Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode18

Intekhab by Sehar Kanwal Episode18

قیامت والے دن مومن کی میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ بھاری چیز کوٸی نہیں ہو گی اور یقیناً اللہ تعالیٰ بدزبان اور بےہودہ گوٸی کرنے والے کو ناپسند کرتا ہے(جامع الترمذی)” اسے ہر سطر کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک ایک واقعہ یاد آ رہا تھا جب اس نے اپنی زبان کے زریعے ہر شخص کی دل آزاری کی تھی، حرم کی، خدیجہ بیگم کی، ابدال کی، نوکروں کی، ہر بندے کی!
“مومن نہ طعنہ دیتا ہے، نہ لعنت کرتا ہے، نہ بری باتیں کرتا ہے اور نہ ہی بےحیا ہوتا ہے(صحیح بخاری ٣١٢)”
اسے یکدم اپنے مسلمان ہونے پر شک ہوا کیونکہ یہ چاروں عادتیں اسکی ذات میں عروج پر تھیں۔
“اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرے ذکر کیلیۓ وقت نکالو، میں تمہارے کام میں برکت عطا کروں گا، ورنہ دنیاوی کاموں کی کثرت تم پر اس قدر مسلط کر دوں گا کہ تمہیں فرصت ہی نہ ہو گی اور سکون سے محروم رہو گے” عنایا کو سب کچھ ہونے کے باوجود سجدے کی توفیق نہ ملنا اپنے گناہوں کی سزا کے طور پر محسوس ہوا۔
“اور لوگوں سے (غرور کے ساتھ) اپنا رخ نہ پھیر، اور زمین پر اکڑ کر مت چل، بیشک اللہ ہر متکبر، اترا کر چلنے والے کو ناپسند کرتا ہے(لقمان:١٨)”
اسے لگا وہ اللہ کی سب سے ناپسندیدہ بندی ہے جسے آج تک اسکی تعلیمات پڑھنے کی بھی فرصت معلوم نہیں ہوٸی، وہ کچھ نہیں جانتی تھی، بس اپنے طور طریقے سےجیتی تھی مگر اس کتاب کا ایک ایک لفظ اس پر اثرانداز ہو رہا تھا۔آنسوٶں سے تر چہرہ اور شرمندگی سے جھکا ہوا سر لیۓ وہ محو تھی اس کتاب میں اور اپنی ذات میں!
“آپ(ﷺ) نے فرمایا کہ جو بھی اپنے آپ کو دنیا میں بہت بڑا سمجھنے لگے، اللہ کا حق اور اسکی ایک طرح کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے نیچا کر دے تاکہ اسکا غرور ٹوٹ جاۓ(سنن النساٸی ٣٥٩٢)”
عنایا کو محسوس ہوا اللہ نے اپناحق پورا کیا تھا، اپنی ذمہ داری کو نبھایا تھا، اسکا غرور ٹوٹا تھا، توڑا گیا تھا۔اس نے بےاختیار اللہ سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگی۔
“دنیا کی چیزوں میں سے عورتیں اور خوشبو میرے لیۓ محبوب بنا دی گٸی ہیں اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گٸی ہے(سنن النساٸی ٣٩٣٩)”
“بلاشبہ دنیا بہت میٹھی اور ہری بھری ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں جانشین بنانے والا ہے، پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو لہٰذا تم دنیا میں(کھو جانے سے) بچتے رہو(صحیح مسلم ٢٧٤٢)”
عنایا کو اس پل اپنی پڑھی ہوٸی جمعہ کے علاوہ کوٸی بھی نماز یاد نہ آٸی اسے لگا وہ اپنی سولہ سترہ برس کی عمر میں واقعی دنیا میں کھو گٸی تھی۔
“دنیا کی طلب میں اعتدال کا طریقہ اپناٶ اس لیۓ کہ جس چیز کیلیۓ آدمی پیدا کیا گیا ہے، وہ اسے مل کر رہے گی(سنن ابنِ ماجہ ٢٢٨٥)”
اس کو اپنا بےتکی خواہشات کے پیچھے بھاگنا یاد آیا۔
“اگر دنیا کی حیثیت اللہ کی نظر میں ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اللہ کسی کافر کو ایک گھونٹ پانی تک پینے نہ دیتا(جامع الترمذی: ٢٣٢٠)”
عنایا کو لگا وہ واقعی کسی دوسری دنیا میں تھی جہاں وہ بھٹک جاتی مگر اسے واپس بلایا گیا، اگر وہ واپس نہ آتی، تو کیا ہوتا؟ وہ بےاختیار سوچنے لگی تھی، اگر اسے دھوکا نہ دیا جاتا تو وہ مسلسل گندگی کا شکار رہتی، اس نے اس پل ایاز کے دھوکے کے لیۓ اوپر والے کا شکر ادا کیا تھا اور پھر اسے وہ لڑکا یاد آیا، اگر وہ مجھے یہ کتاب نہ دیتا، تو میں پھر انہی کاموں میں پڑ جاتی، میں دوبارہ آشنا کی تلاش کرتی مگر اللہ نے مجھے بچایا اور اس لڑکے کو مسیحا بنا کر بھیجا، اسے یکدم اس کتاب اور اسے دینے والے پر بےانتہا رشک آیا تھا جو اسکی زندگی کو بدلنے والے تھے، جو اسے دنیا کی رنگینیوں سے نکال کر اللہ سے آشنا کروا رہے تھے، عنایا نے کتاب بند کر کے آنکھوں سے لگا کر اسے چوم لیا اور چند لمحے اسے بند کیۓ اس پر سر رکھے رہی۔
“لیکن تم تو دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو(القرآن ٨٧:١٦)”
کچھ دیر بعد کتاب کھولنے پر اس نے پہلی آیت یہی پڑھی اور اسے لگا، یہ آیت محض اسکے لیۓ اتاری گٸی ہے۔
“میں نے جنّات اور انسانوں کو محض اس لیۓ پیدا کیا ہے کہ وہ صرف میری عبادت کریں( القرآن ٥١:٥٦)”
وہ تو مقصدِ حیات بھلا بیٹھی تھی۔
“اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے، اسکی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کر کے اسے جنا(القرآن ٤٦:١٥)”
“اگر تم ستر سال تک خانہ کعبہ کا طواف کر کے اسکی نیکیاں اپنے ماں باپ کو ہدیہ کرتے رہو، تب بھی اس آنسو کے ایک قطرے کا بوجھ ہلکا نہیں کر سکتے جو تمہاری بدسلوکی کی وجہ سے تمہارے ماں باپ کی آنکھ سے گرا”
لفظ اپنی تاثیر سے دلوں کو چھلنی کیسے کرتے ہیں اور لوگوں کو کیسے بدلتے ہیں، یہ اسے آج سمجھ میں آیا تھا، اسے خدیجہ بیگم کی برداشت پر رشک آیا تھا، اسے اپنی تمام تر بدتمیزیاں یاد آٸی تھیں اور اسے اپنی ماں کا کبھی غصہ یا گلہ نہ کرنا یاد آیا تھا، وہ بے آواز رو پڑی تھی۔
“اپنے باپ کو اسکے نام سے مت پکارو، نہ ہی اپنے باپ سے آگے چلو اور نہ ہی اپنے باپ کے بیٹھنے سے پہلے خود بیٹھو” عنایا کو وہ کتاب اپنے دل پر خنجر چلاتی ہوٸی محسوس ہوٸی جو اسے خود سے کیۓگۓ دھوکے یاد دلا رہی تھی، اسے کمال کے بعد زوال دکھا رہی تھی۔
“صرف تین جگہ پر جھوٹ جاٸز اور حلال ہے: ایک یہ کہ آدمی اپنی بیوی سے بات کرے تاکہ اسکو راضی کرے، دوسرا جنگ میں جھوٹ بولنااور تیسرا لوگوں کے درمیان صلح کرانے کیلیۓ جھوٹ بولنا”
“جھوٹ بولنے والے پر اللہ کی لعنت ہے” وہ اپنی غلطیوں پر بے آواز روتی چلی جا رہی تھی۔
“تین آدمی ایسے ہیں جن کے فرض و نفل بھی اللہ قبول نہیں کرے گا: والدین کا نافرمان، احسان جتلانے والا، تقدیر کو جھٹلانے والا” عنایا کو لگا وہ بلندی سے پستی میں جا گری ہے۔
“کوٸی لڑکا اپنے باپ کا احسان نہیں چکا سکتا سواۓ اس کے کہ اسے(یعنی باپ کو) غلام پاۓ اور خرید کر آزاد کر دے(جامع الترمذی ١٩٠٦)”
“میں تو ان کے ایک بار محبت سے بات کرنے کا بھی احسان نہیں چکا سکتی اور چلی تھی انہیں اگنور کرنے،ایک بے تکے شخص کیلیۓ” وہ سوچ رہی تھی۔
“باپ جنت کا درمیانی دروازہ ہے، چاہے تم اس دروازے کو ضاٸع کر دو یا اسکی حفاظت کرو(سنن ابنِ ماجہ ٣٦٦٣)”
عنایا نے بےاختیار اس دروازے کی حفاظت کی خواہش کی تھی جو فی الحال اسکے اختیار میں تھا۔
“خالہ ماں کے درجے میں ہے(جامع الترمذی ١٩٠٤)” اس حدیث کو پڑھ کر اسے خدیجہ بیگم کا پہلا تھپڑ یاد آیا تھا، وہ تو میرے ساتھ کچھ بھی کر سکتی ہیں، مجھے تو اللہ کے بعد سانسیں بخشنے والی بھی وہی ہیں، میں تو انکا قرض ساری زندگی نہیں چکا سکتی، پھر ایک تھپڑ کی کیا حیثیت ہے؟اسے لگا وہ لڑکا بالکل ٹھیک کہہ رہا تھا۔
“میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک اور برتاٶ کرنے کی وصیت کرتا ہوں!
“میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک اور برتاٶ کرنے کی وصیت کرتا ہوں!
“میں آدمی کو اپنی ماں کے ساتھ اچھا سلوک اور برتاٶ کرنے کی وصیت کرتا ہوں!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *