No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 2
وہ اپنی اپنی باتوں میں مگن تھیں۔گیٹ سے گاڑی اندر داخل ہوئی ۔سب متوجہ ہوئے تھے وانیہ کے چہرے پر الگ ہی رنگ بکھرے تھے اسے لگا شاید اس دشمن جاں کا دیدار ہونے والا ہے ۔پر ہائے رے قسمت ۔
مایا بختاور گاڑی سے اٹھلاتے ہوئے باہر آئی ۔گرے شرٹ اور بلیک ٹراؤزر پہنے مغرور سی مایا۔ میرب کی چھوٹی بہن ۔
ہیلو. Every one….. سب یہیں ہیں گڈ۔
وعلیکم ہیلو۔وانیہ نے اسی کی طرح جواب دیا
کیسے ہیں سب ۔سارا خالہ اچھی سی چائے پلا دیں پلیز۔اس نے آتے ہی فرمائش کی ۔
تانی اور نمرہ تو گھاس پر بیٹھ کر سانپ اور سیڑھی کا کھیل انجوائے کر رہی تھیں
سارا اندر کچن میں رات کے کھانے کا انتظام کروانے چلی گئی تھی وہ بچوں کے ساتھ سمیرہ کو بھی ڈنر کہ لئے یہی بلانے والی تھی.
۔پھر ان کی لاڈلی بھانجی بھی تو یہی تھی ۔شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے ۔موسم کافی دلکش ہو رہا تھا ۔بادل اور ہوا۔ لان میں کھلے مختلف رنگوں کے گلاب کے پھول اور ان سے آتی دلفریب خوشبو۔
وانیہ اور مایا باتیں کرتے ہوئے چہل قدمی میں مصروف تھیں
ارے چیٹنگ کیوں کر رہی ہو، تانی اچانک چلائی تو وہ دونوں بھی ان کی طرف متوجہ ہوئی ۔
پھر وہ بھی دلچسپی سے ان کی گیم دیکھنے لگ گئی۔
پھر ہوا کا رخ تبدیل ہوا تھا ۔
وانیہ اور مایا دونوں کی نظر گاڑی سے باہر آتے شفان پر پڑی تھی ۔شاندار پرسنیلٹی جو مقابل کو متاثر کرنے کی پوری طاقت رکھتی تھی ۔۔با اعتماد اور مظبوط کردار۔ بلیک سوٹ میں ملبوس وہ کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا ۔وہ لان میں ان کی طرف ہی بڑھا
ہائے !!!!!کیا ہو رہا ہے یہاں؟ خوبصورت سی مسکراہٹ کے ساتھ وہ بولا
آئیں شفان بھائی ۔آپ بھی جوائن کریں اور اس نمرہ کو دیکھیں کیسے رو رہی ہے ہارنے پر۔
تانی کی بات پر نمی نے اسے زور سے چٹکی کاٹی
اف دیکھیں ناں بھائی
ارے لڑو تو مت؟ شفان نے انھیں ڈپٹا۔
چلو ٹھیک ہے اب تم دونوں کا ہو گیا ۔
اب ہمیں بھی باری دو ۔ شفان نے کن اکھیوں سے پاس بیٹھی مایا کو دیکھا
جبکہ وانیہ تو ابھی تک اس کی اچانک انٹری سے دم بخود ہوئی بیٹھی تھی ۔سر جو جھکایا تو اوپر اٹھانا بھول گئی ۔اپنی بےاختیاری پر غصہ آیا..
چلیں ٹھیک ہے آپ پارٹنر چنیں جس سے کھیلنا ہے نمی بولی۔
ہمم۔وہ دونوں کی طرف دیکھ کر بولا یہ وانیہ تو مجھ سے بچپن سے ہارتی آئی ہے
(واقعی وہ ہار ہی تو گئی تھی اس کے عشق سے)
آج زرا مایا جی سے دو دو ہاتھ ہو جائے
(اس نے اپنا پارٹنر چن لیا تھا) وانیہ کہ چہرے پہ سایہ سا لہرایا۔جو تانی نے بخونی محسوس کیا
وہ سب ان کو دیکھ رہی تھی گیم اپنے پورے عروج پر تھی ۔
مایا جیت کے بہت قریب تھی ۔اور شفان پریشان لیکن بدقسمتی سے 99پر آ کر وہ ہار گئی اور سانپ نے اسے کٹ کر دیا.
او شٹ… مایا بے اختیار چلائی…
(وہ بےخبر تھی کہ اصل زندگی بھی اسے 99پر آ کر ہرانے والی ہے۔اور ایک سانپ اسے کٹ کر جائے گا) اور وہ بھی بہت بری طرح سے ۔۔۔۔۔
…..،..،.،.،.،.،.،..،.،………….۔.
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
رات بیڈ پر لیٹی وہ یونہی ہلکا پھلکا میوزک انجوائے کر رہی تھی کے تانی اس کے لئے دودھ کا گلاس لئے اندر داخل ہوئی
یہ پی لیں ۔امی ابھی کچھ دیر بعد دیکھنے آیئں گی۔
وانیہ اٹھ بیٹھی اور دودھ لبوں سے لگایا
ایک بات کہوں وانیہ،،
ہمم کہو،
وہ شفان بھائی نے آپ کی جگہ مایا کو پارٹنر چنا۔مجھے بلکل اچھا نہیں لگا۔اور آپ کو؟
وہ معصومیت سے کہہ کر سوال پوچھ بیٹھی۔
وانیہ ہلکا سا مسکرائی اس کی فکر پر۔
پر کچھ نہ بولی….
اف پاگل ہو تم تو بلکل بھی وہ تو گیم تھی بےوقوف لڑکی ۔انھوں نے ریئل میں تھوڑی چنا ہے اسے۔ تانی بھی ہنس دی۔ (اور ان دونوں پر قسمت بھی)
آپ جانتی ہیں وانیہ کہ آپ کے لئے ایک بہت اچھا رشتہ آیا ہے،
ہاں جانتی ہوں ریان ماموں جان کے دوست کا بیٹا ہے۔ایس پی پولیس آفیسر ہےا
ور ان کا اپنا کروڑوں کا بزنس اور بلا بلا بلا۔،۔،اس نے سرسری انداز میں بولا تو تانی چڑ گئ۔
اف او وانیہ۔،۔،کچھ نہیں ہو سکتا آپ کا۔،۔،آپ کسی ایک معاملے میں تو پیش رفت کریں نہ خود کچھ کرتیں ہیں نہ مجھے کچھ کرنے دیتی ہیں ۔آخر آسمان سے فرشتے تو آ کر بتائیں گے نہیں شفان بھائی کو، خود ہی کچھ کرنا پڑے گا ناں۔
وانی کو اس پر ہنسی آئی
اچھا دادی اماں، ایک دفع ایگزیم ہو جانے دو پھر سوچیں گے ناں، ابھی تو بہت وقت پڑا ہے،
ابھی سوچیں گی آپ، واہ، تانی سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔،۔،۔۔،۔۔۔،،۔۔۔،۔،۔۔،۔،۔۔۔،۔،۔۔۔،۔،۔،۔۔،۔،۔،۔،۔،۔
وہ بے چینی سے کیفے ٹیریا کے باہر دیکھ رہی تھی۔ انتظار کافی تکلیف دہ تھا ۔پھر اس کا چہرہ کھلا
شفان گاڑی سے اتر کر اندر داخل ہوا ۔
ہیلو جان ِشفان ۔وہ آتے ہی بہت محبت اور اپنائیت سے بولا
لیکن مقابل وجود ٹس سے مس نہ ہوا۔
ارے یار آدھا گھنٹہ ہی تو لیٹ ہوں، اب جانے بھی دو
جانے ہی تو نہیں دے سکتی شفان یوسف تمھیں،
کون کمبخت جانے کو کہتا ہے میں تو زندگی بھر کے لئے آ کر لے کہ جاؤں گا
وہ ذومعنی انداز میں بولا تو وہ بلش ہو گئی ۔
شفان نے دلچسپی سے مایا بختاور کا یہ روپ دیکھا اور دل میں اتارا۔
تم نے گھر والوں سے کیا کہا ہے، وہ ادائے بے نیازی سے بولی،
زیادہ نہیں بس!!!!! اپنی بےتابیاں بیان کی ہیں میرب بھابھی کو ۔۔،،،
اس کی شوخیاں تو آج جان نکالے دے رہی تھی ۔وہ جزبز ہوئی
آپ سیریس ہوں گے کہ میں جاؤں،، اس نے ادھر ادھر دیکھ کر بے بسی سے کہا ۔
تو میں بھی بہت سیریس ہوں جناب اسی لیئے تو میں نے اپنا مدعا میرب بھابھی کے آگے رکھا بھابھی نے امی بابا سے بات کی اور انھوں نے تمھارے پیرنٹس سے، وہ ایک ہی سانس میں بولا
مایا بغور جائزہ لے رہی تھی کہ وہ پھر شوخی پر اتر آیا
ہاں مجھے پتہ ہے آج کچھ زیادہ ہی ہینڈسم لگ رہا ہوں،،، ۔،۔،،
جی کچھ زیادہ ہی۔،۔،وہ تلملا کر بولی چوری جو پکڑی گئی تھی،
چلو پھر اب اسی ہینڈسم کہ ساتھ پوری زندگی گزارنی پڑے گی ،کر لوگی گزارہ؟
شفان پلیز، وہ عاجز آ گئی تھی اس کی شرارتوں سے،
او come on مایا میری ہونے والی بیوی ہو ۔۔اتنا اوکورڈ کیوں فیل کر رہی ہو، ہمارا ایک دوسرے پر پورا حق ہے، میں ایک ڈاکٹر تم ایک پاگل واہ کیا جوڑی ہے
اس نے پھر چھیڑا اب تو مایا نے تلملا کر اسے زور سے چٹکی کاٹی تھی ۔
وہ شہر کا ماہر سائکائسٹرس ڈاکٹر تھا اسی لئے تو چہروں اور دلوں کے گہرے بھید بڑی آسانی سے پا لیا کرتا تھا ۔اپنے پاپا کی طرح اپنے پیشے میں ماہر۔ اپنا پرائیویٹ کلینک بنا رکھا تھا ۔
اف ظالم لڑکی کچھ تو اپنے ہونے والے شوہر کا خیال کرو۔وہ بازو کو سہلانے لگا
بس تمہارے اگزیم کے بعد فوراً شادی ہے، وہ کچھ بولنے لگی تو شفان نے ٹوکا۔ ،بس میں کچھ نہیں سنوں گا اب تو ایک ایک پل گزرنا بھاری ہے. اور تم مجھے خود سے دور رکھنے کے چکروں میں ہو لیکن کب تک…..
،،،،،،،،،، وہ پھر گہری نظروں سے اسے دیکھتا ہوا زومعنی انداز میں بولا
اسکی نگاہیں پھر جھکی تھیں۔دونوں ایک دوسرے میں مگن اپنے خوبصورت مستقبل کے سنہرے خواب بن رہے تھے
اور پاس ہی تقدیر کھڑی ان پر مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،۔
