Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode01

Intekhab by Sehar Kanwal Episode01

سترہ برس کی عمر میں عیشا۶ صغیر کے دیٸے گٸے قلم اور کومل کبیر اور سدرہ بانو ستّی کی کچھ مدد سے لکھا گیایہ ناول محمد بن قاسم کے سندھ فتح کرنے جتنا بڑا کارنامہ تو نہیں ہے مگر “انتخاب” میرے لیٸے کسی کارنامے سے کم بھی نہیں ہے۔ اللہ میری اس تحریر کو پرتاثیر اور دلوں میں اترنے والا بناۓ(آمین)۔دنیا کی عظیم ترین والدہ شبنم بی بی کے نام!
“بابا! میں آپ سے کہہ رہا ہوں کہ میں آرمی جواٸن کرنا چاہتا ہوں۔”وہ ایک بار پھر اپنے دوستوں سمیت ایف ایس سی کے بعد آرمی جواٸن کرنے کی خواہش کا اظہار کر رہا تھا۔
“مگر میں تمہیں کہہ چکا ہوں کہ تم بزنس میں میرا ہاتھ بٹاٶ گے اور وہ بھی اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد۔”صادق صاحب نے ایک بار پھر اسے قدرے سخت انداز میں سمجھایا۔
“یعنی آپ پوری زندگی اپنی مرضی مجھ پر تھوپتے رہیں گے؟”غصے سے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ ہنزلہ نے اپنے باپ کی طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تھا۔
“میں تم پر اپنی مرضی تھوپ نہیں رہا بلکہ تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ یہ مڈل کلاس فیمیلیز والی سوچ اپنے دماغ سے نکال دو”صادق صاحب نے کچھ دھیما انداز اختیار کیا۔
“بابا اس میں مڈل کلاس سوچ کہاں سے آ جاتی ہے؟”وہ تمیز کے داٸرے میں رہتے ہوۓ بولا۔
“مڈل کلاس فیملیز کے لڑکے ہی تعلیمی اخراجات برداشت نہ کر سکنے کے باعث ایسی سو کالڈ جابز کے بارے میں سوچتے ہیں۔”چاۓ کا کپ ہاتھ میں پکڑے وہ اسے سمجھا رہے تھے۔
بابا! آپ مجھے میری مرضی کیوں نہیں کرنے دیتے؟”وہ اس بحث سے واقعی تنگ آ چکا تھا۔
“ہنزلہ! تم کیوں ایک شاندار کیریٸر پر لات مار کر اپنی جان جوکھوں میں ڈالنا چاہتے ہو جہاں تمہاری زندگی میں صرف اور صرف مشقت ہو گی؟” نگاہیں مسلسل ہنزلہ پر مرکوز تھیں۔
“میں آپ کو سمجھا نہیں سکتا۔۔۔ اپنے جذبات۔۔۔ اپنے خیالات میں بیان نہیں کر سکتا”اس نے حتمی انداز میں کہا۔
“ابھی مجھے دیر ہو رہی ہے،میں آفس جا رہا ہوں، اس پر پھر کبھی بات کریں گے،خدا حافظ!”صادق صاحب نفی میں سر ہلاتے ڈاٸننگ ٹیبل سے اٹھ گٸے۔
“خدا حافظ!” میں بابا کو ایک نہ ایک دن ضرور منا لوں گا۔وہ سوچ رہا تھا۔
* * * * * * * * * *
“ہیلو!” عنایا نے حرم کے فون اٹھاتے ہی کھڑکی سے نظر آتے مارگلہ کی پہاڑیوں میں ڈوبتے سورج کو دیکھتے ہوٸے کہا۔
“السلام علیکم” حرم نے زور دیتے ہوٸے کہا۔
“وعلیکم السلام” عنایا نے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
“کل کالج آ رہی ہو؟”عنایا نے بغیر کسی تمہید کے پوچھا۔
“ہاں ظاہر ہے، مگر تم آج کیوں نہیں آٸی؟”حرم نے فوراً جواب دیتے ہوٸے ایک نیا سوال کیا۔
“یونہی دل نہیں چاہ رہا تھا اور طبیعت بھی کچھ خراب تھی۔”عنایا نے تھکے ہوٸے انداز میں کہا۔
“اچھا، کل کالج کو اپنے منوّر چہرے کا دیدار ضرور کرانا”حرم نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ کہا۔
“ہاں، ہفتے میں ایک بار تو میں یہ کام ضرور کرتی ہوں”عنایا نے فوراً کہا تھا۔
“کل ہبّہ آ رہی ہے؟”فون کے سپیکر سے ابھرنے والی حرم کی ہلکی سی ہنسی کو اس نے کسی خاطر میں نہ لاتے ہوۓ اگلا سوال کیا تھا۔
“ہاں، آ رہی ہے، اب خدا حافظ” حرم نے جلدی سے کہا۔
“باۓ” عنایا نے کہہ کر فون رکھ دیا اور ایک بار پھر باہر کے منظر میں محو ہو گٸی۔
وہ تینوں سکول کے زمانے سے دوستیں تھیں اور اب کالج کے پہلے سال میں سیکشن تبدیل ہونے کے باوجود ان کی دوستی میں کوٸی کمی نہیں آٸی تھی۔
* * * * * * * * * *
“عاٸز! بابا کب تک آٸیں گے؟”حرم اب عنایا سے بات کرنے کے بعد بھاٸی کو موباٸل واپس کرنے چھت پر آٸی تھی۔
“بس آتے ہی ہوں گے،میری کچھ دیر پہلے فون پر بات ہوٸی ہے”عاٸز نے پلٹ کر جواب دیا۔
“چاٸے تیار ہے، تم نیچے آ جاٶ۔”وہ اسے کہہ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گٸی۔
وہ کچھ دیر وہاں کھڑا غروبِ آفتاب کے مزے لیتا رہا اور پھر بیل کی آواز پر سیڑھیاں اترتا گیٹ کی طرف بڑھ گیا۔
“السلام علیکم بابا!”گیٹ کھولتے ہی وہ عاکف صاحب کو سلام پیش کرتا زرا ساٸیڈ پر ہٹ گیا۔
“وعلیکم السلام برخوردار،کیسے ہو؟”
“میں بالکل ٹھیک، آپ سناٸیں؟”
“اللہ کا کرم ہے بیٹا”وہ اب لاٶنج میں موجود ایک کرسی پر بیٹھ چکے تھے تبھی حرم کچن سے نکل کر ان تک آٸی،دلاسہ لیا اور حال احوال پوچھنے کے بعد چاٸے لانے کو دوبارہ کچن میں چلی گٸی۔
“آپ کا دن کیسا گزرا بابا؟”حرم کے جانے کے بعد عاٸز عاکف صاحب کی طرف متوجہ ہوا۔
“بہت اچھا”وہ مسکرا کر گویا ہوۓ۔
عاکف صاحب کا ذاتی کریانہ سٹور تھا جس سے ان تینوں کا گزر بسر ہوتا تھا۔ان کی بیوی دل کے عارضہ کے باعث چھ سال پہلے اس دنیاۓ فانی سے کوچ کر چکی تھیں اور اب وہ اپنے بچوں کی ماں بھی تھے اور باپ بھی۔ اہلیہ کی وفات کے بعد انھوں نے بچوں کی پرورش میں کوٸی کسر نہیں چھوڑی تھی۔عاٸز ایف ایس سی کرنے کے ساتھ ساتھ کسی عام سٹور پر پارٹ ٹاٸم جاب بھی کرتا تھا جب کہ حرم فرسٹ ایٸر میں ہونے کے باوجود گھر کی ساری ذمہ داریاں بھی خوش اسلوبی سے نبھاتی اور شام کو گلی کے چند بچوں کی ٹیوشن بھی پڑھاتی تھی۔ غرض وہ تینوں ایک دوسرے کا آسرا اور سہارا بنے زندگی احسن طریقے سے گزار رہے تھے۔
* * * * * * * * * *
وہ ترکی کے شہر استنبول کے ایک مشہور ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیۓ آٸی تھی۔سادہ سے لباس میں ملبوس وہ موسم کی شوخیاں دیکھ رہی تھی جہاں بارش مسلسل کبھی تیز اور کبھی آہستہ ہوتی۔چند منٹ بعد ویٹر اس تک آیا جسے اس نے کھانا آرڈر کیا۔اب وہ ریسٹورنٹ میں موجود باقی لوگوں پر نظر دوڑا رہی تھی جہاں ہر ٹیبل پر دو چار لوگ خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ صرف وہی تھی جس کے ساتھ کوٸی نہ تھا مگر اسے حیرانی نہ ہوٸی کیونکہ ترکش اتنے خوش مزاج اور مہمان نواز تھے کہ ہر کوٸی پہلی ملاقات میں ہی ان کا اسیر ہو جاتا تھا۔وہ بھی تھی! مگر وہ اس قدر محتاط اور خاموش مزاج تھی کہ پی ایچ ڈی مکمل ہونے کو آٸی تھی مگر آج تک اس کی کسی دوسری سٹوڈنٹ کے ساتھ دوستی نہ ہو سکی، روم میٹ کے ساتھ شاید ہو بھی جاتی اگر وہ بھارت سے تعلق نہ رکھتی، جس سے دوستی کا سوچ کر ہی کشف کا منہ حلق تک کڑوا ہو جاتا تھا۔ ویٹر کھانا لے آیا اور وہ کھانے میں مصروف ہو گٸی کیونکہ اسے جلد از جلد ہاسٹل پہنچنا تھا اور بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔
* * * * * * * * * *
“فاٸق اور ابدال اپارٹمنٹ میں بیٹھے ادھر اُدھر کی ہانکنے میں لگے ہوۓ تھے جب ابدال کا فون بجا۔ سکرین پر “مام پاکستان” کے الفاظ جگمگا رہے تھے جنہیں دیکھتے ہی ابدال کے چہرے پر مسکراہٹ کھل گٸی۔
“السلام علیکم” اس نے فون ریسیو کرتے ہی کہا۔
“وعلیکم السلام”سپیکر میں خدیجہ بیگم کی شفقت بھری آواز ابھری۔
“کیسی ہیں امی؟عنایا کیسی ہے؟ بابا؟”وہ سب کے بارے میں جاننے کے لیۓ بے اختیار تیز تیز بول رہا تھا کیونکہ کافی دنوں سے مصروفیات کے باعث وہ گھر کال نہیں کر سکا تھا۔
“سب ٹھیک ہیں اور تمہیں بہت یاد کرتے ہیں ابدال!”خدیجہ بیگم کچھ آہستگی سے بولی۔
“میں یہاں کے سب کام نپٹا کر جلد پاکستان آٶں گا امی!”ان کے لہجے میں افسردگی بھانپ کر وہ جھٹ سے بولا۔
“یہ بات میں پچھلے چھ ماہ سے سن رہی ہوں”ابدال کو ان کی آواز اور لہجے میں خاطر خواہ تبدیلی محسوس نہ ہوٸی۔
“اسی ویک اینڈ پر چکر لگاٶں گا فاٸق کو یہاں چھوڑ کر”خدیجہ بیگم کی بات سو فیصد درست تھی مگر وہ اپنی روٹین میں اس قدر بزی تھا کہ گھر نہیں جا سکا۔
“پکا وعدہ؟”خدیجہ بیگم نے امید بھرے لہجے میں سوال کیا۔
“جی پکا وعدہ” ابدال مسکراتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“اچھا اب اپنا موڈ تو ٹھیک کریں”اسے معلوم تھا کہ خدیجہ بیگم تب تک یقین نہیں کریں گی جب تک وہ ان کی آنکھوں کے سامنے کھڑا نہیں ہو گا مگر فی الحال وہ ان کا موڈ ٹھیک کرنا چاہتا تھا۔
“اچھا!ٹھیک ہے”ابدال نے خدیجہ بیگم کی ہنستی مسکراتی آواز سنی تھی۔
“بابا کو سلام اور عنایا کو ڈھیر سارا پیار دیجیۓ گا”وہ مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ خدیجہ بیگم سے کہہ رہا تھا۔
“اچھا بھٸی! خدا حافظ،جیتے رہو”خدیجہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ الوداٸیہ کلمات کہے۔
“خدا حافظ!”ابدال فون رکھنے کے بعد پاکستان کے بارے میں سوچنے لگا کیونکہ اس بار صرف وعدوں سے کام نہیں چلنے والا تھا۔
فاٸق اور ابدال ترکی میں اپنی تعلیم مکمل کر کے یہاں ایک بہترین ریسٹورنٹ کھولنے میں کامیاب ہو گٸے تھے جس میں ابدال نے اپنے بابا سے مدد طلب کی تھی اور فاٸق کے آگے پیچھے تو کوٸی تھا ہی نہیں۔ابدال اس ریسٹورنٹ کا اونر تھا جب کہ ریسٹورنٹ کے تمام کام فاٸق مینج کرتا تھا۔وہ دونوں بہترین دوست تھے اور ریسٹورنٹ کے نزدیکی اپارٹمنٹ میں رہاٸش پذیر تھے۔
* * * * * * * * * *
وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑا کالج یونیفارم میں ملبوس بال بنا رہا تھا جب دروازے پر دستک ہوٸی۔
“یس!” وہ کہہ کر دروازے کی طرف متوجہ ہوا جہاں اس کی جنت اور دنیا کی سب سے پیاری عورت اس کی ماں کھڑی تھی۔
“ماما،آپ نے کیوں تکلیف کی؟ میں بس آنے ہی والا تھا”ہنزلہ اب منیبہ بیگم سے بوسہ لینے کے بعد ان کے شانوں پر ہاتھ رکھے محبت بھرے لہجے میں مسکراتا ہوا کہہ رہا تھا۔
“اس میں تکلیف کی کیا بات ہے؟ میں تمہیں بلانے آٸی تھی۔ جلدی آ جاٶ، ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے”منیبہ بیگم کہتے ہوۓ پلٹنے لگیں۔
“بابا کہاں ہیں؟”ہنزلہ کے پوچھنے پر منیبہ بیگم نے مڑ کر پیچھے دیکھا۔
“وہ ناشتے پر تمہارا انتظار کر رہے ہیں”
“ماما آپ سے ایک بات کرنی تھی۔۔۔”ہنزلہ کچھ کنفیوز تھا۔
“ہنزلہ! تمہیں مجھ سے بات کرنے کے لیۓ اجازت لینے کی ضرورت کب سے پڑ گٸی ہے بیٹا؟”وہ مسکراتے ہوۓ بولیں۔
“بس ایسے ہی پوچھ لیا”وہ سوچ رہا تھا کیا کہے۔
“ماما کیا آپ بھی چاہتی ہیں کہ میں آرمی جواٸن نہ کروں؟”اس نے ہمّت مجتمع کر کے بلآخر وہ سوال پوچھ ہی لیا جو وہ کافی روز سے پوچھنا چاہ رہا تھا۔وہ جانتا تھا کہ صادق صاحب کو تو منا ہی لے گا لیکن اگر منیبہ بیگم نے انکار کیا تووہ اس خواہش کو اپنے سینے میں دبا لے گا۔
“میں نے ایسا کب کہا؟”منیبہ بیگم پرسکون لہجے میں بولیں جس پر ہنزلہ انہیں حیرت سے دیکھنے لگا۔
کہاں بابا آرمی کا نام سننا بھی پسند نہیں کرتے اور کہاں ماما مجھے کھلے عام اجازت دے رہی ہیں۔۔۔؟
“ماما!لیکن بابا۔۔۔۔ وہ تو میری اس خواہش کے سخت خلاف ہیں۔”وہ بے چین تھا۔
“اس کے پیچھے بھی وجہ ہے میری جان”منیبہ بیگم نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔
“کیا وجہ؟”ہنزلہ حیرت میں مبتلا تھا۔
“اس بارے میں پھر کبھی بات کریں گے،جلدی سے باہر آ جاٶ،ناشتہ ٹھنڈا ہو گیا ہے”منیبہ بیگم کہہ کر کمرے سے باہر چلی گٸیں۔
ہنزلہ بیگ اٹھاتا کمرے کا دروازہ بند کر کے ڈاٸننگ ٹیبل کی طرف بڑھ گیا مگر سوچ اسی ایک لفظ پر مرکوز تھی “وجہ” اور چہرے پر بےچینی صاف واضح تھی۔
* * * * * * * * * *
“اب تمہاری طبیعت کیسی ہے عنایا؟”کالج پہنچ کر حرم کی کلاس کے باہر حرم ہبّہ اور عنایا بغل گیر ہوٸیں اور حرم نے فکرمندی سے عنایا سے سوال کیا۔
“میری طبیعت کو کیا ہونا ہے؟”عنایا نے یوں شانے اچکاۓ جیسے حرم نے غلطی سے کسی اور سے پوچھنے والا سوال اس سے پوچھ لیا ہو۔
“کیا مطلب؟کل تم نے اسی لیۓ چھٹی کی تھی نا؟شام کو تم مجھے بتا رہی تھیں فون پر”حرم کو اس کا برتاٶ عجیب لگا جیسے وہ بھول گٸی ہو۔
“نہیں یار! کالج سے چھٹی کا گھر پر یہ بہانہ کیا تو تمھیں بھی یہی کہہ دیا”عنایا ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
“بہت بدتمیز ہو!”حرم نے نفی میں سر ہلاتے اس کے بازو پر ایک مکّا رسید کیا جس پر ہبہ اور عنایا کا مشترکہ قہقہہ پڑا۔
“میرا آج تیسرا پیریڈ فری ہے،تم لوگ میری کلاس میں آنا”یہ ہبہ تھی جو آٸی سی ایس کی سٹوڈنٹ تھی۔
“میرا بھی! تو ٹھیک ہے میں آ جاٶں گی”حرم نے(جو پری مڈیکل کی طالبہ تھی)نے فوراً کہہ کر ہبہ کو تالی دی اور عنایا کی طرف دیکھا جو منہ لٹکاۓ کھڑی تھی۔
“میں بنک کروں گی آج تیسری کلاس”یکدم عنایا کا بگڑا موڈ درست ہوا جو فرسٹ ایٸر پری انجینیٸرنگ میں تھی۔
“نہیں یار!پڑھاٸی کاحرج ہو گا”حرم نے اسے سمجھاتے ہوۓ کہا مگر وہ جانتی تھی،وہ نہیں مانے گی۔
“اکیڈمی کس لیۓ ہے؟”عنایا نے مسکراتے ہوۓ حل پیش کیا۔
“اکیڈمی میں تجھے لڑکوں کو نوٹ کرنے سے فرست ملے گی تو تُو لیکچر نوٹ کرے گی نا!”ہبہ نے دھیمی آواز میں آنکھ دباتے مسکراتے ہوۓ کہا جس پرعنایا کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
حرم کس لمحے وہاں سے ہٹی تھی، عنایا اور ہبہ دونوں کو نہیں معلوم تھا۔اسے ایسی باتوں سے سخت کوفت ہوتی تھی اور یہ بات وہ ان دونوں کو بہت بار بتا چکی تھی۔ہبہ پھر بھی لحاظ کرتی تھی مگر عنایا ہر لحاظ کو بالاۓ طاق رکھتے ہوۓ نان سٹاپ شروع ہو جاتی تھی۔جس کے باعث جب بھی ایسی کوٸی بات شروع ہوتی، وہ اس منظر سے فوراً ہٹ جاتی جس کا ہبہ اور عنایا نے کبھی برا نہیں منایا اور بات ختم کرنے کے بعد اسے بلایا جاتا تھا۔ اب بھی وہ دونوں حرم کی کلاس میں اسے بلانے کی غرض سے گٸی تھیں مگر اسمبلی کی بیل ہو گٸی تبھی وہ تیسرے پیریڈ میں ملنے کا کہہ کر اپنی اپنی کلاسز کی طرف بڑھ گٸیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *