No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 7
شفان کو کسی پل قرار نہ تھا ۔سوچ سوچ کر دماغ سن ہو چکا تھا ۔ اپنے کمرے میں بے چینی سے یہاں وہاں ٹہل رہا تھا ۔،
مایا کے جانے کے تین دن بعد……………. جو تازہ گلابوں کی مسہری بنائی گئی تھی ۔وہ بھی اپنی حسرتوں پر ماتم کرتی اتار دی گئی تھی ۔،
لیکن چھت پر بے انتہا خوبصورت مصنوعی پھولوں کی سجاوٹ ہنوز برقرار تھی ۔،
کیسے اس کے سہانے مستقبل کے خوابوں کو کچل دیا گیا تھا ۔اس کے ارمانوں کو مسل دیا گیا تھا ۔،۔،مسہری والے کمرے میں اب جا بجا حسرتیں بکھری پڑی تھی ۔ کتنا مشکل سے سمیٹا تھا اس نے خود کو۔
اپنے خون ہوئے ارمانوں اور جزبوں کا گلا گھونٹنا تھا..
لیکن اب جب قاتل کا سراغ ملا تھا تو اس کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے۔۔کتنا بےبس تھا وہ۔،،،،،،،
،اور وانیہ
اس نے زور سے اپنے بال مٹھی میں بھینچے۔،،
دماغ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ
شفان صاحب ۔،سیف تم سے شدید نفرت کرتا ہے ۔اسے کہاں گوارہ ہو گا تمھاری زندگی میں کوئی ۔،وہ کبھی بھی تمھیں خوش نہیں ہونے دے گا۔،کبھی بھی نہیں..
اُس کے مطابق شفان نے اس کی محبت اس سے چھینی تھی اور اب وہ انتقام کے طور پر کبھی اس کی زندگی میں کسی کو نہیں آنے دے گا.
وہ تمہاری زندگی سے جڑے ہر شخص کو یونہی اپنے پاؤں کے نیچے روند ڈالے گا جسے تم سے پیار ہوگا. ییا جسے تم چاہو گے.
مایا کی موت کے صدمے نے اس سے یہ کیا بے وقوفی کروائی تھی وہ وانیہ پر چیخا تھا اور سیف کو پتا چل گیا ہوگا کہ ان دونوں کے بیچ کچھ ہے.
اس نے اس معصوم لڑکی کی زندگی کو کتنے بڑے خطرے سے دوچار کر دیا تھا اسے اب صحیح معنوں میں اندازہ ہوا تھا ۔
کتنا دکھی اور بےبس تھا وہ… اس وقت اس کا دل تکلیف اور بےبسی کے احساس سے پھٹا جا رہا تھا ۔، گھٹن کا احساس ہوا تو اپنے روم سے باہر لان میں نکل آیا۔..پپھر بھی دل کو سکون نہ آیا تو……… یونہی بے سبب چلتا رہا.
کیا حالت ہو گئی تھی. ملگجے سے اداس حلیے میں بھی وہ بے حد پیارا لگ رہا تھا
اسے اس وقت کسی جزباتی سہارے کی اشد ضرورت تھی ۔،
یونہی چہل قدمی کرتے ہوئے وہ اپنے گھر سے نکلا اور غائب دماغی سے عین سامنے والے گھر کے گیٹ کے آگے قدم تھم سے گئے ۔
نجانے کیوں لیکن اس کا دل کیا کہ وہ اندر چلا جائے ۔جتنا وہ بےچین تھا پھر اس نے اپنی سوچ کو عملی جامہ پہنانے میں دیر نا لگائی اور اندر داخل ہو گیا…
شام کا وقت تھا۔، موسم کافی سہانہ ہوا تھا ۔فروری کی یخ بستہ اور ٹھنڈی میٹھی شامیں تھیں..
لاؤنج میں داخل ہوا ۔سمیرہ ٹی وی پر کوئی ٹاک شو دیکھنے میں مگن تھی۔
اسلام و علیکم ۔،کیسی ہیں پھپھو جان ۔،
وعلیکم السلام ۔،میں بلکل ٹھیک ۔آؤ کافی دن کے بعد چکر لگایا میرے بچے نے۔،
شفان دھیمے سے مسکرایا۔
وانیہ اور تانی کدھر ہیں ۔نظر نہیں آ رہیں۔،اس کی بے چین نگاہیں پتہ نہیں کس کی متلاشی تھیں.
بس کیا بتاؤں بچے۔،ناک میں دم کر دیا ہے دونوں نے۔،اودھم مچا رکھا ہے کچن میں ۔،
شفان کھل کر ہنسا۔،کیوں کیا ہوا پھپھو جان ۔،۔،
آج نیا خبط سوار ہے کوکنگ کا۔،خود ہی جا کر دیکھ لو کچن میں ۔، چائے بنانے کو بولنا زرا وانیہ کو۔،
وہ اٹھا اور کچن کی طرف چل دیا۔ دروازے پر جا کر جائزہ لیا۔،تانی بڑے مزے سے کرسی پر بیٹھی ڈائینگ ٹیبل پر کورنش بجا لاتی بے سری آواز میں وانیہ کا سر کھا رہی تھی اور وہ ایپرن باندھے سلیقے سے پکوڑے تل رہی تھی ۔،دوپٹہ ٹیبل پر رکھا ہوا تھا۔،ہلکے فروزی کلر کی فراک اور جینز کی ٹائٹس پہنے سادہ سے حلیے میں بھی دودھیا رنگت دمک رہی تھی۔گھنے سیاہ چمکدار بال پونی ٹیل کی شکل میں بل کھاتے کمر کے نیچے تک جھول رہے تھے.. مصروف سا انداز تھا۔،.
ان دونوں نے ابھی تک اسے نہیں دیکھا تھا
وہ دلچسپی سے وانیہ کو دیکھ رہا تھا۔ زاویہ نظر آج انوکھا اور اچھوتا ہی تھا.
یہ لو میری پکوڑے جیسی بہن کے لئے گرما گرم پکوڑے ۔،اس نے دروازے کی طرف رخ کیا تو سٹپٹا گئی۔،،
تانی پکوڑے کے خطاب پر تلملائی۔، اور وانی آپ خود چمٹی کہیں کی۔،۔،تانی کی نظر شفان پر پڑی تو وہ زرا تمیز کے دائرے میں آئی ۔،۔،
شفان کا تانی کو اسے چمٹی کہنا مزہ دے گیا ۔قہقہہ لگا کر ہنس پڑا ۔ نجانے کتنے عرصے بعد کھل کر ہنسا تھا کچھ دیر پہلے کی ساری اذیت دیتی کیفیت اڑنچھو ہو چکی تھی ۔،
ٹھہرو تمھیں تو میں تمیز سکھاؤں بڑی بہن سے بات کرنے کی۔، وانیہ تانی کی طرف لپکی… مقصد دوپٹہ اٹھانے کا تھا۔،
تبھی اس کا توازن بگڑا تھا اس سے پہلے کہ وہ فرش پر سجدہ ریز ہوتی دو مضبوط بانہوں نے اسے نازک سی کمر سے پکڑ کر تھام لیا۔تھا، وانیہ کی تو سٹی گم ہو گئی کیونکہ اس لمس میں عجیب سی شدت تھی.
جبکہ وہ بے حد گہری اور پر تپش نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
اس کا نرم۔و۔نازک اور گداز وجود شفان کے دل میں حشر برپا کر گیا تھا ۔ایک قیامت سی گزری تھی اس کے دل اور جزباتوں پر…
وانیہ کا گلابی سا چہرہ سرخ ہوا تھا.. جیسے جسم کا سارا خون چہرے پر سمٹ آیا ہو. شاید اس لمس کی شدت اسے اپنی روح تک میں سماتی محسوس ہوئی تھی.
فوراً سنبھلی تھی ۔،کے تانی بولی۔،، شکر ہے شفان بھائی آپ نے سنبھال لیا نہیں تو ہڈی وڈی ٹوٹ جاتی تو حارث بھائی کا کیا بنتا۔،
اچھا۔،واقعی شکر ہے میں نے سنبھال لیا ۔، شفان نے سنبھال پہ زور دیا ۔
وانیہ خود کو کمپوز کرتی فوراً اپنا نظر اندازی کا لبادہ اوڑھا ۔،۔
کوئی کام تھا آپ کو، ۔
ہمم۔،۔،چائے پینے آیا تھا ۔پھپھو نے کہا کچھ اور بھی بن رہا ہے سو دیکھنے چلا آیا ۔،
آپ بیٹھیں بھائی ۔،وانی نے بہت مزے کے پکوڑے بنائے ہیں ۔
شفان ڈائنینگ ٹیبل پر ہی براجمان ہو گیا ۔سمیرہ بھی وہیں چلی آئی۔ تانی نے جلدی سے چائے سرو کی ۔ وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔،وہ مسلسل اسے نظروں کے حصار میں لئے ہوئے تھا ۔اس کی نظروں کی تپش خود پر بڑی شدت سے محسوس کرتی وہ بار بار پہلو بدل کر رہ گئ.
شفان کا دماغ بہت تیزی سے کام کرنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،
شفان گھر آیا تو بے حد پرسکون تھا ۔بے حد شانت۔،۔،۔ جیسے روح تک میں سرشاری اتر گئی ہو
ساتھ ہی ایسی خاموشی جیسے. طوفان کے آنے سے پہلے کا سکون ہوتا ہے۔
اس نے اگلے دنوں کا لائحہ عمل اپنے دماغ میں ترتیب دے لیا تھا جب وہ اس گھر میں گیا تھا تو اس کا زندگی کا کوئی مقصد نہیں تھا اب اسے جینے کا ایک مقصد مل چکا تھا ۔
اس نے اپنے لئے ایک سمت متعین کر لی تھی ۔ جس پر چل کر اس نے اپنے جانی دشمن کو شہ مات دینی تھی ۔
اس نے اپنے دل میں سیف کو مخاطب کیا۔،
سیف یاور جس طرح تم نے مجھے برباد کیا۔،میں تمھارا جینا حرام کر دونگا ۔ جس طرح تم نے میرے خاندان کو رلایا میں تمھاری زندگی موت سے بھی بدتر کر کے تمھیں خون کے آنسو رلاؤں گا
بہت شاطر ہو ناں تم۔،میں تمھیں ایسا کانٹوں پہ گھسیٹوں گا کہ تلملا کے تم خود کوئی غلطی کرنے پر مجبور ہو جاؤ گے۔ اور تب میں گریبان سے گھسیٹتے ہوئے پھانسی کے پھندے تک لے کر جاؤں گا۔، تمھیں مایا کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب دینا ہوگا ۔،
اور اب بہت بڑی غلطی کر دی تم نے وانیہ پر نظر رکھ کے۔، وہ تمھیں ہرانے کے لئے میری سب سے بڑی طاقت بنے گی۔،
میرے ہی خاندان کی دوسری لڑکی پر تم نے نظر رکھی اس جراّت پر تو تمھیں ایسی سزا دوں گا کہ تمھاری سات پشتیں پچھتائیں گی۔،۔۔۔۔۔
تم نے اسے میری ضد اور میرا جنون بنا دیا ہے…وہ اب صرف میری ہے. صرف میری.. کسی نے اسے آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی تو میں اس کی آنکھیں نکال لوں گا. اور تم… تم تواس کے سائے کو بھی چھو نہیں سکو گے..
اس کے دل و دماغ میں اس وقت ضد تھی.. جنون تھا اور شاید پاگل پن بھی… لیکن پھر بھی اس کی روح تک میں سکون پھیل گیا تھا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،
شفان کچن میں آیا تو سارا ڈنر کی تیاری کر رہی تھیں ۔،
ماما ایک بات کہنی تھی آپ سے۔،
ہاں بیٹا بولو سن رہی ہوں ۔،
وہ ماما میں چاہتا ہوں کہ پھپھو اور میرب بھابھی کے گھر والوں کو ڈنر پہ بلا لوں۔ میں اس گھٹن سے نکلنا چاہتا ہوں ۔زرا گھر پہ گیدرنگ ہو گی تو دل بہل جائے گا۔ اس نے بھر پور ایکٹنگ کی۔
کیوں نہیں یہ تو بہت اچھا آئیڈیا سوچا میرے بیٹے نے۔،سہی میرب بھی بہل جائے گی اور اس کے پیرنٹس کا بھی دھیان بٹ جائے گا ۔
اوکے آپ فون کر کے انوائیٹ کر لیں کچھ گھر کی ڈشز ہو جائیں گی اور کچھ میں باہر سے لے آتا ہوں ۔،
سارا نے فون کر کے یاور صاحب کو اور سمیرہ کو بلا لیا۔میرب بہت خوش ہوئی تھی
تیاری مکمل ہو چکی تھی ۔شفان بھی بازار سے نجانے کون کون سی ڈشز لے آیا ۔ایک سپیشل چیز لانا نا بھولا جو کے پلان میں شامل تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،
یاور صاحب کی فیملی پہنچ چکی تھی وہ ڈرائینگ روم میں بیٹھے ہلکی پھلکی سیاسی حالات پر گفتگو کر رہے تھے ۔
سیف بھی دنیا جہان کی معصومیت چہرے پر سجائے مسز یاور کے پہلو میں بیٹھا تھا ۔
وہ سب سے بڑی گرم جوشی سے ملا تھا۔
شفان کو پھپھو کے آنے کا انتظار تھا ۔ اور پھر سمیرہ پھپھو بھی آ گئیں لیکن صرف تانی کے ساتھ ۔،
اسلام۔و۔علیکم،،،
وعلیکم اسلام ۔،پھپھو جان کہاں رہ گئے تھے آپ لوگ میں کب سے ویٹ کر رہا ہوں ۔،۔،اور وانیہ کہاں ہے ۔،شفان نے بڑی بے چینی سے پوچھا اور وہاں موجود ایک شخص نے پہلو بدلا
بس بیٹا ۔،۔،انھیں کی وجہ سے لیٹ ہوئی ہوں۔،اور اب وانیہ بولی کے آپ لوگ جائیں مجھے بھوک نہیں ۔،
یہ لڑکی بھی نہ زرا خیال نہیں رکھتی اپنا۔کیسے بھوک نہیں ہے آپ ٹھہریں میں لے کے آتا ہوں اس کو ۔،وہ بہت لاڈ اور فکر مندی سے بولا۔،
چلیں میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ ۔، تانی نے کہا۔،
ارے نہیں ابھی تو تم آئی ہو۔،تم بیٹھو میں جاتا ہوں ۔،
وہ نکلا تو دو شعلہ برساتی آنکھوں نے باہر تک اس کا تعاقب کیا۔اس کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔،
پھپھو کے گھر پہنچا تو چوکیدار بابا نے گیٹ کھول دیا اندر آیا۔
لاؤنج سے ٹی وی چلنے کی آواز آ رہی تھی وہ اندر داخل ہوا تو مبہوت سا سامنے اس پری پیکر کو دیکھے گیا جو ٹی وی دیکھتے دیکھتے غالباً نیند کی وادی میں کھو گئی تھی ۔
آنکھیں موندے صوفے پر بڑے ریلیکس موڈ میں لیٹی تھی ۔
کالے لباس میں سفید دودھیا وجود دمک رہا تھا ۔نازک پاؤں ٹیبل پر رکھے ہوئے روئی کی گالوں کی مشابہت اختیار کیے ہوئے تھے ۔کتاب سینے سے لگائے دونوں بازو کتاب پر لپیٹے وہ جانے کونسی دنیا کی سیر کو نکلی ہوئی تھی ۔
شفان بےخود سا ہو کر آگے بڑھا۔
اس نے وانیہ کے چہرے کے آگے چٹکی بجائی،، او ہیلو میم۔،،،
وانیہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی سامنے کا منظر انتہائی غیر متوقع تھا اس کے لئے…. وہ جیسے اس کے اتنے قریب اس پر جھکا ہوا تھا اسے لگا کہ خواب ہے۔
اس نے زور سے آنکھیں ملیں۔،
وانیہ کی اس ادا سے شفان نہال ہوا اور اسے اپنے جزبوں پر بند باندھنا مشکل ترین ہو گیا.
اسی لئے اس کو چھو لینے کے بہانے اس کے نرم اور گداز بازو پہ نرمی سے چٹکی کاٹی۔،
میں ہی ہوں میڈم۔،خواب نہیں ہے کوئی۔
اس کی اس جسارت پر وہ بھونچکی رہ گئی ۔ فوراً اٹھ کھڑی ہوئی ۔،
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔اس نے بازو سہلاتے ہوئے چڑ کر خفگی سے کہا۔
لینے آیا ہوں تمھیں ۔، شفان نے لینے پر زور دیا.
اس کے لہجے میں کچھ تھا کہ وانیہ نے چونک کر دیکھا۔
لیکن مجھے آپ کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔
… ………. <اونہہ…………….I’ll cut my hands) Before I ever reach For you again.>< وانیہ جلتے کڑھتے اپنے دل میں بڑبڑائی>
اس نے کرارا سا جواب دیا ۔
نہیں آئی تو میں زبردستی لے جاؤں گا۔ اس نے دلچسپی سے اس کا غصہ سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھا۔
وانیہ نے جھٹکے سے شعلہ برساتی آنکھو سے شفان کو گھورا
میرا مطلب ہے ماما نے اتنے پیار سے ڈنر بنایا ہے۔اور انھوں نے ہی مجھے بھیجا ہے۔ اب ماں کا حکم ٹال تو نہیں سکتا ناں۔ اگر نا آئیں تو زبردستی لے جاؤں گا ۔
جب وہ مسلسل اس کے سر پہ سوار ہی رہا تو ناچار اسے اٹھنا پڑا۔،
جلدی سے حلیہ درست کیا ۔ اور اس کے ساتھ چل دی۔۔وہ فاتحانہ سی مسکراہٹ لئے اس کی تقلید میں آگے بڑھا۔
