Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode16

Intekhab by Sehar Kanwal Episode16

ماہ نور کون ہے؟” عنایا کی نظریں سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں آسمان سے اس تک آٸی تھیں۔
“میری منگیتر!” اس نے شانے اچکاتے ہوۓ جواب دیا۔
“تمہاری کوٸی منگیتر بھی ہے؟” عنایا کو شاک لگا۔
“ہاں! لیکن وہ مجھے کبھی یوں اکیلے میں ملی نہیں ہے، مجھے اسکی یہ عادت بہت پسند ہے، حالانکہ اسے پتہ ہے میری شادی ہر صورت میں اسی سے ہو گی کیونکہ ابو نے ہماری منگنی میری دسویں جماعت کے بعد ہی کر دی تھی” وہ بینچ کے قریب پڑے پتھر اٹھا کر سامنے مارتا ہوا مسکرا کرعام سے لہجے میں کہہ رہا تھا۔
“تو تم میرے ساتھ کیا کر رہے تھے؟” عنایا نے غصے میں دونوں ہاتھوں سے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا۔
“اب ڈرامے کرنے نہ بیٹھ جانا، ہر لڑکی کو پتہ ہوتا ہے کہ آجکل کے لڑکے صرف ٹاٸم پاس کرتے ہیں، اب ہم ہر دوسری لڑکی کے ساتھ شادی تو کرنے سے رہے” وہ نہ چاہتے ہوۓ بھی اسکے انداز پر تلخ ہو گیا تھا۔
“لیکن تم نے محبت کے دعوے کیۓ ہیں ایاز!” وہ عالمِ حیرت میں مبتلا تھی۔
“وہ تو میں تم سے پہلے بھی کٸی لڑکیوں سے کر چکا تھا” ایاز نے شانے اچکاتے ہوۓ اپنے دل بھر جانے کا اشارہ دیا۔
“میں تمہارے لیۓ ایک رات گھر سے باہر رہی ہوں، اور تم؟” عنایا کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کیا کہے۔
“اوہ کم آن! میں نے تو تمہیں بس ایک بار کہا تھا، تم خود ہی میرے ساتھ گھومنے پر راضی ہو گٸی تھی۔” وہ مزے سے ایک ایک پتھر سامنے درخت پر مارتے ہوۓ کہہ رہا تھا جس کے باعث بار بار چڑیاں اس درخت سے اُڑ جاتی تھیں۔
“تم نے میرے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے، میری بے عزتی کی ہے” وہ اسکے سامنے کھڑی اونچی آواز میں کہہ رہی تھی۔
“یار عنایا پلیز! جو لڑکی اپنے ماں باپ کی سولہ سترہ سال کی محبت پر لات مار کر میری چند ماہ کی محبت میں میرے ساتھ راتوں کو گھومنے پر راضی ہو جاتی ہو، میں جانتا ہوں وہ کتنی عزت دار ہو گی” وہ بینچ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
“تم مذاق کر رہے ہو نا؟” عنایا بے یقین تھی۔
“تمہیں لگ رہا ہے، میں مذاق کر رہا ہوں؟ جس طرح تم میرے ایک بار کہنے پر میرے ساتھ چل پڑتی تھیں، اس طرح اور بھی نہ جانے کس کس کے ساتھ جاتی ہو گی” وہ نفرت بھرے انداز میں اس سے بھی اونچا بول رہا تھا۔
“تم نے مجھے رسوا کر دیا ہے ایاز!” وہ سر ہاتھوں میں گراتی بینچ پر ڈھے گٸی تھی۔
“مجھے پتہ ہے تم کتنی پاک دامن ہو، کوٸی عزت دار شخص تم پر تھوکنا بھی پسند نہیں کرے گا، تم لڑکوں سے دوستی رکھتی ہو اور اب یہ سب ڈرامے بازیاں!” وہ اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ انڈیل رہا تھا۔
“تم نے اچھا نہیں کیا” وہ اسکی طرف دیکھتی سکتے کی سی کیفیت میں افسوس سے نفی میں سر ہلاتی کہہ رہی تھی جب اسکے فون پر رِنگ ہوٸی اور وہ کال سننے لگا۔
“اوہ اچھا، میں آتا ہوں” وہ کہہ رہاتھا۔
“میری خالہ کی ڈیتھ ہو گٸی ہے، میں جا رہا ہوں، ہم تمہارے گھر سے تقریباً دس منٹ کے فاصلے پر ہیں، تم پیدل جا سکتی ہو، اور اپنے ماں باپ کے جاگنے سے پہلے چلی بھی جانا” وہ اسے کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا مگر عنایا وہیں بینچ پر سکتے کی سی کیفیت میں بیٹھی سوچ رہی تھی اپنی بے بسی پر اور خود سے کیۓگۓ دھوکوں پر! وہ تو کیا کیا سہانے سپنے سجاۓ بیٹھی تھی مگر آج اسے سمجھ میں آیا تھا کہ آسمانوں میں اڑنے والے اگر دھڑام سے زمین پر گریں تو کیا حالت ہوتی ہے۔وہ اپنی سوچوں میں گم بے اختیار رو دی تھی۔
اک عمر سے فریبِ سفر کھا رہے ہیں ہم
معلوم ہی نہیں کہ کدھر جا رہے ہیں ہم
* * * * * * * * * *
“یا اللہ میری بیٹی کی حفاظت کرنا!” خدیجہ بیگم رات بھر دعاٸیں مانگنے کے بعد اب فجر کی نماز کے بعد بھی روتے ہوۓ یہی کہہ رہی تھیں۔
“یا اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا!” وہ زاروقطار رو رہی تھیں جب ذاکر صاحب کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوۓ۔
“کچھ پتہ چلا؟” وہ یکدم مسلّے سے اٹھ کر ان کے پاس جاتے ہوۓ پوچھ رہی تھیں۔
“نہیں!” ذاکر صاحب کا ٹوٹا ہوا لہجہ اور نفی میں ہلتا سر دیکھ کر خدیجہ بیگم اپنی چھاتی پیٹنے لگیں۔
“یہ آپ کیا کر رہی ہیں؟ گھر پر مہمان ہیں، نٸی نویلی بہو موجود ہے، اگر ان سب کو پتہ چل گیا تو کتنا بڑا تماشہ کھڑا ہو جاۓ گا خاندان میں” وہ انہیں سمجھا رہے تھے۔
“تو میں کیا کروں؟وہ پتہ نہیں کس حال میں ہو گی؟” آنسوٶں سے تر چہرے کے ساتھ خدیجہ بیگم ان سے کہہ رہی تھیں۔
“آپ دعا کریں کہ اللہ اسے اپنے حفظ و امان میں رکھے اور وہ جلد مل جاۓ” وہ انکے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوۓ ان سے زیادہ خود کو تسلی دے رہے تھے۔
“پوری رات سے دعاٸیں کر رہی ہوں، اللہ نے ابھی تک نہیں سنی” وہ ہوش و حواس سے بیگانہ بچوں کی طرح ذاکر صاحب کے سامنے بیٹھی گلہ کر رہی تھیں اور ذاکر صاحب انہیں مسلسل تسلّیاں دے رہے تھے۔
دینے والے کی مشیت پہ ہے سب کچھ موقوف
مانگنے والے کی حاجت نہیں دیکھی جاتی!
* * * * * * * * * *
ہنزلہ انس کی امی کی موت کی خبر سن کر نہایت تیزی سے گاڑی چلاتا ہوا ہاسپیٹل کی طرف جا رہا تھا کہ اسے بچوں کے پارک کے باہر کوٸی لڑکی خرد سے بیگانہ یہاں وہاں جھولتی روتے ہوۓ سیدھا چلنے کی بجاۓ کبھی داٸیں کبھی باٸیں ہوتی نظر آٸی جس نے سامنے سے آتی گاڑی دیکھ کر ایک پل کیلیۓ سر اٹھایا۔
ہنزلہ کو اسے پہچاننے میں بس ایک سیکنڈ لگا،” وہ فون والی امیچیور لڑکی”، اسکے ذہن میں جھماکہ ہوا۔
“یہ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہے؟” ہنزلہ نے نہایت جلدی میں ہونے کے باوجود گاڑی کی رفتار قدرے آہستہ کر دی کیونکہ اسے صبح سات بجے کسی لڑکی کا ٹاٶن کے اس حصے میں ہونا، جو اس وقت بالکل سنسان ہوتاتھا، کافی عجیب لگا اور لڑکی بھی وہ جس کا تعلق کہیں نہ کہیں اسکے خاندان سے تھا لیکن وہ کنفیوژد تھا اسکی اس وقت وہاں موجودگی اور اس عجیب حالت پر۔ ہنزلہ نے بالکل اس کے پاس جا کر بریک لگاٸی جو اس وقت اسی لباس میں ملبوس تھی جو ولیمہ پر میرج ہال کے انٹرنس پر ٹکر کے دوران زیبِ تَن کیۓ ہوۓ تھی۔
“آپ اس وقت یہاں کیا کر رہی ہیں؟” وہ شیشہ نیچے کرتااس سے سوال کرنے لگا جسے منہ کے آگے بازو رکھ کر رونے کے باعث شاید گاڑی رکنے کا بھی اندازہ نہیں ہوا تھا۔
“آپ جیسے کسی بےغیرت لڑکے کے ساتھ گٸی تھی جس نے مجھے میری اوقات یاد دلا کر واپسی کا راستہ دکھا دیا ہے” عنایا کو اسکے سوال پر غصہ آیا تھا اور غصے میں آنسوٶں سے تر چہرہ لیۓ جو اسکے منہ میں آیا کہہ دیا مگر جب کہہ کر خاموش ہوٸی تو جانا کہ سامنے اسکی بھابھی کا بھاٸی ہے جو اسکے چہرے پر نظریں جماۓاسکی بات کو غور سے سن رہا ہے اور اسے پہچاننے کے بعد اسکا منہ حیرانی سے کھل گیا اور وہ اپنی کہی ہوٸی بات پر شرمسار ہو کر اسکے چہرے سے نظریں ہٹاتی زمین کی طرف دیکھنے لگی۔
“آٸیں میں آپکو گھر چھوڑ دوں” ہنزلہ اسکے سفاک انداز پر اسکے رونے کی وجہ سمجھ گیا تھا اور انس کی فکر اسے الگ کھاۓ جا رہی تھی لہٰذا جلد از جلد اسکے گھر پہنچنے کی فکر میں وہ عنایا کے سخت الفاظ یکسر نظر انداز کرتے ہوۓ اسے فوراً کہنے لگا۔
“تھینکس!” عنایا قدرے شرمندگی سے کہتی فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول کر کار میں بیٹھ گٸی۔
“آپکو ایسا نہیں کرنا چاہیۓ تھا، آپ کے والدین کتنے پریشان ہوں گے” انس کی امی کی ڈیتھ سے بےحد پریشانی اور دکھ کے عالم میں بھی اس نے اسے سمجھانا ضروری سمجھا۔
“انہیں کے تھپڑ کی وجہ سے گٸی تھی!” عنایا دل ہی دل میں اپنی اس حرکت پر افسوس کرتی نظریں جھکاۓ مگر سخت لہجے میں کہہ رہی تھی جبکہ ہنزلہ معاملے کو بہت اچھے سے سمجھ چکا تھا یہ بھی کہ وہ امیچیور صرف لگتی نہیں تھی، وہ تھی ہی امیچیور!
“وہ چاہیں تو آپکے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں، تھپڑ تو بہت معمولی بات ہے” ہنزلہ سڑک کی طرف دیکھتا اسکے انداز اور لہجے سے غصے میں آۓ بنا اسے آرام سے سمجھا رہا تھا لیکن اسے اچھے سے سمجھانے کیلیۓ اس نے اسے ایک تحفہ دینے کا فیصلہ کیا جو وہ کشف کیلیۓ خرید کر لایا تھا مگر اسے اس وقت وہ تحفہ اس امیچیور لڑکی کیلیۓ زیادہ مناسب لگا۔
چند لمحے بعد اپنے گھر کے آگے گاڑی کھڑی ہوتے دیکھ کر وہ کار کا دروازہ کھولنے لگی۔
“یہ آپکے لیۓ !” ہنزلہ پچھلی سیٹ سے تحفہ اٹھا کر اسے دینے لگا مگر وہ بھیگے چہرے کے ساتھ کبھی اسے اور کبھی اس تحفے کو دیکھ رہی تھی۔
“پڑھیۓ گا ضرور!” وہ اسے چند لمحے نظریں اس تحفے پر جماۓدیکھتے ہوۓ بولا تاکہ وہ اسے یہ دے کر جلد از جلد اپنے جگر کے ٹکڑے کے پاس پہنچے جو اس وقت بےحال ہو رہا ہو گا۔
* * * * * * * * * *
ہنزلہ انس کے گھر میں داخل ہوا تو صحن میں رکھے جنازے کے اردگرد عورتوں کو بیٹھے دھاڑیں مار مار کر روتے دیکھا اور جنازے سے کافی دور انس ایک پِلَر کےساتھ ٹیک لگاۓ سکتے کی سی کیفیت میں امی کے چہرے پر نظریں جماۓکھڑا تھا اور اسکے ساتھ کھڑا عاٸز اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے کچھ کہہ رہا تھا۔وہ ان دونوں کو وہاں پا کر سیدھا انکی طرف گیا اور اسے دیکھتے ہی انس اسکے گلے لگ کر بنا آواز رونے لگ گیا تھا،اسکی ماں کی وفات برین ہیمرِج کے باعث ہوٸی تھی جو موت کے بعد آنے والی رپورٹس سے معلوم ہوا تھا۔
“میں مر جاٶں گا، مجھے نہیں جینا!” ہنزلہ نے انس کے منہ سے پہلا جملہ یہی سنا جب وہ اسےکافی دیر سے سینے سے لگاۓ تھپک رہا تھا۔
“حوصلہ رکھ میرے دوست، اللہ کو یہی منظور تھا۔”انس کو روتا دیکھ کر اسے تسلی دیتے ہوۓ ہنزلہ کی بھی آنکھیں اشک بار ہو گٸیں۔
“ابو کی وفات کے بعد امی نے مجھے سنبھال لیا تھا مگر اب مجھے لگتا ہے، میں ٹوٹ جاٶں گا، زندہ نہیں رہ پاٶں گا” وہ آنکھوں سے گرتے آنسو پونچتے معصومیت سےکہہ رہا تھا۔
“ہم ہیں نا، تو حوصلہ رکھ میرے بھاٸی!” انس کی باتیں سن کر عاٸز کا دل ہول اٹھا تھا، وہ فوراً اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر تھپکتے ہوۓ کہنے لگا۔
“یار۔۔۔۔” انس ان دونوں کے گرد بازو حاٸل کر کے سر جھکاۓ رو رہا تھا اور وہ دونوں اسکے دکھ میں برابر شریک ہوۓ اسے تسلیوں کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتے تھے۔
“جنازہ کب ہے؟” ہنزلہ نے کچھ دیر بعد عاٸز سے پوچھا۔
“آج جمعہ ہے تو اس لیۓ اسکے رشتہ داروں نے جمعہ سے پہلے پہلے دفن کا ارادہ کیا ہے، تاکہ مغفرت کی دعا کی جا سکے، گیارہ بجے کا اعلان کروا کے آۓ ہیں” عاٸز اسے تفصیلاً بتا رہا تھا جبکہ انس مسلسل کسی ٹرانس کی کیفیت میں میت کے چہرے پر دیکھ رہا تھا اور اسے اگلے چند گھنٹوں کی بالکل خبر نہ ہوٸی کہ کیا ہو رہا ہے،اسے لگ رہا تھا وہ آخری سانسیں لے رہا ہے اور میت کے دفن کے ساتھ وہ بھی ختم ہو جاۓ گا،زندہ نہیں رہ پاۓ گا۔ انس کو اگلے چند گھنٹے چند لمحے لگے ۔۔۔صرف چند لمحے!
وضو۔۔۔
کفن۔۔۔
دعا۔۔۔
دفن۔۔۔
زندگی موت کے ہجاب میں گم
اور میں زندگی کے خواب میں گم
آشناٸی ہے رب سے کافر کی
کلمہ گو رہ گٸے ثواب میں گم
* * * * * * * * * * *
وہ اس کتاب کو ہاتھوں میں دبوچے، سینے سے لگاۓ گھر میں داخل ہوٸی تو اسکی توقع کے عین مطابق گھر میں خاموشی تھی، وہ نظریں جھکاۓ تیز تیز چلتے ہوۓ اپنے کمرے کی جانب بڑھ رہی تھی جب اسے خدیجہ بیگم اور ذاکر صاحب کے کمرے کادروازہ کھلا نظر آیا اور خدیجہ بیگم اسے دیکھ کر ایک ٹھنڈی سانس لے کر رہ گٸیں مگر ناراضگی کے باعث اس تک آنا گوارا نہ کیا، وہ ان سے نظریں چراتی ایاز کی باتوں کو ذہن میں سموۓ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گٸی اور کمرہ لاک کر کے غصے کی کیفیت میں ہر چیز زمین بوس کرنے لگی۔
چند لمحوں بعد ڈریسنگ پر دھری تمام چیزیں فرش پر بکھری پڑی تھیں اور وہ ڈریسنگ کے سامنے کھڑی اپنے آپ سے بھی نظریں چرا رہی تھی، خود کو کوستی وہ اپنے وجود پر نظر ڈالنا عورت اور انسانیت کی توہین سمجھ رہی تھی۔
“میں کیا ہوں؟” اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔
“میں تو لڑکی یا عورت کہلانے کے بھی قابل نہیں ہوں”وہ خود کو کوس رہی تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *