Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 (Watching)Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Episode07
Intekhab by Sehar Kanwal Episode07
“کیا کر رہی ہیں ماما؟” ہنزلہ کچن کے دروازے میں کھڑا ہو کر منیبہ بیگم سے پوچھ رہا تھا جو کسی کام میں مصروف تھیں۔
“چاۓبنا رہی ہوں!” انہوں نے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوۓ گویا ہوٸیں۔
“میرے لیٸے بھی بناٸیے گا پلیز!” وہ منت بھرے انداز میں بولا۔
“اچھا، ویسے تمہارے بابا آ گۓ ہیں، انہی کی فرماٸش ہے تو اب تمہارے لیٸے بھی بنا دوں گی۔” وہ چولہا جلاتے ہوۓ بولیں۔
“بابا کب آۓ؟” وہ اب بھی کچن کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگاۓ ہاتھ باندھے ان کو دیکھتے ہوۓ پوچھ رہا تھا۔
“کچھ دیر ہوٸی ہے” منیبہ بیگم نے کہا جس پر ہنزلہ اثبات میں سر ہلاتا کسی سوچ میں گم ہو گیا۔
“ماما، آپ نے مجھے کہا تھا کہ کوٸی وجہ ہے جس کے لیٸے بابا مجھے آرمی میں نہیں بھیجنا چاہتے” وہ چند لمحے بعد گویا ہوا۔
“ہاں، کہا تو تھا” منیبہ بیگم دیگچی چولہے پر رکھتے ہوۓ بولیں۔
“ماما، وہ وجہ کیا ہے؟” ہنزلہ اب انہیں بسکٹ نکالتے ہوۓ دیکھ رہا تھا۔
“پھر کبھی بتاٶں گی” انہوں نے ٹالنے والے انداز میں مسکرا کر کہا۔
“ماما! پلیز بتاٸیں نا!” ہنزلہ ان کے قریب آ کر شانوں پر ہاتھ رکھتے منّت بھرے انداز میں بولا۔
“تمہیں پتہ ہے تمہارے دادا کون تھے؟” ہنزلہ کو انکا سوال سمجھ میں نہیں آیا۔
“نہیں تو” اس نے شانے اچکاتے ہوۓ کہا کیونکہ نہ تو اس نے اپنے دادا کو دیکھ رکھا تھا اور نہ ہی ان کے بارے میں کچھ خاص جانتا تھا۔
“وہ آرمی میں لیفٹیننٹ تھے” منیبہ بیگم نے اس پر ایک راز آشکار کیا جس کے ذکر پر ہی صادق صاحب ہمیشہ بات بدل دیتے تھے۔
“واقعی؟” ہنزلہ شاکڈ تھا کیونکہ اسے صادق صاحب نے صرف اتنا بتا رکھا تھا کہ وہ ان کی شادی سے کافی عرصہ پہلے ہی وفات پا گٸے تھے۔
“ہاں!” منیبہ بیگم نے اسے یقین دلانا چاہا۔
“تو پھر؟” اس نے استفسار کیا۔
“بابا کو تو مجھے شوق سے آرمی میں بھیجنا چاہیۓ نا؟” اسے ان کی بات سمجھ میں نہ آٸی۔
“نہیں نا!” منیبہ بیگم شفقت سے گویا ہوٸیں۔
“کیوں؟” وہ سوال پر سوال کر رہا تھا۔
“کیونکہ ان کے بابا شہید ہو گٸے تھے بارڈر پر فاٸرنگ کے دوران” ہنزلہ نے منیبہ بیگم کے لہجے میں افسردگی دیکھی۔
“اوہ! تو اس وجہ سے بابا نے کبھی ان کا ہم سے ذکر نہیں کیا؟” وہ شیلف کے ساتھ ٹیک لگاۓ کھڑا تھا۔
“ہاں! وہ ہمیشہ ان کے ذکر پر افسردہ ہو جاتے ہیں اسی لیۓ زیادہ تر بات نہیں کرتے لیکن مجھے یقین ہے، وہ ان کو یاد ضرور کرتے ہیں” انہوں نے کہا۔
“اچھا تو یہ وجہ ہے!” وہ اپنے آپ سے مخاطب تھا۔
“اب تم خود ہی بتاٶ کہ کوٸی اپنے اتنے قریبی رشتے کو کھو کر دوسرا رشتہ کیوں اس دوزخ میں جھونکنا چاہے گا؟” منیبہ بیگم اس کی طرف دیکھ کر بولیں۔
“ماما پلیز! آرمی کو دوزخ تو نہ کہیں” اسے برا لگا۔
“اوہ! مجھے نہیں پتہ تھا کہ میرا صاحبزادہ برا مناۓ گا” منیبہ بیگم مسکراٸیں۔
“برا منانے والی بات تو ہے نا، آپ کسی کے خوابوں کو دوزخ کہیں تو کیا اسے برا نہیں لگے گا؟” وہ اب بھی برا سا منہ بناۓ بول رہا تھا۔
“ہاں لگے گا! مگر اس قدر نہیں جتنا تمہیں لگ رہا ہے بیٹا!” وہ اب چولہا بند کر رہی تھیں۔
“ماما! میں آرمی صرف اپنے دوستوں کی وجہ سے جواٸن نہیں کرنا چاہتا، یہ میری زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے” اس نے انکشاف کیا۔
“ہمم۔۔۔!” منیبہ بیگم چاۓ کپوں میں ڈال رہی تھیں۔
“آپ نہیں جانتی مجھے کتنی محبت ہے اپنی فوج سے” وہ کچن کے دروازے کی طرف دیکھتا ہوا آہستہ آواز میں کہہ رہا تھا۔
“محبت یا عشق؟” منیبہ بیگم ہنستے ہوۓ اس سے پوچھ رہی تھیں۔
“شاید عشق! یہ اس سے بھی کہیں آگے کی بات ہے” اس نے انہیں کے انداز میں جواب دیا۔
“اور تم ہر صورت آرمی جواٸن کرنا چاہتے ہو؟” وہ اب اس سے سنجیدگی سے سوال کر رہی تھیں۔
“میری جنونیت کی حد تک خواہش ہے کہ میں پاک فوج کا حصہ بنوں” وہ ان کو دیکھتے ہوۓ تیز تیز بولا۔
“پاک فوج توفوج، مجھے ان کے یونیفارم اور گَن سے بھی محبت ہے۔” وہ اب اپنی بات پر خود ہی ہنس رہا تھا۔
“میں تمہارے بابا سے بات کروں گی” منیبہ بیگم نے کچھ سوچتے ہوۓ پر شفقت انداز میں کہا۔
“کس بارے میں؟” وہ سمجھ نہیں سکا۔
ٗ”اسی بارے میں! کہ وہ تمہیں تمہارا خواب پورا کرنے سے نہ روکیں۔” وہ اب ٹرے اٹھا کر کچن سے باہر نکل رہی تھیں۔
“سچی؟” ہنزلہ ان کے پیچھے کچن سے نکلا اور جوش سے اونچی آواز میں پوچھنے لگا۔
“ہاں جی سچی!” وہ سر ہلاتے ہوۓ اسے یقین دلانے لگیں۔
“اوہ ماما آپ کتنی اچھی ہیں!” ہنزلہ نے بےاختیار ان کا گال چوما۔
“تم اس سے بھی اچھے ہو میری جان!” منیبہ بیگم پیار سے بولیں۔
“آپ زیادہ اچھی ہیں!” وہ بے تحاشا خوشی میں بول رہا تھا۔
“اچھا جی؟” منیبہ بیگم نے رخ اس کی طرف کیا۔
“جی!” ہنزلہ ہنستے ہوۓ کہنے لگا۔
* * * * * * * * * *
وہ رات کو اپنے بیڈ پر لیٹی لیپ ٹاپ پر مووی دیکھنے میں محو تھی جب اس کےفون کی سکرین جگمگاٸی۔
“اس وقت کون ہو سکتا ہے؟” اس نے سوچا کیونکہ اسے رات کے اس پہر کسی کے میسج کی توقع نہیں تھی۔
“ہیپی برتھ ڈے عنایا!” موباٸل کی گرین لاٸٹ بار بار جل بُجھ رہی تھی جب وہ اٹھ کر بیٹھ گٸی اور فون دیکھتے ہی اسے یاد آیا کہ آج اس کی سالگرہ ہے۔
“اوہ تھینکس!” اس نے خوشگوار موڈ میں رپلاٸی کیا۔
“کوٸی بات نہیں” میسج آیا تھا۔
“تمہیں یاد تھا؟” عنایا اب اس سے پوچھ رہی تھی۔
“تمھاری کوٸی بات بھول سکتا ہوں بھلا؟” عنایا کو میسج پڑھ کر خوشی ہوٸی کہ چند ماہ سے اسے جاننے والا اس کو اس کے خونی رشتوں سے بھی زیادہ اہمیت دے رہا تھا۔
“شکریہ!”عنایا نے رپلاٸی کیا۔
“میں اگر آج تم سے کچھ مانگوں تو انکار مت کرنا” عنایا نے اس کی کال پِک کی اور اس نے پہلا جملہ یہی کیا۔
“ظاہر ہے نہیں کروں گی” وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی۔
“میں تم سے ملنا چاہتا ہوں!” عنایا اس کی بات سن کر حیران تو ہوٸی مگر پھر پوچھ لیا۔
” کب؟” اس نے سرگوشی کی طرح سوال کیا۔
“آج صبح!” وہ کہہ رہا تھا۔
“یہ ممکن نہیں ہو گا” وہ نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہنے لگی۔
“کیوں؟” وہ بضد تھا۔
“کیونکہ بابا مجھے کالج ڈراپ کرتے ہیں” اس نے وضاحت دی۔
“تو کیاہوا؟ ” اس نے اگلا سوال کیا۔
“کیا مطلب؟” عنایا کو اس کی بات پر حیرانی ہوٸی۔
“تم ان کے جانے تک وہیں کھڑی رہنا پھر میں تمہیں باٸیک پر کالج کے باہر سے پِک کر لوں گا” اس نے پلین بتایا۔
“یہ اتنا آسان نہیں ہے ایاز!” وہ منت بھرے انداز میں کہہ رہی تھی۔
“یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے اگر تم کوشش کرو تو!” وہ اسی کے انداز میں بولا۔
“کوٸی مسٸلہ نہ ہو جاۓ” عنایا نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔
“میں ہوں نا؟” اس نے محبت بھری آواز سنی۔
“اچھا چلو ٹھیک ہے!” وہ مان گٸی تھی۔
“ہاں! بس تم تیار رہنا، میں تمہیں چھٹی کے وقت واپس کالج کے باہر چھوڑ دوں گا” عنایا نے سنا۔
“اوکے باۓ!” اس نے فون بند کرنا چاہا۔
“باۓ ٹیک کیٸر!” عنایا فون بند کر کے بےاختیار مسکرا دی۔
* * * * * * * * * *
“ہیلو!” وہ ہاتھ میں سرخ گلابوں کا بکے اٹھاۓ کشف کے سامنے کھڑا مسکراتے ہوۓ کہہ رہا تھا جو سکاٸی بلیو کلر کے سادہ سے سوٹ میں ہم رنگ دوپٹہ لیٸے اپنی ہی دنیا میں کھوٸی ہوٸی تھی۔
“جی؟” کشف کو عجیب لگا کیونکہ یہاں کوٸی بھی اسے نہیں جانتا تھا اور نہ ہی بے تکلف ہونے کی کوشش کرتا تھا۔
“کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟” ابدال نے سامنے والی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ پوچھا۔
“اپنا ریسٹورنٹ ہے، جہاں مرضی بیٹھو!” کشف سوچ رہی تھی۔
“میں یہاں بیٹھ جاٶں؟” ابدال نے دوبارہ پوچھا۔
“جی۔۔!” وہ اسے کہہ کر وہاں سے اٹھنے لگی۔
“کہاں جا رہی ہیں؟” وہ اسے وہاں سے اٹھتے دیکھ کر بولا۔
“میں کسی دوسرے ٹیبل پر بیٹھ جاٶں گی” وہ اپنا فون اور پرس اٹھاتے ہوۓ مسکراکر کہنے لگی۔
“مگر کیوں؟” ابدال حیران ہوا۔
“کیونکہ یہاں آپ بیٹھنا چاہتے ہیں!” وہ اسے کہہ رہی تھی۔
“میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں” ابدال نے فوراً کہا۔
“مجھ سے؟” کشف کو حیرانی ہوٸی۔
“جی آپ سے!” ابدال نے یقین دہانی کرواٸی۔
“جی کہیں؟” وہ اب دوبارہ ببیٹھ چکی تھی مگر اپنی حیران ابدال سے چھپا نہ سکی۔
“آپ کا نام کیا ہے؟” ابدال نے زرا دھیمی آواز میں پوچھا۔
“آپ کیوں پوچھ رہے ہیں؟” کشف نے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔
“یونہی!” ابدال نے شانے اچکاتے ہوٸے کہا۔
“میں نہیں بتانا چاہتی!” اس نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“کیوں؟” اب حیران ہونے کی باری ابدال کی تھی۔
“یونہی!” کشف نے سپاٹ انداز میں کہا۔
“آپ ترکی سے ہیں؟” ابدال نے ایک سوال کا جواب نہ پا کر اگلا سوال کیا۔
“نہیں” کشف نے مختصراً جواب دیا۔
“تو پھر؟” ابدال نے اگلا سوال کیا۔
“پاکستان سے!” کشف پوری ملاقات کے دوران پہلی بار مسکراٸی۔
“واٶ!” ابدال کو حیرانی ہوٸی جسے وہ اپنی خوبصورت مسکراہٹ سے چھپاگیا۔
“میں ابھی آتا ہوں” ابدال کو فاٸق کی کال آگٸی تبھی وہ اس سے کہہ کر باہر کی طرف جانے لگا۔
“یہ کیا ہے؟” بکے کے ساتھ پڑے کارڈ کو دیکھ کر وہ خود سے سوال کر رہی تھی۔
“آ گفٹ فار دی وَن ہُوز نیم اِز ناٹ نَون!” (ایک تحفہ اس کے لیٸے، جس کا نام نہیں معلوم)کشف اس کارڈ کو بےاختیار کھول بیٹھی تھی جسے دیکھ کر اسے دھچکا لگا کہ وہ اس کے لیٸے تھا۔
* * * * * * * * * *
“تم آگے کیا کرنا چاہتے ہو بیٹا؟” عاکف صاحب نے رات کو کھانے کے دوران عاٸز سے اچانک سوال کیا۔
“میں کوٸی مستقل جاب کروں گا” عاٸز نے ان کواپنے خیالات سے آگاہ کیا۔
“مثلاً کیسی جاب؟” عاکف صاحب نے اگلا سوال کیا۔
“بابا! میں نے آرمی میں جانے کا سوچا ہے۔”عاٸز نے کچھ اٹکتے ہوۓ جواب دیا۔
“اچھا!” عاکف صاحب کو خوشی ہوٸی۔
“یہ آٸیڈیا تمہیں کس نے دیا ہے؟” حرم جو اب تک خاموشی سے کھانا کھانے میں مصروف تھی، عاکف صاحب کی بات ختم ہوتے ہی بولی۔
“میں نے خود سوچا ہے” عاٸز نے کہا۔
“جھوٹ مت بولو عاٸز!” حرم نے یوں کہا جیسے اسے یقین نہ آیا ہو۔
“کونسا جھوٹ؟” عاٸز نے شانے اچکاتے ہوۓ پوچھا۔
“یہی کہ یہ تمہارا آٸیڈیا ہے!” حرم نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“کیوں، یہ میرا آٸیڈیا نہیں ہو سکتا؟” عاٸز حیران ہوا۔
“ہرگز نہیں” حرم نے نفی میں سر ہلایا۔
“تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟” عاٸز نے اپنی حیرانی کا اظہار کیا۔
“کیونکہ مجھے پتہ ہے،تم کوٸی اچھا کام نہیں کر سکتے” اس کے انداز پر عاکف صاحب بھی مسکراۓ۔
“کیوں نہیں کر سکتا؟” عاٸز نے دانت دکھاتے ہوۓ پوچھا۔
“بس مجھے لگتا ہے!” اس نے عام سے انداز میں کہا۔
تمہیں لگنے سے کیا ہوتا ہے؟” وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بولا۔
“اچھا، سچ بتاٶ یہ آٸیڈیا کس کا ہے؟” اسے تجسس ہوا۔
“میرے دوست کا!” عاٸز نے جواب دیا۔
“تمہارے دوست اتنے قابل ہیں؟” وہ حیرانی سے تھوڑا آگے ہو کر اونچی آواز میں پوچھنے لگی۔
“اس میں قابل کی کونسی بات ہے حرم؟” عاٸز نے عام سے انداز میں پوچھا۔
“میرا مطلب وہ سوچتے بھی ہیں؟” حرم مذاق کے موڈ میں تھی۔
“کیوں وہ انسان نہیں ہیں کیا؟” عاٸز نے غصہ سے پوچھا۔
“تمہارے ساتھ رہ کر ہونا تو نہیں چاہیۓ ” وہ عاکف صاحب کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوۓ بولی۔
“جی نہیں! میرے دوست الحمدللہ انسان ہیں اور میں بھی” عاٸز نے منہ چڑھاتے ہوۓ کہا۔
“وہ آگے کیا کریں گے؟” حرم نے ایک اور سوال کیا۔
“ہم تینوں آرمی جواٸن کریں گے” عاٸز نے کالر جھاڑتے ہوۓ فخر سے بتایا۔
“یہ تو اور بھی اچھی بات ہے” عاکف صاحب نے ان کی گفتگو میں حصہ لیا جبکہ حرم مسلسل اسے عجیب عجیب شکلیں بنا رہی تھی اور وہ مسکرا رہا تھا کیونکہ عاکف صاحب کے سامنے وہ بچگانہ حرکتوں سے گریز کرتا تھا۔
* * * * * * * * * *
“السلام علیکم” کشف منیبہ بیگم کے کال اٹھانے پر یکدم بولی۔
“وعلیکم السلام میری جان کیسی ہو؟” منیبہ بیگم بیڈ روم میں بیٹھی اس سے بات کر رہی تھیں۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ کیسی ہیں؟” وہ اس وقت ہاسٹل کے روم کی کھڑکی میں بیٹھے ہوۓ سورج غروب ہونے کا خوبصورت منظر دیکھ رہی تھی۔
“میں بھی ٹھیک ہوں، پڑھاٸی کیسی جا رہی ہے؟” انہوں نے پوچھا۔
“پڑھاٸی بہت اچھی، بابا اور ہنزلہ کیسے ہیں؟” وہ قدرت کے شاہکار کو دیکھنے میں محو تھی۔
“وہ بھی ٹھیک ہیں”انہوں نے جواب دیا۔
“کیا کر رہی ہیں؟” کشف نے سوال کیا۔
“چاۓ پی رہی ہوں!” منیبہ بیگم نے چاۓ کے کپ کو دیکھتے ہوۓ مسکراکر کہا۔
“آہا! کتنا عرصہ ہو گیا ہے آپ کے ہاتھ کی چاۓ پیٸے ہوۓ ماما!” وہ بچوں والے انداز میں بولی۔
“جب تم آٶ گی تو روز بنا کر پلاٶں گی” انہوں نے جھٹ حل پیش کیا۔
“ماما! میں نے آپ سے ایک ضروری بات کرنی تھی”وہ غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوۓ رک رک کر بول رہی تھی۔
“ہاں! کرو بیٹا” انہوں نے شفقت بھرے انداز میں کہا۔
“ماما! آپ میری بیسٹ فرینڈ ہیں نا؟” اس نے یقین دہانی چاہی۔
“ہاں! بالکل” منیبہ بیگم کو اس کے اس سوال پر حیرانی ہوٸی تھی۔
“بس اسی لیۓ میں نے کوٸی دوسری دوست نہیں بناٸی” اس نے چہکتے ہوۓ کہا۔
“اچھا ! اب بولو بھی”وہ اسکی بات پر مسکرا کر رہ گٸیں۔
“ماما، وہ۔۔۔” کشف کچھ سوچنے کیلیۓ رکی۔
“کیا؟” اس نے ان کی آواز سنی۔
“آپ میری ماما بن کر نہیں بلکہ دوست بن کر بات سنیں گی؟” وہ ان سے پوچھ رہی تھی۔
“اچھا!” انہوں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ کہا تھا۔
“اور آپ برا بھی نہیں مناٸیں گی نا؟” کشف بالکل بچوں کی طرح بول رہی تھی۔
“دوستوں کی باتوں کا کبھی برا منایا جا سکتا ہے؟” وہ منیبہ بیگم کی بات سن کر کسی حد تک پرسکون ہو گٸی۔
“اسی لیٸے کہہ رہی ہوں” وہ تمہید باندھ رہی تھی۔
“اچھا! اب بتاٶ بھی!” انہوں نے کہا۔
“ماما ایک لڑکا ہے” وہ صرف اتنا ہی کہہ سکی۔
“دنیا مں ہزاروں لڑکے ہیں کشف! تم نے صرف ایک دیکھا ہے؟” وہ ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھیں۔
“ماما میں مذاق نہیں کر رہی” اس نے سنجیدگی سے کہا۔
“دوست تو ایسے ہی جواب دیتے ہیں نا؟” وہ اب اس سے پوچھ رہی تھیں۔
“اچھا! آپ میری بات سنیں!” اس نے ان کی توجہ دوبارہ اصل موضوع کی جانب مبذول کرواٸی۔
“ہاں بولو؟” وہ پھر پوچھ رہی تھیں۔
“اس نے مجھے بُکے اور کارڈ دیا ہے” وہ رک رک کر کہہ رہی تھی جیسے اسے کسی بات کے برے لگنے کا اندیشہ ہو۔
“اوہ تو یہ معاملہ ہے” منیبہ بیگم اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ کہنے لگیں۔
“جی نہیں! ایسا کوٸی معاملہ نہیں ہے” کشف نے یکدم ان کے خیال کی نفی کی۔
“پھر بتا کیوں رہی ہو؟” انہوں نے اس کی چوری پکڑ لی تھی۔
“کیونکہ آپ کہتی ہیں کہ کوٸی بھی ایسا کام جو ہمیں والدین سے چھپانا پڑے، وہ گناہ ہے۔”اس نے انہیں انہی کی کہی ہوٸی بات یاد دلاٸی۔
“ہاں تو؟” وہ مسکراتے ہوۓ پوچھ رہی تھیں۔
“تو میں نے سوچا آپ کو بتا دوں” وہ جلدی جلدی بول رہی تھی۔
“اچھا کیا!” منیبہ بیگم کو فخر محسوس ہوا۔
“اب میں کیا کروں؟” وہ غروب ہوتے سورج پر نظریں جماۓ پوچھ رہی تھی۔
“کچھ بھی نہیں” انہوں نے آرام سے کہا۔
” کیا مطلب ماما؟” اسے ان کا جواب چونکا گیا۔
“اگر وہ سیریس ہوا تو تمہارے گھر رشتہ بھیجے گا ورنہ دو چار دن بعد خود ہی تمہارا پیچھا چھوڑ دے گا” انہوں نے اسے سمجھایا۔
“اچھا ! مگر رشتہ بھیجنے کے لیٸے لڑکی کا نام اور پتہ تو معلوم ہونا چاہیۓ نا؟” وہ پھر بچوں کی طرح معصومیت سے سوال کر رہی تھی۔
“ظاہر ہے” انہوں نے شانے اچاتے ہوۓ جواب دیا۔
“تو میں اسے بتا دوں؟” وہ ایک بار پھر ان سے پوچھ رہی تھی۔
“کیا؟” منیبہ بیگم سمجھ نہیں سکی وہ کس بارے میں پوچھ رہی ہے۔
“اپنا نام اور پتہ؟” وہ اپنی ساری توجہ ان کے جواب کی طرف مرکوز کیۓ ہوۓ تھی۔
“کشف! مجھے تمہاری ماں ہونے پر فخر ہے میری جان” انہوں نے مسکراتے ہوۓ اسے بتایا۔
“اس وقت آپ میری دوست ہیں” کشف نے انہیں یاد دلایا۔
“ہاں بتا دو!” وہ ایک دوست کی طرح گویا ہوٸیں۔
“شکریہ ماما! مجھے لگا تھا آپ کو برا لگے گا” وہ اب قدرے پرسکون تھی۔
“مجھے برا تب لگتا جب تم کوٸی غلط قدم اٹھاتی” انہوں نے ناراض نہ ہونے کی وجہ بتاٸی۔
“میں نے کچھ غلط نہیں کہا نا؟” وہ یقین دہانی چاہتی تھی۔
“نہیں” انہوں نے یقین دلایا۔
“سچی؟” اس نے خوشی سے پوچھا۔
“بالکل سچ!” منیبہ بیگم اپنی معصوم بیٹی کی معصوم باتوں پر بےاختیار مسکرا رہی تھیں۔
“کشف؟” انہوں نے چند لمحے بعد کچھ یاد آنے پر اسے پکارا۔
“جی۔۔۔جی ماما؟” وہ فوراً بولی۔
“کیا تمہیں وہ لڑکا پسند ہے؟” وہ اب اس سے اس کی پسند پوچھ رہی تھیں۔
“اچھا خاصا گُڈ لُکِنگ ہے، پرکشش پرسنالٹی، وجاہت کا شاہکار ماشا۶اللہ، خاص طور پر اس کی سماٸل مجھے بہت پسند ہے” اس نے جلدی جلدی میں سب باتیں کہہ دیں۔
“اچھا؟” منیبہ بیگم اس کے انداز پر ہنس کر گویا ہوٸیں۔
“ماما، آپ میرا مذاق اُڑا رہی ہیں؟”اسے لگا اس کا اعتراف منیبہ بیگم کو برا لگا۔
“ہرگز نہیں!” انہوں نے یقین دہانی کرواٸی۔
“شکریہ ماما!” وہ خوش تھی۔
“کس بات کا؟” انہوں نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا۔
“میری بہترین دوست ہونے کا!” وہ مغرب کی سمت دیکھتے ہوۓ کہہ رہی تھی جہاں اب صرف چند شعاٸیں باقی تھیں، سورج غروب ہو چکا تھا۔
“دوستی میں شکریہ نہیں بولا جاتا دوست!” منیبہ بیگم ہنستے ہوۓ اسے کہنے لگیں۔
“اچھا دوست!” اس نے انہی کے انداز میں جواب دیا جس پر دونوں مسکرا دیں۔
“اللہ حافظ!” انہوں نے کہا تھا۔
“خدا حافظ ماما! اپنا خیال رکھیۓ گا، بابا اور ہنزلہ کا بھی” اس نے الوداعیہ کلمات کہے۔
“تم بھی اپنا خیال رکھنا بیٹا!” منیبہ بیگم نے فون بند کر کے فرمانبردار اولاد پر بے اختیار اللہ کا شکر ادا کیا۔
* * * * * * * * * *
“سالگرہ مبارک ہو عنایا!” وہ تینوں آج پھر حرم کی کلاس کے باہر بیٹھی تھیں جب حرم اور ہبہ نے عنایا کو گزشتہ سالگرہ کی مبارکباد دی۔
“ارے وہ تو کل تھی” اس نے یاد دلایا۔
“ہاں مگر کل تم آٸی ہی نہیں” حرم ہمیشہ کی طرح پہاڑوں میں کھوٸی اس سے کہہ رہی تھی۔
“ہممم۔۔۔!”عنایا اندر ہی اندر مسکراٸی۔
“کیوں نہیں آٸی؟” ہبہ نے سوال کیا۔
“یونہی!” وہ مسلسل نیچے گراٶنڈ میں آنے جانے والے پرندوں کو دیکھ رہی تھی۔
“کیا مطلب؟”ہبہ نے دوبارہ پوچھا۔
“یار میں آٸی تھی” اس نے نیچے دیکھتے ہوۓ جواب دیا۔
“جھوٹ بول رہی ہو، وہ بھی ہمارے ساتھ؟” ہبہ نے ہنستے ہوۓ اس سے سوال کیا۔
“نہیں یار! میں سچ میں آٸی تھی” عنایا ہبہ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
“میں کل صبح سب سے پہلے تمہاری کلاس میں آٸی تھی تمہیں برتھ ڈے وِش کرنے ،مگر تم نہیں تھی” ہبہ نے اسے یقین دلایا کہ وہ واقعی گٸی تھی۔
“ہاں میں بھی گٸی تھی بریک میں” حرم نے گفتگو میں حصہ ڈالا۔
“میری بھی سنو گے؟” عنایا ان دونوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروانے کیلیۓ اونچی آواز میں بولی۔
“تو کچھ بولے گی تو سنیں گے نا!” ہبہ نے اسی کے انداز میں جواب دیا۔
“میں گھر سے آٸی تھی!” عنایا نے آہستگی سے کہا۔
“تو پھر؟ راستے میں تمہیں جن اٹھا کے لے گیا کہ آٶ عنایا بی بی آج تمہاری سالگرہ ہے، کیک کاٹتے ہیں؟” ہبہ اونچی آواز میں تیز تیز بول رہی تھی۔
“ابے نہیں!” عنایا نے اس کو خاموش کروایا۔
“تو پھر بول نا، کیا تھا؟” ہبہ نے دوبارہ سوال کیا۔
“میں ایاز کے ساتھ گٸی تھی” وہ اب سرگوشی کی طرح بول رہی تھی جس پر حرم نے پہاڑوں سے نظر ہٹا کر اسے دیکھا۔
“کیا۔۔۔۔؟” وہ دونوں منہ کھولے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں۔
“ہاں!” اس نے اعتراف کیا۔
“تم اپنے پاپا کے ساتھ گھر سے آٸی تھی نا؟” ہبہ کو یقین نہیں آیا۔
“ہاں ظاہر ہے!” عنایا نے شانے اچکاتے ہوۓ کہا۔
“تو پھر اس کے ساتھ کیسے گٸی؟” ہبہ مسلسل خفگی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
“بابا کے جانے تک میں باہر ہی کھڑی رہی پھر اس نے مجھے باٸک پر پِک کر لیا۔” عنایا نے عام سے انداز میں کہا۔
“تو یہ سب کیوں کر رہی ہے؟” ہبہ نے نفی میں سر ہلاتےاس سے سوال کیا۔
“کیونکہ میرا دل چاہتا ہے!” اس نے سفاک انداز میں کہا۔
“اپنے دل کو سنبھال کر رکھو عنایا، یہ غلط چاہتا ہے” حرم اب اسکی طرف دیکھتے ہوۓ اسے سمجھا رہی تھی۔
“اب یہاں بھی امی کی طرح لیکچر نہ شروع کر دینا یار!” عنایا نے ان دونوں کو سختی سے منع کیا۔
“تمہیں نہیں لگتا تم غلط کر رہی ہو؟” ہبہ نے آرام سے سوال کیا۔
“نہیں تو!” اس نے شانے اچکاۓ۔
“ضمیر کو بالکل ہی سلا دیا ہے؟” حرم اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوۓ پوچھ رہی تھی۔
“سب کرتے ہیں یار! میں نے کر لیا تو کونسی قیامت آ گٸی ہے؟” عنایا نیچے گراٶنڈ کی طرف دیکھتے ہوۓ بولی۔
“سب کرتے ہیں اس کا مطب یہ نہیں کہ تم بھی کرو!” حرم نے اسے اس کی غلطی کا احساس دلانے کی کوشش کی۔
“اوہ کم آن یار! یہ سو سالہ پرانی باتیں مجھے مت سکھاٶ” وہ ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوۓ بول رہی تھی۔
“عنایا! تم غلط کر رہی ہو!” ہبہ کہاں خاموش بیٹھنے والی تھی۔
“بتانے کا شکریہ!”اس نے ہبہ کی طرف دیکھ کر کہا۔
“تمہیں پتہ ہے اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے؟” حرم اسکی بات سن کر حیران ہوٸی تھی۔
“زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا؟” عنایا نے تیزی سے سوال کیا۔
“کچھ بھی ہو سکتا ہے” ہبہ نے اسے خبردار کیا۔
“میرا تو دل چاہتا ہے ہمیشہ کےلیۓ یہاں سے چلی جاٶں، امی کے طعنوں سے تو نجات ملے گی نا!” وہ ہنستے ہوۓ کہہ رہی تھی۔
“تم صرف اس لیۓ یہ سب کر رہی ہو؟” حرم نے حیرانی سے پوچھا۔
“نہیں!” عنایا نے شانے اچکاۓ۔
“تو پھر؟” حرم اس سے جواب چاہتی تھی۔
“مجھے اپنی زندگی میں کوٸی مزہ چاہیۓ ،کیا ہر وقت پڑھاٸی پڑھاٸی!” اس نے عام سے انداز میں کہا۔
“تو تم اپنی زندگی میں اور بھی کٸی کام شامل کر سکتی ہو نا؟” ہبہ اس سےکہہ رہی تھی۔
“مجھے یہی پسند ہے!” اس کا انداز اٹل تھا۔
“عنایا! باز آ جاٶ۔۔۔یہی بہتر ہو گا تمہارے لیۓ بھی اور تمہارے گھر والوں کے لیٸے بھی” حرم نے اسے وارن کیا۔
“اچھا! بس، ہو گیا؟ اب اٹھو کیفے چلیں!” اس پر کسی بات کا اثر نہ ہوا۔
“میں نہیں جا رہی!”حرم نے پہاڑوں پر نظریں جماتے ہوۓ کہا۔
“کل سے میں تم لوگوں کی کلاس میں نہیں آٶں گی!” عنایا نے دھمکی دی۔
“اگر تم ہماری اتنی سی بات نہیں مان سکتی تو پھر بریک کے تیس منٹ ہمارے ساتھ گزارنے کی کیا ضرورت ہے؟” ہبہ آخری حربہ استعمال کر رہی تھی کہ شاید وہ ان کاموں سے باز آجاۓ۔
“تم مجھے کہہ رہی ہو کہ میں نہ آٶں؟” عنایا نے اسکی بات کا غلط مطلب نکالا۔
“جو تم سمجھ لو!” ہبہ نے اس بار وضاحتیں دینا بےکار سمجھا۔
“اوکے!” عنایا کہہ کر چلی گٸی اور وہ دونوں وہیں بیٹھی اس کے لیٸے ہلکان ہوتی رہیں۔
* * * * * * * * * *
#جاری_ہے
