Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode. 10

شفان نے ہاسپٹل پہنچ کر گھر میں سب کو انفارم کر دیا تھا ۔، لیکن ریان کو سختی سے منع بھی کر دیا کہ ریان کے علاوہ کوئی ہاسپٹل نہیں آئے گا۔،

وہ گھر پہ آ کر ساری تفصیل بتائے گا اور یہ کہ وانیہ بلکل ٹھیک ہے

وانیہ کو ایڈمٹ کروا دیا ۔،سر پہ دو جگہ پر چوٹ لگی تھی لیکن صد شکر کے زیادہ گہری نا تھی ۔ اس لئے فکر کی کوئی بات نہ تھی ۔

وہ کوریڈور میں بینچ پر بیٹھا اس چیلنج کے بارے سوچنے لگا جو وہ سیف سے حارث کے سامنے کر آیا تھا..

وہ اسے کتنی پیاری تھی کس قدر عزیز تھی. اسے آج اندازہ ہوا۔،اس نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔وہ اس فیصلے سے اتنا مطمئن کیوں تھا۔ اس کی روح تک میں ایک سرشاری ایک سکون کی کیفیت تھی.

یہ اس کے دل کی آواز تھی اس کے دل کا فیصلہ تھا۔، شفان کے دل نے وانیہ کی محبت کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا.

۔وہ اسے جان سے بھی زیادہ عزیز ہو گیی تھی. ۔وہ شگاف جو مایا کے جانے کے بعد اس کو روح کو تکلیف پہنچاتا تھا اس کا مداوا وانیہ نے اپنی محبت سے کر دیا تھا.. وانیہ نے اسے مکمل کر دیا تھا.

اس نے بینچ سے ٹیک لگا کر آنکھیں سکون سے موند لیں ۔

ریان ہاسپٹل آئے تو جتنی دیر تک وانیہ کو ٹریٹمنٹ دی جا رہی تھی شفان نے پاپا کو تمام تفصیلات سے آگاہ کر دیا ۔

اور اپنے چیلنج کے بارے میں بھی۔

،اس کی محبت اور اپنے دل کی خواہش کے بارے میں بھی۔،

ویسے تو بڑا مظبوط بنا رہا لیکن پاپا کو سامنے پا کر وہ بھی بکھر گیا اور ان کے گلے لگ کر بے آواز آنسو بہانے لگا۔،

ریان نے فخر سے بیٹے کی پیٹھ تھپتھپائی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،

ریان وانیہ کو گھر لے آئے ۔،وہ بہت ڈری سہمی ہوئی تھی لیکن یہاں بھی ریان نے باپ کی طرح اسے مظبوط سائبان ہونے کا احساس دلایا

گھر آکر امی اور تانی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔ وہ خود رو رو کر نڈھال ہو چکی تھیں ۔ تانی اسے کمرے میں لے گئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،

ریان نے سب کو سیف کے بارے میں ساری تفصیل بتا دی تھی ۔

اگلے دن نیوز پیپر میں بھی یہ خبر چھپ چکی تھی

یاور صاحب اور مسز یاور تو یہ سوچ سوچ کر ہی پاگل ہوئے جا رہے تھے کہ آخر ان کی تربیت میں کہاں کمی رہ گئی
تھی ۔

انھیں کیا خبر کے سانپ کے سپولیے کو جتنا مرضی دودھ پلاؤ ۔آخر میں تو وہ ڈستا ہی ہے ناں۔،

سب سیف سے انتہائی نفرت محسوس کر رہے تھے ۔ میرب بھی بہت ٹینس ہوئی تھی ۔

لیکن سیف اپنے انجام کو پہنچنے والا تھا ۔یہ بات تسلی بخش تھی۔،

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،

ریان نے سب کی رضا مندی سے سمیرہ سے شفان کے لئے وانیہ کی بات کی تھی ۔

حارث تو پہلے ہی وانیہ کے منہ سے محبت کا اعتراف سن کر اس رشتہ سے دستبردار ہوتے ہوئے خود ہی ریان کو انکار کر چکا تھا ۔

سمیرہ کو اور کیا چاہیے تھا ۔،اور ویسے بھی وہ کہاں ریان کی بات ٹال سکتی تھی ۔

ان کی بیٹی ہمیشہ کے لئے مظبوط سائبان تلے زندگی گزارتی۔،۔،اس سے اچھی تو کوئی بات ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔

اس لئے انھوں نے بلا تکلف ہاں کہہ دیا ۔ اور پھر کسی بھی قسم کا خطرہ مول نا لیتے ہوئے پچیس دن بعد شادی کی ڈیٹ فکس کر دی۔

اب تو سمیرہ بھی جلد از جلد اس زمہ داری سے سبکدوش ہونا چاہتی تھیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔،،،،،،،،،،،،

اس حادثے کو پانچ دن گزر چکے تھے. سمیرا اپنے گھر آ چکی تھی وانیہ اور تانیہ کو لے کر. لیکن ریان نے ان کی سکیورٹی کے سخت انتظامات کر دییے تھے ۔،

سوچ سوچ کر اب بھی وانیہ کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے تھے ۔کہ اگر شفان ٹائم پر ناں پہنچتا تو اس کا کیا حشر ہوتا. اب بھی وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی ۔وہ بور ہو رہی تھی..
۔
شفان اس گھر میں داخل ہوا جہاں پر اب اس کے جینے کی وجہ رہتی تھی ۔اس کا رخ اس دشمن جاں کے کمرے کی طرف ہی تھا۔کہ اچانک تانی اس کے سامنے آئی ۔

جی بھائی کوئی کام تھا آپ کو۔؟؟وہ رکھائی سے بولی۔،

شفان کو حیرت ہوئی،، نہیں مجھے وانیہ سے ملنا ہے،

لیکن وہ آپ سے ملنا نہیں چاہتیں۔،،

شفان کے چہرے پر سایہ سا لہرایا، سنجیدگی سے بولا
کیوں،،

مجھے نہیں پتا،، تانی جھنجھلا کر بولی،، وہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی جان سے پیاری بہن مزید اس شخص کی وجہ سے دکھی ہو ۔

تمھاری بہن کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔،شفان مزے سے بولا

جبکہ تانی چڑ گئی ۔اور اس سے پہلے تانی کچھ کہتی سمیرہ وہاں چلی آئی ۔

جانے دو بیٹا اپنے بہنوئی کو اندر ۔کیوں تنگ کر رہی ہو بےچارے کو،، یہ نہیں ہونے والی بیوی کو پوچھے گا تو اور کون پوچھے گا۔

تانی ہونقوں کی طرح منہ کھولے کھڑی تھی کہ شفان بولا
جی ہاں سالی صاحبہ،، تمھاری وانی سے شادی ہے میری اس پچیس تاریخ کو، ۔،اور اب ہٹو سامنے سے کیوں کباب میں ہڈی بنی ہوئی ہو،،

تانی خوشی سے پاگل ہونے کو تھی۔،،تبھی شفان کے گلے میں چھوٹے بچوں کی طرح جھول گئی

او شفان بھائی آپ کو نہیں پتا کہ میں کتنی خوش ہوں
آج،،

تھینک یو ۔،،تھینک یو سو مچ۔،،لیکن ہاں،، ایک دم وہ پھر آکڑ گئی،، میری بہن کا خیال نا رکھا آپ نے پھر دیکھا آپ،،
اچھا بابا،،،، رکھوں گا،، اب بس جانے دو ۔،،

اوکے اوکے۔،جائیں ۔،وہ شرارت سے ہنسی اور امی کے ساتھ کچن میں چلی گئی.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،

وہ کمرے میں داخل ہوا تو وہ بیڈ پر کمبل تانے اوندھے منہ تکیے کے گرد بازو لپیٹے ،،آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی ،،

شفان جو استحقاق اس پر رکھنے والا تھا اس کی بنا پر ناک کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔،

سو اندر چلا آیا،

وانیہ کو شاید آہٹ محسوس ہوئی تھی،

تانی پلیز میرے پاؤں دبا دو۔، لیٹ لیٹ کر بہت درد ہو رہا ہے، امی بھی تو بستر سے ہلنے نہیں دے رہیں،، وہ قدرے بیزار سی بولی

شفان قریب آیا… بے خود سا آگے بڑھا…دراز زلفیں کسی آبشار کی طرح بستر پر ایک طرف پھیلی ہوئی تھیں دودھیا گردن پر بنا تل. جسے چھو کر دیکھنے کی انوکھی خواہش سی دل میں بیدار ہو اٹھی.

ایک دل تو کیا اس کے گداز پاؤں کو چھو کر دیکھے،، پر،،
تانی بیٹھ بھی جاؤ،، اس نے ذرا سا سرک کر تانی کے لئے جگہ بنائی.
وہ اس کے بہت قریب بیٹھ چکا تھا..

وانیہ،، شفان نے گھمبیر سی بھاری آواز میں پکارا تو اس نے سٹپٹا کر آنکھیں کھولیں، اور پھر فوراً اٹھ بیٹھی،،

آپ،، اس نے گڑبڑا کر کہا،،

کیسی طبعیت ہے؟؟ سوال پوچھتے ہوئے بغور اسے دیکھا،،

دماغ میں اس دن کے اس کے اپنی محبت کے اعترافی جملے گونج اٹھے ۔

ٹھیک ہوں اب تو۔، آپ کب آۓ، تانی کدھر ہے؟؟ اب کے قدرے ناگواری سے کہا گیا تھا شاید بغیر دستک کے آنا برا لگا تھا،
شفان کی مسکراہٹ گہری ہوئی.

فیروزی کرتے اور سفید گھیرے دار شلوار پہنے آسمان سے اتری کوئی اپسرہ ہی لگ رہی تھی وہ… اوپر سے غصہ سے پھولا سرخ چہرہ… شفان کے دل کے دھڑکن جاگ اٹھی.

وہ کچن میں ہے میں ابھی آیا تھا، سوچا تمھاری طبعیت کا پوچھتا چلوں۔،ویسے بھی میں خود نہیں آیا ۔پاپا نے بھیجا تھا کہ تمھاری بہت فکر ہو رہی تھی ان کو،، اس نے ،ان ،پر زور دیا،، وہ خود کو باز نہیں رکھ پایا تھا اسے چھیڑنے سے،

حسبِ توقع وہ جل بھن کر کباب بن گئی…

(اونہوں پاپا نے بھیجا ہے گلے پر چھری رکھ کر. تاکہ مجھ پر احسان کیا جائے. وہ دل میں بڑبڑائی اور خوب بد مزہ ہوئی) اسی لئے چڑ کر بولی،

ماموں کو کہیے گا میں ٹھیک ہوں بلکل… آپ پلیز تانی کو بھیج دیں گے اندر۔، میں نے میڈیسن لینی ہے، ۔

شفان کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ، وہ گھما کر بڑے سیدھے طریقے سے اسے وہاں سے دفعہ ہو جانے کے لیے کہہ رہی تھی۔

یکدم شفان نے اس کی نازک سی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسے اپنی جانب کھینچا. وہ ٹوٹی ہوئی ڈال کی طرح اس کے مضبوط سینے سے آلگی.. حیرت سے پھٹی آنکھوں اور صدمے سے سر اٹھا کر جب اس نے شفان کی طرف دیکھا تو دنگ رہ گئی وہاں چاہت اور جزبوں کی شدت کا ایک جہان آباد تھا.

تو تم گھما کر سیدھے طریقے سے مجھے باہر کا راستہ دکھا رہی ہو… گھمبیر آواز اور معنی خیز مسکراہٹ لیے وہ وانیہ کی روح فنا کر رہا تھا.

یہ… کک.. کیا کر رہے ہیں چھ… چھوڑیں مجھے… آپ کی ہمت کیسے ہوئی مم..مجھے چھونے کی… وہ نازک ہاتھ اس کے سینے پر رکھے اسے خود سے دور کرنے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی.

شفان کی نرم گرم سانسیں اسے اپنے چہرے پر محسوس ہو رہی تھی.

ہمت…. ہمت تو ابھی تم نے دیکھی کہاں میری جانِ شفان.
یہ کہہ کر اس نے اپنے دہکتے لب اس کی گردن پر رکھے.. وہ اس کی بانہوں میں مچلتی تڑپتی رہی.. تواتر سے اس کے آنسو شفان کی گردن میں جزب ہو رہے تھے. لیکن وہ تو جیسے مدہوش اور بے خود سا ہوا اس پر جھکا ہوا تھا. دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ تھام کر ماتھے اور آنکھوں پر اپنے پیار کی مہر ثبت کی.

یہ.. کک…. کیا کر رہے ہیں آپ.. میں… حا…. حارث… توڑ توڑ کر الفاظ ادا کرتی وہ پھر اذیت سے مچلی.

دل تو اپنی محبت کی قربت اور اس کی مہربانیوں پر ہی سرشار ہوا جا رہا تھا. لیکن دماغ اور روح نے اسے سخت لعنت ملامت کیا.. اسے لئے گرم سیال آنکھوں سے بہہ نکلا

شفان کو ہوش آیا تو شرمندگی سے آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا.
سوری… ویری سوری… لب سختی سے بھینچ کر سرخ چہرے لیے وہ تیزی سے وہاں سے چلا گیا.

جبکہ وانیہ دم بخود سی اس کے پل پل بدلتے روپ پہ حیران ہوتی اس کے رویے میں الجھا کر رہ گئی..

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،

اگلے دن ناشتے کے بعد وہ باہر لان میں جھولے کے اوپر بیٹھی تھی۔

موسم کافی سرد تھا۔ آسمان پر بادل بھی چھائے ہوئے تھے۔
لیکن وہ اندر بیٹھ بیٹھ کر اکتا گئی تھی، امی جی سے چھپ چھپا کر یہ عیش ہو رہی تھی،

تانی گرما گرم کافی کے مگ اٹھائے آئی اور اس کے پاس ہی بیٹھ گئی۔دونوں کافی کی چسکیاں لگاتے ہوئے جھولا جھول رہی تھیں۔

تانی بہت خوش نظر آ رہی تھی، اور اپنے آپ ہی مسکرائے جا رہی تھی۔ وانیہ نے اسے ہلکی سی چٹکی کاٹی، وہ تڑپ اٹھی

اففففف،،،،، کیا ہے وانی،

یہ بتیسی کس خوشی میں باہر آنے کو ہو رہی ہے جی،،
کیوں آپ کو کیوں بتاؤں۔،یہ ہمارا آپس کا سیکرٹ معاملہ ہے ۔

اچھا بتاؤں تمھیں،، وانیہ نے اس کے بازو پہ دوبارہ چٹکی بھری،،

اوئی ماں،،

بتاتی ہو کہ نہیں،،

اوکے اوکے بابا بتاتی ہوں،،،، ہونہہ،،، آجکل کی دلہنوں کو تو کچھ زیادہ ہی شوق ہوتا ہے کے بس ان کی شادی کی باتیں ہی کیے جاؤ،، تانی منہ بنا کر بولی

جبکہ وانیہ منہ کھولے اسے دیکھے گئی،،

کیا بکواس کر رہی ہو تانی،، کس کی شادی کونسی شادی،، اسے حیرت ہوئی ۔

آپ کی شادی پچیس تاریخ کو ہے،،

کیا،،،،،،، وہ ہکا بکا رہ گئی،، پر،،،، لیکن،،، وہ بول نہیں پا رہی تھی ۔کسی نے مجھے بتایا کیوں نہیں ۔،امی جی نے بھی نہیں ۔،کیوں،، اور اس حارث کے بچے کو کیا جلدی پڑ گئی شادی کی، وہ روہانسی ہوئی آواز رندھ گئی،

،
تانی نے اپنا سر پیٹا،، اففففف یہ حارث کہاں سے آگیا بیچ میں،،

کیا مطلب؟؟؟؟ وانیہ کو آج ایک سے ایک بڑھ کر جھٹکے لگنے کا دن تھا،

آپ کی شادی شفان بھائی سے ہے میری پاگل بہن۔،،تانی مزے سے بولی اور لاڈ سے اس کے گلے میں جھول گئی جبکہ وانیہ کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آیا۔وہ اسے پرے ہٹا کر اٹھ کھڑی ہوئی

کیا بکواس کر رہی ہو تانی اور اگر یہ مزاق ہے تو مجھے بلکل پسند نہیں آیا،، وانیہ نے انتہائی سنجیدگی سے کہا تھا

میں مزاق نہیں کر رہی وانی۔،سب کچھ طے ہو چکا ہے بڑوں کے بیچ۔ اب تو امی جی بس تیاریاں کر رہی ہیں خوشی خوشی، اور یہ سب،،،،،،، ،،،،تانی ایک لمحے کو خاموش ہوئی اسے وانیہ سے اس ردِ عمل کی توقع نہیں تھی۔اور یہ سب شفان بھائی کے کہنے پر ہو رہا ہے وہ کرنا چاہتے ہیں آپ سے شادی،،،

وانیہ کا سر گھوم گیا،، اس کی خوداری اور نسوانیت پر ایک بار پھر تازیانہ بجا تھا ۔،

(اس حادثے کی وجہ سے حارث نے انکار کر دیا ہوگا۔،،اور ریان ماموں نے مجبور کیا ہوگا اسے اس شادی کے لئے)

کیا سوچ رہی ہیں وانی،، شفان بھائی کو کسی نے مجبور نہیں کیا آپ سے شادی کرنے کے لئے ۔تانی نے جیسے اس کے اندر تک جھانک لیا تھا اور افسوس سے سر ہلاتے ہوئے پھر گویا ہوئی، بلکہ انھوں نے تو خود حارث سے آپ کا رشتہ ختم کروا کر خود ریان ماموں کو اپنی خواہش ظاہر کی ہے

وانیہ کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔،،،، ہونہہ،،،،،،،، رحم یا ترس کھایا ہوگا پھپھو کی بیٹی پر ،،وہ پھر تلملائی

لیکن خود پر ضبط کرتے ہوئے بولی، ۔

اوکے ٹھیک ہے تانی تمھاری بات، لیکن جب تک میں خود بات نہیں کروں گی مجھے تسلی نہیں ہو گی میں ماموں کی طرف جا رہی ہوں اس وقت شفان گھر پر ہوں گے۔ امی جی کی کو بتا دینا میں ادھر گئی ہوں۔

تانی معنی خیز ہنسی ہنس دی، وانیہ کے گھورنے پر منہ چڑاتی اندر بھاگ گئی،

وانیہ تن فن کرتی ریان ماموں کے گھر پہنچ گئی ۔
سب ناشتے کے لئے ٹیبل پر بیٹھے تھے اسے آتا دیکھ کر حیران اور خوش ہوئے۔