Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode (Watching)
Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
میں آدمی کو اپنے مولیٰ کے ساتھ جس کا وہ والی ہو، اچھا سلوک اور برتاٶ کرنے کی وصیت کرتا ہوں، خواہ اسکو اس سے تکلیف ہی کیوں نہ پہنچی ہو (سنن ابنِ ماجہ ٣٦٥٧)” عنایا کو اپنا سر درد سے پھٹتا ہوا محسوس ہوا مگر اس نے وہ کتاب ہاتھ سے نہ چھوڑی۔
“اللہ نے تم پر ماں کی نافرمانی کو حرام قرار دیا ہے(صحیح بخاری ٥٩٧٥)”اس نے ماں باپ کو اف تک نہ کرنے کی نصیحت بھی سن رکھی تھی مگر آج تک کبھی عمل نہیں کیا تھا، اسے اپنی ذہنی پستی پر افسوس ہوا۔
“جب بیٹی اپنی ماں سے نوکروں کی طرح سلوک کرے تو یہ قیامت کی ایک نشانی ہے(سنن ابنِ ماجہ ٤٠٤٤)” وہ ایک بار پھر بےآواز رونے لگی تھی۔
“خبردار! تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کیلیۓ بہتر ہے (سلسلہ۶صحیحہ ٢٦٧٨)” اسے مزید پڑھنے کی ہمت نہ ہوٸی، وہ کتاب بند کرتی، اسے گھٹنوں پر اور اس پر سر رکھے بس روۓ چلی جا رہی تھی۔
کافی دیر بعد اسے شدید بھوک کا احساس ہوا تو وہ کتاب رکھ کر زمین بوس قیمتی اشیا۶ کے نوکیلے کانچ کے ٹکڑوں سے پاٶں بچاتی کچن کی طرف جانے لگی تبھی اسے خدیجہ بیگم کے کمرے کا دروازہ کھلا اور لاٸٹ جلتی ہوٸی نظر آٸی، وہ آنسو پونچھتی کچن میں جانے کی بجاۓ ان کے کمرے کی طرف بڑھ گٸی جہاں وہ جاۓ نماز بچھاۓ دعا میں مشغول تھیں تبھی دور کسی مسجد سے آتی فجر کی اذان کی آواز سن کر وہ چہرے پر ہاتھ پھیرتی اٹھ کھڑی ہوٸیں اور عنایا ان کے اٹھتے ہی ان تک جاتی انکے گلے لگ گٸی، زاروقطار روتے ہوۓ!
خدیجہ بیگم کو اپنی دعاٶں کی اس قدر جلدی قبولیت کی ہرگز توقّع نہیں تھی، وہ اسے تھپکتے ہوۓ خود بھی رو پڑیں۔ماں بیٹی کے رونے کی آوازیں سن کر ذاکر صاحب جاگ گٸے تھے۔
“کیا ہوا ہے؟” وہ نیند کے عالم میں انکی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کر رہے تھے۔
“امی پلیز مجھے معاف کر دیں!” وہ انکے سوال کو نظرانداز کرتی خدیجہ بیگم سے کہہ رہی تھی۔
“اب رونا بند کرو” وہ اسے اپنے ساتھ سے علیحدہ کرتی اس کے آنسو پونچھنے لگیں۔
“بابا پلیز مجھے معاف کر دیں!” وہ انکے ساتھ سے ہٹتی ذاکر صاحب کے پاٶں کے پاس بیڈ کے ساتھ بیٹھتے ہوۓ روتے ہوۓ ان سے کہہ رہی تھی۔
“بیٹا! آپ کل تھیں کہاں؟” عنایا کو اس قدر پرشفقت انداز پر مزید شرمندگی ہوٸی۔
“بابا، پلیز کوٸی سوال نہ کریں، میں آٸندہ کوٸی غلط حرکت نہیں کروں گی” وہ وہیں بیٹھی ہچکیوں کے دوران بول رہی تھی۔
“ادھر آ میرا بیٹا!” وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر کھینچتے بیڈ پر بٹھا کر اپنے سینے سے لگا کر تھپکنے لگے۔عنایا کو اس پل محسوس ہوا سکون کسے کہتے ہیں!
یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ عابی
سنا ہے باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چبھتے
* * * * * * * * * *
چھ ماہ بعد۔۔۔۔
“سنا کیسا ہوا ہے پیپر؟” وہ تینوں ایف ایس سی کا آخری پیپر دے کر ٹہلتے ہوۓ امتحانی مرکز سے پبلک ٹرانسپورٹ کیلیۓ سٹاپ تک جا رہے تھے جب ہنزلہ نے انس سے پوچھا جو خود کو سنبھال کر کافی حد تک زندگی کی طرف لوٹ تو آیا تھا مگر ماں کی یاد ایک پل کیلیۓ بھی اس سے جدا نہیں ہوٸی تھی۔وہ شوخ نہیں رہا تھا۔
“بس ہو گیا یار!” وہ سامنے دیکھتے ہوۓ مایوسی سے کہہ رہا تھا۔
“اچھا چل بتا کتنی ایکسٹرا شِیٹس لی ہیں؟” عاٸز نے اسکے انداز پر مسکراتے ہوۓ دوبارہ سوال کیا۔
“یار پہلی نہیں ختم ہو رہی تھی، تم ایکسٹرا کی بات کرتے ہو!” انس اسکی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کہنے لگا۔
“میرا بھی یہی حال ہے” وہ دکھ میں ہونے کی ناکام اداکاری کرتے اسے اپنے گلے سے لگاتا کہنے لگا۔
“یار عاٸز! آج تو کچھ بانٹنا چاہیۓ، نہیں؟” ہنزلہ سر آگے کو کر کے عاٸز سے پوچھ رہا تھا۔
“ہاں مجھے بھی لگتا ہے، چل ٹافیاں بانٹتے ہیں” عاٸز نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“کس لیۓ؟” انس ان دونوں کی گفتگو سن کر حیرانی سے سوال کر رہا تھا۔
” جگر آج چھ ماہ بعد مسکرایا ہے!” وہ اسے گلے سے لگاتے ہوۓخوش ہو کر کہہ رہا تھا۔
“ایک تو تمہارے یہ آرمی والے ڈرامے نہیں ختم ہوتے، اوپر سے پیپر! بندے کو مسکرانے کیلیۓ بھی تو موقع چاہیۓ ہوتا ہے نا؟” وہ ان سے کہہ رہا تھا۔
“پہلے تو تُو ایسا نہیں تھا، موقع پا کر ہنسنے والا” عاٸز بہار کے سہانے موسم میں گھاس پر چلتے ہوۓ اس سے کہہ رہا تھا۔
“بس! وقت کے ساتھ ساتھ بندہ بدل جاتا ہے” وہ درد چھپاۓ مسکراتے ہوۓ ان دونوں سے کہہ رہا تھا۔
“ہممم۔۔۔۔!” عاٸز اسکی آنکھوں میں دیکھتا اثبات میں سر ہلانے لگا۔
ان تینوں کو فوج میں جانے کیلیۓ رجسٹریشن کے بعد انٹیلیجنس ٹیسٹ کیلیۓ بلایا گیا تھا جس میں وہ دونوں انس کے لاکھ انکار کے باوجود ہنزلہ کے کہنے کے مطابق اسے گھسیٹ کر لے گٸے تھے، تیاری کے بنا ٹیسٹ دے کر بھی انس نے وہ ٹیسٹ پاس کر لیا تھا، شاید ماں کی دعاٸیں رنگ لاٸی تھیں، اسکے کافی عرصے بعد انہیں فزیکل ٹیسٹ کیلیۓ بلایا گیا تھا جس میں ١.٦ کلو میٹر کی دوڑ ساڑھے آٹھ منٹ میں لگانے کے علاوہ پُش اَپس اور باقی چند ٹیسٹ شامل تھے۔اس ٹیسٹ میں کامیابی کے بعد انٹرویو کیلیۓ کی جانے والی کال پر بھی وہ تینوں موجود تھے پھر آٸی ایس ایس بی کا ٹیسٹ اور میڈیکل ٹیسٹ مشکل سے ہی سہی مگر پاس کرنے پر وہ چند روز پہلے فاٸنل جی ایچ کیو کا انٹرویو بھی دے آۓ تھے، بس اب کسی طرح جلدازجلد آرمی سے منسلک ہونے کی دعاٸیں کر رہے تھے۔
آٶ جھک کر سلام کریں انہیں
جن کے حصے میں یہ مقام آتا ہے
بہت ہی خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ
جن کا لہو وطن کے کام آتا ہے
* * * * * * * * * *
وہ تینوں فرسٹ ایٸر کے فاٸنل امتحان دینے کے بعد تقریباً پندرہ روز سے عنایا کی مسلسل فرماٸش پر آج اسکے گھر کے قریبی پارک میں موجود تھیں۔
“تم لوگوں کا فزکس کا پیپر کیساہوا تھا؟” عنایا نے شام کے وقت سامنے کھیلتے بچوں کی طرف دیکھتے ہوۓسوال کیا۔
ٗ”یار اب چھوڑ بھی دو پیپرز کو، ویسے میرا اچھا ہوا تھا” حرم اکتا کر شانے اچکاتے کہنے لگی۔
“اور تمہارا؟” وہ آف واٸٹ حجاب اوڑھے ڈارک بلیو کلر کی کڑھاٸی والی شارٹ شرٹ اور کیپری زیبِ تَن کیۓ ہوۓ اب ہبہ سے پوچھ رہی تھی۔
“میرا، یار بس نہ پوچھو کتنا برا ہوا ہے، اور میری امی! وہ تو مجھے مار ہی دیں گی اگر میرے کم نمبر آۓ، آجکل کے والدین بچوں کی باتیں سمجھ ہی نہیں پاتے، خاص طور پر امی” وہ آسمان پر لاٸن میں اڑتے پرندوں کو دیکھتے ہوۓ اسے بتانے لگی۔
“تمہیں لگتا ہے، تمہیں حرف حرف سکھانے والی تمہاری امی تمہاری بات نہیں سمجھ سکتیں؟” عنایا کو حیرانی ہوٸی۔
“یاد ہے عنایا! کچھ عرصہ پہلے تم بھی بالکل ایسی ہی باتیں کرتی تھی” حرم اسکی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی جو میک اپ سے اٹے چہرے اور کھلے بالوں سے زیادہ خوبصورت اس سادہ حجاب میں لگ رہی تھی۔
“تب میں ناسمجھ تھی یار!” عنایا نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“اور وہ لڑکا، یاد ہے! جس سے تم چھپ چھپ کر ملنے جاتی تھی، مجھے وہ جتنا برا لگتا تھا، توبہ توبہ” ہبہ ہنستے ہوۓ ماضی کی کتاب کے اوراق پلٹ رہی تھی۔
“ہاں! اور اسکے لیۓ ہماری اس سے کتنی بار لڑاٸی ہوٸی تھی، مگر ان محترمہ کو اس کے علاوہ کوٸی نظر ہی نہیں آتا تھا” حرم اسکے چہرے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہہ رہی تھی جو بالکل ساکن سامنے پیڑ پر نظریں جماۓ بیٹھی تھی۔
“وہ میری بیوقوفیاں تھیں!” عنایا نے پیڑ سے نظر ہٹا کر حرم کی طرف دیکھتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔
“تمہیں یاد ہے، جب ہم ایک بار تمہارے گھر گٸے تھے؟” ہبہ اس سے پوچھ رہی تھی۔
” اور کچھ کھاۓ پیۓ بنا ہی واپس آ گۓ تھے، ہاں یاد ہے” عنایا نے گلہ کیا۔
“ہم آنٹی کو تمہاری شکایت لگانے گٸے تھے” حرم اسکے سامنے کھڑی ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
“اور تم لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ میری امی سے ملنا ہے” وہ اثبات میں سر ہلاتی ایک ایک لفظ پر زور دے کر مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
“عنایا تم واقعی سدھر گٸی ہو” حرم نے اعتراف کیا۔
“ورنہ اس نے اس وقت ہمیں گالیوں اور لعنتوں سے نوازنا تھا” عنایا کے بولنے سے پہلے ہبہ بول پڑی تھی اور اب عنایا ان دونوں کو دیکھ کر محض مسکراتی پُر خلوص دوستوں پر اللہ کا شکر ادا کر رہی تھی۔
کبھی آغاز، کبھی انجام پہ مر مٹا تھا
عشق کی راہ میں ہر کام پہ مر مٹا تھا
آج محفل میں تیرے ذکر پہ دھڑکا بھی نہیں
دل جو کمبخت تیرے نام پہ مر مٹا تھا
* * * * * * * * * *
ابدال، فاٸق، اسکے کٸی دوست اور عام جان پہچان کے لوگوں کے علاوہ وہاں ریسٹورنٹ کے چند ویٹرز بھی موجودتھے مگررِبّن کاٹنے کا اعزاز اس نے کشف کو ہی بخشا تھا اور اب نٸے ریسٹورنٹ کے افتتاح پر بجاۓ شور و غُل کرنے کے کشف نے دعا سے ابتدا۶ کرنی تھی، وہ جانتا تھا۔ رفاقت کے چند ماہ میں ابدال اسے اتنا تو جان ہی گیا تھا۔
“ہم پاکستان کب جا رہے ہیں؟” وہ کیک کاٹتے ہوۓ تالیوں کے شور میں اس سے سوال کر رہی تھی جو اس وقت سادہ بلیک شرٹ اور جینز میں ملبوس ہونے کے باوجود بےحد ہینڈسم لگ رہا تھا۔
“بہت جلد!” ابدال نے اپنا دایاں ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ کر کیک کٹواتے ہوۓ بتایا۔
“آپ کو پتہ ہے، میں عمرہ کرنے کے بعد سیدھا وہاں جانا چاہتی تھی، یہاں صرف آپکی خواہش پر آٸی ہوں” کشف مسکراتے ہوۓ دھیمی آواز میں اسے یاد دلا رہی تھی۔
“اور میں آپکو آپکی خواہش پر یہاں سے سیدھا راکاپوشی دکھانے لے جاٶں گا” وہ اسی کے انداز میں کہتا اسے زرا ساٸڈ پر لے آیا۔
“واقعی؟” وہ خوشگوار حیرت سے پوچھ رہی تھی۔
“جی بالکل! آپ کا حکم خادم کے سر آنکھوں پر”وہ دایاں بازو سینے پر رکھتے جھکتے ہوۓ مسکرا کر کہہ رہا تھا۔
“خادم مانتا کم، اور منواتا زیادہ ہے” وہ پیلے رنگ کا سادہ لباس اور سرخ حجاب اوڑھے اسکے انداز پر ہنستے ہوۓ کہنے لگی۔
“خادم کے پاس ابھی تجربہ کی کمی ہے، وقت کے ساتھ ساتھ سب سیکھ جاۓ گا” وہ مسکراہٹ چھپاتا مصنوعی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوۓ کہہ رہا تھا اور کشف اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی مسکراۓجا رہی تھی۔
دونوں دل ہی دل میں اللہ سے بہترین ہمسفر کی دَین پر شکرگزار تھے۔
خوابوں کی طرح تھا، نہ خیالوں کی طرح تھا
وہ علمِ ریاضی کے سوالوں کی طرح تھا
الجھا ہوا ایسا کہ کبھی حل ہو نہیں پایا
سلجھا ہوا ایسا کہ مثالوں کی طرح تھا
* * * * * * * * * *
“اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتی ہوں عاجزی سے، سُستی سے، بزدلی سے، بخل اور کنجوسی سے اور انتہاٸی بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتی ہوں عذابِ قبر سے اور میں تیری پناہ مانگتی ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے”(سنن ابی داٶد ١٥٤٠)
“اے پروردگار! تو مجھے توفیق دے کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر بجا لاٶں جو تو نے مجھ پر انعام کی ہیں اور میرے ماں باپ پر اور میں ایسے نیک اعمال کرتا رہوں جن سے تو خوش رہے، مجھے اپنی رحمت سے نیک بندوں میں شامل کر لے”(سورة النمل)
وہ عصر کی نماز کے بعد پچھلے عرصے میں ہر نماز کے بعد مانگی جانے کے باعث رٹ جانے والی دعاٸیں آج پھر مانگ رہی تھی، اپنے اندر جلنے والے دیۓ کی روشنی کو کھوجنے کے بعد، خود کو پہچان کر اپنی شہ رگ سے نزدیک ہستی کو پہچاننے کے بعد وہ آج اسکا لاکھ لاکھ شکر ادا کر رہی تھی تبھی دروازہ بجنے پر رخ موڑ کر دروازے کی طرف متوجہ ہوٸی جہاں خدیجہ بیگم مسکراتے ہوۓ کھڑے اسکی دعا کے مکمل ہونے کا انتظار کر رہی تھیں۔
“عنایا بیٹا! کشف کا بھاٸی آیا ہے، تم کچھ دیر ڈراٸنگ روم میں جاٶ، میں چاۓ لیکر آتی ہوں”وہ اس تک آ کر کہہ رہی تھیں۔
“پہلے بتاٸیں آپ آرڈر کر رہی ہیں یا ریکوٸیسٹ؟” وہ جاۓ نماز تہہ کرتے ہوۓ مسکرا کر ان سے پوچھنے لگی۔
“ریکوٸیسٹ!” انہوں نے اسی کے انداز میں کہا۔
“آپ کا آرڈر بھی سر آنکھوں پر!” وہ جاۓ نماز رکھ کر انکے سامنے کھڑی معصومیت سے کہتے ہوۓ ان کے گال پر بوسہ دے کر ڈریسنگ سے کوٸی کتاب اٹھاتی باہر نکل گٸی اور خدیجہ بیگم خوش ہو کر نفی میں سر ہلاتی اسکے پیچھے باہر نکلتی کچن میں جانے لگیں۔
“السلام و علیکم!” عنایا نے ڈراٸنگ روم میں جا کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام!” ہنزلہ اسکے ڈراٸنگ روم میں داخل ہوتے ہی اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“بیٹھیں پلیز!” بھابھی کے بھاٸی کی حیثیت سے عنایا کی اسکے ساتھ تھوڑی بہت دعا سلام تھی۔
“وہ۔۔۔ میں آپکو انواٸیٹ کرنے آیا تھا، اگلے ہفتے آرمی میں جواٸننگ کے لیۓ مجھے کوہاٹ جانا ہے تو بابا نے میرے جانے سے پہلے ایک چھوٹا سا فیملی گیٹ ٹُو گیدر رکھا ہے، ہفتہ کی شام کو،آپ ضرور آٸیے گا، تب تک کشف آپی بھی آ جاٸیں گی”
وہ مسکرا کر ایک ایک بات کلیٸر کر رہا تھا، اس لڑکی کے سامنے جسے دیکھ کر اب اسکے دماغ میں پہلا خیال امیچیور فون والی لڑکی کی بجاۓ سادہ، خوبصورت اور خاموش مزاجی کا آتا تھا۔
“آپ کی آرمی میں سیلیکشن ہو گٸی ہے؟” عنایا کا اسکی لمبی چوڑی بات کی بجاۓ صرف ایک لفظ پر دھیان تھا “آرمی” اور اب وہ خوشگوار حیرت میں اپنا سیاہ رنگ کا دوپٹہ بار بار سیٹ کرتی اس سے سوال کر رہی تھی۔
“جی!” عنایا نے دیکھا وہ چہرے پر دیکھنے کی بجاۓ نظریں جھکا کر نہایت عزت سے بات کرتا تھا۔
“مبارک ہو!” اس نے کہا۔
“خیر مبارک!” اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
“اوہ۔۔ یاد آیا، یہ میں آپکو واپس کرنا چاہتی تھی” وہ مسکرا کر اٹھتی اس تک جا کر اسے اپنی زندگی کی سب سے بہترین اور دوست کتاب واپس کر رہی تھی، جسے اس نے کافی روز سے اسے واپس دینے کا ارادہ کیا ہوا تھا کیونکہ وہ اسکی نہیں تھی مگر اسے دے دی گٸی تھی۔ بلاشبہ اللہ جسے چاہتا ہے اسکی تمام تر براٸیوں سمیت اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
“آپ چاہیں تو اسے رکھ سکتی ہیں” وہ کتاب کی طرف دیکھتے ہوۓ کہہ رہاتھا۔
“شاید کسی اور کی زندگی بدلنے کیلیۓ آپ کو اسکی ضرورت پڑے” وہ کتاب واپس کر کے دوبارہ سامنے والے صوفے تک آتی کہہ رہی تھی۔
“آپکو لگتا ہے میں ہر دوسری لڑکی کو کتابیں گفٹ کرتا پھرتا ہوں؟” عنایا نے دیکھا اس نے ایک پل کو نظریں اٹھاٸی تھیں مگر پھر جھکا لیں۔ وہ مزاحیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔
“پتہ نہیں !” وہ شانے اچکاتے مسکراتے ہوۓکہہ رہی تھی۔
“آپ کو کیا لگتا ہے؟” اس نے دوبارہ پوچھا۔
“مجھے نہیں لگتا!” وہ اسکی گفتگو سے محظوظ ہو رہی تھی۔
“درست لگتا ہے” ہنزلہ ہنس رہا تھا۔
“کیا یہ عنایت آپ نے خاص طور پر مجھ پر کی ہے؟” وہ پوچھ رہی تھی۔
“جو آپ سمجھ لیں!” اس نے شانے اچکاتے ہوۓکہا۔
“ویسے آپ نے اسے پڑھا بھی ہے؟” وہ کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھ رہا تھا۔
“مجھے اس کتاب کا ایک ایک حرف رَٹ گیا ہے” اس نے مسکرا کر کہا۔
“صرف رٹتی رہی ہیں، یا عمل بھی کیا ہے؟” ہنزلہ حیرانی میں اس سے پوچھ رہا تھا۔
“آپ کو کیا لگتا ہے؟” وہ اسی کا سوال اس سے کر رہی تھی۔
“مجھے لگتا ہے آپ نے کچھ کچھ عمل کیا ہے، کچھ عرصہ پہلے تک تو مجھے آپ بالکل امیچیور، اپنی ذات اور تمام رشتوں سے بیگانہ لگتی تھیں مگر اب آپ کم از کم اپنی ذات سے آشنا ہو گٸی ہیں” وہ لڑکیوں کے ساتھ بےتکلف نہیں ہوتا تھا، یہ پہلی بار تھی اور عنایا اپنی حدوں کو پہچاننے لگی تھی۔ اسکا دل ہنزلہ کے ایک ایک حرف کی درستگی کی گواہی دے رہا تھا اور وہ محض مسکراتے ہوۓ اسکے پرتاثیر لفظوں کے سحر میں کھوٸی بس اسے دیکھے چلی جا رہی تھی جو اسکے وجود پر ایک نگاہ ڈالنا بھی عنایا کی عزت میں کمی اور اسکی رسواٸی کا باعث سمجھتا اپنی نظریں جھکاۓ ہوۓ تھا۔
ہمیں کرنِ آفتاب نے اپنایا ہے تب سے
چراغِ دنیا کو ہم نے بجھایا ہے جب سے
بہت آزما لیا چاند ستاروں کو
اب ہم نے سیدھا دل لگایا ہے رب سے
* * * * * * * * * *
ختم شد!
