Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode13

Intekhab by Sehar Kanwal Episode13

ماما آپ کو نہیں لگتا آپ لوگ میری شادی میں بہت جلدی کر رہے ہیں “ کشف واپسی کے اگلے روز ہنزلہ کے کالج اور صادق صاحب کے آفس جانے کے بعد ان کے سامنے بیٹھی دوستانہ انداز میں سوال کر رہی تھی ۔
”بیٹا ، ہم نے تم سے پوچھ کر فیصلہ کیا ہے ، اگر تمہیں کوٸی اعتراض تھا تو پہلے بتاتی“ انہوں نے مسکراتے ہوۓ پر شفقت انداز میں جواب دیا ۔
”نہیں، مجھے کوٸ اعتراض نہیں ہے، بس ایسے ہی میں چار سال مسلسل پڑھاٸی کے بعد کچھ سکون کرنا چاہتی تھی اوراب یہ شادی کا جھنجھٹ“ وہ مسکراتے ہوۓ سوچ سوچ کر بول رہی تھی ۔
” یہ کوٸ جھنجھٹ نہیں ہے بیٹا، اور پھر لوگ بہت اچھے ہیں تمہیں وہاں جا کر بھی کسی عجیب کیفیت سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا“ وہ اسے یقین دلا رہی تھی ۔
” آپ کہتی ہیں تو مان لیتی ہوں ، ویسے میں پاکستان کی سیر کرنا چاہتی تھی ترکی سے واپس آ کر“ وہ مسکراتے ہوۓ ریموٹ پکڑے چینل بدلنے لگی مگر آواز بند کر رکھی تھی ۔
” یہ تو تم شادی کے بعد بھی کر سکتی ہو“ انہوں نے حل پیش کیا ۔
” ہاں مگر کیا پتہ ان کو سیر کرنا پسند نہ ہو اور وہ مجھے بھی منع کر دیں یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو پاکستان پسند نہ ہو اور وہ مجھے پاکستان کی سیر نہ کرنے دیں مگر میری بہت خواہش ہے کہ میں اپنا ملک گھوموں اس کے بعد باقی ملک دیکھوں “ وہ ایک دوست کی طرح منیبہ بیگم کے سامنے بیٹھی ان سے اپنی خواہشات کا تذکرہ کر رہی تھی ۔
” ایسا کچھ نہیں ہو گا ، وہ لوگ ضرور تمہاری خواہشات کو ترجیح دیں گے“ انہوں نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
”اللہ کرے“ کشف نے دعا مانگی ۔
”شاپنگ کے لیے کب جانا ہے ؟ “انہوں نے چند لمحوں بعد سوال کیا۔
”ماما اتنی بھی کیا جلدی ہے، ویسے بھی میں ایک دن میں ساری شاپنگ کر سکتی ہوں ، تو ابھی رہنے دیں “ کشف نے بچوں والے انداز میں کہا۔
”بیٹا صرف آٹھ دن ہیں اور اس میں سب کچھ مینِج کرنا ہے، جہیز، براٸیڈل ڈریس، اور بھی تمام کام ، اس لیے تم تاخیر مت کرو ، جب تمھاری شاپنگ مکمل ہو جاۓ گی تو کم از کم مجھے ایک طرف سے تو سکون ہو گا ناں “ منیبہ بیگم نے اسے پیار سے سمجھایا۔
” اچھا ٹھیک ہے ، بابا کب آٸیں گے ؟ “ اس نے سوال کیا ۔
” وہ جلدی ہی آ جاٸیں گے اور پھر میں اور تم ان کے ساتھ شاپنگ پر جاٸیں گے، تم تیار رہنا “ انہوں نے وضاحت دی۔
”اوکے“وہ کہہ کر ٹی وی دیکھنے لگی۔
” ہم آج باقی ساری شاپنگ کر لیں گے اور براٸیڈل ڈریس تم کل ابدال کے ساتھ جا کر خرید لینا“ منیبہ بیگم نے چند لمحے توقف کے بعد کہا۔
”ابدل کون ہے ؟ “ اس نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ۔
” تمھارا ہونے والا شوہر “ منیبہ بیگم نے ہنستےہوۓ بتایا۔
”ماما میں اکیلی ان کے ساتھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں آپ ساتھ چلنا “ وہ نفی میں سر ہلانے لگی۔
”پاگل ہو کیا؟“ منیبہ بیگم کو اس کی بات پر حیرانی ہوٸ۔
” اس میں پاگل والی کونسی بات ہے ؟ “ اس نے شانے اچکا کر سوال کیا ۔
” بدھو ہی رہنا ہمیشہ!“وہ اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی وہاں سے اٹھ کھڑی ہوٸ ۔
* * * * * * * * * *
”بابا میں ذرا باہر جا رہا ہوں ، شاید تھوڑا لیٹ ہو جاٶں” حرم ،عاٸز اور عاکف صاحب اتوار کو دوپہر کا کھانا کھا کر فارغ ہوۓ تو عاٸز نے ان سے کہا۔
”کہاں جا رہے ہو؟ “ عاکف صاحب نے اس سے پوچھا۔
”وہ میرے ایک دوست کی آپی کی شادی ہے تو میں ،وہ اور انس اس کے قریبی رشتے داروں کے گھر کارڈز دینے جاٸیں گے”اس نے وضاحت دی۔
” یہ تمھارا کون سا دوست ہے جو تمہاری شکل ہر جگہ برداشت کر لیتا ہے“ حرم نے ہنسی دباتے اس سے سوال کیا ۔
”ہر کوٸ تمھاری طرح نہیں ہے“ اس نے زبان دکھاتے ہوۓ حرم سے کہا۔
” پتہ نہیں کیسے برداشت کرتے ہوں گے بیچارے “ حرم نے افسوس سے نفی میں سر ہلا یا۔
”بابا دیکھ لیں اس کو“ اس نے عاکف صاحب کو شکایت لگاٸی جو ان کی نوک جھونک سن کر مسکرا رہے تھی۔
”بابا دیکھیں کتنا تیار ہو کر جا رہا ہے آپ کا بیٹا ، ضرور کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے “ اس نے عاٸز کی تیاری کو دیکھتے ہوۓ عاکف صاحب سے کہا۔ وہ بلیک کرتا شلوار اور براٶن جیکٹ پہنے ہوۓ تھا ۔
” تم صحیح کہہ رہی ہو بیٹا اس پر نظر رکھنی پڑے گی “ انہوں نے عاٸز کی طرف دیکھتے ہوۓ حرم کو رازداری سے کہا۔
” بابا ۔ ۔ آپ بھی ؟ “ عاٸز بچوں کی طرح ان سے سوال کرنے لگا ۔
”ہاں میں بھی اپنی بیٹی کی ساٸیڈ پر ہوں “ عاکف صاحب نے حرم کے گرد بازو حاٸل کرتے مسکراتے ہوۓ کہا جبکہ حرم سامنے کھڑے عاٸز کو منہ چڑھانے لگے اور وہ نفی میں سر ہلاتا خدا حافظ کہہ کر گیٹ سے باہر نکل گیا ۔
* * * * * * * * * *
”بیٹی تم مہندی کا ڈریس کس رنگ اور ٹاٸپ کا لینا چاہتی ہو؟ مال میں داخل ہوتے ہی خدیجہ بیگم نے کشف سے پوچھا جو گاڑی میں بیٹھنے سے لے کر اب تک نظریں جھکاۓ خاموش رہی تھی اور عنایا ان دونوں کے پیچھے خدیجہ بیگم کے اسرار پر کشف کو کمپنی دینے چلی آٸی تھی۔جبکہ ابدال ان دونوں کے آگے چل رہا تھا ۔
”آنٹی ۔ ۔ آپ شاپ پر چلیں میں پھر ڈیساٸیڈ کر لوں گی “ اس نے نروس ہوتے ہوۓ کہا اور اس کے ڈرے سہمے انداز پر ابدال نے چہرہ موڑ کر اس کو دیکھا تھا اور اسے شک گزرا کہ ابھی تک کشف نے نظریں اٹھا کر اسے دیکھنے کی تکلیف نہیں کی ۔
”اوکے“ خدیجہ بیگم مسکراتے ہوۓ اسے ایک براٸیڈل شاپ میں لے گٸیں۔یہاں وہاں نظریں گھما کر کشف کو کچھ سمجھ نہ آیا۔
” آپ میری مدد کریں یا پھر عنایا سے کہیں پلیز“ وہ سامنے رنگ برنگے لہنگے دیکھ کر ان سے کہنے لگی۔
”ابدال سے پوچھ لیتے ہیں “ وہ مسکرا کر اس کو کہتی ابدال کو اندر بلانے لگیں جو شاپ کے باہر کھڑا تھا ۔
”بیٹا! کشف کو پسند کرنے میں مسٸلہ ہو رہا ہے، تم اس کی کچھ مدد کرو“ وہ ابدال سے کہہ رہی تھیں جو سامنے موجود ہر رنگ اور ہر ٹاٸپ کے لہنگے کو دیکھ رہا تھا۔
”امی آپ کو پتہ ہے مجھے ان کاموں کی کچھ خاص سینس نہیں ہے، آپ پلیز عنایا کے ساتھ مل کر کچھ طے کر لیں “ وہ آہستہ آواز میں ان کو کہہ رہا تھا جب کشف نے پہلی بار سر اٹھا کر اسے دیکھا جو سکاٸی بلیو شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ اور بلیک جیکٹ پہنے وجاہت کی مثال لگ رہا تھا اور کشف کو اسے پہچاننے میں ایک سیکنڈ لگا تھا۔
”یہ ۔ ۔ یہ تو وہی ہے ۔ ۔ ۔ وہ ترکی کا ریسٹورنٹ اونر!“ وہ دوسری طرف مڑ کر حیرانی سے سوچ رہی تھی جب اسے اس کی آواز سناٸی دی ۔
“امی! یہ بہت خوبصورت ہے مہندی کیلیٸے” کشف نے پلٹ کر اسے دیکھا جو گلابی اور ہلکے سبز رنگ کے خوبصورت کامدار لہنگے پر ہاتھ رکھے خدیجہ بیگم کو بتا رہا تھا۔
“دیکھو بیٹی کیسا ہے؟” انہوں نے کشف سے سوال کیا جو عالمِ حیرت میں مبتلا تھی۔
“جی۔۔۔۔۔جی اچھا ہے” وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی جب ابدال نے وہ لہنگا مہندی کیلیۓ پیک کروایا اور پھر بارات اور ولیمے کیلیۓ انکو ڈریس چُوز کرنے کا حکم دے کر باہر نکل گیا۔
* * * * * * * * * *
“یار اب کتنے گھر رہتے ہیں؟” ایک گھر میں کشف کی شادی کا کارڈ دے کر باہر نکلتے ہوۓ انس نے ہنزلہ سے سوال کیا۔
“کیوں، تھک گیا ہے کیا؟” ہنزلہ گاڑی کے پاس کھڑا ہو کر اس سے پوچھنے لگا۔
“نہیں،نہیں اٹھارہ گھروں میں چہرے پر مسکراہٹ سجا کر دس دس منٹ بیٹھ کر کارڈز دینے سے کوٸی تھکتا تھوڑی نا ہے” اس کے انداز پر عاٸز اور ہنزلہ ہنس پڑے۔
“اور پھر بندے کی امیدوں پر پانی پھر جاۓ ،تواور ہی مزہ آتا ہے” عاٸز نے ہنستے ہوۓ گاڑی میں بیٹھ کہا ان دونوں سے کہا جب ہنزلہ کار سٹارٹ کر رہا تھا اور انس منہ لٹکاۓ پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھا۔
“ہاں! اس نے سوچا ہو گا، ہر گھر میں ایک پیاری سی لڑکی اس کا استقبال کرے گی، اسے چاۓ پلاۓ گی مگر بیچارہ۔۔۔۔ہر جگہ آنٹیاں ہی نظر آٸیں” ہنزلہ افسوس سے کہتا کار چلانے لگا۔
“ایسی کوٸی بات نہیں ہے” اس نے غصیلے انداز میں کہا۔
“تو پھر کیسی بات ہے؟” ہنزلہ نے شیشے میں اسکا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر فوراً سوال کیا۔
“ایسی ہی بات ہے بیٹا، ورنہ کوٸی یونہی نٸی شرٹ، نٸے شوز اور عمدہ جیکٹ پہن کر تو نہیں آتا” عاٸز نے اسکے بننے سنورنے کا مذاق اڑایا۔
“صحیح کہہ رہا ہے یار! نظر رکھ اس پر، کیا پتہ کونسی گلی میں اپنی بھابھی نظر آ جاٸیں” ہنزلہ مسکراہٹ دباۓ عاٸز سے کہہ رہا تھا۔
“تم دونوں اپنی بکواس بند کرو گے یا میں ادھر ہی اتر جاٶں؟” انس نے دھمکی آمیز انداز میں سوال کیا جس پر عاٸز اور ہنزلہ جو کافی دیر سے ہنسی دباۓ بیٹھے تھے، پھٹ پڑے اور انس ان دونوں کو ایک ایک مکا رسید کرتا خود بھی ہنس پڑا تھا۔
ملتی ہے ہر طرف سے یوں تو زمانے کی ہر خوشی
لیکن جو بات یاروں میں ہے،کسی اور میں کہاں؟
* * * * * * * * * *
کشف کی خواہش پر نکاح فیصل مسجد میں رخصتی سے دو دن پہلے منعقد کیا گیا تھا جہاں کشف سفید جوڑے میں ملبوس گھونگٹ نکالے بیٹھی تھی اور ابدال واٸٹ کرتا شلوار پر بلیو واسکٹ پہنے ہر بار کی طرح بے حد خوبصورت لگ رہا تھا۔وہاں اس وقت گھر کے تمام بڑے اور نکاح خواں موجود تھے۔
“کیا آپکو کشف صادق ولد صادق حسین بعوض حق مہر پانچ لاکھ روپے اپنے نکاح میں قبول ہیں؟” نکاح خواں تین بار ابدال سے پوچھنے کے بعد اس کے اقرار پر اسکے آگے نکاح نامہ رکھنے لگے جس پر اس نے خوشی اور شکرانے کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجاۓ بنا ایک لمحہ ضاٸع کیۓ ساٸن کر دیۓ۔
“آپکو ابدال ذاکر ولد ذاکر شاہ کے نکاح میں بعوض پانچ لاکھ روپے حق مہر دیا جاتا ہے، کیا آپکو یہ نکاح قبول ہے؟” نکاح خواں کشف سے پوچھ رہا تھا مگر وہ کافی نروِس تھی۔
“قبول ہے!” بلآخر اس نے تیسری بار پوچھنے پر کہا۔اس کے دستخط کرنے کے بعد کمرے میں خوشیاں بھر گٸی تھی، ہر شخص ہاتھ اٹھاۓ مسکراتے چہرے کے ساتھ ان دونوں کے بہترین مستقبل کا دعاگو تھا اور دعا کے بعد مٹھاٸی کی بجاۓ چھوہاروں سے سب کا منہ میٹھا کیا گیا جو کشف کی خواہش کے عین مطابق تھا اور وہ اسلامی طور پر اپنا نکاح ہونے پر بے حد خوش تھی، اب اسے باقی رسومات دنیاوی طریقوں سے ادا کرنے پر کوٸی گلہ نہیں تھا۔
#جاری_ہے♥️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *