Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
Episode 6

وانیہ اور تانی لان میں بیٹھی تھیں.. وانیہ کالج میں ہونے والے فنکشن کی تیاری کر رہی تھی ۔وانیہ نے ایک زبردست سپیچ دینی تھی۔جبکہ تانی اپنی سٹڈی میں بزی تھی اس کے ایگزیم ابھی ہونے تھے۔

وانیہ سپیچ کے لئے بہترین مواد اکٹھا کر رہی تھی ۔دونوں اپنے اپنے کام میں مگن تھیں ۔۔

مخصوص گاڑی کا ہارن سنائی دیا تھا۔ وانیہ کے چہرے پر سایہ سا لہرایا. اور ہوائیاں اڑی تھیں ۔تانی بھی چونکی۔
وانیہ فوراً اٹھی اندر بھاگتے ہوئے بولی
تانی میں اس شخص کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی۔ ہر گز نہیں ۔،،،وہ بھرائی آواز میں بمشکل بولی
۔میں اندر جا رہی ہوں ۔میرا پوچھا تو کہنا گھر پہ نہیں ہوں ۔،وہ جلدی جلدی بول کر اندر بھاگ گئی ۔

اور لاؤنج کے دروازے کے پیچھے چھپ گئی ۔

شفان دھیمے دھیمے چلتا ہوا تانی کے قریب آیا تھا.. چہرے پر رہنے والی دلفریب سی مسکان کہیں کھو گئی تھی. وہ برسوں کا تھکا ہوا کوئی مسافر لگ رہا تھا. تانیہ اور اندر وانیہ نے بے حد صدمے سے اس کا بکھرا ہوا حلیہ ملاحظہ کیا.

اسلام۔وعلیکم ۔،کیسے ہیں بھائی ۔،،

ہمم ۔۔،،ٹھیک ہوں ۔،تم سناؤ کیسی ہو۔،،

جی ٹھیک ہوں بھائی ۔،،

اور سناؤ کیا چل رہا ہے؟

بس ایگزیم کی تیاری ۔،،،

نمرہ بتا رہی تھی کل سے جانا ہے کالج میں ۔وانی سے کہنا ریڈی رہے میں پک کرنے آؤں گا ۔اندر وانیہ تڑپ کر تلملائی تھی ۔

کہاں ہے وانیہ؟؟

وہ بھائی ۔۔وہ گھر پر نہیں ہے،،،،، تانیہ کی جھوٹ بولتے ہوئے زبان لڑکھڑائی.

شفان نے ایک نظر ٹیبل پر ڈالی۔ دو کرسیوں کے آگے ٹیبل پر بکھرے پیپر،،، دو جوس کے گلاس،، اور لاؤنج کے دروازے میں اڑتا دوپٹہ ۔،۔،مایا کے جانے کے بعد وہ پہلی باردل سے مسکرایا تھا، وہ بڑی دلچسپی سے لاؤنج کے دروازے میں اڑتا دوپٹہ دیکھ رہا تھا.

تانی نے شفان کی نظروں کے تعاقب میں وہی سب چیزیں دیکھیں تو دل کیا اپنا سر پیٹ لے۔

اس نے شرمندگی کے مارے سر جھکا لیا،

اوکے وانی آئے تو اسے کہنا کہ میں معافی مانگنے آیا تھا ۔میں سچ میں بہت شرمندہ ہوں ۔،،،
اسے کہنا پلیز مجھے معاف کر کے میری تھوڑی اذیت کم کر دے۔،،یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پر کرب اور اذیت کا ایک جہان آباد تھا.

یہ کہہ کر وہ رکا نہیں چلا گیا ۔

وانیہ اندر زمین پر ڈھے سی گئی ۔۔کیا تھا یہ شخص ۔،،کیوں ہر بار اس کی برداشت آزمانے آ جایا کرتا تھا ۔؟؟؟؟
وہ اس کی اذیت پر تڑپی تھی اس لئے چہرہ ہاتھوں میں چپھائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی.

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،

وہ صبح جلدی اٹھی ۔فجر ادا کی اور سب کے سکون کی دعا مانگی
۔کالج کےلئے ریڈی ہوئی ۔۔،۔وہ شفان کے آنے سے پہلے ہی اپنی گاڑی میں نکل جانا چاہتی تھی ۔،

مصروف سے انداز میں بیگ میں اپنے پیپر چیک کرتی ہوئی دروازے سے باہر نکلی تو کسی کے چوڑے سینے سے جا ٹکرائی ۔خود کو سنبھال کر گھبرا کر سامنے دیکھا تو گڑبڑا گئی
سامنے شفان تھا ۔،

کہاں کی جلدی ہے ۔؟؟؟
ابھی ابھی جو ٹکراؤ ہوا تھا وانیہ کی بولتی بند ہو گئی اور نظر جھک گئی ۔،

وہ میں جلدی جانا چاہتی تھی ۔اس لئے ۔،
چلو پھر ۔،نمرہ بھی ریڈی ہے ۔،

نہیں ۔،
اس کے انکار پر شفان نے چونک کر اس کا پھولا ہوا خفا سا معصوم چہرہ دیکھا ۔
میرا مطلب ہے میں خود چلی جاؤں گی۔

کیا پاگلپن ہے وانیہ ۔،،حسب معمول وہ غصہ میں غرایا ۔،۔،اور اسی غصے ہی سے تو وانیہ کی جان جاتی تھی ۔،

مجھے پاپا نے بھیجا ہے۔،۔،کیوں کے ہم کوئی رسک نہیں لینا چاہتے ۔،۔،قاتل کھلے عام دندناتا پھر رہا ہے۔،اس کا کیا مقصد ہے کیا پتہ.. ۔،۔تمھیں اتنی سی بات سمجھ میں نہیں آتی، اس کا لہجہ انتہائی شکست خورده تھا ۔،

سمیرہ سب سن رہی تھی آ کر وانیہ کو ڈپٹا۔،

کیا بچپنا ہے وانیہ ۔،کیوں بحث کر رہی ہو، ۔

پھپھو،،،شاید یہ اس دن سے ہی ناراض ہے مجھ سے.. مانتا ہوں غلطی ناقابلِ تلافی ہے میری. میں صدمے میں کیا کیا بکواس کر گیا. نہیں جانتا پر میں سب سے معافی مانگ چکا ہوں ۔اس سے بھی مانگنے آیا تھا ۔،تانی نے بتایا ہو گا۔ اور اب پھر آپ کے سامنے معافی مانگتا ہو پلیز رئیلی ویری سوری. وہ شکست خوردہ سا بولتا گیا.

اس کے لہجے میں کچھ تھا تبھی وانیہ بولی۔،

میں جاتی ہوں امی ۔آپ فکر مت کریں اوکے اللہ حافظ ۔،،

وہ چپ چاپ آکر گاڑی میں بیٹھ چکی تھی ۔،شفان نے ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی۔،

بڑی گہری نظر سے اس کا جائزہ لیا تھا ۔

اسے خبر ملی تھی کہ اس نے رشتہ کے لئے ہاں کر دی ہے ۔اور پاپا نے آگے بات کی تو ادھر سے بھی ہاں ہو گئی تھی ۔

یعنی دونوں طرف سے رشتہ پکا ہو چکا تھا ۔باقاعدہ رسم ہونے کےلئے کچھ وقت گزرنے کا انتظار تھا ۔

شفان کو پتا تھا کہ وہ صرف اس سے بھاگ رہی ہے ۔، اور یہ بات بھی جانے کیوں اسے بےحد اذیت میں مبتلا کر رہی تھی.

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،

وہ بڑی باقاعدگی کے ساتھ اپنی ڈیوٹی نبھا رہا تھا ۔وانیہ اور نمرہ کو پک اینڈ ڈراپ کرنے کی۔ تانی ریان ماموں کے ساتھ آتی جاتی تھی کیونکہ اس کا کالج ان کے روٹ میں تھا.

سٹڈی دوبارہ سٹارٹ ہو چکی تھی ۔وانیہ مکمل طور پر اسے اگنور کر رہی تھی ۔،چہرہ بھی بلکل سپاٹ ہوتا کسی بھی جزبے کے بغیر ۔،۔اور یہ سپاٹ چہرہ نجانے کیوں شفان کے دل میں ایک کسک جگا دیا کرتا۔،

آج بھی وہ سٹڈی سے فارغ ہو کر باہر گیٹ پر شفان کا ویٹ کر رہی تھی ۔آج کسی وجہ سے نمی بھی نہیں آئی تھی ۔آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا

اس نے موبائل نکال کر ٹائم دیکھا۔،اتنے میں ایک گاڑی اس کے قریب رکی تھی ۔۔

وہ سیف تھا ۔اسے حیرانی ہوئی ۔،

اسلام وعلیکم ۔،سیف بھائی ۔،آپ یہاں کیسے۔،

بس سوچا بہن کی یاد تازہ کروں ۔،،وہ بے حد افسرده دکھائی دے رہا تھا۔ تم ابھی تک کیوں کھڑی ہو ۔اگر کوئی نہیں آیا تو آو ۔میں ڈراپ کروں تمھیں۔،۔،

نو تھینکس ۔،بس ابھی شفان آتے ہوں گے۔،

ابھی وہ بولی ہی تھی کہ شفان کی گاڑی اس کے قریب آ کر رکی۔
وہ بھی سیف کو دیکھ کر حیران ہوا تھا

تم یہاں کیسے سیف۔،۔،

ہاہا۔،۔تم دونوں کزنز کی کیمسٹری تو بہت زبردست ہے۔،ابھی وانیہ صاحبہ نے بھی بلکل یہی بات پوچھی تھی مجھ سے۔، پتا نہیں سیف تعریف کر رہا تھا کہ طنز۔

شفان دھیرے سے مسکرایا تھا جبکہ وانیہ کلس کر رہ گئی ۔
لیکن آپ کی اطلاع کےلئے میں قریب ہی ضروری کام سے آیا تھا وانیہ کو کھڑے دیکھا تو بات کر لی ۔،کوئی پرابلم ہے۔،
جانے کیوں اس کا لہجہ طنزیہ تھا۔،

ارے نہیں ۔،بس ویسے ہی پوچھا تھا ۔اوکے چلتے ہیں آگے ہی میں کافی لیٹ ہو گیا تھا چلو وانی۔،۔،۔

اس نے بھاگ کر وانیہ کے لئے فرنٹ ڈور کھولا تھا ۔،وانیہ حیران تھی پر چپ چاپ بیٹھ گئی.

❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️

کیا ہوا حارث ،،،،اتنی ایمرجنسی میں کیوں بلایا ہے۔خیریت ہے؟؟

شفان نے حارث کے آفس میں داخل ہوتے ہی کئی سوال کر ڈالے۔،

نہیں خیریت نہیں ہے۔،ایک بہت بڑے راز کا انکشاف ہوا ہے۔،

وہ کیا جلدی بتاؤ۔،شفان بےچین ہوا

سیف یاور انکل کا بیٹا اور مایا کا سگا بھائی نہیں ہے۔،
کیا۔،،،،،، اس پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے۔

ہاں میں نے ساری انفارمیشن نکلوائی ہے ۔وہ یاور انکل نے اسے بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے ایڈاپٹ کیا تھا۔،کئ سال پہلے سیف کا باپ جرئم پیشہ افراد سے منسلک ہوا ۔بیوی کو کسی دشمن نے قتل کردیا تو بیٹے کو محفوظ رکھنے کے لئے اسے کسی ادارے میں چھوڑ دیا ۔،

تو پھر ۔؟؟؟؟شفان اپنی جگہ ساکت ہو گیا ۔،

تو پھر یہ کے سیف بہت پہلے سے جانتا تھا کہ وہ یاور کی سگی اولاد نہیں ۔اور بہت پہلے سے وہ اپنے سگے باپ سے مسلسل ٹچ میں تھا۔اس سے ملتا ہے۔ جو کہ اب شہر کا با اثر ترین شخص ہے۔ دولت سے کھیل رہا ہے۔

تو پھر اس سے مایا کے مرڈر سے کیا تعلق ہے۔؟

تعلق ہے ۔،،حارث خاموش ہوا۔،

کیا تعلق ہے؟ بتاو حارث پلیز۔،،؟

وہ مایا سے شادی کرنا چاہتا تھا ۔

واٹ۔،،،شفان دم بخود رہ گیا ۔،

ہاں۔،انویسٹیگیشن کے دوران مایا کی ایک فرینڈ سے پتہ چلا کے اس نے جب مایا کو پرپوز کیا تو مایا نے اس کی بہت انسلٹ کی اور اسے ریجیکٹ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کا بھائی تھا اور رہے گا وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں سکتی۔

سیف نے بتایا بھی کہ میں تمھارا سگا بھائی نہیں ہوں ۔،لیکن مایا نے کہا کہ وہ اسے بچپن سے بھائی مانتی آئی ہے اسے اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔،

شفان کو اپنی سماعتوں پہ یقین نہیں آ رہا تھا ۔

وہ بے یقینی سے سب سن رہا تھا ۔

تو کیا اس کی مایا کو سیف نے چھینا تھا اس سے۔

اس کی رگیں تن گئیں اور غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا ۔،

اور اسی نے ہی سب سے پہلے آ کر بتایا تھا حادثے کے بارے ميں ۔،وہ مایا کے روم میں کیا کر رہا تھا ۔، اب شفان کا دماغ بھی چلنا شروع ہوا.

تو پھر حارث تم بڑے آرام سے ممجھے بتا رہے ہو ۔،تم نے اریسٹ کیوں نہیں کیا اس جنگلی درندے کو اب تک۔،

کوئی فائدہ نہیں شفان ۔،۔،ہمارے پاس کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے وہ آرام سے بچ نکلے گا اور اس کا کریمنل باپ اسے بچانے کےلئے کچھ بھی کرے گا ۔،تمھارے خاندان کو نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ پہلی بات تو مجھے پکے ثبوت ڈھونڈنے دو تاکہ یہ کیس زیادہ طول نہ پکڑے۔دوسرا تم لوگوں کی سکیورٹی سے جب تک مطمئن نہ ہو جاؤں میں کوئی سٹیپ نہیں اٹھانا چاہتا ۔،

او خدایا۔،۔،وہ درندہ کھلے عام گھوم رہا ہے اور ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔،شٹ۔،۔،۔،شفان نے ٹیبل پر مکا مار کر اپنا غصہ نکالا۔،نفرت اور غصہ کا ایک طوفان سا اٹھا اس کے دل میں ۔،۔،

اور ہاں۔،،۔،،ایک اور چونکا دینے والی اور پریشان کر دینے والی بات ہے۔،۔، حارث حقیقتاً پریشان تھا۔،شفان نے بھی بے حد متفکر ہو کر پہلو بدلا۔،

وہ کیا ۔،یار بتاؤ مجھے کھل کر ۔،بزدل مت سمجھو مجھے ۔،وقت آنے پر میں اپنی اور خود سے جڑے رشتوں کے لئے کچھ بھی کر جاؤں گا ۔،۔اس کی آنکھوں میں جنون تھا۔،

میں نے اپنے آدمیوں کو سیف پر نظر رکھنے کو کہا تو پتہ چلا کہ وہ مسلسل تم پر تمھاری ہر سرگرمی پر اور۔،۔،۔،۔،
پل بھر کو حارث خاموش ہوا۔،

اور کیا۔،۔،۔،،،،،،

اور وانیہ پر نظر رکھے ہوئے ہے.. وہ مسلسل وانیہ کا تعاقب کر رہا ہے ۔،،،،،

شفان کو اپنا دل بیٹھتا ہوا سا لگا،،،،،،،

وانیہ پر لیکن کیوں۔،،،؟؟؟

یہ تو تم مجھے بتاؤ۔،کہ کیوں؟؟؟ حارث نے انتہائی سنجیدگی سے پوچھا ۔وہ مایا سے عشق کرتا تھا ۔،اس کے باوجود اس نے مایا کا وہ حشر کیا۔،تو سوچو وہ تم سے کتنی نفرت کرتا ہو گا۔، وہ تمھیں اور تم سے منسلک ہر شخص کو برباد کرنا چاہتا ہے. اور جہاں تک مجھے اندازہ ہے وہ تمھاری اس دن کی باتوں سے اسے ایسا لگا ہو گا کہ تھمارے اور وانیہ کے بیچ کچھ….. اس نے جان بوجھ کر جملہ ادھرا چھوڑا.

شفان کو تو ایسی چپ لگی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔،
لیکن وانیہ کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟

پھر اسے سب سمجھ میں آیا۔،۔،تمام باتیں کسی ویڈیو کی طرح اس کے دماغ میں گھوم گئیں ۔،
۔،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،۔،،،،،،۔،۔۔۔