Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode15

Intekhab by Sehar Kanwal Episode15

“عنایا بیٹا آٶ ناشتہ کر لو، پھر ولیمہ کی تیاریاں بھی کرنی ہیں” خدیجہ بیگم اسکے روم کا دروازہ بجا کر اندر داخل ہوتی بیڈ پر نیم دراز عنایا سے کہہ رہی تھیں۔
“میں نہیں آ رہی، آپ کمرے میں بھیجوا دیں” اس نے لیٹے لیٹے جواب دیا۔
“بیٹا بہو کا پہلا ناشتہ ہے، تم بھی آٶ گی تو اسے اچھا لگے گا” وہ اس کے قریب جا کر پرشفقت انداز میں سمجھانے لگیں۔
“پہلے ایک ہفتہ بھاٸی کو پروٹوکول دینا پڑا اور اب یہ ساری زندگی کیلیۓ نیا ڈرامہ” وہ اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔
“تمیز سے بات کرو عنایا!” وہ اسے سخت انداز میں خبردار کر رہی تھیں۔
“کہہ تو رہی ہوں،چلی جاٸیں!” وہ بالوں کا ڈھیلا ڈھالا جوڑا بناتی اٹھ کر ان کے سامنے کھڑی کہہ رہی تھی۔
“کل تم نے رانیہ آپا سے بھی بدتمیزی کی ہے، سدھر جاٶ عنایا” خدیجہ بیگم اپنی بہن کا گلہ اس کے سامنے بیان کر رہی تھیں۔
“وہ زیادہ ہی میری امّاں بننے کی کوشش کر رہی تھیں تو میں نے انکو انکی اوقات یاد دلاٸی تھی” وہ ان کے سامنے کھڑی ایک ایک لفظ پر زور دے کر کہہ رہی تھی۔
خدیجہ بیگم اپنی بےعزتی تو برداشت کر لیتیں مگر بہن کی توہین نہ برداشت ہوٸی اور سامنے کھڑی عنایا کو ایک زوردار تھپڑ رسید کیا جس سے وہ حیرانی کے عالم میں چہرے پر اپنا بایاں ہاتھ رکھے بیڈ پر ڈھے گٸی اور خدیجہ بیگم غصے میں کمرے کا دروازہ زور سے بند کرتی باہر نکل گٸیں۔
* * * * * * * * * *
“آنٹی کی طبیعت کیسی ہے؟” وہ تینوں ولیمے کےفنکشن کےدوران میرج ہال کے باہر کھڑے تھے جب ہنزلہ نے پریشان کھڑے انس سے پوچھا۔
“کچھ بہتر ہیں، تو سنا کیسا لگا آپی کے جانے کے بعد؟” وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتے ہوۓ سوال کر رہا تھا۔
“گھر بالکل سنسان لگ رہا تھا یار، آپی بیرونِ ملک تھی لیکن پھر بھی، اب تو گھر کچھ زیادہ ہی سُونا سُونا سا ہو گیا ہے” ہنزلہ نے سر جھکا کر کہا۔
“کافی دیر ہو گٸی ہے، آٶ اندر چلیں” عاٸز گفتگو کے دوران پہلی بار بولا تھا۔
“تم دونوں جاٶ، میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں” انس نے ان دونوں سے کہا۔
“چلو ابھی رک جاتے ہیں،اکٹھے چلیں گے” ہنزلہ نے انس کا اترا ہوا چہرہ دیکھ کر کہا۔
“یہ یہاں کیا کر رہا ہے؟” انس میرج ہال کے تھوڑا آگے باٸک پہ کھڑےکسی لڑکے کو دیکھ کر خود سے سوال کرنے لگا۔
“کون؟”عاٸز نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوۓ پوچھا۔
“یہ میرا کزن ہے، وہی دور کی خالہ کا بیٹا” انس نے دور کو کھینچ کر لمبا کرتے ہوۓ کہا۔
“کسی کام سے آیا ہو گا” ہنزلہ نے اس لڑکے کی طرف دیکھتے ہوۓ عام سے انداز میں کہا۔
“لیکن خالہ تو میری طرف ہیں اور وہ کہہ رہی تھی کہ ایاز نے ان کے ساتھ آنے سے انکار کر دیا ہے تو پھر یہ یہاں کیا کرنے آیا ہے؟” انس پرسوچ انداز میں کہہ رہا تھا۔
“تو اسے سوچ کر خود کو ہلکان مت کر، آ اندر چلیں بابا بلا رہے ہیں” ہنزلہ انس کا بایاں ہاتھ پکڑ کر اندر کی طرف لے جانے لگا جہاں لوگ کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
“نہیں، تم لوگ جاٶ، میں آتا ہوں” وہ مسلسل اس لڑکے کی طرف دیکھ رہا تھا، ہنزلہ سے ہاتھ چھڑا کر کہنے لگا۔
“تم اس کے پاس رکو، میں بابا کی بات سن کر آتا ہوں” ہنزلہ نے عاٸز سے کہا اور میرج ہال کی انٹرنس کی طرف بڑھ گیا جہاں سے ایک لڑکی بلیک شارٹ فراک اور جینز میں ملبوس میک اپ سے اٹے چہرے کے ساتھ بال کھولے اس سے ٹکراٸی مگر ہڑبڑاہٹ میں ہونے کی وجہ سے وہ اسکی سوری سنے بغیر منہ بسورتے ہال سے باہر نکل گٸی، ہنزلہ کے دماغ میں جھماکہ ہوا یہ تو وہی امیچیور لڑکی تھی، وہ موباٸل والی، ابدال بھاٸی کی بہن لیکن یہ اس وقت باہر کیوں جا رہی ہے جبکہ فنکشن تو چل رہا ہے، وہ اپنے دماغ پر زور ڈالتا صادق صاحب کی طرف بڑھ گیا جو اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف بلا رہے تھے۔
* * * * * * * * * *
“بابا! ابدال بھاٸی کتنے خوبصورت ہیں نا” وہ تینوں رات کو دستر خوان کے قریب ہیٹر جلاۓ کھانا کھا رہے تھے جب حرم نے بچوں والے انداز میں عاکف صاحب سے کہا۔
“ہاں! وہ واقعی ایک خوبرو نوجوان ہے” عاکف صاحب نے مسکراتے ہوۓ اعتراف کیا۔
“سُوٹ میں تو وہ اور ہی ہینڈسم لگتے ہیں” وہ پانی گلاس میں انڈیلتے ہوۓ بولی۔
“میرے دوست کی آپی زیادہ پیاری ہیں” عاٸز نے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوۓ کہا۔
“جی نہیں، میری دوست کے بھاٸی زیادہ پیارے ہیں” حرم ہنستے ہوۓ اسی کے انداز میں بولی۔
“میرے دوست کی بہن!” عاٸز نے دوبارہ کہا۔
“بابا آپ بتاٸیں؟” وہ یکدم عاکف صاحب سے پوچھنے لگی۔
“میری بیٹی صحیح کہہ رہی ہے” وہ لقمہ بناتے ہوۓ مسکرا کر کہنے لگے۔
“دیکھ لیا، ابدال بھاٸی زیادہ پیارے ہیں” حرم کالر جھاڑتے ہوۓ کہنے لگی۔
“اچھا! بابا میرے ایک دوست کی امی کی طبیعت کچھ خراب ہے، میں ایک دو دن تک اس کےگھر جانا چاہتا ہوں” وہ حرم سے پیچھا چھڑاتا عاکف صاحب سے پوچھنے لگا۔
“عیادت کیلیۓ جانا ہے تو پھر کل ہی چلے جاٶ، ایک دو دن کس لیۓ؟” عاکف صاحب نے پوچھا۔
“نہیں بابا، وہ۔۔۔ہنزلہ کچھ فری ہو گا، تو پھر اکٹھے جاٸیں گے” اس نے وجہ بتاٸی۔
“تم کبھی اسکا پیچھا نہ چھوڑنا” حرم نے اسکی بات ختم ہوتے ہی چمچہ اس کی طرف موڑ کر بچوں والے انداز میں کہا جس پر عاٸز اسے زبان دکھاتا وہاں سے اٹھ گیا۔
* * * * * * * * * * *
“تمہارا موڈ کیوں آف ہے؟” ایاز اس سے جھیل کے کنارے ایک بینچ پر بیٹھے سوال کر رہا تھا۔
“نہیں تو!” عناییا نے جھیل کے نیلے پانی کی طرف دیکھتے ہوۓ شانے اچکاۓ جہاں وہ اسے ولیمے کے فنکشن سے لیکر آیا تھا۔
“یار عنایا پلیز! میں تمہیں خاموش دیکھنے یا بور کرنے کیلیۓ یہاں نہیں لے کر آیا” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“کہا نا کچھ نہیں ہوا” وہ قریب پڑا پتھر اٹھا کر پانی میں پھینکتے ہوۓ بولی۔
“پلیز بتاٶ نا!” وہ منت بھرے انداز میں بولا۔
“امی نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔۔۔۔مجھے؟!” وہ اپنی طرف اشارہ کرتی بےیقینی سے بول رہی تھی۔
“اچھا، دفعہ کرو نا، اب اپنا موڈ ٹھیک کرو” وہ اسکا گال تھپتھپاتا مسکرا کر کہنے لگا۔
“ہمممم۔۔۔! ان کیلیۓ میں اپنا دن تو برباد کرنے سے رہی” عنایا نے نفرت بھرے انداز میں کہا۔
“یہ ہوٸی نا بات! اب آٶ تمہیں کچھ کھلاٶں” وہ اپنے باٸیں ہاتھ سے اسکا دایاں ہاتھ پکڑتا بینچ سے اٹھانے لگا۔
“چلو!” وہ مسکراتے ہوۓ ہوا سے آگے آتے بال پیچھے کرتی اٹھ کھڑی ہوٸی اور اسکے ساتھ چل پڑی جو اسکے خیال میں اسے بےانتہا چاہتا تھا۔
* * * * * * * * * * * *
“عنایا کہاں ہے؟” ذاکر صاحب عنایا کو نظروں کے سامنے نہ پا کر خدیجہ بیگم سے پوچھ رہے تھے جو خود ولیمہ سے واپس آنے کے بعد پریشانی کے عالم میں مسلسل عنایا کو پورے گھر میں ڈھونڈ کر اب سر ہاتھوں میں گراۓ اپنے روم میں بیٹھی تھیں۔
“مجھے نہیں پتہ!” ان کے سوال پر خدیجہ بیگم نے سر اٹھا کر جواب دیا مگر پریشانی لہجے اور آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔
“کیا مطلب آپکو نہیں پتہ؟ عصر کے وقت ہم میرج ہال سے نکل آۓ تھے اور اب عشا۶ ہونے والی ہے لیکن اب تک میں نے عنایا کو نہیں دیکھا”وہ حیرانی کے عالم میں ان سے کہہ رہے تھے۔
“وہ ولیمہ سے واپسی پر ہمارے ساتھ نہیں آٸی” انہوں نے آہستہ آواز میں کہا۔
“تو پھر کہاں گٸی ہے؟” ذاکر صاحب پر سکتہ طاری ہوا تھا۔
“مجھے نہیں پتہ” وہ کہہ کر بیڈ پر ڈھے گٸیں۔
“آپ نے اسکی دوستوں سے پوچھا؟” ذاکر صاحب ان سے پوچھ رہے تھے۔
“ہاں میں نے انکے گھر فون کیا ہےمگر انہیں اس بارے میں کچھ نہیں پتہ، حرم نے کہا تھا کہ وہ کچھ دیر کیلیۓ ہال سے باہر جانے کا کہہ کر گٸی تھی اور پھر اسکے واپس آنے سے پہلے ہی وہ اپنے گھر کیلیۓ نکل گٸی” انہوں نے تفصیل سے آگاہ کیا۔
“کہاں جا سکتی ہے؟” وہ پریشانی کے عالم میں بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ خود سے سوال کر رہے تھے۔
“کہیں اسکے ساتھ کوٸی حادثہ۔۔۔۔” ذاکر صاحب اس سے آگے کچھ نہ کہہ سکے۔
“میرا دل نہیں مانتا” خدیجہ بیگم نفی میں سر ہلاتی بالکل روہانسی ہو گٸی تھیں۔
“میں پتہ کرتا ہوں،آپ کسی سے اس بات کا ذکر مت کیجیۓ گا” وہ خدیجہ بیگم کو نصیحت کرتے کمرے سے باہر نکل گٸے اور خدیجہ بیگم انکے جانے کے بعد پھوٹ پھوٹ کر رو دیں اور اس لمحے پر افسوس کرنے لگیں جب انہوں نے اسکو تھپڑ مارا تھا، طرح طرح کے وسوسے انکا دل دہلا رہے تھے۔
* * * * * * * * * *
“بابا مجھے کچھ روپیوں کی ارجنٹ ضرورت ہے” ہنزلہ دروازہ ناک کر کے اندر آیا اور صادق صاحب کے سامنے کھڑا ہو کر نہایت جلدی میں کہنے لگا جو بیڈ پر کمبل اوڑھے کوٸی کتاب پڑھ رہے تھے۔
“کیوں؟”انہوں نے کتاب بند کر کے اس سے پوچھا۔
“بابا،وہ میرے دوست کی امی ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہیں، میں اسکی طرف جا رہا ہوں، شاید پیسوں کی ضرورت پڑ جاۓ” وہ جلدی جلدی بول رہا تھا۔
“اوہ اچھا، میری مدد کی ضرورت تو نہیں؟” انہوں نے فوراً پوچھا۔
“نہیں ابھی نہیں، اگر ضرورت پڑی تو میں آپکو بلا لوں گا” اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا۔
“اس وقت جاٶ گے؟” وہ گھڑی پر نظر ڈالتے سوال کر رہے تھے جو رات کے دس بجا رہی تھی۔
“جی، ابھی عاٸز کو بھی لینا ہے” وہ انہیں والٹ سے پیسے نکالتے دیکھتے ہوۓ کہنے لگا۔
“یہ لو!” وہ پیسوں کے ساتھ ساٸڈ ٹیبل سے اپنی کار کی چابی بھی اسے دینے لگے۔
“اسکی ضرورت نہیں ہے” اس نے پیسے لیکر چابی واپس کرتے ہوۓ کہا۔
“کس پر جاٶ گے؟” انہوں نے سوال کیا۔
“میرے پاس باٸک ہے!” ہنزلہ نے انکو چابی دکھاتے مسکرا کر کہا۔
“ٹھنڈ بہت ہے، گاڑی لے جاٶ” وہ مسکراکر دوبارہ کتاب کھولتے اسے کہہ رہے تھے۔
“تھینکس بابا، لَو یُو سَو مَچ!” وہ سو کو لمبا کرتے ہوۓ انہیں بوسہ دے کر کمرے سے باہر نکل گیا کیونکہ اسے عاٸز کو لے کر فوراً انس کے پاس ہسپتال پہنچنا تھا جہاں وہ اور اسکی خالہ اسکی امی کے ساتھ تھے۔
* * * * * * * * * * *
“اب مجھے گھر چھوڑ دو” عنایا ایک ڈھابے پر رات کو کھانا کھانے کے بعد مسکرا کر منت بھرے انداز میں اس سے کہنے لگی۔
“کچھ دیر بعد چھوڑ دوں گا، ابھی مووی دیکھنے چلتے ہیں” ایاز اسی کے انداز میں وہاں سے اٹھتے ہوۓ کہنے لگا۔
“لیکن میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے” عنایا نے اس کے ساتھ باٸک کی طرف جاتے ہوۓ کہا۔
“کونسے گھر والوں کی بات کر رہی ہو یار، یاد نہیں ہے تمہاری امی نے تمہیں صبح کیسے تھپڑ مارا تھا” وہ سردی کے باعث ہاتھ باندھے باٸک کے پاس کھڑا کہہ رہا تھا کیونکہ اس نے عنایا کی فرماٸش پر اپنی جیکٹ اسے دے دی تھی۔
“لیکن رات کافی ہو گٸی ہے نا!” وہ آسمان کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی جہاں ستارے جگمگا رہے تھے۔
“تو کیا ہوا؟” وہ اسکی طرف دیکھتے ہوۓ مسکرا کر پوچھنے لگا۔
“اگر کسی نے مجھے یہاں دیکھ لیا تو؟” عنایا پریشانی کے عالم میں کہہ رہی تھی۔
“یہاں تمہیں کوٸی نہیں دیکھے گا کیونکہ کوٸی رات کے اس پہر ہماری طرح اس صدیوں پرانے ڈھابے پر تو آنے سے رہا” وہ ہنستے ہوۓکہنے لگا۔
“وہ بات تو ہے لیکن بابا اس وقت تک مجھے پتہ نہیں کہاں کہاں ڈھونڈ چکے ہوں گے” وہ فکرمندی سے اسکے ساتھ کھڑی کہہ رہی تھی۔
“تم یونہی ہلکان ہو رہی ہو، وہ اس وقت تھکاوٹ کے باعث خراٹے لے رہے ہوں گے” وہ ایاز ہی کیا جس کے پاس ہر بات کا جواب نہ ہو۔
“ہاں وہ تو ہے” اس نے مسکراتے ہوۓ اعتراف کیا۔
“اب چلو، تمہیں کہیں اور لے کر چلتا ہوں” وہ باٸک سٹارٹ کرتے ہوۓ کہنے لگا۔
“لیکن کہاں؟” وہ باٸک پر بیٹھتے ہوۓ سوال کر رہی تھی۔
“سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے” وہ چہرہ موڑ کر ہنستے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“مذاق مت کرو” عنایا نے نفی میں سر ہلایا۔
“میں مذاق نہیں کر رہا” اس نے شانے اچکا کر کہا اور فُل سپیڈ میں باٸک بھگانا شروع کر دیا اور عنایا اس قدر مضبوطی سے اسے کندھے سے پکڑ کر بیٹھی تھی جیسے ابھی گر جاۓ گی۔
* * * * * * * * * *
عاٸز اور ہنزلہ جلدی جلدی میں ہاسپیٹل کی بتاٸی گٸی وارڈ کے پاس پہنچ کر انس کو دیکھتے ہی اسکی طرف لپکے جو نہایت پریشانی کے عالم میں کاریڈور میں یہاں وہاں کے چکر کاٹ رہا تھا جب کہ ایک آنٹی وہیں پاس رکھے بینچ پر بیٹھی تھیں۔
“کیا بنا؟اب کیسی طبیعت ہے؟” ہنزلہ نے اس تک پہنچ کر گلے ملنے کے بعد پہلا سوال یہی کیا۔
“یار ٹیسٹ ہو گٸے ہیں، رپورٹس آنے کی دیر ہے، پھر ہی کچھ پتہ چلے گا”انس نے انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا۔
“آنٹی ہیں کہاں؟” عاٸز نے پوچھا۔
“اندر ہیں،ڈاکٹر نے ان سے ملنے سے منع کیا ہے” وہ سر جھکا کر کہہ رہا تھا مگر ہنزلہ اور عاٸز اسکے گرتے آنسو پہچان گٸے تھے اور سینے سے لگا کر تسلیاں دینے لگے مگر انس اس وقت وہ شوخ انس نہیں رہا تھا جو ہر بات کا الٹا جواب دینے والا تھا، اس وقت وہ ایک ڈرا ہوا بیٹا بن گیا تھا جو ہر گزرتی سانس کے ساتھ اپنی ماں کی صحتیابی اور زندگی کی دعاٸیں کر رہا تھا۔
یا رب! سلامت رکھنا میری ماں کو۔۔۔
میرے لاڈ اٹھانے والا کوٸی نہیں۔۔۔
* * * * * * * * * *
“آگٸی ہے عنایا؟ میں مل کر آتی ہوں” خدیجہ بیگم ذاکر صاحب کے کمرے میں داخل ہونے پر بیڈ سے اٹھ کر ان سے کہتی باہر نکلنے لگیں۔
“وہ نہیں آٸی” ذاکر صاحب کا دل ٹکڑےٹکڑے ہوا تھا، جب انہوں نے یہ بات کہی۔
“کیا مطلب نہیں آٸی؟” خدیجہ بیگم ان کے سامنے کھڑی حیرانی سے سوال کر رہی تھیں۔
“مطلب یہ کہ میں ہر جگہ، ہر ہسپتال، گلی گلی گھوم کر اسے ڈھونڈتا رہا ہوں، مگر وہ نہیں ملی” ذاکر صاحب آہستہ آواز میں ایک ایک لفظ پر زور دیتے افسوس سے بتا رہے تھے۔
“آپ مذاق کر رہے ہیں نا؟” ذاکر صاحب کو ان کے ہوش و حوّاس سے بیگانہ ہونے کا شک گزرا۔
“آپ فکر نہ کریں، صبح تک اسے ڈھونڈ لیا جاۓ گا” انہوں نے خدیجہ بیگم کو تسلی دی۔
“صبح تک تو بہت دیر ہو جاۓ گی” خدیجہ بیگم نفی میں سر ہلاتی اپنے آپ سے کہتی صوفے پر ڈھے کر دوبارہ زاروقطار رونے لگیں۔
“میں نے ایف آٸی آر درج کروا دی ہے، صبح تک ضرور اسکا کچھ پتہ چل جاۓ گا” ذاکر صاحب ان سے زیادہ خود کو تسلی دے رہے تھے۔ گھڑی کی ٹِک ٹِک ان کے دل پر ہتھوڑے برسا رہی تھی، خدیجہ بیگم نے بےاختیار صبح ہونے سے پہلے پہلے زمین کے پھٹنے اور اس میں سما جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا،خوشی کے موقع پر دکھ کا سماں کیسا ہوتا ہے، یہ آج ان دونوں کی سمجھ میں آیا تھا۔
* * * * * * * * * *
“تم گھر جانا چاہتے ہو؟” ہنزلہ نے کاریڈور میں کھڑے تھکن سے چُور لہجے میں عاٸز سے سوال کیا جب انس اپنی امی کو سُوپ پلانے میں مگن تھا۔ نہایت منتوں کے بعد انس کو ان سے ملنے کی اجازت دی گٸی تھی کیونکہ ڈاکٹرز نے رپورٹس صبح ملنے کا کہا تھا۔
“نہیں میں ٹھیک ہوں، تم اگر جانا چاہو تو جاٶ، صبح واپس آ جانا” وہ رِسٹ واچ پر نظر ڈالتے ہوۓ کہہ رہا تھا جو صبح کے چار بجا رہی تھی۔
“ہاں، میں کپڑے بدلنا چاہتا ہوں” وہ اسے یہ نہیں کہہ سکا کہ کل دوپہر کو ولیمہ کے بعد سے اب تک اس نے روٹی کا ایک لقمہ بھی منہ میں نہیں ڈالا تھا۔
“اوکے، میں انس کو بتا دوں گا، تم جاٶ” وہ اس سے مصافحہ کرتے کہنے لگا۔
“میں جلدی واپس آ جاٶں گا، شاید دو گھنٹے تک” وہ نیند کے باعث سرخ ہوتی آنکھوں کو مسلتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
” ٹھیک ہے، تم واپس آٶ گے تو میں کچھ دیر کیلیۓ جاٶں گا،بابا کو رات کو کال کی تھی، اس کے بعد اب تک کوٸی رابطہ نہیں ہوا”عاٸز نے اس سے کہا۔
“میرے واپس آنے تک یہیں رہنا، انس کو کبھی بھی کسی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے آنٹی کیلیۓ ” ہنزلہ کی نصیحت سن کر عاٸز اثبات میں سر ہلاتا اسے باہر تک چھوڑنے کیلیۓ چلا گیا۔
* * * * * * * * * *
“کیسا لگا تمہیں مووی دیکھنے اور سردرات میں پارک گھومنے کے بعد، وہ بھی میرے ساتھ؟” وہ دونوں سیر سپاٹے کے بعد اب پارک میں بینچ پر بیٹھے تھے جہاں آسمان سے پھوٹتی ہلکی ہلکی روشنی صبح کے قریب ہونے کا اشارہ دے رہی تھی، تب ایاز نے عنایا سے پوچھا۔
“بہت مزہ آیا، مووی تو کچھ زیادہ ہی اچھی تھی” وہ اس کے ساتھ بیٹھی مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
“تم مووی میں بالکل محو ہو گٸی تھی، میں تمہیں ہی دیکھ رہاتھا” وہ درخت پر بیٹھی چڑیوں کی چہچہاہٹ سنتا اس سے کہہ رہا تھا۔
“ہممم۔۔۔! مجھے مووی پسند آٸی تھی تب، اور مجھے لگا تھا پارک بھی ڈھابے کی طرح بالکل سنسان ہو گا مگر وہاں کچھ ہم جیسے موجود تھے” وہ آسمان کی طرف دیکھتی ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھی جہاں آسمان پر ہلکا گلابی رنگ سورج کی آمد کا اشارہ دے رہا تھا۔
“تمہیں میری تعریف کرنی چاہیۓ!” وہ کالر جھاڑتے ہوۓ کہنے لگا۔
“تھینکس!” عنایا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“ویسے آپس کی بات ہے، اتنا وقت تو کبھی میں نے ماہ نور کے ساتھ بھی نہیں گزارا” وہ سامنے درختوں کو دیکھتے ہوۓ عام سے انداز میں کہہ رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *