Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
قسط 01
dont copy without permission

وہ بھاگم بھاگ تیار ہوئی تھی۔کالج کے لئے لیٹ تھی اوپر سے امی جی نے حکم صادر کیا تھا کہ ناشتہ کیے بغیر نہیں جانا ہے اور ابھی بمشکل دو تین نوالے ہی اندر گئے ہوں گے

کہ مخصوص گاڑی کا ہارن سنائی دیا جسے سن کر ہمیشہ اس کی دل کی دھڑکنیں بےترتیب ہو جایا کرتی تھی سینے میں دل کمبخت بے قابو ہو جایا کرتا ۔ہاتھ کپکپانے لگتے۔اور ایسے میں ہمیشہ اس سے کوئی نہ کوئی بےوقوفی ہو جایا کرتی

۔اس کی اس حالت سے واقف اسکی اکلوتی بہن اس کا خوب خون جلایا کرتی اور وہ بس تلملا کر رہ جاتی ۔اب بھی ناشتہ کر کے باہر نکلی ۔گاڑی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے اس نے کن اکھیوں سے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے اس خوبرو اور ڈیشنگ بندے کو ملاحظہ کیا ۔وہاں وہی سدا کی لاپرواہی اور یہاں بس۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،

۔ اسلام و علیکم ۔۔
وانیہ وقار نے اپنی ساری ہمت مجتمع کر کہ سلام کیا

۔وعلیکم اسلام ۔۔

آج نمرہ نہیں آئی؟

وانیہ نے گاڑی میں مخصوص جگہ خالی دیکھ کر سوال کیا ۔ہاں آج کچھ طبیعت خراب تھی اسکی۔ شفان یوسف نے مختصر جواب دیا ۔

اور پھر گاڑی میں خاموشی چھا گئی ۔وانیہ وقار اپنی حالت پر کلس کر رہ گئی ۔بےبسی ہی بےبسی تھی ۔وہ بےحد، بے انتہا اسے چاہتی تھی اپنی روح کی گہرائیوں سے اور پتا نہیں کب سے

۔جب سے اسے ان جزبوں کے خاص ہونے کا احساس ہوا یا تب سے جب شائد اس نے ہوش سنبھالا تھا۔
شِفان یوسف نے یونہی ڈرائیو کرتے ہوئے بیک ویو مرر سے پیچھے نظر دوڑائی تو چونک گیا ۔وہ بظاہر باہر دیکھ رہی تھی پر اس کی آنکھیں

۔کچھ تو تھا ان آنکھوں میں، سمندر سے بھی گہری۔کالی سیاہ شفاف آنکھیں ۔وہ جب بھی ان آنکھوں کی طرف دیکھتا تو چونک چونک جاتا۔عجیب سی مقناطیسیت تھی جو ہمیشہ بڑی شدت سے اسے اپنی اور کھینچتی ۔پر وہ انھیں نظر انداز کر دیتا ۔

کالج پہنچ کر وہ گاڑی سے باہر آئی تو سامنے جو چہرہ نظر آیا اسے دیکھ کر وہ کھل گئی ۔مایا بختاور اس کے لئے اپنی بانہیں وا کئے کھڑی تھی ۔ اس کی عزیز از جان دوست مایا۔ اور شاید رقیب بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔

سمیرا یوسف اور ریان یوسف دونوں بہن بھائی تھے ۔سمیرا ریان سے گیارہ سال چھوٹی تھی اس لئے والدین کہ گزد جانے کے بعد انھوں نے سمی کو کبھی والدین کی کمی محسوس نہ ہونے دی اور بیٹیوں کی طرح اس کے لاڈ اٹھائے۔

ریان نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور ماہر ہارٹ سرجن بنےاورشہر کی امیر ترین لڑکی سارا سے شادی کی ۔پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں تین بیٹوں سے نوازا۔

سمی کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد انھوں نے بڑی دھوم دھام سے سمی کی شادی اپنے بزنس مین دوست وقار زئی سے کی۔وقار بہت ہی نیک دل سلجھے ہوئے انسان تھے۔

شادی کے دو سال بعد سمی کے ہاں انتہائی خوبصورت بیٹی کی پیدائش ہوئی ۔جس کا نام وانیہ وقار رکھا گیا۔ادھر ریان کے بیٹے کے سات سال بعد ان کے ہاں بھی بیٹی پیدا ہوئی سمی نے اس کا نام نمرہ ریان رکھا ۔ریان کے بیٹے ثمر، یشم اور شفان اپنے پاپا کی طرح ہی اپنی پھپھو سے بےحد پیار کرتے تھے ۔۔

وانیہ کے دو سال بعد تانیہ ہوئی۔وقت پر لگا کر اڑ گیا ۔سمی بہت خوش تھی اپنی زندگی میں ۔لیکن یہ خوشی زیادہ دیر تک قائم نہ رہ پائی۔جب وانیہ میٹرک اور تانیہ 8th سٹینڈر میں تھی تو اچانک ان کہ محبوب شوہر وقار اچانک ہوئے ہارٹ اٹیک کی وجہ سے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔

وقار کا اس دنیا میں سمی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا ۔سو اس کڑے وقت میں بھی ریان ، اس کے بیوی اور بچے ہی سمی کا سہارا بنے۔

ریان نے سمی کا پرانا گھر بیچ کر اپنے بنگلے کے بلکل سامنے ہی اسے جدید طرز کی کوٹھی لے کر دی ۔بڑے بیٹے ثمر نے کم عمری میں ہی تعلیم مکمل کئے بغیر ہی سمی کا کاروبار بہت اچھے طریقے سے سنبھال لیا۔ریان نے ہر طرف سے سمی اور اس کی بچیوں کی دیکھ بھال اور کفالت کی۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔ ۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔

ہائے سارا مام ،وانیہ نے آتے ہی سدا لگائی ۔کدھر ہے نمرہ صاحبہ ۔۔۔آج کالج کیوں نہیں آئی مہارانی
۔وانیہ نے آتے ہی کئی سوال کر ڈالے۔

ارے سانس تو لو میری بچی۔

اف او سارا مام ہم بھی ہیں کھڑے ان راہوں میں؟ تانی نے سدا لگائی ۔اور دونوں لاؤنج کے صوفے پہ ڈھے سی گئیں ۔

آج تو واقعی میں بہت تھک گئے قسم سے۔

ارے کیا ہوا؟ میرب بھابھی نے لاؤنج میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا

بس لاسٹ سمسٹر چل رہا ہے، وانیہ نے جواب دیا۔ وہ BSC کے لاسٹ ائیر میں تھی اور تانی FSC میں تھی ۔
ارے شاما بوا کچھ کھانے کو لائیں۔بچیاں کالج سے تھک ہار کر آئی ہیں ۔

وہ سب لاؤنج میں بیٹھی چائے اور سنیکس انجوائے کر رہی تھیں ۔

ثمر اور یشم کی شادیاں میرب اور عندیہ سے ہوئی تھیں ۔یشم اپنی جاب کی وجہ سے بیگم سمیت انگلینڈ مقیم ہو گئے تھے ۔

میرب سارا کی بھانجی تھی
باتیں کرتے کرتے وہ وسیع۔و۔عریض لان میں آ گئیں ۔وانی نمرہ کو کالج میں ہونے والی آ ج دن بھر کی روداد سنا رہی تھی ۔
comment must