Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 (Watching)Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Episode12
Intekhab by Sehar Kanwal Episode12
“امی میں آپکو کتنی بار کال کر چکا ہوں مگر آپ فون ہی نہیں اٹھا رہیں، سب خیریت ہے نا؟” خدیجہ بیگم نے گھر پہنچ کر ساٸلنٹ موڈ پر کیا ہوا فون چیک کیا جس پر ابدال کی سات مِسڈ کالز تھی اور اب کال بیک کرنے پر اس نے غصے اور پریشانی کے ملے جلے عنصر میں سوال کیا۔
“میں نے دیکھا نہیں” انہوں نے اسکی بےچینی بھانپنے کو جان بوجھ کر ایسا جواب دیا۔
“اچھا چھوڑیں اس بات کو، مجھے یہ بتاٸیں کیا بنا؟” ابدال نے لہجے کو پرسکون رکھتے ہوۓ دوبارہ سوال کیا مگر نظریں سامنے فاٸق پر مرکوز تھیں جو کسی ویٹر کو کچھ سمجھا رہا تھا۔
“کس کا؟” خدیجہ بیگم نے انجان بنتے ہوۓ الٹا سوال کیا۔
“امی بتاٸیں نا پلیز!” اس نے بچوں والے انداز میں کہا۔
“ہم گٸے تھے”خدیجہ بیگم اندر ہی اندر مسکراتے ہوۓ مختصراً جواب دیتی اس کی بے چینی سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
“تو کیا ہوا؟” اس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوۓ پوچھا۔
“کچھ بھی نہیں!” انہوں نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“کیا مطلب؟” وہ یکدم چونک کر چیٸر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا جس پر ساتھ والی میز پر بیٹھی لڑکیوں نے اسے مڑ کر دیکھا تھا۔
“مطلب یہ کہ کچھ نہیں ہوا!” انہوں نے مایوسی سے بتایا۔
“امی کیا کہہ رہی ہیں؟ کیا واقعی انہوں نے انکار کر دیا ہے؟” ایک ایک پل میں اس کے چہرے کے بدلتے رنگ دیکھ کر فاٸق اسکی طرف آیا تھا جو پریشانی کے عالم میں دوبارہ کرسی پر ڈھے چکا تھا۔
“ارے نہیں! انہوں نے انکار نہیں کیا” خدیجہ بیگم نے اسکی حالت کا اندازہ لگاتے بالآخر بتا دیا۔
“اچھا!” اس نے گہری سانس لی۔
“تو پھر کیا کہا؟” ابدال نے چند لمحوں بعد خود کو کمپوز کر کے سوال کیا۔
“وہ سوچ کر بتاٸیں گے” خدیجہ بیگم نے کہا۔
“امی! آپکو کیا لگتا ہے؟” وہ قدرے پریشانی میں سوال کر رہا تھا۔
“مجھے لگتا ہے۔۔۔”وہ کچھ کہتے کہتے رک گٸیں۔
“کیا؟” ابدال نے فوراً پوچھا۔
“جلد کشف میری بہو بنے گی!” ان کے مسکرا کر کہنے پر ابدال نے بے اختیار اللہ کا شکر ادا کیا اور سامنے کھڑے ہونق بنے اس پر نظریں جماۓ فاٸق کے گلے لگ گیا۔
* * * * * * * * * *
“ماما! یہ کیسی لڑکی ہے؟” ہنزلہ ڈنر پر منیبہ بیگم اور صادق صاحب کے سامنے بیٹھے سوال کر رہا تھا۔
“کون س لڑکی؟” صادق صاحب نے بھنویں اچکاتے مسکراتے ہوۓ سوال کیا۔
“بابا! آپ تو رہنے دیں۔۔ماما! یہ کیا تھا؟” وہ آدھی بات صادق صاحب سے کہتا منیبہ بیگم سے سوال کرنے لگا جو سالن نکال رہی تھیں۔
“کیا کیا تھا؟” انہوں نے الٹا سوال کیا۔
“مجھے لگ رہا تھا اس لڑکی نے فون پہلی بار دیکھا ہےاور کوٸی خاص تمیز بھی نہیں تھی اسے، کسی کے گھر جا کر رکھ رکھاٶ کی!” وہ تیز تیز بول رہا تھا۔
“کس کی بات کر رہے ہو؟” منیبہ بیگم کو اسکی بات سمجھ میں نہ آٸی جب کہ صادق صاحب بھی اسکی بات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“وہی جو دن کو آٸی تھی” اس نے یاد دلایا۔
“اوہ! تو تم اسی کو دیکھ رہے تھے؟” صادق صاحب نے مزاحیہ انداز میں رازداری سے پوچھا۔
“بابا! پلیز” اس نے بچوں کی طرح ان کو کسی بھی شرارت سے باز رہنے کا کہا۔
“تم تو رہنے ہی دو اسکو، خود بھی تو ہر وقت موباٸل میں گھسے رہتے ہو، ویسے بھی کسی کے بارے میں ایسے کمنٹس پاس کرنا بری بات ہے بیٹا” وہ اسے سمجھاتے ہوۓ کہنے لگیں۔
“ماما! کم از کم اس کی طرح میں ہر وقت اس میں نہیں گھسا رہتا!” اس نے قریب پڑے موباٸل کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
“اچھا بس ٹھیک ہے نا، رہنے دو” منیبہ بیگم نے اسے سرزنش کرتے ہوۓ کہا۔
“آپ نے کیا سوچا ہے؟” صادق صاحب نے چند لمحوں بعد ان سے سوال کیا۔
“مجھے تو لوگ اچھے لگے ہیں، باقی آپ کی مرضی” انہوں نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا جبکہ ہنزلہ ہونق بنا ان دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔
“کیا مطلب؟” اس نے فوراً سوال کیا۔
“یہ لوگ کشف کے رشتے کی لیۓ آۓ تھے” منیبہ بیگم نے ہنزلہ کو بتایا۔
“واقعی؟” اسے فوراً وہ امیچیور لڑکی دکھاٸی دی جس کے بعد اس نے برا سا منہ بناتے ہوۓ حیران کُن انداز میں سوال کیا۔
“ہاں” صادق صاحب نے یقین دہانی کرواٸی۔
“تو پھر؟” وہ ان کے منہ سے انکار سننا چاہتا تھا۔
“پھر کیا؟ کشف کی پی ایچ ڈی مکمل ہونے کو ہے اور چند روز بعد اسکی واپسی ہے، اگر اس نے رضامندی ظاہر کی تو اسکی شادی کر دیں گے” صادق صاحب نے اگر پر زور دیتے ہوۓ عام سے لہجے میں پوری بات ہنزلہ کے گوش گزار کی۔
“اتنی جلدی؟” ہنزلہ بےیقین تھا۔
“ہاں! انہوں نے جلد شادی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔”منیبہ بیگم نے کہا۔
“آپی مان جاٸیں گی؟” ہنزلہ نے دھیمے سے سوال کیا۔
“پوچھ کے دیکھتے ہیں، ویسے بھی انکار کی کوٸی وجہ تو ہونی نہیں چاہیۓ کیونکہ لڑکا دیکھا بھالا ہے، خوبصورت ہے اور سب سے بڑی بات ترکی میں سیٹلڈ ہے” صادق صاحب نے ہنزلہ کو سمجھاتے ہوۓ کہا جس کی نظروں کے سامنے وہ فون استعمال کرتی امیچیور لڑکی گھوم رہی تھی کیونکہ اسے اس سے الجھن ہوٸی تھی اور اس بات پر بار بار اسی کا خیال آتا تھا۔
“اچھا!” وہ اثبات میں سر ہلاتا کھانے میں مصروف ہو گیا۔
* * * * * * * * * *
“سنوکر کلب اور لفنگے دوستوں سے مل گٸی فرصت؟” ایاز رات ساڑھے گیارہ بجے گھر کے گیٹ سے اندر داخل ہوا تو اسے یہ الفاظ سننے کو ملے تھے جن کا وہ اب عادی ہو چکا تھا۔
“اماں ! آج تماشہ نہ لگانا” وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ منت بھرے انداز میں کہتا اندر چلا گیا۔
“ان آوارہ گردیوں کیلیۓ تیرا باپ محنت کی کماٸی بھیجتا ہے؟” سغریٰ بیگم اسے کچن میں کھڑے پانی پیتے دیکھ کر اس تک آتے سوال کرنے لگیں۔
“اماں! کوٸی قیامت نہیں آ گٸی، سب کرتے ہیں اپنی اولاد کیلیۓ، میرا باپ کوٸی انوکھا کام نہیں کر رہا۔”ایاز نے والد کو سعودیہ میں کسی اچھی نوکری سے ملنے والی تنخواہ کا حوالہ دیا۔
“لیکن سب اولادیں تیری طرح نامراد نہیں ہوتیں، اپنے بوڑھے ماں باپ کا احساس کرتی ہیں” اسے کمرے میں جاتا دیکھ کر اس کے پیچھے پیچھے چلتی سغریٰ بیگم نے اس سے کہا۔
“ہاں تو میں کیا کر رہا ہوں، بارہ جماعتیں پڑھ لی ہیں نا؟ کافی ہیں میرے لیۓ، اب جب ابا مجھے اپنے پاس بلاۓ گا تو چلا جاٶں گا، لوٹا دوں گا ایک ایک پاٸی” اس نے چلتے چلتے رک کر غصے میں جواب دیا۔
“تو نہیں لوٹا سکتا” سغریٰ بیگم نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“تم لوگوں نے آج تک میرے لیۓ کیا ہی کیا ہے جو میں لوٹاٶں؟”وہ دھمکی آمیز لہجے میں پوچھنے لگا۔
“کچھ نہیں بیٹا۔۔۔۔کچھ نہیں” سغریٰ بیگم افسوس سے نفی میں سر ہلاتی روہانسی ہو کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گٸیں۔
* * * * * * * * * *
“ہیلو!” منیبہ بیگم شام کے وقت لان میں بیٹھی چڑیوں کی چہچہاہٹ اور خشک پتوں کی سرسراہٹ سنتے ہوۓ کشف سے بات کر رہی تھیں۔
“السلام علیکم ماما! کیسی ہیں؟” کشف اپنے روم کے سامنے دوسری منزل پر جانے والی سیڑھیوں پر بیٹھی روم کے دروازے پر نظریں جماٸے ان سے بات کرنے میں مصروف تھی۔
” وعلیکم السلام، میں بالکل ٹھیک ہوں، میرابیٹا کیسا ہے؟”منیبہ بیگم نیلے خوبصورت آسمان پر کہیں کہیں موجود بادلوں کو دیکھتے ہوۓ اسے جواب دینے لگیں۔
“میں بھی ٹھیک ہوں، بابا اور ہنزلہ؟” وہ اب تک وہیں نظریں جماٸے بیٹھی تھی۔
“سب ٹھیک ہیں، اللہ کا شکر، تم بتاٶ کب تک واپسی کے ارادے ہیں؟” انہوں نے سامنے ٹیبل پر موجود چاٸے کا کپ اٹھاتے ہوۓ سوال کیا۔
“ماما! اس ہفتے میں کلیٸرنس ہو جاۓ گی مطلب پرسوں تک اور اس کے بعد بابا جب بھی سیٹ کروا دیں، میں آ جاٶں گی” اس نے مسکراتے ہوۓ وضاحت پیش کی۔
“یہ تو بہت اچھی بات ہے، میں تمہارے بابا سے کہوں گی، جلد از جلد یہ کام کریں” انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوۓ کہا۔
ٗ”اتنی بھی کیا جلدی ہے؟” کشف کو ان کی اس قدر خوشی اور جلدبازی کی وجہ سمجھ میں نہ آٸی۔
“تمہارے لیٸے ایک بہت اچھا پروپوزل آیا ہے بیٹا!” منیبہ بیگم نے ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے والے انداز میں کہا تھا۔
“میرے لیٸے ؟” وہ ایک پل کو چونکی تھی۔
“نہیں ہنزلہ کے لیۓ ” انہوں نے اسکی حیرانی کو یکسر نظر انداز کرتے کہا۔
“ماما! پلیز مذاق نہ کریں” اس نے بچوں والے انداز میں کہا۔
“ظاہر ہے تمہارے لیٸے، تمہارے بابا کے بہت اچھے دوست کا بیٹا ہے اور ان لوگوں نے جلد شادی کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے” انہوں نے اسے بتایا۔
“ماما مگر۔۔” وہ کچھ کہتے کہتے رک گٸی۔
“کیا ہوا؟” انہوں نے اسکی پریشانی بھانپتے ہوۓ سوال کیا۔
“کچھ نہیں”مایوسی کے عالم میں جواب دیا گیا۔
“کشف! اگر تمہیں کوٸی اعتراض ہے تو ہم یہ شادی نہیں کریں گے بیٹا، سب سے پہلے تمہاری رضامندی اور خوشی ہے ہمارے لیٸے” انہوں نے پرشفقت انداز اپنایا۔
“نہیں ماما! ایسی کوٸی بات نہیں ہے” اس نے انکی بات کو سمجھتے ہوۓ جواب دیا۔
“تو پھر ہم رشتہ پکا کر دیں؟” منیبہ بیگم نے خوشی کے عالم میں سوال کیا۔
“جیسے آپ لوگوں کی مرضی!” کشف شانے اچکاتے ہوۓ سیڑھیوں سے اٹھ کر روم میں چلی گٸی جب کہ منیبہ بیگم اس کے جواب سے قدرے پرسکون اور خوش ہو گٸی تھیں۔
* * * * * * * * * *
“آج تم لوگوں کو ایک دھماکے دار نیوز سناتی ہوں” حرم اور ہبہ اسکی ناراضگی کے باعث آج عنایا کی کلاس میں آٸی تھیں اور ان سے گلے ملنے کے بعد اس نے چہکتے ہوۓ کہا۔
“سناٶ؟”حرم اسکے بالکل سامنے جبکہ ہبہ تکون کی صورت میں کھڑی تھی جب حرم نے پوچھا۔
“میرے بھاٸی کی شادی ہو رہی ہے” عنایا نے پرجوش انداز میں بچوں کی طرح تالیاں بجاتے ہوۓٰ کہا۔
“واقعی؟” ہبہ کو حیرانی ہوٸی کیونکہ عنایا کا بھاٸی تو کسی بیرونِ ملک تھا اور وہ کبھی اسکا ذکر نہیں کرتی تھی۔
“ہاں یار!” عنایا نے جواب دیا۔
“مبارک ہو!” حرم خوشی میں اس سے گلے ملتے اسے مبارکباد دینے لگی۔
“خیر مبارک!” عنایا نے کہا۔
“تو کب کھلا رہی ہو بریانی؟” ہبہ نے مسکراتے ہوۓ بھنویں اچکاتے سوال کیا اور اس کے گلے لگ گٸی۔
“بہت جلد!” عنایا نے اس سے علیحدہ ہوتے ہوۓ کہا۔
“تم تو کچھ زیادہ ہی خوش لگ رہی ہو!” حرم نے آہستہ آواز میں رازداری سے کہا۔
“ہاں! خوشی کی بات تو ہے نا!” اس نے شانے اچکاتے ہوۓ جواب دیا۔
“لیکن مجھے تو دال میں کچھ کالا لگ رہا ہے”ہبہ نے عنایا کے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھ کر کہا۔
“مجھے تو پوری کی پوری دال ہی کالی لگ رہی ہے” حرم نے ہنستے ہوۓ سر آگے کو جھکا کر کہا۔
“دفعہ ہو یار!” عنایا نے ہنستے ہوۓ ان دونوں کو زرا پیچھے کو دھکیلا۔
“ہم جارہے ہیں” حرم نے کلاٸی پر بندھی بلیک گھڑی پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔
“کدھر؟” عنایا نے غصے سے پوچھا۔
“بریک اووَر ہونے والی ہے” حرم نے وجہ بتاٸی۔
“خوشی کی بات تو سنتے جاٶ!” عنایا نے رازداری سے ان کے قریب آ کر کہا۔
“سناٶ!” ہبہ نے اس کے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“اسکی شادی ہو گی تو میری باری آۓ گی نا!” عنایا نے آنکھ مارتے ہوۓہبہ کو تالی دی جبکہ حرم اسے دیکھ کر نفی میں سر ہلاتی اپنی کلاس میں جانے کی غرض سے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گٸی۔
* * * * * * * * * *
وہ نومبر کی ایک سرد رات کو لیمن رنگ کی شرٹ اور بلیو جینز کے اوپر ڈھیلا ڈھالا سویٹر پہنے گلے میں مفلر ڈالے آتش دان کے نزدیک بیٹھے اپارٹمنٹ کی کھڑکی سے باہر نظر آنے والی طوفانی بارش سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ کوٸی کتاب پڑھنے میں محو تھا، تبھی فاٸق کے داخلی دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی اس کی طرف متوجہ ہوا، جو کتاب بند کر کے اس کی کسی حد تک گیلی شرٹ اور اوورکوٹ کو دیکھ رہا تھا۔
”کیا ہوا؟“ فاٸق نے اس کی نظریں اپنے اوپر پا کر فوراً سوال کیا ۔
”کچھ نہیں ، تم گیلے کیسے ہو گۓ ؟“ اس نے کتاب کھولتے ہوۓ عام سے انداز میں سوال کیا ۔
”باہر بارش ہو رہی ہے ،اب بندہ گاڑی میں بیٹھتے اور نکلتے ہوۓ اتنا گیلا تو ہو ہی جاتا ہے یار“ وہ اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ کر شوز کا تسمہ کھولتے ہوۓ بتانے لگا ۔
”اچھا!“ وہ کتاب میں کھویا ہوا تھا مگر اس کی بات کا جواب دینا ضروری سمجھا ۔
”تم یہ کیا کر رہے ہو؟“ اسے اس کے کتاب میں یوں گم سم ہونے پر الجھن محسوس ہوٸی ۔
”کتاب پڑھ رہا ہوں“ ابدال نے سر اٹھا کر فاٸق کی طرف دیکھتے ہوۓ شانے اچکاۓ۔
”وہ تو مجھے بھی پتہ ہے ، اچھا یہ بتاٶ کھانا کھایا ؟“ فاٸق اس کے ڈنر کے لیے ریسٹورنٹ نہ جانے کی وجہ سے اس کے لیے اسکا پسندیدہ چکن کارن سوپ لے کر آیا تھا ۔
”نہیں دل نہیں چاہا“ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہہ کر دوبارہ کتاب پڑھنی شروع کر دی ۔
”اب اسے بند کرو اور سوپ نکال کر پی لو“ وہ اپنی جگہ سے اٹھتا اندر کی جانب بڑھتے ہوۓ کہنے لگا۔
”اوہ شکریہ ، تم کہاں جا رہے ہو ؟“ ابدال کتاب سے نظریں اٹھا کر سامنے رکھے شاپنگ بیگ پر مرکوز کیے اس سے پوچھنے لگا جہاں وہ چند لمحے پہلے بیٹھا تھا ۔
”سونے جا رہا ہوں ، اب تمھاری طرح راتوں کو جاگ کر محبتوں کی کہانیاں تو پڑھنے سے رہا “ فاٸق نے جاتے جاتے مڑ کر ہنستے ہوۓ اس کے سوال کا جواب دیا۔
”شٹ اپ فاٸق، ابھی مت سونا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے “۔ وہ سر گھماتا کمرے کے دروازے میں کھڑے فاٸق کو دیکھ کر ناراض انداز میں کہنے لگا۔
”ہاں بولو!“ وہ کمرے میں جانے کی بجاۓ اس کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا ۔
”میں پاکستان جا رہا ہوں “ اس نے کتاب کا صفحہ فولڈ کر کے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔
”کیوں ؟ “ فاٸق کو حیرانی ہوٸ کیونکہ اس کے خیال میں ابھی ابدال کی شادی کافی لیٹ تھی ۔
”پندرہ روز بعد میری شادی ہے، ماما بابا نے میری خواہش پر ان سے جلد شادی کی ریکویسٹ کی تھی جو انہوں نے مان لی ہے اور اب میں وہاں جا کر جلد از جلد تمام کام نپٹانا چاہتا ہوں“
اس نے ذاکر اور صادق صاحب کی خواتین اور بچوں کی رضامندی کے باعث سولہ، سترہ نومبر کشف اور ابدال کی شادی کی ڈیٹ فکس کرنے کا حوالہ دیا ۔
”ارے واہ ، تبھی تو میں کہوں موصوف آجکل اتنے خوش کیوں ہیں“ فاٸق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے مزاحیہ انداز میں کہا۔
”تمہیں پتہ ہے فاٸق؟ میں نے کچھ عرصہ پہلے تک کبھی دعاٸیں نہیں مانگی تھیں،کبھی ضرورت ہی نہیں پڑی اور سچ پوچھو تو مجھے دعاٶں پر یقین بھی نہیں تھا مگر اس لڑکی کے لیے میں نے اتنی دعاٸیں مانگ لی تھیں کہ مجھے یقین ہو گیا تھا کہ اللہ میری یہ بات کبھی رد نہیں کر سکتا“ وہ ہاتھ میں پکڑی بند کتاب کی طرف دیکھتے ہوۓ بول رہا تھا۔
”اور اس نے تمھاری دعا قبول کر لی“ فاٸق نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔
”ہاں ، اور میں اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہوں کہ اس لڑکی کی تڑپ نے مجھے دنیاوی امداد کی بجاۓ اللہ سے آشنا کروایا ہے، وہ میری زندگی میں مسیحا بن کر آٸی ہے اور میں اس وقت، اس لمحے پر رشک کرتا ہوں جب میں نے اسےدیکھا تھا اور پہلی بار مجھے احساس ہوا تھا کہ مجھے اس سے محبت ہے اور وہ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ تو مجھ سے بھی دامن بچانے والی اور پارسا نکلی، حالانکہ میں اسے گنہگار بنا کر ساتھ لیے لیے پھرنے اور محبتوں کے دعوے کر کے وقت گزاری کرنے کا بالکل روادار نہیں تھا“ وہ آتش دان سے اٹھتے شعلوں کو دیکھتے ہوۓ طوفانی بارش کی آواز میں محو ہو کر بولتا چلا جا رہا تھا۔
”مبارکباد دینی تو بنتی ہے ناں؟ “ فاٸق بازو پھیلاۓ مسکراتا ہوا چہرہ لے کر اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
”ہاں بالکل“ ابدال کتاب ساٸڈ پر رکھتا اٹھ کر اس کے گلے لگ گیا۔
تیرے لہجے کا وہ اثر ہوتے دیکھا
ہم نے لفظوں کو امر ہوتے دیکھا
حسن یار کی تعریف میں اکثر
گونگوں کو سخن ور ہوتے دیکھا ۔
* * * * * * * * * *
”تمھارا فون کیوں بند جا رہا تھا ؟ “ وہ صبح کالج جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی جب ایّاز کی کال آٸی اور اس نے نہایت غصے میں سلام دعا کی بجاۓ پہلا سوال یہی کیا ۔
”یار وہ تھوڑا مسٸلہ ہو گیا تھا“ وہ کہہ رہا تھا ۔
”کیسا مسٸلہ؟“ عنایہ کا غصہ اب بھی کم نہیں ہوا تھا۔
”امی کی طبعیت خراب تھی انہیں ہاسپیٹل لے کر گیا تھا تو دھیان نہیں رہا کہ فون چارج کر لوں “ اس سے جو بہانہ بن پڑا بنا دیا۔
”تم اپنی امی کی خدمتیں کرتے رہا کرو اور یہاں میں پاگل ہوں ناں جو پورا دن تمہیں کال پہ کال میسج پہ میسج کرتی رہتی ہوں “ وہ بیڈ پر بیٹھی اپنی بھڑاس نکال رہی تھی مگر آواز قدرے آہستہ تھی تاکہ باہر تک نہ پہنچے ۔
”اچھا چھوڑو نہ ان باتوں کو ! بتاٶ کیسی ہو ؟ “ایاز نے اس کی ناراضگی کو ختم کرنا چاہا۔
”ٹھیک ہوں“ اس نے کہا۔
“کیا کر رہی ہو؟” سوال کیا گیا۔
”کالج جا رہی ہوں“ اس کا موڈ کچھ بہتر ہو گیا ۔
”اچھا !“ مایوس انداز میں کہا گیا ۔
”تمہیں پتہ ہے میرے بھاٸ کی شادی ہو رہی ہے “ اس نے چند لمحوں بعد یاد آنے پر چہکتے ہوۓ بتایا ۔
” اوہ اچھا! کب ؟“ ایاز نے مبارکباد دینا ضروری نہ سمجھا ۔
”سولہ،سترہ“ عنایہ نہایت پرجوش تھی۔
”اچھا“ ایاز نے کہا۔
”اوکے امی ناشتے پر بلا رہی ہیں اگر لیٹ ہو گٸ تو صبح صبح موڈ کا ستیاناس کر دیں گی “عنایا نے خدیجہ بیگم کی آواز سن کر کہا۔
”لَو یُو ماٸی گَرل، باۓ “ باۓ کو قدرے کھینچا گیا تھا ۔
”باۓ“ وہ مسکرا کر فون رکھتی آٸینے میں اپنے سراپے پر ایک نظر ڈال کر بیگ اٹھاتی باہر نکل گٸ۔
* * * * * * * * * *
”یار، سنڈے کو کہیں گھومنے چلتے ہیں “ وہ تینوں کلاس روم میں کرسیاں ایک دوسرے کی طرف موڑے بیٹھے تھے جب انس نے کافی عرصے سے کہیں اکٹھے نہ جانے کی وجہ سے خواہش کا اظہار کیا۔
”نہیں، سنڈے کو نہیں“ ہنزلہ کھڑکی سے باہر تیز دھوپ کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگا ۔
”کیوں؟ “ عاٸز نے سردیوں میں گرمی لگنے کے باعث سویٹر گود میں رکھا تھا ۔
”سنڈے کو آپی آ رہی ہیں “ ہنزلہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ جواب دیا ۔
” تو تیری آپی کونسا صدیوں بعد آ رہی ہیں؟“ انس نے آگے ہو کر ہنزلہ سے کہا کیونکہ اسے لگا تھا کہ ہنزلہ کی کوٸ شادی شدہ آپی کسی دوسرے شہر سے اس کے گھر آ رہی ہیں ۔
” ترکی سے آ رہی ہیں وہ بھی چار سال بعد!“ ہنزلہ نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوۓ کہا ۔
” کیا؟ “ انس نے گلا کھنکارتے ہوۓ حیرانی ے سوال کیا ۔
” تو ہر بات بھول جایا کر “ عاٸز نے اسے یاد دلایا کہ ہنزلہ نے بہت زیادہ تو نہیں مگر سال میں ایک عدد بار تو اپنی آپی کا ذکر ضرور کیا تھا ۔
”یار سوری“ انس نے فوراً کان پکڑتے معذرت خوانہ انداز میں کہا۔
”کوٸ بات نہیں “ ہنزلہ مسکراتے ہوۓ اس کے شانے پر ہاتھ رکھ کر کہنے لگا
”یار آٶ باہر چلیں “ عاٸز نے اپنی کرسی سے اٹھتے سویٹر وہیں پھینکتے ہوۓ ان دونوں سے کہا۔
”چلو“ ہنزلہ بھی اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
”تو پھر کسی اور دن چلتے ہیں“ انس کی سوٸی وہیں اٹکی ہوٸ تھی ۔
” یار ان دنوں بالکل بھی وقت نہیں ہے“ ہنزلہ نے معذرت سے کہا۔
”کہہ تو ایسے رہا ہے جیسے وزیرِاعظم تو یہی ہے “۔ انس نے کلاس روم سے باہر نکلتے ہوۓ اسے شانوں سے پکڑ کر اپنی طرف موڑتے ہوۓ کہا ۔
”نہیں یار ایسی بات نہیں ہے ،اصل میں آپی کی شادی ہے سولہ سترہ کو ،تو اسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں “ہنزلہ نے وضاحت دی۔
”لو بھٸ ! مجھے لگتا ہے ایک میں ہی کنوارہ رہ گیا ہوں باقی سب جوڑے بن گۓ ہیں“ انس نے مسکراتے ہوۓ مگر افسوس سے کہا۔
”فکر نہ کر، میں بھی ہوں “ عاٸز نے ہنستے ہوۓ اسے تالی دی اور پھر دونوں ہنزلہ سے گلے مل کر اسے مبارکباد دینے لگے۔
* * * * * * * * * *
”یار فاٸق میں تم سے کہہ رہا ہوں تم نے لازمی آنا ہے “ ابدال نے فاٸق سے منت بھرے انداز میں پندرہ تاریخ کا پاکستان کا ٹکٹ اس کے ہاتھ میں پکڑاتے ہوۓ کہا جو اسے اٸیر پورٹ پر چھوڑنے آیا تھا ۔
”اس کی ضرورت نہیں تھی“ وہ ٹکٹ کو دیکھتے ہوۓ کہنے لگا ۔
”مجھے نہیں پتہ بس تمہیں ہر صورت آنا ہے ، میں تمہیں ایٸر پورٹ سے خود ریسیو کر لوں گا “ اس نے ایک بار پھر کہا
” اور اگر میں نہ آیا تو؟ “ اس نے مزاحیہ انداز میں سوال کیا ۔
”تو میں شادی ہی نہیں کروں گا“ ابدال نے اسی کے انداز میں ہنستے ہوۓ جواب دیا
” مجھے لگا تھا، تم لڑکیوں والا جواب دو گے“ فاٸق اس کے ساتھ چلتے ہوۓ مسکرا کر کہہ رہا تھا ۔
”یہ کوٸی لڑکیوں والا جواب نہیں ہے اور اب تم جاٶ اور اگر تم نہ آۓ تو مجھ سے برا کوٸی نہیں ہو گا “ ابدال نے اسے دھمکی دیتے ہوۓ کہا۔
”اوکے اپنا خیال رکھنا ، میں ضرور آٶں گا“ وہ اس سے ملتے ہوۓ الوداعیہ کلمات کہہ کر پلٹ گیا جبکہ ابدال پلین کی طرف بڑھ گیا ۔
اس کے پہنچنے کے تقریباً دس منٹ بعد جہاز نے اڑان بھری اور وہ باقی تمام لوگوں کی طرح جہاز کے شیشوں سے باہر دیکھنے کی بجاۓ ایک کتاب پڑھنے لگ گیا تھا اور ایک گھنٹے بعد جب اس نے تھک کر نظر اٹھاٸی تو حیران رہ گیا، اس کے برابر والی سیٹ سے اگلی سیٹ پر وہ لڑکی بیٹھی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مسیحا۔ ۔ ۔ ۔ رہنما۔ ۔ ۔ ۔ اس کی محبت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس کی ہونے والی بیوی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ آج بھی حجاب اوڑھے پُرنور چہرے کے ساتھ باہر دیکھ رہی تھی خاموش ۔ ۔ ۔ ۔ بالکل خاموش ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اگلی بار جب تم سفر کرو گی تو یہاں بیٹھی ہو گی میرے ساتھ اور میں تمہیں خاموش نہیں رہنے دوں گا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہیں بالکل اپنے جیسا باتونی بنا دوں گا اور اپنی اہلیہ کے طور پر اپنے دل کی سب سے اونچی مسند پر بٹھاٶں گا، وہ کتاب بند کر کے ہاتھوں میں پکڑے اسے ایک بار دیکھنے کے بعد سفر کے دوران اس کے چہرے سے نظر نہیں ہٹا سکا اور تقریباً اڑھاٸی گھنٹے بعد جب سفر کے اختتام کا وقت قریب آیا تو اس نے بے اختیار سفر کے مزید لمبے ہونے کی خواہش کا اظہار کیا تھا ۔
دم بھر تیری ہوس سے نہیں ہے مجھے قرار
ہلکان ہو گیا ہوں تیری دلکشی سے میں
* * * * * * * * * *
”بیٹا آ کر کھانا کھا لے“ سغرٰی بیگم ایاز کے کمرے کا دروازہ بجا کر اندر داخل ہوٸیں اور اونچی آواز میں گانے سنتے اس کو اپنی طرف متوجہ کیا ۔
”نہیں کھانا“ ان کو دیکھ کر سپیکر کی آواز قدرے کم کرتے ایاز نے ہاتھ کے اشارے سے کہا۔
” بیٹا میں اکیلی کھانا کھا کھا کر تھک گٸ ہوں ، آ تھوڑا سا کھا لے “ انہوں نے اس تک جا کر منت بھرے انداز میں کہا۔
”جب کہہ دیا نہیں کھانا تو بس نہیں کھانا، اب تو کھاۓ یا نہ کھاۓ اس سے مجھے کیا لینا دینا“ وہ اٹھ کر ان کے سامنے کھڑے ہوتے تیز تیز کہنے لگا۔
”اچھا، اس کی آواز تھوڑی آہستہ کر دے،اذان ہو رہی ہے“ انہوں نے جاتے جاتے کمپیوٹر کی طرف اشارہ کیا جس پر فل والیم میں گانے چل رہے تھے ۔
” اماں میرا دماغ نہ کھا اور جا “ وہ دوبارہ بیٹھ کر کہتا ہوا کی بورڈ پر کچھ لکھنے لگا اور سغرٰی بیگم اس کی آواز اور انداز سے سہم کر دروازہ بند کرتی باہر نکل گٸیں۔
پلکوں کی حد کو توڑ کے دامن پہ آ گرا
اک اشک میرے صبر کی توہین کر گیا
* * * * * * * * * *
