Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 (Watching)Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Episode10
Intekhab by Sehar Kanwal Episode10
“پارٹی والے دن تم لوگوں کی وجہ سے میرا پلین چوپٹ ہو گیا یار!” عنایا صبح صبح حرم کی کلاس کے باہر کھڑی افسوس سے کہہ رہی تھی۔
“کبھی کبھی ہو جاتا ہے” ہبہ نے سامنے نظر آنے والے پہاڑوں کی طرف دیکھتے ہوۓ عام سے انداز میں کہا۔
“ایاز اتنا ناراض ہو رہا تھا” عنایا نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“عنایا!” حرم نے اسے پکارا۔
“ہاں؟” عنایا گھوم کر اس کی طرف مڑی۔
“خود کو کیوں دھوکا دے رہی ہو؟” حرم نے اس سے کہا۔
“میں خود کو کوٸی دھوکا نہیں دے رہی” عنایا کہہ کر پہاڑوں کی طرف دیکھنے لگی۔
“وہ تمہارے ساتھ ٹاٸم پاس کر رہا ہے” حرم نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
“وہ مجھ سے محبت کرتا ہے” عنایا کے اس جملے پر ہبہ نے مڑ کر اسکی طرف دیکھا تھا۔
“محبت؟ محبت کی اوّلین شرط عزت ہوتی ہے عنایا!” حرم نے اس سے کہا۔
“تو اس نے کونسا کوٸی مجھے بے عزت کیا ہے؟” عنایا اپنی بات پر اڑی ہوٸی تھی۔
“وہ تمہاری عزت کا جنازہ نکال کر تمہیں اپنے ساتھ لیۓ لیۓ پھرتا ہے، تمہیں سمجھ کیوں نہیں آتی؟” حرم کا لہجہ نہ چاہتے ہوۓ بھی سخت ہو گیا تھا۔
“تم مجھے مت سمجھاٶ حرم!” عنایا نے اسی کے لہجےمیں جواب دیا۔
“ٹھیک ہے!” وہ اسے کہہ کر وہاں سے چلی گٸی اور آٸندہ ایسی باتوں سے دور رہنے کا عہد کیا۔
* * * * * * * * * *
“السلام علیکم ماما” وہ یونی سے چھٹی کے بعد ہاسٹل کے کمرے میں بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاۓ منیبہ بیگم سے بات کر رہی تھی۔
“وعلیکم السلام بیٹا کیسی ہو؟” منیبہ بیگم کی شفقت بھری آواز اس کے کانوں میں پڑی ۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ، بابا اور ہنزلہ کیسے ہیں؟” اس نے تیز تیز سب کے بارے میں سوال کیا۔
“سب ٹھیک ہیں” منیبہ بیگم نے جواب دیا جو اس وقت کچن میں کھڑی تھیں۔
“کیا کر رہی ہو؟” انہوں نے سوال کیا۔
“کچھ دیر پہلے یونی سے آٸی ہوں، نیند نہیں آ رہی تھی تو سوچا آپ سے بات کر لوں” اس نے کہا۔
“اچھا کیا!” انہوں نے مسکرا کر چولہے کی آنچ کم کرتے ہوٸے کہا۔
“آپ کیا کر رہی ہیں؟” اس نے فوراً پوچھا۔
“ہنزلہ صبح فرماٸش کر کے گیا تھا بریانی کی، وہی بنا رہی ہوں” انہوں نے کچن سے باہر نکلتے ہوۓ کہا۔
ٗ”اپنے چہیتے کیلیٸے آپ روز نٸی نٸی ڈِشز بناتی ہیں” اس نے گلہ کیا۔
“جب تم آٶ گی تو تمہارے لیٸے بھی بناٶں گی” انہوں نے اسکا گلہ دور کرنے کو کہا۔
“دیکھتے ہیں!” اس نے چیلنج کرنے والے انداز میں کہا۔
“کشف! اس لڑکے کا کیا ہوا؟” انہوں نے یاد آنے پر سوال کیا۔
“کس کا؟” وہ یکدم سمجھ نہیں سکی۔
“اس بکے والے کا!” منیبہ بیگم نے یاد دلایا۔
“اوہ اچھا وہ۔۔ میں اس کے بعد اس ریسٹورنٹ میں نہیں گٸی۔” کشف نے انکو بتایا۔
“مگر کیوں؟” منیبہ بیگم کو اسکا انداز عجیب لگا۔
“یونہی میرا دل نہیں چاہا” کشف نے ٹالنا چاہا۔
“تم نے اسے اپنا نام بتایا؟” انہوں نے ایک اور سوال کیا۔
“نہیں!” یک لفظی جواب دیا گیا۔
“سب ٹھیک ہے نا؟” منیبہ بیگم نے فکرمندی سے سوال کیا۔
“جی ماما، سب ٹھیک ہے” کشف نے انہیں یقین دلانے کے بعد الوداعی کلمات کہہ کر کال کاٹ دی۔
* * * * * * * * * *
ابدال ٹی وی کے سامنے صوفے پر بیٹھا اپنی سوچوں میں گم تھا تبھی پاس رکھے فون پر دھڑا دھڑ کافی سارے میسجز ریسیو ہوٸے۔وہ فون اٹھا کر واٹس ایپ چیک کرنے لگا جہاں کسی انجان نمبر سے تقریباً چودہ میسج آۓ ہوۓ تھے۔ اس نے اوپَن کر کے دیکھا تو کچھ تصاویر کی لوڈنگ ہو رہی تھی تبھی اسی نمبر سے اسے کال آنے لگی۔
“ہیلو!” ابدال نے کال ریسیو کر کے کہا۔
“جی ابدال! میں نے آپکو کچھ پیپرز کی تصویریں بھیجی ہیں۔ آپ ان پر لگی پاسپورٹ ساٸز تصویروں کو زُوم کر کے دیکھ کر بتاٸیں کہ یہ ان میں سے کوٸی ہے، جسکی انفارمیشن آپکو چاہیۓ یا نہیں” عبداللہ نے اسے تسلی سے سمجھا کر فون بند کر دیا اور ابدال ایک ایک پیپر کو تصویر پر زُوم کر کے دیکھنے لگا لیکن اسے پہلی دس تصویروں میں نا پا کر ابدال کو مایوسی ہونے لگی مگر وہ نیچے والی چند تصاویر چھوڑنا نہیں چاہتا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے تیرہویں امیج میں اسے وہی لڑکی دکھاٸی دی۔ پِکچر میں تو سو فیصد وہی تھی مگر امیج کچھ بَلَر ہونے کے باعث لکھاٸی صاف نہیں تھی، اسے تصویر کے سامنے نام کا صرف پہلا حرف نظر آیا “کے”۔ ابدال بس اس تصویر کو دیکھے ہی جا رہا تھا جب عبداللہ کی کال دوبارہ آٸی اور ابدال کو یاد آیا کہ اسے کال کر کے عبداللہ کو بتانا بھی تھا۔
“کیا اس کی تصویر ان پیپرز میں ہے؟” کال پک کرنے پر عبداللہ نے پہلا سوال کیا۔
“جی۔۔۔۔جی” ابدال کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کہے۔
“آپ مجھے وہ امیج ریسینڈ کر دیں، میں انفارمیشن چیک کر کے بتاتا ہوں!” عبداللہ نے تیزی سے کہہ کر فون بند کر دیا تھا۔
“یَس۔۔!” ابدال عبداللہ کو وہ امیج ریسینڈ کرنے کے بعد کچھ گنگناتے ہوۓ اٹھ کر خوشی میں تقریباً ناچنے لگا تھا۔
* * * * * * * * * *
“آٸندہ بس سے اتر کر اکیلی ہی واپس آنا، میں انتظار نہیں کروں گا” عاٸز نے حرم سے رات کے کھانے پر بیٹھتے ہوۓ برا سا منہ بنا کر کہا۔وہ ہمیشہ اس سے لڑاٸی کے بعد یہی کہتا تھا اور آج اس نے کالج سے آکر رات کے کھانے میں چاول بنانے کی فرماٸش کی تھی مگر حرم نے دل نہ چاہنے کے باعث دال بناٸی تھی اور عاٸز اسی بات پر بھڑک اٹھا تھا۔
“کیوں بھٸی؟” عاکف صاحب نے اس سے پوچھا۔
“بابا یہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے” حرم نے عاٸز کے بولنے سے پہلے ہی بچوں والے انداز میں کہا۔
“بابا! مجھے سٹاپ پر اتنی دیر انتظار کرنا پڑتا ہے” عاٸز اپنی ساری بھڑاس نکال رہا تھا جبکہ عاکف صاحب ان دونوں کی نوک جھونک سننے کے ساتھ ساتھ کھانے میں مصروف تھے۔
“تو کیا ہوا؟تمہاری بہن ہے” عاکف صاحب نے عاٸز سے کہا تو حرم نے اسے مزید چڑانے کیلیۓ اسکی نقل اتاری جس سے اسکا غصہ سوا نیزے کو پہنچ گیا۔
“اس دن بھی میں پونا گھنٹہ سٹاپ پر انتظار کرتا رہا ہوں اور یہ میڈم صاحبہ مجھے اپنی دوست کی گاڑی کے شیشے سے ہاتھ ہلا کر گھر آنے کا اشارہ کر رہی تھیں اور جب میں نے لیٹ آنے کی وجہ پوچھی تو بڑے مزے سے کہتی ہے دوست کے گھر گٸی تھی۔” عاٸز نے حرم کے منع کرنے کے باوجود پارٹی والے دن کا سارا قصہ کہہ سنایا۔
“کیوں بیٹا حرم؟یہ صحیح کہہ رہا ہے؟” عاکف صاحب حرم کی طرف متوجہ ہوۓ جو سر جھکاۓ بیٹھی تھی۔
“جی بابا! میں آٸندہ کبھی ایسا نہیں کروں گی” وہ تقریباً روہانسی ہو گٸی تھی اور عاٸز اسے دیکھ دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
“ہاں! ورنہ اسکو پریشانی ہوتی ہے” عاکف صاحب نے عاٸز کی طرف اشارہ کیا۔
“جی ! مجھے پریشانی ہوتی ہے” عاٸز نے ایک ایک لفظ چبا چبا کر کہا جبکہ حرم اسے دیکھتے ہوۓ آنکھوں آنکھوں میں اشارہ کرنے لگی کہ تم سے تو میں بعد میں نپٹوں گی۔
* * * * * * * * * *
“السلام علیکم! وہ اپارٹمنٹ میں بیٹھا خدیجہ بیگم سے بات کر رہا تھا۔
“وعلیکم السلام کیسے ہو؟” خدیجہ بیگم نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ بات کا آغاز کیا۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟” ابدال نے خوشی کے عالم میں انکے سوال کا جواب دیا۔
“میں بھی ٹھیک ہوں!” خدیجہ بیگم اس کی آواز سے اس کی خوشی کا اندازہ لگا رہی تھیں مگر انہیں اس خوشی کی وجہ نہیں معلوم تھی۔
“عنایا اور بابا کیسے ہیں؟” ابدال نے اگلا سوال کیا۔
“سب ٹھیک ہیں!” خدیجہ بیگم نے بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاتے ہوۓ کہا۔
“ابدال! مجھے تم سے ایک بات کرنی تھی۔” خدیجہ بیگم نے چند لمحوں بعد کہا۔
“جی کریں! “ابدال خوشی سے چہک رہا تھا۔
“ہم تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں، کیا تمہیں کوٸی لڑکی پسند ہے؟” انہوں نے ایک ہی سانس میں بات ختم کر دی۔
“آپ میرے دل کی بات کیسے سمجھ جاتی ہیں” ابدال انتہاٸی آہستہ آواز میں بول رہا تھا۔
“تمہاری ماں ہوں، اس لیٸے” خدیجہ بیگم نے اسی کی طرح دھیمی آواز میں جواب دیا۔
“امی! مجھے ایک لڑکی پسند ہے” ابدال نے اٹکتے ہوۓ کہا۔
“کون ہے؟” خدیجہ بیگم خوشی سے پوچھنے لگیں۔
“پاکستانی ہے مگر یہاں رہتی ہے آجکل!” ابدال نے تمہید باندھی۔
“اچھا! پاکستانی ہے تو وہاں کیا کر رہی ہے؟” خدیجہ بیگم کو ترکی کا سن کر فوراً ایک آزاد خیال لڑکی کا خیال آیا۔
“امی ! یہاں کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہے، وہیں ہاسٹل میں رہتی ہے، ہمارے ریسٹورنٹ میں ڈنر کیلیۓ آتی تھی۔” ابدال نے عبداللہ سے ملنے والی انفارمیشن انکو دی۔
“کیا نام ہے؟”خدیجہ بیگم نے اگلا سوال کیا۔
“کشف!” ابدال نام بتاتے ہوۓ خوشی کی انتہا پر تھا۔
“پاکستان میں ہمارے والے ٹاٶن میں رہتی ہے امی، سب سے بڑی خوشی کی بات یہ ہے اور اس کے فادر بزنس مین ہیں، بابا ضرور انہیں جانتے ہوں گے” وہ بچوں کی طرح چہک چہک کر بتا رہا تھا۔
“کیا نام ہے اس کے بابا کا؟” خدیجہ بیگم نے پوچھا۔
“صادق!” ابدال نے فوراً جواب دیا۔
“اچھا ! میں تمہارے بابا سے بات کروں گی” خدیجہ بیگم نے پرشفقت انداز میں کہا۔
“اوہ امی! آپ کتنی اچھی ہیں” وہ مسکراتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“اچھا اب خدا حافظ! تمہارے بابا آنے والے ہیں” انہوں نے الوداعیہ کلمات سن کر فون رکھ دیا اور اپنی بہو کے بارے میں سوچنے لگیں۔
* * * * * * * * * *
“یار یہ تمہارا دوست عبداللہ تو بڑی کام کی چیز نکلا ہے، میں تو اسے بہت لاٸٹ لے رہا تھا” ریسٹورنٹ پہنچ کر فاٸق کو کاٶنٹر کے پاس کھڑا دیکھ کر ابدال وہیں چہکتے ہوۓ کہنے لگ گیا تھا۔
“آٶ بیٹھیں!” فاٸق نے ہنستے ہوۓ اس کا رخ میز کی جانب موڑا۔
“یار اس نے تو ایک ایک چیز پتہ کر کے بتا دی ہے” ابدال نے کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوۓ پرجوش انداز میں کہا۔
“دیکھ لو، آخر دوست کس کا ہے!” فاٸق نے کالر جھاڑتے ہوۓ داد وصول کرنی چاہی۔
“ہمممم۔۔! واقعی” ابدال نے اعتراف کیا۔
“آج لنچ میری طرف سے!” ابدال نے کھلے دل سے کہا۔
“روز ہی تمہاری طرف سے ہوتا ہے، ریسٹورنٹ جو تمہارا ہے”فاٸق نے یاد دلایا۔
“لیکن آج پیمنٹ کر کے جاٶں گا!” ابدال نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“اچھا، تمہیں ساری انفارمیشن مل گٸی ہے؟” فاٸق نے سنجیدگی سے پوچھا۔
” تمہیں میرے چہرے سے کیا لگ رہا ہے؟” ابدال نے مسکراتے ہوۓ سوال کیا۔
“یہی کہ تمہیں پوری دنیا مل گٸی ہے” فاٸق نے اس کے خوشی سے دمکتے چہرے کو دیکھ کر کہا۔
“بس یہی سمجھ لو” ابدال نے آنکھ مار کر کہا جس پر فاٸق کی مسراہٹ مزید گہری ہو گٸی۔
ٗ”تو پھر شادی کب ہے؟” فاٸق نے آگے جھک کر رازداری سے سوال کیا۔
“بہت جلد!” ابدال مسکرا رہا تھا۔
“واقعی؟”فاٸق نے یقین دہانی چاہی۔
“ہممم۔۔۔!امی کو بتا چکا ہوں” وہ بلیک شرٹ کے بازو کہنیوں تک فولڈ کرنے لگا اور پھر چند لمحوں بعد اشارے سے ویٹر کو بلا کر آرڈر نوٹ کروایا۔
“تم تو چھپے رستم نکلے یار!” ویٹر کے جاتے ہی وہ ہنستے ہوۓ ابدال سے کہنے لگا۔
“کہاں؟” ابدال نے اسے یاد دلایا کہ اس کا کوٸی بھی ایکشن فاٸق سے خفیہ نہ تھا۔
“امی کو بھی بتا دیا، اب چند دن میں آنٹی تمہاری شادی کر دیں گی” اس نے مصنوعی بے چارگی چہرے پر سجاتے ہوۓ معصومیت سے کہا۔
“تو اچھی بات ہے نا!” ابدال نے سر نیچے کر کے جواب دیا جس سے فاٸق اسکی مسکراہٹ نہیں دیکھ سکا تھا۔
“مطلب میں شاپنگ کر لوں؟کسی بھی وقت شادی کا فرمان جاری ہو سکتا ہے” فاٸق نے اسے چھیڑتے ہوۓ کہا۔
“ابھی چلیں!” ابدال فاٸق سے بھی زیادہ جلدباز ثابت ہو رہا تھا۔
“لنچ کر لیں؟” فاٸق نے اس سے الٹا سوال کیا جس پر وہ اپنی بیوقوفی جھینپ کر مسکرا دیا۔
“ہاں! ٹھیک ہے” خوشی کے عالم میں ابدال کی نظریں بے اختیار بار بار داخلی دروازے کی طرف اٹھ رہی تھیں۔
اب تو یہ عالم ہے کہ صورت ہی نظر آ جاۓ
وہ محبت بھی کرے، یہ میں کب کہتا ہوں؟
* * * * * * * * * *
“یار تم لوگوں کو ایک لطیفہ سناتا ہوں” وہ تینوں فٹ بال گراٶنڈ کی طرف جا رہے تھے تبھی انس نے یاد آنے پر ہنستے ہوۓ ان دونوں سے کہا۔
“سنا!” عاٸز یکدم اسکی طرف متوجہ ہوا اور ہنزلہ نے آنکھوں کے اشارے سے کہانی شروع کرنے کی اجازت دی۔
“کل گھر پر میرا ایک کزن آیا تھا” انس نے تمہید باندھی۔
“کونسا کزن؟” عاٸز نے اپنی ٹوکنے والی عادت سے مجبور ہو کر پوچھا۔
“یار میری خالہ کا بیٹا ہے” انس نے غصے سے جواب دیا۔
“سگی خالہ؟” ہنزلہ جو ٹاٸی کی ناٹ ڈھیلی کیۓ کف کہنیوں تک موڑے تھکا تھکا لگ رہا تھا، اس نے فوراً سوال کیا۔
“تم لوگ بس رشتے والی آنٹیوں کی طرح پوری کنڈلی نکال لو، لطیفہ گیا بھاڑ میں!” انس نے غصے سے کہا جس پر عاٸز اور ہنزلہ کا مشترکہ قہقہہ پڑا۔
“اچھا سناٶ؟” ہنزلہ نے بمشکل ہنسی روکتے ہوۓ کہا۔
“امی کی دور پار کی کوٸی کزن ہیں، ان کا بیٹا ہے” اس نے دور کو کھینچ کر لمبا کرتے ہوۓ خود ہی وضاحت پیش کی۔
“وہ تیرے گھر کیا کرنے آیا تھا؟” عاٸز نے مشکوک انداز میں دوبارہ سوال کیا۔
“امی کی طبیعت خراب تھی، انکو دیکھنے آیا تھا خالہ کے ساتھ۔” انس نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوۓ کہا۔
“اچھا، اب سنا” ہنزلہ نے اسکا موڈ بگڑتے دیکھ کر کہا۔
“وہ۔۔۔۔۔” انس نے سوچتے ہوۓ کچھ لمحے توقف کیا اور پھر ہنس پڑا۔
“وہ مجھے اپنی کامیابیوں کی داستانیں سنا رہا تھا۔کہتا ہے اس کے پیچھے لڑکیاں پاگل ہیں، ایک اشارے سے لڑکیوں کو پھانس لیتا ہے اور لڑکیاں اپنا سب کچھ نچھاور کرتی ہیں!” انس ہنستے ہوۓ بتا رہا تھا۔
“اس میں ہنسنے والی کونسی بات ہے؟” عاٸز نے غصے سے پوچھا۔
“یار! ہے وہ اتنا گیا گزرا، کہ کوٸی اسکی طرف دیکھنا بھی پسند نہ کرے اور کہانیاں ایسے سنا رہا تھا جیسے اس صدی کا خوبصورت ترین بندہ وہی ہے” انس بمشکل ہنسی روک کر بتا رہا تھا اور وہ دونوں غصیلی شکلیں بناۓ اسے دیکھ رہے تھے۔
“تو پہلے خود کو دیکھ لے، پھر دوسروں کو بدصورت کہنا!” ہنزلہ نے بینچ سے اٹھتے ہوۓ کہا۔
“یار اللہ کی قسم، میں اس سے خوبصورت ہوں” انس کے لیٸے ہنسی روکنا اس وقت دنیا کا سب سے مشکل کام تھا۔
“کس قدر وہم ہے تجھے میری جان!” عاٸز نے اس کی ٹھوڑی پکڑتے ہوۓ معصومانہ انداز میں کہا۔
“تو منہ بند کر! میری امی کہتی ہیں میں بہت پیارا ہوں!” انس نے کالر جھاڑتے ہوۓ کہا۔
“یہ تو ہر امی کا کامن ڈاٸیلاگ ہے، تو کوٸی نٸی بات کر” عاٸز نے اسکا کندھا تھپکتے ہوۓ کہا جس پر ہنزلہ بھی ہنس پڑا۔
“دفعہ ہو جاٶ تم دونوں!” انس نے فوراً غصہ دکھاتے وہاں سے اٹھنا چاہا۔
“پہلے لطیفہ پورا کر!” عاٸز اور ہنزلہ اسے پکڑ کر وہیں بٹھاتے کہنے لگے۔
“بس نا ہو گیا!” انس نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
“ایک لڑکا لڑکیوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے، یہ لطیفہ ہے؟” عاٸز نے بری سی شکل بناتے ہوۓ سوال کیا۔
“اگر یہ لطیفہ ہے تو بہت ہی بونگا تھا” ہنزلہ نے انس کے بولنے سے پہلے ہی بات ختم کر دی۔
* * * * * * * * * *
“عنایا کہاں ہے؟” ذاکر صاحب نے ڈنر کے وقت ڈاٸننگ ٹیبل پر عنایا کی غیرموجودگی کو محسوس کر کے خدیجہ بیگم سے پوچھا۔
“وہ اپنے کمرے میں ہے، میں نے بلوایا تھا مگر اس نے کھانا کمرے میں منگوا لیا۔” خدیجہ بیگم نے لقمہ بناتے ہوۓ ان کی طرف دیکھ کر جواب دیا جس پر ذاکر صاحب نے اثبات میں سر ہلایا اور کھانے میں مشغول ہو گٸے۔
“میں نے ابدال سے بات کی تھی” خدیجہ بیگم نے چند لمحوں بعد بات کا آغاز کیا۔
“اوہ اچھا! تو کیا کہا اس نے؟” ذاکر صاحب نے انکی طرف متوجہ ہو کر سوال کیا۔
“اسے ایک لڑکی پسند ہے ترکی میں!” انہوں نے گلاس میں پانی انڈیلتے ہوۓ جواب دیا۔
“ترکی میں؟” ذاکر صاحب کو حیرانی ہوٸی۔
“ترکی میں تعلیم حاصل کر رہی ہے، ویسے پاکستانی ہے” خدیجہ بیگم نے وضاحت دی۔
“پھر تو اچھی بات ہے، کون ہے؟ پاکستان میں کہاں سے بِیلانگ کرتی ہے؟”ذاکر صاحب کھانا چھوڑ کر ان سے سوال کر رہے تھے۔
“کشف نام ہے اور ہمارے ہی ٹاٶن کا ایڈریس بتایا ہے ابدال نے اور لڑکی کے والد بزنس مین ہیں، شاید آپ انکو جانتے ہوں” خدیجہ بیگم نے انہیں ان تمام تفصیلات سے آگاہ کیا جو انہیں ابدال نے دی تھی۔
“ہمارے ٹاٶن کا بزنس مین؟ نام کیا ہے بچی کے والد کا؟” ذاکر صاحب نے کچھ سوچتے ہوۓ سوال کیا۔
“صادق” یک لفظی جواب دیا گیا۔
“صادق حسین؟” ذاکر صاحب نے چونک کر سوال کیا۔
“شاید!” خدیجہ بیگم نے شانے اچکاٸے۔
“صادق تو ہمارے ٹاٶن میں ہی رہتا ہے اس کی بیٹی ترکی سے پی ایچ ڈی کر رہی ہے اور ایک بیٹا یہاں کالج میں پڑھتا ہے، وہ تو میرا بہت اچھا دوست ہے” ذاکر صاحب نے مسکراتے ہوۓ تمام باتوں سے آگاہ کیا۔
“یہ تو اور بھی اچھی بات ہے!” خدیجہ بیگم مسکرا دیں۔
“پھر کب چلیں ان کے گھر؟” ذاکر صاحب نے مسکراتے ہوۓ چند لمحوں بعد سوال کیا۔
“جب آپ کہیں!”خدیجہ بیگم نے پرسکون لہجے میں کہا۔
“اس سَنڈے؟” ذاکر صاحب نے سوال کیا۔
“ڈَن” وہ اب مسکراتے ہوۓ کھانے میں مشغول ہو گٸی تھیں مگر ہر وقت کی طرح اس وقت بھی عنایا کی فکر انہیں ستاۓ جا رہی تھی۔
جو باتیں پی گیا میں
وہ باتیں کھا گٸی مجھ کو!
* * * * * * * * * *
” کیسی ہو میری جان؟” عنایا صبح کالج کے لیۓ اٹھتے وقت فون چیک کر رہی تھی جہاں ایاز نام سے یہ میسج رات گیارہ بجے کا آیا ہوا تھا۔
“تمہیں چین نہیں ہے؟” عنایا نے ہنستے ہوٸے صبح ساڑھے سات بجے یہ میسج سینڈ کیا جس کے تقریباً ایک منٹ بعد اسے کال موصول ہوٸی۔
“صبح صبح کیوں فون کیا ہے؟” عنایا نے سرزنش کرتے ہوۓ کہا۔
“دل چاہ رہا تھا بات کرنے کا تو کر لی!” فوراً جواب آیا تھا۔
“اوہ اچھا” عنایا کندھے اور چہرے کے درمیان فون پکڑے بالوں کا ڈھیلا ڈھالا جُوڑا بنا کر بیڈ سے اترنے لگی۔
“آج شام ملو نا!”خواہش کا اظہار کیا گیا۔
“پاگل ہو کیا؟” عنایا نے حیرانی سے سوال کیا۔
” کیا ملنے کیلیٸے پاگل ہونا ضروری ہے؟” وہ جواب سن کر مسکرانے لگی تھی۔
“ارے نہیں، میرا مطلب ہے امی کو شک ہو جاۓ گا ، وہ آجکل ویسے بھی مجھ پر خاص نظر رکھے ہوۓ ہیں” وہ باتھ روم کے دروازے میں کھڑی کال بند ہونے کا انتظار کر رہی تھی تاکہ کالج کیلیۓ تیار ہو سکے۔
“یار! میں تمہاری اکیڈمی آ جاٶں گا” مختصر حل پیش کیا گیا۔
“نہیں نہیں، اکیڈمی میں تو میں پہلے ہی مشکوک ہو چکی ہوں جب سے تم ایک بار آۓ ہو” عنایا نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“پھر کوٸی حل سوچو، کیونکہ ملنا تو مجھے ہے ہی!” عنایا اس کی بات سن کر بے اختیار مسکرا دی۔
“جلد ملیں گے، اب باۓ!” عنایا نے کہا۔
“باۓ، ٹیک کیٸر” اس نے یہ الفاظ سن کر فون رکھا اور گنگناتے ہوٸے باتھ روم میں گھس گٸی۔
* * * * * * * * * *
#جاری_ہے
