Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 (Watching)Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Episode05
Intekhab by Sehar Kanwal Episode05
“حرم موجود ہیں؟” وہ میڈم طاہرہ کی آواز تھی جو اس وقت اس کی کلاس کے دروازے میں کھڑی اس کا پوچھ رہی تھیں۔
“یس میم!”حرم یکدم کھڑی ہو گٸی۔
“بیٹا آپ میرے ساتھ آٸیں” ان کے کہنے پر حرم کلاس میں موجود ٹیچر سے اجازت لیتی کلاس سے باہر نکل گٸی۔
“حرم! منگل کے روز انٹر کالجز بیعت بازی مقابلہ ہے جس میں آپ اور سیکنڈ ایٸر کی ایک لڑکی ہمارے کالج کی طرف سے شرکت کریں گی” میڈم طاہرہ کلاس رومز کے باہر بنی راہداری میں چلتے چلتے اسے بلاۓ جانے کا مقصد بتانے لگی۔ حرم نے پہلے بھی اردو سے تعلق رکھنے والے کافی مقابلہ جات میں حصہ لیا تھا جس کے باعث میڈم اسے جانتی تھیں۔
“جی میم! لیکن وقت بہت کم ہے۔” وہ اس حوالے سے پریشانی کا شکار تھی۔
“لیکن اب مزید وقت ضاٸع کرنے کی بجاۓ آپ لاٸبریری میں جاٸیں اور ہر حرف سے اشعار کی لسٹ بناٸیں” میڈم طاہرہ اسے سمجھاتے ہوۓ کہنے لگیں۔
“اپنے ساتھ سیکنڈ ایٸر کی سٹوڈنٹ زنیرہ عباسی کو بھی لے جاٸیے گا” انہوں نے کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
“ویک اینڈ پر اپنی تیاری مکمل کریں اور مَنڈے کو مجھے مکمل طور پر تیار ہو کر اشعار سناٸیں”
“نوٹس بورڈ سے بیعت بازی کے قواٸد و ضوابط پڑھ لیجیۓ گا” میڈم طاہرہ اب ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گٸیں اور حرم سیکنڈ ایٸر کی کلاسز کی جانب جہاں سے اسے زنیرہ باجی کو لے کر لاٸبریری جانا تھا۔
* * * * * * * * * *
ابدال پلین میں بیٹھ کر بھی مسلسل خدیجہ بیگم اور عنایا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
“بیٹا کچھ دن ٹھہر کے چلے جانا” خدیجہ بیگم نے منت بھرے انداز میں اس سے کہا تھا۔
“امی! میں بہت جلد واپس آٶں گا” اس نے انہیں یقین دلایا تھا۔
“تمہیں عنایا کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہیۓ تھا” خدیجہ بیگم اسے یاد دلا رہی تھیں کہ وہ عنایا کو ایک بار بھی اپنے ساتھ باہر نہیں لے کر گیا۔
“امی! وہ اب بڑی ہو گٸی ہے، اسے میری ضرورت نہیں رہی، اسے میرے یہاں ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا!” ابدال نے خدیجہ بیگم کے شانوں پر ہاتھ رکھے انہیں سمجھاتے ہوۓ کہا تھا۔
“مگر تم اس کی عادات بدل تو سکتے ہو نا! وہ ہر وقت فون میں گھسی رہتی ہے اور میری کوٸی بات نہیں مانتی” خدیجہ بیگم نہ چاہتے ہوۓ بھی اپنے اداس دل کا حال سنا بیٹھی تھیں۔
“امی آپ اور بابا اسے ہر معاملے میں مجھ سے بہتر گاٸیڈ کر سکتے ہیں۔” وہ اپنی ضد پر اڑا تھا اور کسی صورت رکنا نہیں چاہتا تھا۔
“ہاں مں کوشش تو کرتی ہوں اور تمہارے بابا! وہ اسے بچی سمجھ کر اس کی تمام نادانیاں اور بدتمیزیاں اگنور کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مزید سر پر چڑھ گٸی ہے” انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا تھا۔
“آپ پریشان نہ ہوں، میں اسے سمجھا کر نکلوں گا” وہ انہیں بھروسہ دلاتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“ہاں! تم اس سے مل کر ضرور جانا” وہ ابدال کو کہہ کر اس کے کمرے سے نکل گٸی تھیں۔
ابدال چاہتے ہوۓ بھی عنایا سے مل نہیں سکا تھا کیونکہ وہ تب ایٸر پورٹ کے لیٸے نکلا تھا جب وہ کالج میں تھی۔
* * * * * * * * * *
“تیری آنکھیں کیوں سرخ ہیں؟” عاٸز نے فکرمندی سے ہنزلہ سے پوچھا جب وہ تینوں کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے۔
“یار رات کو صرف دو گھنٹے سویا ہوں” ہنزلہ نے آنکھیں مسلتے ہوۓ جواب دیا۔
“کیوں؟” انس کو اس کے رات جاگنے کی وجہ معلوم تھی پھر بھی جھٹ سے بولا۔
“شعر یاد کرتا رہا ہوں” ہنزلہ شرمندگی سے سر جھکاۓ کہہ رہا تھا جس پر انس اور عاٸز نے تالی بجاتے ہوۓ قہقہہ لگایا۔
“مجنوں راتوں کو جاگ جاگ کر لیلیٰ کے لیٸے شعر یاد کرتا رہا ہے” انس نے عاٸز کو آنکھ مارتے کہا تھا جس پر ہنزلہ نے اسے گھوری سے نوازا۔
“تم دونوں کی ہی کرامات ہیں!” ہنزلہ ان دونوں کو ہنستے دیکھ کر غصے سے گویا ہوا۔
* * * * * * * * * *
وہ ڈارک بلیو شرٹ اور لاٸٹ بلیو جینز میں ملبوس، سلیقے سے سیٹ کیٸے گٸے بال ، آنکھوں پر کالہ چشمہ اور باٸیں ہاتھ پر کالی گھڑی پہنے اپنے پورے رعب کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے ہی کٸی نظروں کا محور و مرکز بنا تھا۔
“آ گٸے تم؟” فاٸق نے اس سے آ کر ملتے ہوۓ پوچھا اور اب وہ دونوں کونے والی ٹیبل کی طرف جا رہے تھے۔
“ہاں! کیسے ہو؟” ابدال نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہی خیریت دریافت کی۔
“ٹھیک ہوں، تم سناٶ؟” فاٸق نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ جواب دیا۔
“میں بھی ٹھیک، میرے جانے کے بعد کوٸی مسٸلہ تو نہیں ہوا؟” ابدال اب فاٸق سے پوچھ رہا تھا۔
“میرے ہوتے ہوۓ کوٸی مسٸلہ ہو سکتا تھا؟” فاٸق نے کالر جھاڑتے ہوۓ فخریہ انداز میں کہا جس پر دونوں کا مشترکہ قہقہہ پڑا۔
“نہیں!” ابدال نے اعتراف کیا۔
فاٸق اس سے گھر والوں کی خیریت دریافت کر رہا تھا تبھی کچھ لڑکے ہُوٹنگ کرتے شور مچاتے ریسٹورنٹ میں داخل ہوۓ۔
“میں مل کر آتا ہوں!” فاٸق کے کسی جاننے والے کی برتھ ڈے تھی جو اپنے باقی دوستوں کے ساتھ سیلیبریٹ کرنے آیا تھا۔وہ ابدال سے اجازت لیتا ان کی طرف بڑھ گیا۔
“آٶ! وہ لوگ تمہیں بلا رہے ہیں” چند لمحوں بعد فاٸق ابدال کی طرف آیا اور اس سے کہنے لگا جو موباٸل پر مصروف تھا۔
“مجھے؟” ابدال کو حیرانی ہوٸی تھی مگر وہ فاٸق کے ساتھ ان کے ٹیبل کی جانب بڑھ گیا۔
وہ ریسٹورنٹ میں اعلانیہ طور پر اپنے دوست کی برتھ ڈے کے بارے میں بتا رہے تھے جس کے بعد انہوں نے کیک کاٹا اور ریسٹورنٹ میں موجود تمام لوگوں سے بیسٹ وشز وصول کیں۔ اب وہ کچھ لوگوں کو کیک لے جا کر دے رہے تھے۔
ابدال وہاں سے ہٹ ہی رہا تھا جب اس نے اس لڑکی کو دیکھا جس کے کپڑوں پر جوس گرا تھا۔ وہ آج بھی اکیلی بیٹھی اپنی سوچوں میں گم ڈنر کر رہی تھی، ارد گرد سے بیگانہ۔ ابدال کو وہ معصوم، گم سم اور سادہ سی لڑکی بہت پیاری لگی جس نے کالے اور سرخ رنگ کے سادہ سے شلوار قمیز کے ساتھ ہم رنگ حجاب لے رکھا تھا۔ وہ بے اختیار کیک کی پلیٹ اٹھاۓ اس کی طرف بڑھا۔
“السلام علیکم!” ابدال نے لڑکی کو متوجہ کرنے کے لیٸے کہا جو کسی اور ہی دنیا میں پہنچی ہوٸی تھی۔
“وعلیکم السلام!” کشف نے اس کے مہنگے کلون کی خوشبو محسوس کی۔
“برتھ ڈے کیک!” وہ پلیٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوۓ بولا۔
“اوہ شکریہ!” وہ ہلکا سا مسکراٸی تھی جس کے بعد ابدال اپنے ٹیبل کی طرف بڑھ گیا۔
* * * * * * * * * *
عبدالرحمٰن اور ہنزلہ پروفیسر رشید کے ساتھ کالج وین میں سفر کر کے ابھی اس کالج کے آڈیٹوریم میں پہنچے تھے جہاں بیعت بازی کا مقابلہ منعقد ہونے والا تھا۔ وہاں سٹیج پر موجود ٹیم اے اور ٹیم بی کسی گرلز کالج سے تعلق رکھتی تھی جب کہ ٹیم سی بواٸز کالج سے اور وہ عبدالرحمٰن سمیت ٹیم ڈی کی مخصوص کردہ جگہ پر بیٹھ گیا جہاں مقابلہ شروع ہونے میں بس چند منٹ باقی تھے۔
“نروس نہ ہوں، سب ٹھیک ہو گا” عبدالرحمٰن نے اسے بھروسہ دلاتے ہوۓ کہا جو قدرے پریشان آڈیٹوریم میں موجود لوگوں اور سٹیج پر بیٹھی لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا جو اشعار کے رٹے مارنے میں مصروف تھیں۔
“انشا۶اللہ!” وہ مسکراتے ہوۓ کہنے لگا۔ اسے عبدالرحمٰن کا تسلی دیتا انداز اچھا لگا تھا۔
آڈیٹوریم میں تمام سٹوڈنٹس نے کھڑے ہو کر پرنسپل کے ساتھ داخل ہونے والے مہمانِ خصوصی اور ججز کا استقبال کیا اور ان کی مخصوص نشستوں پر پہنچنے تک آڈیٹوریم میں تالیوں کا شور گونجتا رہا۔ تلاوتِ قرآن اور نعت کے بعد پرنسپل سے مقابلہ کے باقاٸدہ آغاز کی اجازت طلب کرتی وہ لڑکی اب بیعت بازی کے قواٸد و ضوابط بتا رہی تھی۔
ہر کالج سے صرف ایک ٹیم حصہ لے گی۔
ہر ٹیم میں دو ارکان ہوں گے۔
ہر ٹیم کو شعر پڑھنے کے لیٸے بیس سیکنڈز کا وقت دیا جاۓ گا۔
ٹیم کے دونوں ارکان کا شعر پڑھنا لازم ہے۔
پہلی ٹیم جس حرف پر شعر ختم کرے گی،اگلی ٹیم اسی حرف سے شعر پڑھے گی۔
صرف مستند شعرا۶ کے شعر پڑھے جاٸیں۔
صرف اردو زبان کے سنجیدہ اشعار پڑھنے کی اجازت ہو گی۔
فی البدیہہ شعر کہنے کی اجازت نہیں ہے۔
ایک شعر میں دو مصرعے پڑھنے کی اجازت ہو گی۔
شعر دہرانے کی اجازت نہیں ہو گی۔
نتاٸج کا فیصلہ شعر کے وزن، اداٸیگی اور تلفظ پر ہو گا۔
منصفین کا فیصلہ حتمی ہو گا۔
“پہلا شعر میں بولوں گی جس کے آخری حرف سے ٹیم اے شعر پڑھے گی۔”
“مصحفی ہم تو یہ سمجھے تھے کہ ہو گا کوٸی زخم
تیرے دل میں تو بڑا کام رفو کا نکلا۔۔۔۔۔۔!!”
“ا” اس لڑکی نے ٹیم اے کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
“اب قیس کو وحشت میری کیسے سمجھ آۓ؟
اس نے تو کبھی لیلیٰ سے پتھر نہیں کھاۓ”
حرم نے اپنے خوبصورت اندازِ بیاں میں شعر پڑھا جس کے بعد آڈیٹوریم تالیوں کی آواز سے گونجا تھا۔
“یوں پکارے ہے مجھے کوچہ۶جاناں والے
ادھر آ بے! ابے او چاک گریباں والے”
حرم کے بعد ٹیم بی کی ایک لڑکی نے شعر پڑھا۔
“یہ بھی ایک مصیبت ہے جو رات گٸے تک چلتی ہے
اپنے آپ سے باتیں کر کے اپنے آپ سے ڈر جانا”
ٹیم سی کے لڑکے نے درست تلفظ کے ساتھ خوبصورت شعر پڑھا تھا۔
“اک مدت سے میری ماں نہیں سوٸی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے”
ہنزلہ نے خوداعتمادی کے ساتھ شعر پڑھا اور اب اسے اس مقابلے میں دلچسپی محسوس ہونے لگی تھی۔
“یہ رات اہلِ ہجر کے خوابوں کی رات ہے
قصہ تمام کرنا ہے، سونا نہیں ہے آج۔۔۔۔!”
“ج” حرم کے ساتھ بیٹھی لڑکی (زنیرہ) کے شعر پڑھنے کے بعد کمپیٸرر نے کہا۔
” جیسے ہو عمر بھر کا اثاثہ غریب کا
میں نے کچھ اس طرح سے سنبھالے تمھارے خط!”
“ط”
“طوفان کر رہا تھا میرے عزم کا طواف
دنیا سمجھ رہی تھی کہ کشتی بھنور میں ہے”
“ی” کمپیٸرر اب ہر شعر کا آخری حرف دہرا رہی تھی۔
“یوں تو نہیں کہ پہلے سہارے بناۓ تھے
دریا بنا کے اس نے کنارے بناۓ تھے”
عبدالرحمٰن کے اس شعر پر آڈیٹوریم میں موجود لوگوں نے تالیاں بجا کر داد دی جو وہ ہر ٹیم کو حوصلہ دینے کے لیٸے کر رہے تھے۔
“یوں تو خدا سے مانگنے جنت گیا تھا میں
کرب و بلا کو دیکھ کر نیت بدل گٸی”
“ی”
” یوں تو نہیں کہ میرے بلانے سے آ گیا
جب رہ نہیں سکا تو بہانے سے آ گیا”
ٹیم بی کی لڑکی کے اس شعر پر آڈیٹوریم میں ہُوٹنگ سناٸی دی تھی۔
“ا”
“اب کہ تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جانا
یاد کیا تجھ کو دلاٸیں تیرا پیماں جانا”
“ا”
“اٹھا لے گٸے وہ جو اٹھا رہے تھے سوال
مگر سوال تو اب تک وہیں پڑا ہوا ہے”
ہنزلہ نے بنا نروس ہوۓ شعر کہا تھا۔
“ی”آڈیٹوریم میں کمپیٸرر کی آواز سناٸی دی۔
“یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا
اے چاند یہاں نہ نکلا کر”
حرم نے فوراً اگلا شعر پڑھا۔
“رندِ خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو
تجھ کو پراٸی کیا پڑی؟اپنی نبیڑ تو”
“و”
” وہ کچھ سنتا تو میں کہتا، مجھے کچھ اور کہنا تھا
وہ پل بھر کو جو رک جاتا، مجھے کچھ اور کہنا تھا
غلط فہمی نے باتوں کو بڑھا ڈالا یونہی ورنہ
کہا کچھ تھا، وہ کچھ سمجھا، مجھے کچھ اور کہنا تھا”
“اشعار میں صرف دو مصرعے پڑھنے کی اجازت دی گٸی تھی” کمپیٸرر نے کہا جس کا مطلب یہ تھا کہ ٹیم سی مقابلے سے باہر ہو گٸی ہے۔
“ا”
“اس کی وہ جانے اسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا
تم تو فراز اپنی طرف سے نبھاتے جاتے”
عبدالرحمٰن نے شعر کہا تھا۔
“ی”
“یہ رکھ رکھاٶ محبت سکھا گٸی اس کو
وہ روٹھ کر بھی مجھے مسکرا کے ملتا ہے”
زنیرہ نے کمال اداٸیگی کے ساتھ شعر پڑھا۔
“ی”
” یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی”
“ی”
“یہ اپنی ذات بھی اپنا تماشہ خود بناتی ہے
محبت کی طرح نفرت بھی رستہ خود بناتی ہے”
ہنزلہ کے اس شعر پر زوردار تالیوں کی آواز آڈیٹوریم میں گونجی۔
“ی”
” یا مجھے وصل عطا کر مالک
یا میرا ہجر مکمل کر دے”
حرم کے اندازِ بیاں پر تالیوں کی آواز مزید اونچی ہوٸی تھی۔
“ی”
“یہ گرد بیٹھ جاۓ تو معلوم کر سکوں
آنکھیں نہیں رہیں کہ تماشہ نہیں رہا”
“تماشہ نہیں رہا! الف” کمپیٸرر کی آواز آڈیٹوریم میں گونجی۔
“اشک نکلا ہے کوٸی ہاتھ میں پتھر لیکر
مجھ سے کہتا ہے تیرے ضبط کا سر پھوڑوں گا”
“ا”
“اس کو پتہ ہی نہیں اس کے لوٹ آنے تک
ہجر کی مٹی مجھے مٹی میں ملا دے گی”
زنیرہ نے شعر کہا۔
“دس سیکنڈ اور!” ٹیم بی کی لڑکیوں کے چند لمحے شعر نہ پڑھنے کے بعد کمپیٸرر نے کہا تھا۔
“ٹیم ڈی ! ی” ہنزلہ نے کمپیٸرر کی آواز سنی۔
“یہ بہت خود کو لبادوں میں چھپانے والے
بات کرتے ہیں تو اوقات نکل آتی ہے”
عبدالرحمٰن نے شعر کہا تھا۔
“ی”
” یونہی موسم کی ادا دیکھ کے یاد آیا
کس قدر جلد بدل جاتے ہیں انساں جانا”
“ٹیم ڈی ا!”
“ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر۔۔۔!”
ہنزلہ نے شعر پڑھا۔
“اے رنجِ آگہی! کوٸی چارہ تو ہو گا نا؟
چل خوش نہ رہ سکیں گے، گزارہ تو ہو گا نا؟”
حرم کے ساتھ بیٹھی لڑکی نےجلد بازی میں “ر” کی بجاۓ “ا” سے شعر کہا تھا جس پر حرم نے اسے غصے سے کہنی ماری۔
“مقابلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ججز کے نتاٸج مکمل کرنے تک میں پرنسپل صاحب سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ آ کر آج کےمقابلےکے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔” کمپیٸرر کی آواز سنتے وقت وہ سامنے حجاب میں موجود لڑکی کو دیکھ رہا تھا جو بالکل روہانسی ہو گٸی تھی اور اس کے ساتھ بیٹھی لڑکی اسے ہلکی آواز میں تسلیاں دے رہی تھی۔ عبدالرحمٰن کے بھنویں اچکانے پر وہ نفی میں سر ہلاتا ان پر سے نظریں ہٹا کر سامنے دیکھنے لگا۔
“کوٸی بات نہیں ، ہو جاتا ہے” حرم زنیرہ کا ہاتھ تھامے آرام سے کہہ رہی تھی۔
“میری وجہ سے ہم ہارے ہیں” زنیرہ پر حرم کی تسلیوں کا کوٸی اثر نہ ہو رہا تھا۔
“ارے نہیں، اللہ کو یہی منظور تھا” حرم اب مسکراتے ہوۓ اس سے کہہ رہی تھی۔
“لیکن میری جلدبازی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے” زنیرہ بار بار اپنے آپ کو قصوروار ٹھہرا رہی تھی۔
“اچھا اگلی بار جلدبازی سے کام نہ لینا” حرم نے دھیمی آواز میں اسے سمجھاتے ہوۓ کہا۔
“ہممممم۔۔!” سیکنڈ ایٸر میں ہونے کے باوجود زنیرہ کو حرم کی تسلیوں کی ضرورت پڑی۔ کم از کم اب وہ روہانسی نہیں ہو رہی تھی، حرم کو یہی کافی لگا۔
“تیسری پوزیشن ٹیم بی” پرنسپل صاحب کی مختصر تقریر کے بعد اب کمپیٸرر نتاٸج کا اعلان کر رہی تھی جس کے بعد ٹیم بی کی دونوں لڑکیوں کو شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ دیٸے گٸے۔
“دوسری پوزیشن ٹیم اے: حرم اینڈ زنیرہ” وہ دونوں خوشی سے اٹھ کر سامنے گٸیں اور پرنسپل اور مہمانِ خصوصی سے مبارکباد کے ساتھ ساتھ شیلڈز اور سرٹیفیکیٹ وصول کیٸے۔
“پہلی پوزیشن ٹیم ڈی: عبدالرحمٰن اینڈ ہنزلہ” آڈیٹوریم میں تالیوں کی آواز مزید اونچی ہو گٸی۔
ہنزلہ عبدالرحمٰن کے ساتھ انعام لینے کی غرض سے آگے بڑھ رہا تھا جب اسے انس کی بات یاد آٸی جس نے اسے کم از کم لڑکیوں سے نہ ہارنے کی تاکید کی تھی جسکی وجہ سے ہنزلہ بے اختیار مسکرایا۔ ہاتھوں میں سرٹیفیکیٹ اور شیلڈز پکڑے وہ لمحہ کیمرے کی آنکھ نے ہمیشہ کے لیٸے قید کر لیا تھا۔
* * * * * * * * * *
“مے آٸی کم ان سر؟” ہنزلہ شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ باہر عبدالرحمٰن کو پکڑا کر آخری پیریڈ میں افسردہ چہرہ لیٸے سر سےکلاس روم میں آنے کی اجازت طلب کرنے لگا۔
“یس!” سر نے اسے اجازت دی۔
“سر میں بیگ لے لوں؟” وہ اسی افسردہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔
“جی” ان سے اجازت پا کر وہ اپنی سیٹ کی طرف بڑھتا بیگ اٹھانے لگا۔
“آ گیا ہے مجھے بدنام کرا کے؟” انس نے اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر اسے ہنسانے کی کوشش کی۔
“تیرا نام بہت ہے جو بدنام ہو جاۓ گا” ہنزلہ نے دانت دکھاتے ہوۓ اسے جواب دیا جس پر عاٸز ہنس پڑا۔
“آپ دونوں باہر جا کر ان سے روداد سن لیں” ہنزلہ بیگ بند کر کے اٹھا رہا تھا جب پروفیسر ثاقب نے ان دونوں کو مسلسل باتیں کرتا پا کر اس کے ساتھ باہر جانے کا حکم دیا۔
“جی سر!” عاٸز کچھ کہنے ہی والا تھا جب انس بیگ اٹھانے لگا کیونکہ اس کا پڑھنے کا بالکل دل نہیں چاہ رہا تھا۔
“یہ استاد ہمارے دل کی بات کتنی جلدی جان جاتے ہیں نا” وہ معصوم چہرہ بناۓ کلاس سے باہر نکل کر ان دونوں سے کہہ رہا تھا۔
“یہ لیں” عبدالرحمٰن نے ہنزلہ کو دیکھتے ہی اسے شیلڈ اور سرٹیفیکیٹ پکڑایا۔
“شکریہ” ہنزلہ کے کہنے پر عاٸز اور انس اسے حیرانی سے دیکھ رہے تھے۔
“یہ کس کے ہیں؟” عاٸز نے پوچھا۔
“میرے ہیں کمینو!” ہنزلہ نے ہنستے ہوۓ جھٹ سے ان دونوں کو گلے لگایا تھا۔
“ارے واہ! مبارک ہو یار، ورنہ امید تو ہمیں زرا نہیں تھی” عاٸز انس کو آنکھ مارتا کہہ رہا تھا۔
“ہاں! میں تو صبح بیگ میں انڈے اور ٹماٹر رکھنے ہی والا تھا کہ میرا یار لونڈیوں سے ہار کر آۓ گا تو اس کا استقبال کروں گا” انس نے آنکھیں مٹکا مٹکا کر کہا۔
“تیری خواہش حسرت ہی رہے گی!” ہنزلہ نے اس کے بازو پر ایک مکا رسید کیا جو انس اب سہلا رہا تھا۔
“پتہ ہے تجھے اردو آگٸی ہے مگر اتنی مشکل اردو اگر ہم سے بولے گا تو تجھے جواب گونگوں کی طرح سر ہلا کر دیں گے کیونکہ ہم تو ایسی خالص اردو بولنے سے رہے” عاٸز نے ہنستے ہوۓ ہنزلہ سے کہا جس پر تینوں کا مشترکہ قہقہہ پڑا۔
* * * * * * * * * *
“بابا ہمارے کالج کی دوسری پوزیشن آٸی ہے” حرم کھانا کھاتے ہوۓ عاکف صاحب کو بتا رہی تھی۔
“مبارک ہو بیٹا” عاکف صاحب نے مسکراتے ہوۓ اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔
“کس چیز میں؟” عاٸز کو حرم کی بات سمجھ میں نہ آٸی۔
“انٹر کالجز بیعت بازی مقابلے میں” حرم نے اسے جتانے والے انداز میں ایک ایک حرف پر زور دیتے ہوۓ بتایا۔
“اوہ! ہمارے کالج کی فرسٹ آٸی ہے” عاٸز نے فخر سے بتایا۔
“کیا مطلب؟” اب حیران ہونے کی باری حرم کی تھی۔
“کیا کیا مطلب؟” عاٸز نے شانے اچکاتے ہوۓ الٹا سوال کیا۔
“سیدھے سے بتاٶ عاٸز” حرم چاولوں والا چمچہ اسے دکھاتے ہوۓ غصیلے لہجے میں بولی۔
“بھٸی! میری بات میں ٹیڑھا پن کہاں ہے؟” عاٸز مذاق کے موڈ میں تھا، ہنستے ہوۓ بولا۔
“بتاتے ہو کہ نہیں؟” حرم نے اسے گھورتے ہوۓ آخری بار پوچھا۔
“میرا دوست شرکت کے لیٸے گیا تھا” عاٸز اسے بتانے لگا۔
“تمہارا دوست؟” حرم کو حیرانی ہوٸی۔
“کیوں میرا کوٸی دوست کبھی کوٸی اچھا کام نہیں کر سکتا؟” عاٸز نے تیز تیز سوال کیا۔
“امید تو نہیں ہے” حرم ہنستے ہوۓ لقمہ لینے لگی۔
” امید تو تم سے بھی نہیں تھی۔” عاٸز اس کو منہ چڑہاتے ہوۓ بولا۔
“کیا نام ہے تمہارے دوست کا؟” حرم کو اب اس کے قابل دوست کو جاننے کا تجسس ہو رہا تھا۔
“ہنزلہ!” اس نے فخر سے بتایا۔
“اچھا مجھے یاد نہیں” حرم کھانے کی طرف متوجہ ہوٸی۔
“سٹیج پر جو سب سے خوبصورت دکھنے والا لڑکا تھا نا، وہی ہے” عاٸز اب اسے جلانا چاہ رہا تھا، جھٹ سے بولا۔
“ہونہہ! خوبصورت۔۔” حرم نے فرسٹ پراٸز کے لیٸے جانے والوں میں سے اس لڑکے کو پہچان لیا تھا۔
* * * * * * * * * *
جاری_ہے
