No Download Link
Rate this Novel
Episode 4
خواب اور خوشبو
واحبہ فاطمہ
قسط نمبر 04
جب وہ رو رو کر تھک گئ ۔تو تانی نے اسے خود سے الگ کیا اور صوفے پہ بٹھایا ۔خود بھی اس کے قریب بیٹھ گئی
تانی، تانی میں کیا کروں ۔؟اب میں کیا کروں گی ۔؟وہ انتہائی بےبسی سے بولی تو تانی کی بھی آنکھیں نم ہوگئیں..
وہی کرو جو امی جی نے کیا تھا باباجانی کے گزر جانے کے بعد ۔ وہ ہمارے لئے زندہ رہی ۔۔۔نہیں تو دکھ تو اتنا بڑا تھا کے لگتا تھا انھیں کے ساتھ چلی جائیں گی ۔ لیکن انہوں نے اس وقت ہمارے بارے میں سوچا ہوگا۔ ہم ہی ان کا سب کچھ ہیں ۔اب تمھیں بھی انھیں کے بارے میں سوچنا ہے ۔
وہ ایک لمحے کو خاموش ہوئی پھر بولی،
تمھیں پتہ ہے جب سے تمہاری یہ حالت ہوئی ہے ان کا بار بار بی پی شوٹ کر رہا ہے، یہ کہہ کر وہ رو پڑی تھی
وانیہ تڑپ ہی تو گئی تھی یہ سن کر ۔
تانی، تانی پلیز مجھے معاف کر دو ۔تم نے چھوٹی ہو کر یہ باتیں سوچیں اور میں دیکھو اپنی امی جی کی کتنی نالائق بیٹی ہوں
اس نے جلدی جلدی اپنے آنسو پونچھے۔
میں پرامس کرتی ہوں خود کو سنبھال لوں گی ۔امی جی کہ لئے تمہارے لئے ۔
تانی بےاختیار اس سے لپٹی تھی ۔
پر ایک کام کرنا۔وہ رو بھی رہی تھی اور زبردستی مسکرا بھی رہی تھی.
تانی نے بے بسی سے یہ انتہائی خوبصورت دھوپ چھاؤں سا منظر دیکھتے ہوئے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا
پلیز تانی مجھے اسے بھولنے کے لیے مت کہنا۔نہیں تو میں مر جاؤں گی ۔ وہ میرے وجود میں میری رگ رگ میں خون کی طرح گردش کرتا ہے ۔میں اسے اپنے روح سے اپنی سوچوں سے نوچ کر نہیں پھینک سکتی۔
اوکے ٹھیک ہے آپ سے کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔وانی آپ اپنا خیال رکھیں بس۔رکھیں گی ناں؟
وانیہ نے زخمی مسکراہٹ سے سر اثبات میں ہلایا
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔ ،،،،
وقت کب کسی کے لئے رکتا ہے۔ وانیہ نے اپنی زندگی اسے اس دنیا میں لانے والی ماں کے لئے وقف کر دی تھی ۔جس کا وانیہ پر اس پورے جہان سے زیادہ کا حق تھا
اس نے اپنے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے دل کے ساتھ جینا سیکھ لیا تھا ۔ امی جی کے سامنے ہنستی مسکراتی چھوٹی چھوٹی شرارتیں کرتی۔کالج میں بھی اور مایا کے ساتھ بھی نارمل بی ہیو تھا۔ البتہ اس شخص سے گریز ضروری تھا سو وہ اس نے کیا۔ بڑی سہولت سے ریان ماموں کو ایگری کیا کہ وہ صبح جلدی اور ریلیکس ہو کر کالج جانا چاہتی ہے تاکہ لائبریری میں زیادہ سے زیادہ پڑھائی پر توجہ دے ۔اس نے نمی کی نیند کو ہتھیار بنایا تھا ۔جانتی تھی کہ نمی کسی صورت صبح خیزی اختیار نہیں کرے گی۔
وہ بڑی آسانی سے اس مشکل سے بچ نکلی تھی ۔اب اپنے ڈرائیور کے ساتھ آتی جاتی ۔ پر تنہائیوں میں ضروردل کے زخم کھرچ کر روتی۔
ان سب کے ایگزیم خیرو عافیت سے ہو چکے تھے ۔
مایا کا بھی MSC کمپلیٹ ہو گیا تھا ۔
وانیہ کا اصل امتحان تو اب شروع ہوا تھا جب ان کی شادی کے دن بے حد قریب آ گئے تھے ۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔
اس نے خود پر کڑے پہرے بٹھا کر اور ضبط کی آخری منزلوں کو چھو کر اس کی شادی کا ہر فنکشن اٹینڈ کیا تھا۔
آج شفان کی بارات تھی۔ سب جلدی جلدی تیار ہو رہے تھے ۔
سمیرہ اور تانیہ تو تیار ہو گئی تھیں وانیہ بے دلی سے اپنے کمرے میں بیڈ پر پڑی تھی ۔سمیرہ ریان کی طرف چلی گئی تھی ۔تانی کو جلدی سے وانی کے ساتھ پہنچنے کی ہدایت دے کر۔
تانی روم میں داخل ہوئی تو وانیہ جلدی سے اٹھ بیٹھی۔
دیکھو ناں، تانی میرے وارڈروب میں کتنے نیو ڈریس ہیں ۔مجھے تو بلکل سمجھ نہیں آ رہی کہ کونسا پہنوں ۔
وہ جبری مسکراہٹ چہرے پر سجا کر مصروف سے انداز میں بولی۔
تانی جی بھر کے بد مزہ ہوئی تھی ۔وہ پنک میکسی پہن لو جو امی جی اپنی پسند سے لے کر آئی تھی
اوکے،،، وہ ڈریس اٹھا کر چھپاک سے واش روم میں گھس گئی،
تقریباً آدھا گھنٹہ لگا تھا اسے تیار ہونے میں ۔پنک میکسی پہ ہلکا سا میک اپ کئے۔لائٹ پنک لپ گلوز لگائے وہ گڑیا ہی تو لگ رہی تھی ۔نازک بے حد حسین لیکن سوگوار حسن۔
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،،،،،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،،،،،،
وہ ریان ماموں کی طرف پہنچیں تو سب ریڈی تھے ۔ ارے ماشاء اللہ میری گڑیا تو بہت پیاری لگ رہی ہے،
سارا نے بے اختیار ہی وانیہ کو خود سے لگایا اور اس کی بلائیں لیں ۔
اتنے میں دلہے صاحب بھی تشریف لائے تھے۔ آج تو شفان کی چھب ہی نرالی تھی
ڈارک گرے کلر کی شیروانی پہنے وہ کسی سلطنت کا شہزادہ لگ رہا تھا ۔اٹھتا قد چوڑے شانے اور مضبوط جسم اسے اور بھی خوبصورت بناتے تھے۔ سارا نے آگے بڑھ کر اس کی نظر اتاری۔
آج پتا نہیں کیوں صبح سے انھیں عجیب سے وہم ستا رہے تھے ۔
چلو بھئی نکلو۔کب سے میرب فون کئے جا رہی ہے
وہ بارات لے کر گھر سے نکلے تھے ۔اور ہنسی خوشی مایا کے گھر پہنچے ۔
سارے فنکشن کا انتظام مایا کے پاپا مسٹر یاور نے اپنے بنگلے کے وسیع و عریض لان میں ہی کیا تھا ۔یہ بھی مایا کی ہی خواہش تھی کہ وہ اپنے ہی گھر سے رخصت ہونا چاہتی ہے ۔اس کے پاپا نے لاڈلی بیٹی کا مان رکھا تھا ۔
بارات کا سواگت بڑی گرم جوشی سے کیا گیا تھا ۔۔سب اپنی اپنی فیملی کے ساتھ ٹیبلز پر بیٹھ چکے تھے ۔
سمیرا تو سارا کے ساتھ بزی تھی ۔نمرہ تانی کو اپنے ساتھ اپنی کزنز سے ملوانے لے گئی ۔اس نے یہ آفر وانیہ کو بھی کی تھی لیکن اس نے ٹال دیا تھا ۔
وہ قدرے الگ تھلگ سے ٹیبل پر بیٹھ گئی تبھی اسے محسوس ہوا کہ وہ مسلسل کسی کی نظروں کے حصار میں ہے اس نے ادھر ادھر دیکھا تو نظر سٹیج پر شفان کے پہلو میں بیٹھے اس ہینڈسم سے شخص پر پڑی جو بڑے پرشوق انداز سے اسے دیکھ رہا تھا ساتھ وہ دھیمے انداز میں باتیں کرتے ہوئے مسکرا رہے تھے ۔
اس نے فوراً نظر ہٹائی تھی ۔
اسلام و علیکم، اسکے بےحد قریب سے آواز آئی تو اس نے چونک کر سر اوپر اٹھایا ۔
وعلیکم السلام،، اس نے چبا کر جواب دیا۔
میں ایس پی حارث ہوں،،
جی تو میں کیا کروں ۔۔،،وہ تلملائی۔لیکن مقابل زرا ڈھیٹ واقع ہوا تھا یا پھر اس کا معصوم اور دلنشیں حسن دیکھ کر ہو گیا تھا ۔
غالباً میرے اور آپ کے رشتہ کی بات چل رہی ہے،، اس نے رشتے پر زور دیا تو وانیہ کلس کر رہ گئی
تو پھر تو آپ نے یہ بھی سنا ہو گا کہ میں انکار کر چکی ہوں ۔اس نے بھی دانت کچکچا کے کہا۔
وہ،،،،،، وہ تو آپ نے غالباً اپنی پڑھائی کی وجہ سے انکار کیا ہے تو کوئی بات نہیں میں آپ کی پڑھائی مکمل ہونے کا انتظار کروں گا، اور،،،، اس نے انتہائی گہری اور دلچسپ نظروں سے اسے دیکھا،
اور، اب تو انتظا کرنا ہی پڑے گا۔۔وہ اس کے خطرناک تیور دیکھ کر اپنی بات کہہ کر رفو چکر ہو گیا ۔
نکاح ہو چکا تھا ہر طرف مبارک باد کی صدائیں. گونج رہی تھیں وہ تانی کو ڈھونڈ رہی تھی کہ سارا مامی نے اسے آواز دی ۔ان کے پاس امی اور مایا کی ماما بھی کھڑی تھیں
سنو وانیہ بیٹے،، مایا ریڈی ہے اسے باہر لے آؤ اور یہ جیولری باکس ہیں ان میں سے ایک میں خاندانی کنگن ہیں مایا کو لازمی پہنا دینا۔میرب، تانی اور نمرہ تو دودھ پلائی والی رسم کی تیاری کے لئے کچن میں گئی ہوئی ہیں،
جی بہتر،
وانیہ نے اندر جاتے ہوئے ایک نظر شفان پر ڈالی، وہ بے انتہا خوش تھا۔ اس نے بے اختیار نظریں چرا کر اس کی دائمی خوشیوں کی دعا مانگی تھی، محبت کی خوشی میں وہ بھی خوش تھی ۔
انھیں سوچوں کے زیرِ اثر وہ اندر داخل ہوئی ۔اندر وسیع لاؤنج میں کوئی نہیں تھا ۔وہ باکس تھامے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی کہ اچانک مایا کے کمرے کی طرف سے انتہائی دہشت ناک چیخوں کی آواز گونجی تھی ۔ وہ ہکا بکا پہلے تو ٹھٹھکی پھر بھاگ کر اوپر کی طرف لپکی۔
