Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 (Watching)Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Episode17
Intekhab by Sehar Kanwal Episode17
میں نے ہر جگہ پر اپنے آپ کو اعلیٰ ترین سمجھا، میں ہواٶں میں اُڑنے لگی تھی، میں تو ہر کسی کو اسکی حیثیت یاد دلاتی تھی، مگر میری اپنی کیا حیثیت ہے؟ میں خود کیا ہوں؟ ایک دوٹکے کا گھٹیا شخص مجھے دھوکا دے گیا” وہ بیڈ پر بیٹھی حیرانی کی کیفیت میں خود سے محوِ گفتگو تھی۔
“نہیں، میں نے خود اپنے آپ سے دھوکا کیا ہے، مجھے کیا ضرورت تھی ایک انجان شخص کے اتنا قریب ہونے کی، مجھے کیا ضرورت تھی ایک انجان شخص کو اپنا آپ سونپنے اور خود کو اسکے حوالے کرنے کی، ساری غلطی میری اپنی ہے، میں نے خود اپنے آپ کو اپنی نظروں میں گرایا ہے، میں نے ایک انجان بندے کی وقت گزاری کو اسکی محبت سمجھا، میں خود پکے پھل کی طرح اسکی گود میں گری اور میں نے ہر شخص کو خود سے حقیر سمجھا، میں نے اپنے ماں باپ کی محبت کو ٹھکرا کر اسکی محبت پر بھروسہ کیا، میں نے اپنے آپ سے دھوکا کیا، میں نے اپنے ماں باپ، دوستوں، بھاٸی ہر بندے کو دھوکا دیا، میں نے جھوٹ بولے، قصوروار تو میں خود ہوں۔ اس نے تو مجھے نہیں کہا تھا ہواٶں میں اڑنے کو، اس نے تو مجھے ماں باپ کو دھوکا دینے کا نہیں کہا تھا، اس نے تو مجھے جھوٹ بولنے کا نہیں کہا تھا، ہاں اس نے اپنے ساتھ جانے کا کہا تھا مگر میں بیوقوف تھی، میں انکار بھی تو کر سکتی تھی، سب کچھ میرے اختیار میں تھا، مگر میں نے ہمیشہ غلط راستے کا انتخاب کیا، میں نے ہمیشہ براٸی کو چنا، میں تو اپنی ہی نظروں میں گر گٸی ہوں، خود سے ہی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی” وہ اپنے بال نوچتی اپنی غلطیوں پر زاروقطار رو رہی تھی۔
آرزو سفر کا جب ہم نے ارادہ کیا تھا
ساتھ چلنے کا اس نے بھی وعدہ کیا تھا
کچھ اسکو راس نہ آٸیں وفا کی صداقتیں
کچھ اعتبار ہم نے بھی زیادہ کیا تھا
* * * * * * * * * *
انس امی کے سوٸم پر لوگوں سے زرا ہٹ کر ساٸڈ پر بیٹھا سوجھی ہوٸی سرخ آنکھیں زمین پر مرکوز کیۓ سکتے کی سی کیفیت میں کچھ پڑھتا کھجور کی گھٹلیاں ایک ٹوکری سے دوسری میں ڈال رہا تھا جبکہ عاٸز اور ہنزلہ اسکی حالتِ زار کی بہتری کی دعا کرتے اسکے ساتھ بیٹھے تھے جو انکی موجودگی کا نوٹس لیۓ بنا اپنی ہی دھن میں مگن تھا۔
“انس؟” ہنزلہ نے آہستہ آواز میں اسے اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔
“انس؟” ہنزلہ چند لمحے اسکے جواب نہ دینے پر اسے بازو سے پکڑ کر جھنجھوڑتے ہوۓ کہنے لگا۔
“کیا ہوا؟” وہ اسکی طرف دیکھ کر نہایت ہلکی آواز میں سوال کر رہا تھا۔ کھجور کی گھٹلیوں کے گرنے کی آواز چند پل کو تھمی تھی۔
“کیا ہو گیا ہے یار، خود کو سنبھال، تجھے اپنی امی کے لیۓ دعاٸیں کرنی ہیں اور انکی خواہشات کو پورا کرنا ہے جس سےانہیں خوشی ہو گی، اگر تو ایسا کرے گا تو سوچ، قبر میں آنٹی پر کیا گزر رہی ہو گی” ہنزلہ اسے دھیمی آواز میں سمجھا رہا تھا۔
“تم دونوں میرے لیۓ ایک دعا کرو گے؟” وہ منت بھرے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
“ہم تیرے لیۓ کچھ بھی کریں گے” عاٸز نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ یقین دہانی کرواٸی۔
“تم لوگ دعا کرو اللہ مجھے بھی موت دے دے، میں بھی امی کے پاس چلا جاٶں” وہ کسی ٹرانس کی کیفیت میں بچوں کی طرح منت بھرے انداز میں کہتا زاروقطار رو دیا تھا۔
“تو نے کچھ کھایا ہے؟” ہنزلہ نفی میں سر ہلاتا چند لمحوں بعد اس سے سوال کرنے لگا۔
“یار۔۔۔امی مجھے نوالے بنا بنا کے دیتی تھیں ، تب بھی میں انکار کر دیتا تھا مگر آج تیسرا دن ہے، کسی نے مجھ سے کھانے کا نہیں پوچھا” وہ گلہ کر رہا تھا ان دونوں سے اور اسی دوران ہنزلہ کے گلے لگ کر ضبط کے باوجود پھوٹ پھوٹ کر رو دیا تھا۔
عاٸز کو لگا وہ رو نہیں رہا، وہ ٹوٹ رہا ہے، اسکا لہجہ اور الفاظ اسکی ذات کی ٹوٹ پھوٹ کی گواہی دے رہے تھے، وہ بات بات پر روہانسا ہو رہا تھا، وہ بول نہیں رہا تھا، وہ گھنٹوں ایک ہی جگہ دیکھتا رہتا تھا، وہ رات کو ڈرنے لگا تھا اور سب سے بڑھ کر وہ قبر پر جا کر پورا دن وہیں بیٹھے رہنے کی ضد کرنے لگا تھا۔
* * * * * * * * * *
ابدال آج بھی پچھلے چند دنوں کی طرح کشف کی سردیوں کی راتوں میں آسمان پر ستاروں سے مختلف شکلیں بنانے کی برسوں پرانی عادت کے بارے میں سن کر مسکراتا ہوا اسکی خواہش پر نہایت سرد رات میں لان کی کرسی پر بیٹھے اپنے سامنے موجود زندگی کی سب سے بڑی نعمت پر نظریں جماۓ بیٹھا تھا جو لانگ کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے مکمل طور پر آسمان میں کھوٸی ہوٸی تھی۔
“میں نے بنا لیا” وہ آسمان کی طرف دیکھتی خوشی سے چہکتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
“کیا؟” ابدال اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوۓ پوچھنے لگا۔
“وہ رہا اے!” وہ کوٹ کی جیب سے دایاں ہاتھ نکال کر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے ہوۓ اسے دکھا رہی تھی۔
“آج آپ جیت گٸیں” ابدال مسکراتے ہوۓ اس سے کہہ رہا تھا جو اسے بےحد پسندیدگی اور عزت کا مقام دیتے ہوۓ اب تک آپ سے تم پر نہیں آیا تھا۔
“حساب برابر!” وہ بچوں کی طرح خوش ہوتے ہوۓ ابدال کی پچھلے روز کی جیت کا حوالہ دیتے ہوۓ بولی۔
“اب چلیں؟” اس نے بڑھتی ہوٸی سردی کے باعث سوال کیا۔
“بس تھوڑی دیر بعد” وہ چاندنی برساتے مکمل چاند پر نظریں مرکوز کیۓ منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔
“اوکے، لیکن آپ کو پتہ ہونا چاہیۓ، کہ آپکے مسلسل چاند تاروں اور آسمان کو پیار سے دیکھنے کے بعد میں ان سے جیلس ہونے لگ گیا ہوں” وہ براٶن چادر مکمل طور پر اپنے گرد لپیٹ کر ہنستے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“آٸی ایم سو سوری!” وہ مسکرا کر کہتی فوراً چاند سے نظریں ہٹاتی اسکی طرف دیکھنے لگی تھی جو اسے مزاج میں اپنی بہن سے بالکل مختلف لگتا تھا، اسے عنایا کے اس سے اجتناب اور اکھڑ مزاج کی وجہ سمجھ نہ آٸی تھی۔
“آپ ترکی جا رہے ہیں؟” اس نے چند لمحوں بعد سوال کیا۔
“ہم عمرے کے بعد ترکی جاٸیں گے” ابدال نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ جواب دیا۔
“میرے پاس آپ کیلیۓ کچھ ہے” وہ ابدال کی اسکے ساتھ عمرے کی خواہش پر مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلاتی کوٹ کی جیب ٹٹولنے لگی۔
“میرے لیۓ ؟ کیا؟” ابدال حیرانی سے سوال کر رہا تھا جب کشف نے کوٹ کی جیب سے اسے ایک ڈبیا نکال کر دی جو سرخ رنگ کی تھی۔
“اب کھولیں بھی!” وہ اسے مسلسل اس ڈبیا کو موڑ موڑ کر دیکھتے اکتا کر کہنے لگی۔
“اوہ اچھا!” اس نے فوراً کَوَر کھولا جسکے اندر سے بےحد میٹھی خوشبو آ رہی تھی۔ابدال نے شیشی اس ڈبیا سے باہر نکالی جو نہایت خوبصورت طرز کی عطر کی شیشی تھی، وہ اسے کھول کر لگانے لگا۔
“نہیں نہیں ایسے نہیں!” کشف اسکو شیشی بازوٶں کے پاس لے جاتے دیکھ کر بولی۔
“یوں لگاٸیں!” وہ اسکے ہاتھ سے شیشی لیکر اسکے داٸیں ہاتھ کے انگوٹھے کے پیچھے لگا کر اسے دوسرے ہاتھ کی اسی جگہ پر ملنے کا اشارہ کرتی اسے سکھاتے ہوۓ کہنے لگی اور وہ عطر دونوں ہاتھوں پر رگڑ کر لگاتا اپنی بیوی کے نہایت اسلامی ہونے پر مسکرانے لگا تھا۔
غمِ حیات، نہ خوفِ قضا مدینے میں
نمازِ عشق کریں گے ادا مدینے میں
* * * * * * * * * *
“عنایا رات کہاں تھی؟” ذاکر صاحب کمرے میں داخل ہو کر بیڈ پر بیٹھی خدیجہ بیگم سے سوال کر رہے تھے۔
“میں نے پوچھا نہیں” خدیجہ بیگم نے انکی طرف دیکھتے ہوۓ جواب دیا۔
“کیا مطلب آپ نے پوچھا نہیں؟” ان کو حیرانی ہوٸی۔
“میں اسکے آنے کے بعد اس سے ملی نہیں ہوں” وہ انکی طرف دیکھتے ہوۓ بولیں جو ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کیۓ صوفے پر بیٹھے اب شوز اتار رہے تھے۔
“میں مل کر آتا ہوں” وہ اٹھتے ہوۓ ان سے کہنے لگے۔
“آپ نہیں جاٸیں گے” وہ بیڈ سے اٹھتی ان کے پاس آکھڑی ہوٸی تھیں۔
“لیکن کیوں؟” ذاکر صاحب نے حیرانی سے سوال کیا۔
“فی الحال وہ گھر آگٸی ہے یہی کافی ہے، اب پلیز کچھ دن کیلیۓ اسے اسکے حال پر چھوڑ دیں، شاید اسے اپنی غلطی کا احساس ہو جاۓ، شاید اسکا رویہ کچھ بہتر ہو جاۓ، شاید اسے عقل آ جاۓ” وہ انکے سامنے کھڑی منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔
“لیکن میں اس سے رات کے حوالے سے پوچھنا چاہتا ہوں” وہ ان سےکہہ رہے تھے۔
“پلیز۔۔!” خدیجہ بیگم کا منت بھرا انداز دیکھ کر وہ اثبات میں سر ہلاتے الماری کی طرف بڑھ گٸے۔
* * * * * * * * * *
وہ پورا دن بیڈ پر بیٹھی سر ہاتھوں میں گراۓ پچھلے چند ماہ کے بارے میں سوچتی رہی تھی جب وہ ہر شخص کو خود سے کمتر اور نیچا سمجھنے لگی تھی، جب اس نے ان چند ماہ میں ایک بار بھی اپنی ماں سے محبت تو دور، عزت سے بات کرنا بھی ضروری نہیں سمجھا تھا، اسے کس کس نے رویہ بدلنے کا نہیں کہا تھا، اسکی ماں نے،اسکی دوستوں نے، اسکے بھاٸی نے، مگر اس نے ایک کی بھی نہیں مانی تھی، وہ تو خود کو کسی دوسری دنیا کی مخلوق سمجھنے لگی تھی۔
کمرے کی ہر شے زمین بوس تھی، ہر چیز اسکے قہر کا نشانہ بنی تھی، وہ اپنی ذات پر آیا ہوا غصہ قیمتی اشیا۶ پر نکال چکی تھی اور اب سب سے آخر میں اس نے فون سامنے کی دیوار پر مارا تھا جسے پڑھاٸی اور ضرورت کیلیۓ دیۓ جانے کے باوجود اس نے چھپ چھپ کر دوستی اور محبت پالنے میں استعمال کیا تھا اور اسکا غلط استعمال اسے اسکی اپنی ہی نظروں میں گرا گیا تھا۔ وہ بوجھل سر اور سرخ ہوتی آنکھیں لیۓ بیڈ پر نیم دراز ہونے لگی تو اسے وہ تحفہ دکھاٸی دیا جو اسے گھر چھوڑنے والے لڑکے نے دیا تھا،اسکی بھابھی کے بھاٸی نے، اس نے وہ تحفہ اٹھا کر اس پر لگا کارڈ پڑھا جس پر “فرام ہنزلہ ٹُو کشف آپی!” لکھا ہوا تھا مگر اس نے اسکے اندر موجود چیز کے تجسس میں شیٹ پھاڑ دی جس میں ایک کتاب موجود تھی، سیاہ رنگ کے کور والی، اس نے کتاب کا نام دیکھے بغیر جلدی میں اسے کھولا جس کے پہلے صفحے پر تحریر تھا:
“جب عشقِ مجازی سے دھوکا کھا چکے، تو سمجھ جا کہ تو عشقِ حقیقی کیلیۓ پیدا کیا گیا ہے”
عنایا کو بےاختیار خیال آیا کہ یہ کتاب محض اسی کیلیۓ لکھی اور خریدی گٸی ہے، وہ اسے پکڑے بیڈ پر بیٹھ کر کمبل کھول کر ٹانگوں پر پھیلاتی پڑھنے لگی۔
“اور اس دن ظالم شخص اپنے ہاتھوں کو چبا چبا کر کہے گا، ہاۓ کاش! کہ میں نے رسول (ﷺ) کی راہ اختیار کی ہوتی۔ہاۓ افسوس! کاش کہ میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا(الفرقان)” عنایا کو لگا وہ کتاب اس سے کہہ رہی ہے، اسے اس کتاب سے خوف محسوس ہوا تبھی وہ چند صفحے اکٹھے آگے کر کے وہاں سے پڑھنے لگی۔
“اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور بےپردہ نہ رہو، جیسی اگلی جاہلیت کی بےپردگی(ف ٨٤)” اسے وہ کتاب اپنے اندر تک اترتی اور خود پر اثر انداز ہوتی محسوس ہوٸی۔وہ بے اختیار اس آیت کا خود سے موازنہ کرنے لگی، جاہلیت کی بےپردگی جب عورتیں اپنے حسن و جمال کی نماٸش کیا کرتی تھیں، اس نے خود کو بالکل ان جیسا پایا، خوبصورتی کو نمایاں کرنے والی، بےپردہ ہو کر بازاروں میں گھومنے والی، اس نے فوراً قریب پڑا چھوٹا دوپٹہ اٹھا کر اپنے سر پر دھر لیا اور آگے پڑھنے لگی۔
“بےشک مسلمان مرد اور عورتیں (ف ٨٧) اور ایمان والے اور ایمان والیاں اور فرمانبردار اور فرمانبرداریں اور سچے اور سچیاں(ف٨٨) اور صبر والے اور صبر والیاں اور عاجزی کرنے والے اور عاجزی کرنے والیاں، اور خیرات کرنے والے اور خیرات کرنے والیاں اور روزے والے اور روزے والیاں، اور اپنی پارساٸی نگاہ رکھنے والے اور نگاہ رکھنے والیاں اور اللہ کو بہت یاد کرنے والے اور کرنے والیاں، ان سب کیلیۓ اللہ نے بخشش اور بڑا ثواب تیار کر رکھا ہے” عنایا کو لگا وہ دلدل میں ہے، دھنس رہی ہے، زرا ہلے گی تو مر جاۓ گی، اسے اپنے اندر کتاب پر لکھی ہوٸی کوٸی خوبی نظر نہ آٸی، وہ صرف مسلمان کا ٹیگ اپنے ماتھے پر سجاۓ پھرتی تھی، اور اسے اللہ پر کامل یقین اور ایمان بالکل نہ تھا، اسے اپنے حال پر رونا آیا، اس نے کبھی کسی فقیر کے ہاتھ پر کوٸی سکّہ نہیں دھرا تھا، اس نے ہمیشہ تکبر اپنایا تھا۔
“اور مسلمان عورتوں کو حکم دو، اپنی نگاہیں نیچی رکھیں(ف٥٦)”
“رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جو عورتیں کپڑے پہن کر بھی ننگی رہیں اور دوسروں کو رجھاٸیں اور خود دوسروں پر ریجھیں اور بختی اونٹ کی طرح ناز سے گردن ٹیڑھی کر کے چلیں، وہ جنت میں ہرگز داخل نہ ہوں گی اور نہ اسکی بو پاٸیں گی(صحیح مسلم)”
کتاب پر لکھی ہوٸی سطریں پڑھ کر اسے محسوس ہوا کہ اسے جانچا جا رہا ہے، وہ کتاب اسکی زندگی کے ایک ایک پل کا احتساب کر رہی ہے، اسکی تمام براٸیاں اسکے سامنے رکھنا چاہ رہی ہے، ایک اچھے دوست کی طرح اسے سمجھا رہی ہے۔
“وہ عفیفہ ہوں، نہ ایسی کہ کھلم کھلا بدکاری کریں اور نہ درپردہ دوستی کرنا چاہیں(النسا۶ ٢٥:٤)”
“کہ مایوس ہو جانے والوں میں سے مت ہو جاٶ (الحجر ٥٥)”
عنایا کو اس پل اس کتاب سے بےتحاشا خوف محسوس ہواتھا جب وہ اسکی زندگی کے ایک ایک پہلو پر نظر ڈالتی ہمیشہ اسکے غلط انتخاب کو دلاٸل سے ثابت کر رہی تھی تبھی امید کی آیت پڑھ کر اسکی ڈوبتی سانس ابھری۔
“اجازت کا طلب کرنا اس لیۓ مقرر کیا گیا ہے کہ نامحرم پر نظر نہ پڑے”
“نامحرم کیلیۓ بننے سجنے والی عورت بھکاری کے کشکول کی طرح ہے جو دوسروں کی نظر کا محتاج ہوتا ہے” عنایا کو یہ سطر پڑھنے کے بعد ایاز کیلیۓ اپنا تیار ہونا اور بناٶ سنگھار کرنا یاد آیا۔اسے اس سرد رات میں بےتحاشا گھٹن محسوس ہو رہی تھی۔
#جاری_ہے
