Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Ishq Tera by Laiba Khan

میر مینشن اس وقت روشنیوں میں ڈوبا ہوا تھا
کئی قہقے لگانے کی اوازیں باہر تک جا رہی تھیں
جس سے واضح تھا اس عالیشان محل میں اس وقت کوئی تقریب چل رہی تھی
ایسے میں ایک جانب چھوٹی چھوٹی روشنیوں سے سجے درخت کے پاس ایک وجود کھڑا سخت تاثرات منہ پر سجائے ہونٹوں میں سگریٹ دبائۓ درخت سے ٹیک لگا کر وہاں موجود ہر انساں سے دور روشنیوں کی وجہ سے چھپے تاروں بھرے آسمان کو تک رہا تھا
زرغامان میرے جگر کیا کر رہا ہے اکیلا۔۔۔؟
معارج بلیک پینٹ شرٹ پہنے نرم مسکراہٹ سجائے اسکی جانب قدم برھاتا دور سے پکارتے ہوئے اس کے قریب اتا کندھے پر ہاتھ مارتا ہے
معارج کو اپنے سامنے دیکھ زرغامان نے بغیر اسکی جانب دیکھ سگریٹ نیچے پھینک کر اپنی سفیڈ شرٹ کے بازو کہنیوں تک مڑوڑنے لگا تھا
معارج اسکی حرکٹ پر اپنی ہلکی شیو کی داڑھی پر ہاتھ پھیرتا بھاگنے ہی لگا تھا جب اسکی گردن زرغامان کی سخت گرفت میں ائی تھی
رخ اسکی جانب کرتا وہ اپنے ہاتھ کی گرفت اسکی گردن پر اور بھی سخت کر گیا تھا
بلیک پینٹ ہر وائٹ شرٹ پہنے کوٹ دوسرے بازو پر لئے وہ اپنی سیاہ نگاہوں میں غصہ بھرے معارج کی معصوم شکل دیکھ رہا تھا
جو ابھی ابھی اسکی گرفت سے نکلنے کے لئے بنائی تھی
“معاف کر دے بھائی اللہ کی قسم میں معصوم ئوں مجھے تو میری ماں اب تک میرا معصوم بیٹا بلاتی ہے یقین جان دنیا میں میرے سے زیادہ معصوم کوئی نہی “!!
لرکیوں کی طرح آنکھوں کو پٹپٹاتا وہ نمونہ اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا
مسکرانے سے زرغامان کی برھی ہوئی داڑھی کے اندر پرتے گڑھے بے انتہا حسین لگے تھے
وجاہت سے بھرپور وہ مردانہ وجاہت کا شاہکار تھا
لمبہ چورا قد براؤن کلر جس کی وجہ سے اس کے حسن میں شاید اضافہ کیا گیا تھا
اس پر غضب ا سکے برھے ہوئی پعنی میں مقید بال
میرے نمونہ راستہ میں فوت نہ ہو جایا کر جنازہ میں نے لازمی ہرھنا ہے تیرا کے یقین ہو کے تو ٹل گیا ہے ۔۔!
گردن چھور کے ہاتھ جھاڑتا وہ اسے اچھی خاصی تپ چرھا چکا تھا
نمونہ کے دوست اپنی بیوی سے ایسے بات کرتے ہیں !؟؟؟
اچانک ہی اپنا موڈ بدلتے اپنا ہاتھ اسکے گال پر رکھے لہرا لہرا کر بولتا وہ اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر گیا تھاپئچھے ہٹتے وہ اسے اپنی طرف انے سے روکتا بربرا کر ہیچھے کی جانب برھا تھا
پھر چرھ گیا اس پر میری بیوی بننے کا بھوت ۔۔۔!
کف فولڈ کرتا اپنا کوٹ پاس سے گزرتے ویٹر کو دیتا وہ میر ولا سے باہر نکل ایا تھا
معارج بھی اسے پیچھے پیچھے میرا میاں میرا میان ہکارتا اس کے قریب ہی اکر رکتا ہے
جو اپنی گاڑی سٹارٹ کرنے لگا تھا
کار کے پاس کھرا ہوتا شیشہ کے پاس اکر لعنت دیتا دوسری جانب بھاگتا ہوا پہنچ کر کار میں جلدی سے بیٹھتا ہے
کیونکہ اس کے دروازہ بند کرنے سے پہلے وہ کال سٹارٹ کر چکا تھا
اور اگے برھا گیا تھا
سالے پھینک اسے بری جونی میں اپنا شوہر مارے گا ۔۔؟
اسے پھر سگریٹ سلگاتت دیکھ شیشہ نیچے کرتا وہ کھانس کر اپنی بات مکمل کرتا ہے
اگر ایک کو عشق تھا تو دوسرے کو اس کے عشق سے چڑ تھی !
اب اگر ایک بار خود کو میرا شوہر با یہیں کار روک کے شروع ہو جاؤنگا کمینے ۔۔۔!
بریک کی جانب ہاؤں برھاتے وہ وارن کرنے والےانداز میں بول کے ہنسی دباتا ہے
جانتا تھا یہیں پر اکر اسے چپ لگنی تھی
یا خدا میری بیوی سے میری عزت بچا۔۔!
دونوں بازو کروز کر کے اپنے سینے ہر رکھھتا وہ دہائی دینے کے موڈ میں آ چکا تھا
تیری عزت تو ابھی لوٹتا ہوں سالے چپ کر جا گھما مت دماغ میرا
زور دار مکہ اسکی کمر پر جڑتے اس نے رائٹ سائیڈ ٹرن کیا تھا
جب اچانک اسے بریک لگانی پری تھی
کیونکہ بری چرح ٹکر ہونے سے وہ بچا گیا تھا
سامنے ہی ایک لڑکا کھڑا نیچے کی جانب جھکا ہوا تھا
وہ یقینا نیچے بیٹھے وجود کو دیکھ ہا تھا
جس کو کار لگ گئی تھی مگر زرغامان نے بروقت بریک لگا کر کسی برے ایکسیڈینٹ سے بچا لیا تھا
کیا کر رہا ہے رک پتا نہی کون تھا زیادہ نہ لگی ہو رک میں دیکھ کے اتا ہوں ۔۔۔!
اسےکار واپس سٹارٹ کرتے دیکھ معارج اسے روکتا خود باہر نکلتا ہے
سامنے موجود لڑکے کے قریب اتے وہ ایک نظر نیچے برقعہ میں موجود لڑکی پس ڈالتا واپس اس لرکے کو دیکھ مخاطب ہوتا ہے
سوری سر اندھیرا تھا دیکھ نہی پائے اب بھی سائیڈ پر چلیں پلیز۔۔۔!
آدھا آدھا حصاب کرتا وہ اکتائے ہوئے کار میں بیٹھے زرغامان کو آنکھ مارتا ہے
کیونکہ غلطی انہی دونون کی تھی جو باتیں کرنے میں مصروف تھے
اور بغیر سامنے دیکھے ڈرائیو کیے جا رہے تھے
غلطی ہماری نہی ہے اگر نظر اتا ہے تو دیکھو کسی جگہ ڈرائیو کر رہے تھے ۔۔!
سامنے کھرا لڑکا دانت پیس کر بولتا اپنے پاس بھاگ کر اتی ایک لرکی کی جانب رخ موڑ کر اس دے مخاطب ہوتا ہے
آہہ پلیز نہی درد ہو رہا ہے ۔۔!
نیچے بیٹھی لرکی کی کراہ پر معارج کے جاتے قدم رکے تھے
آپ ٹھیک ہیں کیا اگر لگی ہے تو ہوسپٹل لے جائیں ۔۔۔؟
وہ ایسا ہی تھا مزاققیہ نرم دل
سسییی یہ کانچ نکالو ہلیزززز۔۔،،،
نہی نہی نہ نکالو!!!
اس نقاب کے اندر س اتی اواز پر وہ انکھیں پھارے اس لرکی کو دیکھ رہا تھا
جو پہلے خود ہی دوسری لرکی کو کانچ نکالنے کا کہ رہی تھی اور نکالنے خود ہی نکالنے ہر منع کر رہی تھی
دوسری جانب زرغامان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تھا
منہ میں سگریٹ ڈالتا غصہ دباتا وہ باہر نکلتا ہے
برات لے کر جائیگا بیٹھنا ہے تو بیٹھ ورنہ ہٹ تو بھی سامنے سے ۔۔!
بغیر لحاظ رکھے کسی کا بھی چیخ کر بولتا وہ واپس بیٹھنے لگتا ہے
جب اچانک نسوانی اواز سماعت سے ٹکرائی تھی
جو شاید رونے کے ساتھ درد ہونے کا بھی بتا رہی تھی
وہ بیٹھ جاتا مگر عجیب کشش تھی جو بار بار اسے اپنی طرف بلا رہی تھی
زرغامان میر زر پر کیا وار کر گیا تھا وہ نا واقف تھا
بھائی نکالو اسکا کانچ ۔!
پاس بیٹھی لرکی شاید اسکی بہن تھی
کوفت میں مبتلا ہو کر بولتی کھرے ہو کر وہ سائیڈ پر جاتی اپنا فون باہر نکال کر کان سے لگا گئی تھی
وہ اپنے فون میں مصروف ہو چکی تھی
اور اسکا بھائی سر جھٹک کر نیچے بیٹھتا اسکھ پاؤں میں گھسا کانچ دیکھتا ئے
جو وہاں موجود ہلکی سی لائٹ میں مکمل نظر نہی ارہا تھا
ایلاف دکھاؤ مجھے میں نکالوں ۔۔!
اسے نرمی سے ہچاکرتا وہ پاؤں سینڈل سے ازاد کرتا کانچ پکرتا ہے
نئیییی۔۔!
زور سے چیخ مارتی وہ اس سنسان روڈ کو بھی ہلا گئی تھی
ششش چپ روڈ پر ہیں ہم گھر میں نہی خاموش ہو ۔۔!
اپنے بھائی کی غصہ بھری اواز سنتی وہ سسکی ہونٹوں کو میچ کر دباتی مٹھیاں زور سے بند کر لیتی ہے
رکو ۔۔!
ابھی وہ کانچ بری برح کھینچ کر نکالتا جب وہاں کھرا زرغامان بول اٹھتا ہے
جاہل نظر نہی آتے مگر جاہلیت کوٹ کر بھری ہوئی ہے تم میں ۔۔!
اپنا فون نکال کر ٹارچ جلاتا وہ اپنے سامنے کھرے اس شخص کو نا ہسندیدہ نظرون سے دیکھ کر بوکتا ایلافکےے قریب ہی نیچے بیٹھتا ہے
بلیک گاون پہنے جس پر ایک سٹائل سے نیٹ لگی تھی سیاہ ہی اس پر سیاہ حجاب کیے چہر ہ پر ماسک چرھائے وہ پاؤں پکرے نم انکھوں سے نیچے ہی دیکھ رہی تھی
زرغامان نے اسکی انکھوں میں نہی دیکھا تھا
مگر وہ کیسے جان گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی وہ خود بھی نا واقف تھا
اوئے اٹھ وہاں سے بہن ہے میری دور ہو ۔۔۔!
زرغامان کے ایلاف کے قریب بیٹھتے وہ خود بھی نیچے بیٹھ کر ایلاف کے کندھے پر ہاتھ پھیلا گیا تھا شاید تحفظ کا احساس دے رہا تھا
ائک بھائی شاید یون ہی اپنی بہن کی حفاظت کرتا ہے
ہر بھائی اپنی بہن سے محبتیں نئی جتاتا مگر ہر بہن بھائیوں کے لئے قیمتی ضرور ہوتی ہے
ائی ریئلی ڈونٹ کیئر تم کون ہو یہ کون ہے مجھے بس ۔۔!
بات ادھوری چھورتا و بغیر اسکے پاؤں کو چھوئے وہ کانچ جھٹکے سے نکالتا معارج کا برھا ہوا رومال تھامتا اس کے پاؤں پک رکھ کر کھرا ہو چکا تھا
جانے سے مطلب ہے اپنے۔۔!
اپنی افھوری بات مکمل کرتا وہ ہاتھ جھارتا ہ
آہ مجھے اٹھنا ہے بھائی۔!
نرم سی اواز دوبارہ سماعت سے ٹکراتے وہ بغیر پلٹ کے دیکھے کار میں بیٹھا تھا
زرغامان کے اتنے سرد تاثر دیکھ معارج بھی کار میں اکر بیٹھ چکا تھا
انوگوں کے سامنے سے ہٹتے زرغامان نے فل سہیڈ سے کار اگے بھگائی تھی
ہم ہو گیا شکر چلو اب بیٹھو۔۔!
ان دونوں کو اتے دیکھ سنیہا اکتاہٹ بھرے لہجہ میں بولتی ان دونوں سے اگے برھ جاتی ہے
اپنے بھائی کا سہارہ لر کر چلتی ایلاف درد کی وجہ سے با مشکل چل پا رہی تھی
ان لوگوں کی عادت نہی تھی بحث کی اور دوسرا رات کا وقت تھا ان لوگوں نے بحث کرنا مناسب نہی سنجھا تھا
ہان انکی بھی تھوری غلطی تھی دیکھ بھال کے چلنا چاہے تھے
اسے ہی گھر ہئنچنے کی جلدی تھی جس کی وجہ سے کار سے ٹکرا کر وہ لرکھرا کر پیچھی کی جانب گری تھی جس کی وجہ سے ہاؤں میں کانچ گھس گیا تھا
شاید قریب ہی کوئی شیشہ کی بوٹل ٹوٹی ہوگی جس کا کانچ یوں بکھرا ہڑا تھا
کار تک پہنچتے وہ اسے ارام سے بٹھا کر ڈراوئینگ دیٹ سنبھالتا کار گھر کی جانب دوڑاتا ہے
کیونکہ ان لوگوں کو نکلے کافی دیر گزر گئی تھی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *