No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
خواب اور خوشبو
از واحبہ فاطمہ
Episode 12
وانیہ کچی نیند میں تھی جب اپنی گردن پر سرسراہٹ سی محسوس ہوئی. اپنا وہم سمجھا.. پر جب ایک شدت بھرا سرسراتا لمس کمر سے پیٹ پر آتا محسوس ہوا تو ہڑبڑا کر اٹھنے لگی. پر ناکام
اس سے پہلے ہی شفان اسے اپنی مضبوط بانہوں کے حصار میں قید کر چکا تھا. اور اس کا رخ اپنی طرف کیا..اور دلچسپی سے اس کا شدید گھبرایا. شرمایا اور جھجھکتا روپ آنکھوں کے رستے دل میں اتارا.
اب صورتحال کچھ یوں تھی کہ وہ دونوں بیڈ کے درمیان آمنے سامنے ایک دوسرے کے بے حد قریب لیٹے ہوئے تھے.
آااااااپ…… پپ… پلیز چھوڑیں مجھے… کک کوئی آ جائے گا.. مامی…. مم…. ماموں
شششششششش……… چپ ایک دم چپ… شفان نے اسے ڈپٹا اور انگلی اس کے لبوں پر رکھی..
اتنے دن مجھ سے چپھی رہی….. مجھے اتنا تڑپایا… پہلے اس کا حساب دو پھر کوئی اور بات کرنا..
مم…….. میں کیسے حساب دوں؟ مجھے نہیں دینا آتا…. وہ بے حد معصومیت سے بولی… ضبط کے باوجود شفان کا جاندار قہقہہ بلند ہوا..
جانِ شفان لیکن مجھے تو لینا آتا ہے ناااااااں… یہ کہہ کر اسے نے اسے اپنے سینے میں شدت سے بھینچا .. اس کی شہہ رگ پر اپنے دہکتے لب رکھے… وانیہ تڑپی…
چھ…. چھوڑیں…. پلیز…وہ مسلسل اپنا آپ چھڑوانے کی ناکام سی کوشش کر رہی تھی
وہ سن کب رہا تھا… وہ تو اس کی گردن پر جھکا اس کی مدہوش کرتی خوشبو میں ڈوب چلا تھا…
مسلسل چھوڑیں چھوڑیں کی گردان سے تنگ آ کر اس نے سر اٹھا کر پیار بھری گھوری سے نوازا…
بہہہت بولتی ہو…. یہ کہہ کر وہ اس کے گلابی نرم لبوں پر جھکا… اور اسے چپ ہی کروا دیا… وانیہ نے ضبط سے اپنی آنکھیں زور سے بند کر لیں تھیں.
دل کی دھڑکن بہت تیز تھی… اس کا دل شفان کو اپنے سینے میں دھڑکتا سنائی دے رہا تھا.
کمرے میں فسوں خیز خاموش تھی..
وانیہ کی غیر ہوتی حالت پر رحم کھاتے ہوئے اس نے نرمی سے اسے خود سے الگ کیا..
اور اسے ساتھ لئے اٹھ کر کھڑا ہو گیا… وہ تھر تھر کانپتی لمبے لمبے سانس بھر رہی تھی.
وہ شرارت سے دونوں ہاتھ کنگھی کی طرح بالوں میں پھیرتا بولا…
یہ اس حساب کا چھوٹا سا ٹریلر تھا… میری جان… اب پوری سزا کے لئے تیار رہنا….
یہ سن کر وہ کانوں کی لوؤں تک سرخ ہوتی مڑ کر بھاگنے ہی والی تھی کہ ایک مرتبہ پھر اس کی نازک کلائی شفان نے مظبوطی سے تھام لی..
اور اسے لئے کمرے سے باہر نکلا…
جب وہ دونوں کچن میں پہنچےتو سارا اور ریان کھانا کھا چکے تھے..
شفان نے اسے کرسی کھینچ کر نرمی سے بٹھایا.. پھر سارا اور ریان نے بے حد لاڈ سے اسے کھانا کھلایا.
شفان بھی اس دوران کوئی شرارت بھرا جملہ بول کر اسے چھیڑ دیتا.. جس سے وہ سرخ چہرہ لیے پہلو بدل کر رہ جاتی.. اور تانی کو کوسنے لگتی جو آج اسے اس شخص کے رحم کرم پر چھوڑ کر پتہ نہیں کہاں دفعہ ہو گئی تھی.
جیسے تیسے کھانا کھا کر اس نے اپنے کمرے میں آ کر ہی سکھ کا سانس لیا تھا.. اور خونخوار نظروں سے بے سدھ پڑی تانی کو گھورا.
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
مہندی کا فنگشن بھی بخیر و عافیت اختتام پذیر ہو چکا تھا…
آج بھی وہ دونوں نظر لگ جانے کی حد تک پیارے لگ رہے تھے..
حارث بھی سب کچھ بھلا کر اپنے دوست کی شادی اور خوشیوں میں پیش پیش تھا.
شفان نے نوٹ کیا کہ آج وہ کچھ پریشان سا تھا. فنکشن ختم ہوا. حارث جانے لگا. شفان اسے چھوڑنے پارکنگ تک آیا..
کیا بات ہے حارث.. پریشان کیوں ہو..
نہیں کچھ نہیں یار… ہماری تو پریشانیاں چلتی ہی رہتی ہیں بس تم اس وقت کو خوب انجوائے کرو یار…
وہ ہائی فائی کرتا وہاں سے نکل گیا.
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
شادی کا دن بھی بہت ساری گہمہ گہمی کے بعد اختتام پذیر ہو گیا…
بلڈ رنگ کا ریڈ لہنگا پہنے آج دلہن کے روپ میں قیامت خیز حسن کے ساتھ وانیہ کمرے میں اس کا انتظار کر رہی تھی ۔دونوں ایک دوسرے کے ہو چکے تھے،
وہ کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ میرب، نمرہ اور تانی نے اس کا راستہ روک لیا..
کسی بھی مزاحمت کے بغیر بھاری رقم ان کو دے کر بلکلہ جان چھڑا کر وہ پھر کمرے کی طرف بڑھا ہی تھا..میرب بھابھی کے چہرے پر اس کے اتنی جلدی جان چھڑانے پر شرارت بھری معنی خیز سی مسکراہٹ تھی. وہ نظر انداز کرتا آگے بڑھا ہی تھا
کے فون کی بیل بج اٹھی ،حارث کا نمبر سکرین پر دیکھ کر اس نے فون اٹینڈ کرنا ضروری سمجھا،
ہیلو حارث خیریت،
نہیں یار خیریت نہیں ہے، حارث کے لہجے سے از حد پریشانی جھلک رہی تھی کیوں کیا ہوا، شفان کو بھی تشویش لاحق ہوئی،
وہ میں تمہیں اس وقت اس سچویشن میں ڈسٹرب تو نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن بات ایسی ہے کہ تمھیں الرٹ کرنا ضروری سمجھا،
وہ سیف کے بےغیرت کریمنل باپ نے پہلے کورٹ میں اسے پاگل ثابت کر کے پاگل خانے بھجوایا اور پھر وہاں سے اسے فرار کروا لیا، سیف بھاگ گیا ہے یار……. ،اس نے شفان کے سر پہ بم پھوڑا……..
واٹ………. صدمے اور شدید غم و غصے سے شفان پاگل ہونے کو تھا… رگیں تن گئیں.. ماتھے پر گہرے بل نمودار ہوئے
تو اب…. اب کیا کرو گے یار تمھیں اس پر نظر رکھنی چائیے تھی. جبکہ تم اسے اچھی طرح جانتے تھے.. ناچاہتے ہوئے بھی شفان کا لہجہ تلخ ہو گیا دوسری جانب حارث شرمندہ سا ہوا.
تم فکر مت کرو میں نے پورے علاقے میں سکیورٹی انتہائی سخت کروا دی ہے خاص کر تمھارے ایریے کی..
فکر کیسے ناں کروں …. وہ ضبط سے مٹھیاں بھینچ کر بولا.. تم جانتے ہو مجھے اپنی جان کی کوئی پرواہ نہیں… اور تم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہو کہ اُس جان کو خطرہ ہے جس میں میری جان اٹکی ہوئی ہے
وہ پھر بےچین ہوا…برداشت جواب دینے لگی.. پھٹ پرتا تو جانے کیا قیامت لاتا.
یار حوصلہ رکھو…. غصے میں دماغ کام نہیں کرنے والا… جبکہ اس وقت تمھیں بے حد محتاط طریقہ سے ٹھنڈے دماغ سے کام لینا ہے.
حارث کچھ دیر تک اسے سمجھاتا ضروری ہدایات دیتا فون بند کر دیا….
وہ اپنے آپ کو نارمل کرنے کی کافی دیر کوشش کرتا رہا… اب وہ کسی بھی قسم کے نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا ہے..
کنپٹیان سہلاتا وہ جانے ضبط کے کونسے مرحلے سے گزر رہا تھا کہ ایک مرتبہ پھر فون چنگھاڑ اٹھا.
کوئی انجان نمبر تھا اسے سمجھنے میں ایک سیکنڈ بھی نہ لگا کہ فون کہ اس طرف کون ہو سکتا تھا…
فون اٹھا کر کان کو لگایا بھسم کر دینے والی آواز میں بولا
ہیلو… تو میرے سابقہ ساااالے صاحب … نے شادی کی مبارک دینے کو فون کر ہی لیا.. خیر مبارک.. خیر مبارک شفان کے سرسراتے طنزیہ انداز نے مقابل کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیلا..
شٹ اپ یو…. باسٹرڈ… حسب سابق وہ یوں تلملایا جیسے شفان نے اس کی دم پہ پاؤں رکھ دیا ہو..
شفان نے طنزیہ ہلکا سا قہقہہ لگایا..
میرا خیال ہے پچھلا شادی کا تحفہ بھول چکے ہو جو میں نے دیا تھا تمھیں..
شفان کی رگیں تن گئیں…
نہیں بھولا اور نہ ہی تمھیں بھولنے دوں گا. شفان نفرت سے غرایا..
بھولنا بھی مت.. اب کی بار نہیں لو گے شادی کا تحفہ… کمرے کے باہر ہی جمے ہوئے ہو….. … ڈئیر.. اپنی بیوی کا بھی کوئی اتہ پتہ ہے کہ نہیں…
اس کے سرسراتے لہجے نے شفان کے جسم کا جیسے سارا خون نچوڑ لیا تھا. وہ فون بند کر کے دھڑکتے دل اور لرزتے قدموں سے کمرے کی طرف بھاگا.
