میں ۔،کچھ تو فریش ہو جاؤ۔،

وانیہ کو کافی پیاس لگ رہی تھی اس لئے بلا تکلف جوس کی بوتل لے کر لبوں سے لگایا اور کافی زیادہ پی لیا۔،
تھینک یو سو مچ۔، سیف بھائی، بہت پیاس محسوس ہو رہی تھی
تھینکس بھائی.
۔
اٹس اوکے کوئی بات نہیں ۔،ایک بات تو بتاو ۔،

جی بولیں۔،؟؟

کیا تم شفان میں انٹرسٹڈ ہو۔،

وانیہ چونکی۔،۔،غیر متوقع سوال تھا اس لئے کچھ لمحوں تک تو بول ہی نہ پائی۔،

سوری بھائی ۔لیکن یہ میرا پرسنل میٹر ہے۔اپ اس بارے میں کیوں پوچھ رہے ہیں۔

وانیہ کو بے حد عجیب محسوس ہوا۔،سر زور سے گھوما تھا۔،اس نے بے اختیار اپنے ہاتھوں سے سر کو پکڑا۔ پہلے تو اسے لگا شاید تھکاوٹ ہے ۔لیکن تھوڑی دیر میں اس کی آنکھوں کے سامنے دنیا گھوم گئی ۔ تمھیں شفان سے محبت نہیں کرنی چاہئے تھی ۔میں تمہیں نقصان نہیں پہنچانا چاہتا تھا پر اب مجبور ہوں میری بےحد خوبصورت اور نازک گڑیا…..

سیف کا اطمینان قابلِ دید تھا۔،اور چہرے پر گہری شیطانی مسکراہٹ ۔

وانیہ نے زور سے سر جھٹک کر بند ہوتی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کی۔اس کے آخری الفاظ وانیہ کے رونگٹے کھڑے کر گئے ۔اور پھر بے ہوش ہو کر سیٹ پہ ڈھے گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،

وانیہ نے بمشکل اپنی بھاری ہوتی آنکھیں کھولیں ۔،سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ کراہ اٹھی۔

،بمشکل آنکھیں کھول کے بغور ارد گرد کا جائزہ لیا ۔کوئی بڑا سا کمرہ تھا بلکل خالی سامان کے بغیر۔ملگجا سا اندھیرا اور زیرو پاور بلب کی دل دہلا دینے والی سرخ روشنی

اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو دہل گئی.انتہائی خوف سے ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ ہوئی

اس کی جیکٹ اتار دی گئی تھی لیکن صد شکر کے سکارف گلے میں موجود تھا جو کہ اس کے گرد اچھی طرح لپٹا ہوا تھا ۔اس کے ہاتھ پیچھے کی طرف اور پیر مظبوطی سے باندھے گئے تھے۔ اس نے خود کو چھڑانے کے لئے ہاتھ پیر چلائے ۔مدد مانگنے کے لئے چلانے کی کوشش کی لیکن بےسود منہ پر بری طرح سے ٹیپ باندھا گیا تھا ۔

وہ تڑپنے لگی۔ سسکنے لگی۔

اور پھر اس کی نظر کونے میں پڑے ہوئے دو ڈرمز پر پڑی

۔جس پر اس اندھیرے میں بھی بڑے واضح طور پر بنی ہوئی انسانی کھوپڑی اور جلی حروف میں لکھا ہوا ڈینجرس ایسڈ دیکھا اور پڑھا جا سکتا تھا ۔

اس کی آنکھوں کے سامنے مایا کا مسخ شدہ چہرہ گھوم گیا۔

اور پھر اس کی روح کانپی تھی ۔اور رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔
اب تیزی سے اس کا دماغ چلنا شروع ہوا۔ سیف ،،،،، قاتل۔،،،
او خدایا۔،،،وہ بلک بلک کر رو دی۔ تو سیف تھا قتل ۔لیکن کیوں اور کس لئے ۔،،

اور اس کا خود کا انجام؟؟؟؟؟؟؟

وہ کس لئے تھی یہاں پر؟؟؟؟

تو کیا اس کی بھی موت قریب تھی ۔، وہ بھی مایا کی طرح درد ناک موت مرنے والی تھی۔؟؟؟؟

کئی سوالات تھے جو دماغ میں ہلچل مچا رہے تھے ۔،

اس کے بعد امی جی اور تانی کا کیا ہوگا؟؟

امی جی۔،،،،،،وہ دل میں پکار کر سسک اٹھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،

رات کے آٹھ بج چکے تھے لیکن وانیہ کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا

ریان ،سارا، ثمر اور میرب سمی کو دلاسا دےدے کر تھک چکے تھے ۔

نمرہ نے آ کر بتایا کہ وہ وانیہ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر جب تھک گئی تو گھر آ گئی ۔

شفان کا بھی کچھ پتا نا تھا ۔فون بھی نہیں اٹھا رہا تھا وہ۔،

پہلے انھوں نے اپنے تئیں کوشش کی تھی وانیہ کو ڈھونڈنے کی لیکن بے سود

جب کوئی فائدہ نا ہوا تو انھوں نے حارث کو کال ملائی۔

حارث نے انھیں تسلی دی کے وہ فوراً کوئی کاروائی کرتے ہوئے اسے ڈھونڈ کر لائے گا۔

سمی اور تانی کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا ۔۔

سارا نمرہ اور میرب بھی پریشان تھی کے ابھی تو پہلا زخم بلکل تازہ تھا ۔ اب یہ کیا نئی افتاد آن پہنچی تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،

شفان نے مسلسل سیف پر نظر رکھی ہوئی تھی ۔اس نے اس سائیکو کو بڑی آسانی سے اپنے جال میں پھانس لیا تھا.

تب اس نے دیکھا کہ سیف کالج کی طرف جا رہا ہے ۔

اس نے خاموشی سے اس کا پیچھا کیا اور حارث کو اطلاع دی کے شکار جال میں پھنس چکا ہے۔

اس نے اسے غلطی کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔

سیف وانیہ کو لے کر نکلا تو حارث اور اس کی ماہر فورس شفان کے ہمراہ اس کا پیچھا کر رہی تھی ۔

وہ رنگے ہاتھوں اسے ثبوتوں سمیت پکڑنا چاہتے تھے،
حارث شفان کے ساتھ اس کی گاڑی میں تھا،

شفان کے چہرے پر اطمینان اور ایک تمسخرانہ مسکراہٹ دیکھ کر حارث کو حیرت ہوئی تھی آخر وہ بول پڑا

شفان تمہیں ذرا ٹینشن نہیں ہے کیا، وانیہ اس درندے کے ساتھ ہے ۔وہ اسے کچھ بھی۔،،،،،

نہیں، شفان نے اس کی یک دم بات کاٹی،، اب وہ ایسا کچھ بھی نہیں کر پائے گا۔،اس کا لہجہ بے حد پر عزم تھا، ۔ تمہیں کیا لگتا ہے مجھے اس کی فکر نہیں، بہت عزیز ہے وہ مجھے ۔،میں خود مر جاؤنگا لیکن اس پر آنچ بھی نہیں آنے دوں گا…میں اپنی اور اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا اچھے سے جانتا ہوں…
اس کے لہجے میں چھپے جنون اور غیر معمولی سے سرد تاثر سے حارث چونک اٹھا…