No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
قسط نمبر 03
موسم کافی حسین تھا ۔ شفان نمی اور وانیہ کو کالج ڈراپ کرنے جا رہا تھا ۔یہ اس کی روز کی ڈیوٹی تھی جو ریان نے اس کو سونپی تھی اور وہ بخوشی اسے نبھا بھی رہا تھا ۔ویسے بھی اسے روز مایا سے ملنے کا موقع جو مل جاتا تھا،
وانیہ کیا ہوا تمھاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی ،نمی اسکا مرجھایا ہوا سا چہرہ دیکھ کر بولی..
نہیں میں ٹھیک ہوں پتا نہیں کیوں پر کچھ دنوں سے سر میں درد سا رہتا ہے، وانیہ نے کہا… تو شفان بے ساختہ ہی بول اٹھا..
لگتا ہے سوچتی بہت ہو تم، زرا کم سوچا کرواور یہ اگزیم کی اتنی ٹینشن لینے کی کیا ضرورت ہے، گھر واپس لے کر چلوں،
شفان نے اس کے حسین چہرے کی طرف دیکھا، جو گلاب کی طرح نرم۔و۔نازک سا کھلا کھلا لگتا پر ان دنوں کچھ مرجھایا ہوا سا تھا،
نہیں میں بلکل ٹھیک ہوں آپ کالج ہی چلیں، اس نے آہستگی سے کہا،
کالج پہنچ کر وہ گاڑی سے اتری ۔تبھی مایا بھی اپنے بھائی سیف کے ہمراہی میں گاڑی سے باہر نکلی تھی،
ھیلو وانی، اور نمِی کیسی ہو،
فائن آپ کیسی ہیں؟ نمی نے اسے وش کیا ۔جبکہ شفان زیرلب مسکراتا ہوا اسے دیکھے گیا،
تبھی مایا وانیہ ک تقریباً گھسیٹے ہوئے اندر لے گئی،
ارے کیا ہوا کچھ بتائیں گی بھی کہ نہیں ۔وانیہ نے دہائی دی، جبکہ نمی مایا کو آنکھ مارتے ہوئے اپنی کلاس میں چلی گئی، اسے پتہ تھا کہ مایا کہ پیٹ میں درد ہو رہا ہو گا۔اپنی بات پکی ہونے کی خبر اپنی بیسٹ فرینڈ کو بتائے بغیر ۔
کیا ہوا بولیں بھی مایا، وہ کینٹین میں پہنچ چکی تھیں،
آرام سے، سکون سے آپ کے لئے ایک گرینڈ گرینڈ سرپرائز ہے میڈم،
مایا اسے کرسی پر بٹھا کر سسپینس کریئٹ کرنے لگی، خوشی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔
جلدی بتائیں نہ مایا میری کلاس سٹارٹ ہونے والی ہے، پلیز
اف بور لڑکی، میں اتنا بڑا سرپرائز دینے والی ہوں اور تمھیں کلاس کی پڑی ہے،
اچھا بتائیں سن رہی ہوں ناں۔
تو،،،پھر سنو،،میری بات پکی ہو گئ ہے،،اور شادی بھی،،،
سچ مایا کب، کہاں کس سے،؟ وہ بھی مایا کی طرح ایکسائیٹڈ ہوئی ۔ایک ہی سانس میں کئ سال پوچھ گئی ۔
بوجھو تو کس سے، وہ پر جوش انداز میں بولی۔
کس سے؟؟
تمھارے اس کھڑوس کزن شفان سے،، ،،ہاہاہا،، وہ بےساختہ ہنستی چلی گئی جیسے اپنی ہی بات سے بہت لطف اندوز ہوئی ہو ،
کیا کس سے۔،وانیہ نے بےیقینی سے پوچھا تھا، بڑی مظبوطی سے فائل کو تھامے رکھا۔پورا وجود زلزلوں کی زد میں تھا ۔کان سائیں سائیں کر رہے تھے ۔اس نے بے ساختہ اپنی سماعتیں چھن جانے کی دعا کی تھی
شفان سے یار اور تمھیں پتہ ہے،،،،،،،، مایا اسے ساری داستان سنا رہی تھی، اپنی پسندیدگی اور شفان کی بےچینیاں،،
وانیہ کو صرف اس کے ہونٹ ہلتے دکھائی دے رہے تھے ۔ وہ بے خبری میں ہی ماری گئ تھی۔بچپن کا عشق تھا وہ اس کا۔ اس نے اس کے آگے کبھی کچھ سوچا ہی نہ تھا.
کتنی جلدی اس کی دنیا اجڑ چکی تھی اور وہ بے خبر تھی ۔
مایا کب کی اسے نیوز سنا کر اپنی فرینڈز کے ساتھ جا چکی تھی ۔جبکہ وہ وہیں پتھر بنی بیٹھی تھی ۔دماغ خالی اور دل بند ہونے کو ہوا تو وہ اٹھی تھی۔آسمان کی طرف ایک شکائتی نظر اٹھائی۔
کتنا مانگا تھا اسے اپنے سوہنے رب سے ۔نمازوں میں، تہجد میں ۔
اور صرف اور صرف اپنے اللہ کو اپنا ہمراز بنایا تھا۔ یہ بھید تو اس نے چاہا تھا کہ اس کے سائے کو بھی نہ پتا چلے ۔کسی کو بتاتی بھی کیسے، کتنے احسان تھے ریان ماموں جان کے ان پر، اور امی جی کو وہ کیا منہ دکھاتی، وہ تو اپنے جزبوں پہ اس لئے بند باندھ کر بیٹی تھی کہ کہیں اس کی وجہ سے کسی اپنے کی دل آزاری نہ ہو۔
لیکن یہ کیا ہوا تھا.
۔اپنے آپ کا تماشا نہیں لگانا چاہتی تھی اس لئے اپنے آپ کو گھسیٹتی بمشکل ٹیکسی میں بیٹھی۔
کیسے گھر پہنچی اسے کچھ خبر نہ تھی ۔کمرے میں پہنچ کر لاک لگایا اور بیڈ پر ڈھے سی گئ، آنسو متواتر بہے جا رہے تھے.وہ تکیے میں چہرہ دے کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی
سمیرہ آفس سے گھر پہنچی تو فروزاں نے بتایاکہ وانیہ وقت سے پہلے ہی گھر آگئ ہے اور اس کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں لگ رہی تھی، یہ سن کر سمی تو از حد پریشان ہو گئی تانی بھی اپنے کالج سے گھر پہنچ چکی تھی ۔اس کے بھی سن کر ہوش اڑے تھے.
بھاگ کر کمرے تک پہنچیں ۔صد شکر کے ڈور ان لاک تھا ۔
وانیہ، وانیہ اٹھو بچے کیا ہوا، سمی پاگلوں کی طرح اسے آوازیں دے رہی تھیں
وانیہ ہوش۔و۔خرد سے بیگانہ بیڈ پر آڑی ترچھی پڑی تھی
تانی کےبھی اسے اس حالت میں دیکھ کر ہوش اڑ گئے وہ تو کافی دنوں سے شفان کی مایا سے بات پکی ہونے کی بات جانتی تھی لیکن وانیہ کو بتانے کی ہمت نہ تھی اس میں ۔ اس کی حالت دیکھ کر اسے اندازہ ہوا تھا کچھ کچھ۔وہ واحد ہمراز تھی اس کی۔
وانیہ، پلیز اٹھو، اسکے بھی آنسو بہہ نکلے ۔سمجھ نہ آیا کے آخر کرے کیا۔
بھائی کو فون کرو تانی، شفان کو بلاؤ، سمی نے تانی کو جھنجھوڑ ڈالا۔
اسے فوراً ہاسپٹل لایا گیا تھا ۔سمیرہ اور تانی کا رو رو کر برا حال ہو گیا تھا ریان اور سارا بھی از حد پریشان تھے ۔شفان ثمر اور نمرہ بھی بےچینی سے ایمرجنسی کے باہر ٹہل رہے تھے،
طبیعت تو آج صبح سے ہی خراب لگ رہی تھی وانیہ کی، نمرہ کو صبح والی اس کی ڈل ہوتی طبیعت کا خیال آیا ۔
ڈاکٹر جو کہ شفان کا بیسٹ فرینڈ بھی تھا باہر آیا تو سمی بے اختیار ڈاکٹر کی طرف لپکی، اور روتے ہوئے پوچھا
کیا ہوا ہے ڈاکٹر میری وانی کو،
برین ہیمرج ہوا ہے انھیں، لیکن اب خطرے سے باہر ہیں آپ پلیز ان کا بے حد خیال رکھیں اور کسی بھی قسم کی ٹینشن سے دور رکھیں ۔
سمیرہ کی جان میں جان آئی تھی ۔سب نے سکھ کا سانس لیا تھا،
مایا نے فون کر کے وانیہ کی طبیعت کا پوچھا تھا تانی فون سننے کے لیے سائیڈ پہ گئی تو شفان اس کے پیچھے ہی چلا آیا..
تانی تمھیں پتا ہے وانیہ نے کس چیز کی اتنی ٹینشن لی ہے؟ تم تو سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتی ہو، کیا الجھن ہے مجھے بتاؤ میں حل نکال کر اس کی پرابلمز solve کرنے کی کوشش کروں گا،
شفان نے پیار سے اسے پچکارا۔
کاش وہ چیخ چیخ کر اسے بتا سکتی کہ اس کی اس حالت کا وہ خود ذمہ دار ہے اور اس وقت تو وہ ایسی تلملائی ہوئی تھی اگر کوئی لحاظ نہ ہوتا تو وہ ان کا منہ نوچ لیتی۔تانی ایک لمحے کو کمزور ہوئی تھی لیکن پھر سنبھلی۔۔
نہیں بھائی، کوئی بات نہیں ہے بس ایگزیم کی ہی ٹینشن ہے اور کچھ نہیں،
اس نے نظریں چراتے ہوئے جنجھلا کر کہا تو شفان بے طرح چونکا تھا۔
وہ تو چہرے پڑھنے میں ماہر تھا ۔اور کافی عرصے سے اُس نازک سی لڑکی کے منہ بولتے جزبوں سے نظریں چرا رہا تھا ۔
تو کیا اس کی یہ حالت شفان کی وجہ سے ہوئی ہے؟ کیا اسے بات پکی ہونے کی خبر نے توڑ ڈالا ہے۔
نہیں یہ کیسے ممکن ہے ۔اس نے ہمیشہ کی طرح جانتے بوجھتے ہوئے خود غرضی سے اور انتہائی لاپرواہی سے سر جھٹکا تھا۔
نرس نے باہر آ کر بتایا تھا کہ وانیہ کو ہوش آ گیا ہے اور اسے روم میں شفٹ کر دیا گیا ہے ۔دو گھنٹے کے بعد اسے ڈسچارج بھی کر دیا جائے گا۔
سب روم میں داخل ہوئے تو وانیہ آنکھیں موندے لیٹی تھی ۔چہرے پہ برسوں کی تکھن اتری ہوئی تھی ۔سمیرہ اس کے چہرے پر جھکی تھی ۔
ڈاکٹر نے اسے بات کرنے سے منع کیا تھا سو کسی نے بھی بولنے سے گریز کیا ۔
سب نے شکر کا کلمہ پڑھا اور اسے گھر لے آئے ۔اسے میڈسن دے کر سلا دیا تھا تانی نے ۔سب لاؤنج میں بیٹھے سمیرہ کو تسلی دے رہے تھے ۔وہ سب تو یہی معمہ ہی حل نہ کر پائے تھے کہ آخر اسے ایسی کون سی ٹینشن ہے۔تب سمیرہ نے بتایا.
بھائی وہ آپ نے حارث کے رشتہ کے بارے ميں بتایا تھا تو میں نے وہی بات کی تھی جسے سن کر وہ گبھرا سی گئی تھی اور مجھے کہا کہ میں ابھی اور پڑھنا چاہتی ہوں۔ میں نے دو تین دفعہ اصرار کیا تھا کہ وہ غور کرے اس بارے ميں ۔مجھے کیا خبر تھی کے وہ دل پر لے لے گی ۔
اوکے ریلیکس ۔اب مت دباؤ ڈالنا اس پر، اس معاملے کو فی الوقت کے لئے کلوز کر دو ۔ریان نے سمجایا۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،، ،،۔۔۔۔ ۔۔۔،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بیڈ پر نیم دراز تھی آنکھوں میں سے آنسو رواں تھے، تانی کمرے میں داخل ہوئی تو وہ چونکی رات کے گیارہ بج چکے تھے ،وہ کھانا لائی تھی ۔
ٹرے ٹیبل پر رکھ کر اس نے خاموشی سے بازو پکڑ کر اسے اٹھانا چاہا تو وہ اس کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔تانی نے خاموشی سے سارا غبار دھل جانے دیا۔..
