Intekhab by Sehar Kanwal NovelR50765 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02
No Download Link
341.6K
19
Rate this Novel
Intekhab by Sehar Kanwal Episode01 Intekhab by Sehar Kanwal Episode02 (Watching)Intekhab by Sehar Kanwal Episode03 Intekhab by Sehar Kanwal Episode04 Intekhab by Sehar Kanwal Episode05 Intekhab by Sehar Kanwal Episode06 Intekhab by Sehar Kanwal Episode07 Intekhab by Sehar Kanwal Episode08 Intekhab by Sehar Kanwal Episode09 Intekhab by Sehar Kanwal Episode10 Intekhab by Sehar Kanwal Episode11 Intekhab by Sehar Kanwal Episode12 Intekhab by Sehar Kanwal Episode13 Intekhab by Sehar Kanwal Episode14 Intekhab by Sehar Kanwal Episode15 Intekhab by Sehar Kanwal Episode16 Intekhab by Sehar Kanwal Episode17 Intekhab by Sehar Kanwal Episode18 Intekhab by Sehar Kanwal Last Episode
Intekhab by Sehar Kanwal Episode02
Intekhab by Sehar Kanwal Episode02
“عنایا۔۔۔۔”
“عنایا۔۔۔۔”خدیجہ بیگم مسلسل عنایا کو آوازیں دے رہی تھیں مگر جب عنایا کے کان پر جوں تک نہ رینگی تو غصے میں وہ اس کے کمرے کی طرف چل دیں۔
“کل مجھے کالج جانا ہے”خدیجہ بیگم نے کمرے سے باہر کھڑے عنایا کی آواز سنی اور دروازہ بجانے کی بجاۓ فوراً کمرے میں داخل ہوٸیں جہاں عنایا بیڈ پر فون کان سے لگاۓ لیٹی تھی اور انہیں دیکھتے ہی اس نے ہڑبڑاہٹ میں فون بند کر دیا اور اٹھ کر بیٹھ گٸی۔
“جی؟”اس نے بیزار لہجے میں سوال کیا۔
“میں تمہیں کب سے آوازیں دے رہی ہوں عنایا!”خدیجہ بیگم کو اس کا گھبرانا کافی عجیب لگا مگر اپنے غصے پر قابو پاتے ہوۓ وہ قدرے دھیمے لہجے میں بولیں۔
“مجھے آواز نہیں آٸی”اس نے اسی لہجے میں جواب دیا۔
“تمہارا بھاٸی آ رہا ہے اس ویک اینڈ پر!”خدیجہ بیگم ماحول کو خوشگوار بناتے ہوۓ بولیں۔
“تو میں کیا کروں؟”عنایا نے نفرت بھرے انداز میں جواب دیا۔ یہ اس کا پرانہ رویّہ تھا جس کی اب خدیجہ بیگم عادی ہو چکی تھیں۔
“کیا مطلب؟تمہیں خوشی نہیں ہوٸی؟وہ کافی عرصے بعد گھر آ رہا ہے”خدیجہ بیگم نے اسے دھیمے انداذ میں یاد دلایا۔
“تو روز آ جایا کریں، میں نے منع کیا ہے؟”اس کے لہجے کی کڑواہٹ کم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی، وہ ہر کسی سے ایسے ہی بات کرتی تھی، سواۓ دوستوں کے۔
“بیٹا! میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے کہ سوچ سمجھ کر بولا کرو” خدیجہ بیگم اب بیڈ پر اس کے پاس بیٹھ چکی تھیں۔
“امی پلیز! اب اپنا لیکچر نہ شروع کر دیجیۓ گا”وہ تنگ آ کر بولی۔
“عنایا تم چھوٹی نہیں ہو کہ میں تمہیں ہر بات میں ٹوکتی یا ہر بات سمجھاتی پھروں” خدیجہ بیگم اس کی بد تمیزی سے تنگ آتے ہوۓ غصیلے لہجے میں بولیں۔
“یہی تو میں کہہ رہی ہوں! کہ میں اب سولہ سال کی ہو چکی ہوں،آپ کو مجھے ہر بات سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے،میں اپنا برا بھلا بہت اچھے سے سمجھتی ہوں”وہ تنک کر بولی۔
خدیجہ بیگم نفی میں سر ہلاتی اٹھ کھڑی ہوٸیں اور عنایا دوبارہ موباٸل پر مصروف ہو گٸی۔اس کے کمرے سے نکلتے وقت خدیجہ بیگم اس وقت کو کوس رہی تھیں جب انھوں نے اسے موباٸل دلایا تھا اور اس کی ہر بے تُکی خواہش کو یہ سمجھ کر پورا کیا تھا کہ وہ بچی ہے، بڑی ہو گی تو سمجھ جاۓ گی مگر وہ مزید بگڑ گٸی تھی۔
* * * * * * * * * *
ہنزلہ، عاٸز اور انس چھٹی کے وقت کالج سے نکلتے ہوۓ پبلک ٹرانسپورٹ کیلیۓ سٹاپ تک جا رہے تھے۔ ہنزلہ کے گھر سے ڈراٸیور لینے آ سکتا تھا مگر اس نے خود بابا کو منع کر رکھا تھا کیونکہ وہ تینوں دوست اکٹھے واپسی کا سفر کرنا چاہتے تھے ہمیشہ کی طرح!
“ایف ایس سی تو کلیٸر ہونے والی ہے دوستو! تم لوگوں کے آگے کیا ارادے ہیں؟”انس نے شعلے برساتے سورج کی حرارت میں چلتے ہوۓ اچانک ان دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا،جو اپنی ہی دُھن میں بس چلتے جا رہے تھے۔
“ہمارا ارادہ تو وہی دو سال پرانا ہے”ہنزلہ نے چلتے چلتے اس کے سوال کا جواب دیا۔
“تم لوگ آرمی کا پیچھا کب چھوڑو گے یار؟”انس ان کے سامنے ہو کر اب الٹے قدموں چلنے لگا تھا۔
“کبھی نہیں!”عاٸز اور ہنزلہ کا مشترکہ جواب آیا۔
” اور اگر تو نے آخر میں کوٸی پھڈّا ڈالا، تو تجھے گھسیٹ کے لے کر جاٸیں گے”ہنزلہ نے دھمکی دینے والے انداز میں کہا۔
“یار جب تو میری اتنی فکر کرتا ہے نا، تو مجھے امّی لگتا ہے”انس عاٸز کو آنکھ مارتا آگے بھاگ گیا جبکہ ہنزلہ اور عاٸز کھلکھلا کر ہنستے اس کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔
سکول کے زمانے سے ساتھ پڑھتے پڑھتے ان کی دوستی اس قدر گہری ہو گٸی تھی کہ تینوں نے ایک ہی کالج میں داخلہ لینے کا فیصلہ کیا اور اب چونکہ عاٸز ایف ایس سی کے بعد مستقل کوٸی جاب کرنا چاہتا تھا تو ان تینوں نے اکٹھے آرمی جواٸن کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔
* * * * * * * * * *
“فاٸق! میں کچھ دنوں کے لیۓ پاکستان جانا چاہتا ہوں”وہ دونوں اس وقت اپارٹمنٹ میں آمنے سامنے بیٹھے لنچ کر رہے تھے، جب ابدال نے اسے بتایا۔
“اوہ واٶ!” فاٸق نے خوشی کا اظہار کیا۔
“کیا تم چند دن یہاں سب کچھ اکیلے سنبھال سکتے ہو؟” ابدال نے لقمہ بناتے ہوۓ فاٸق سے سوال کیا۔
“شیور” فاٸق نے شانے اچکاتے ہوۓ فوراً جواب دیا۔
“میں آج ڈنر کےلیۓ ریسٹورنٹ آٶں گا”ابدال چند دن سے طبیعت کی خرابی کے باعث ریسٹورنٹ کا چکر نہیں لگا سکا تھا مگر اب وہ ایک بار سب کچھ اچھے سے دیکھ بھال کر فاٸق کے سپرد کرنا چاہتا تھا تاکہ اسے کسی پریشانی کا سامنا نہ ہو۔
“پاکستان کب جا رہے ہو؟”فاٸق نے اسکی بات سن کر اثبات میں سر ہلاتے ہوۓ فلاٸٹ کے بارے میں دریافت کیا۔
“ہفتے کو شام چار بجے کی فلاٸٹ ہے”ابدال نے پانی کا گلاس اٹھاتے ہوۓ کہا۔
“کتنے دن رہو گے؟”فاٸق کو اسکی واپسی کی فکر لاحق ہو گٸی تھی۔
“یہ تو وہاں جا کر معلوم ہو گا”ابدال اب اٹھ کر کمرے میں جا رہا تھا۔
فاٸق نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
* * * * * * * * * *
عاٸز سٹاپ پر شیڈ کے نیچے کھڑے ہو کر حرم کا انتظار کرنے لگا جب کچھ دیر بعد حرم کی کالج بس پہنچی اور حرم نے آ کر اسے سلام کیا۔
“السلام علیکم! آج تم جلدی آ گٸے؟”اس نے عاٸز کے پاس آتے ہی سوال کیا۔
“وعلیکم السلام، بس دیکھ لو، آج حساب برابر ہو گیا۔”زیادہ تر سٹاپ پر پہنچ کر حرم کو اس کا انتظار کرنا پڑتا تھا مگر آج عاٸز پہلے سے موجود تھا اور اب فخر سے شانے اچکاتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
وہ دونوں اب گھر کی جانب گامزن تھے۔گھر پہنچتے ہی عاٸز نے بیل بجاٸی جس پر عاکف صاحب نے فوراً دروازہ کھول کر ان کے اندر داخل ہونے کے لیۓ راستہ چھوڑا اور حرم کو دلاسہ دیا اور عاٸز نے بغل گیر ہوتے ہوۓ ان کو سلام کیا۔
جس دن وہ دونوں کالج جاتے تھے اس دن عاکف صاحب سٹور سے ان دونوں کے پہنچنے سے پہلے گھر آ جاتے تھے اور جس دن چھٹی ہوتی تو عاٸز انہیں دکان پر کھانا دینے جاتا تھا، اور وہ چاۓ پر آتے تھے۔ رات کو سالن کم از کم اتنا بنایا جاتا تھا کہ اگلے دن تک پورا ہو سکے اور عاکف صاحب آتے ہوۓ تندور سے روٹیاں لے کر آتے تھے۔ مشقت کی زندگی کے باوجود وہ تینوں خوش بھی تھے اور اللہ کا شکر بھی ادا کرتے تھے۔
عاکف صاحب کھانا رکھ رہے تھے جب حرم کپڑے بدل کر کچن میں داخل ہوٸی۔
“بابا آپ رہنے دیں، میں رکھتی ہوں”وہ عاکف صاحب کو کہتے ہوۓ سالن پلیٹوں میں نکالنے لگی اور عاکف صاحب اسے دلاسہ دیتے باہر نکل گۓ۔
عاٸز شاور لے کر آ چکا تھا اور اب وہ تینوں دستر خوان پر بیٹھے کھانا کھانے میں مصروف تھے۔
“عاٸز! وہاں دیکھو کیا ہے؟”یہ حرم تھی جو عاٸز کی توجہ گیٹ کی طرف مبذول کروا رہی تھی اور چپکے سے عاٸز کے آگے سے پلیٹ اٹھا کر غاٸب کر چکی تھی۔
“اچھے بچوں کی طرح میری پلیٹ واپس کرو حرم!” عاٸز سمجھ گیا تھا وہ شرارت کر رہی ہے۔
“کونسی پلیٹ؟” حرم شانے اچکاتے ہوۓ پوچھنے لگی۔
“وہی جو تم نے اپنے پیچھے رکھی ہے” وہ ایک ایک لفظ چبا چبا کر بول رہا تھا۔
“یہ لو، کیا یاد کرو گے!” حرم اپنے پیچھے سے پلیٹ اٹھا کر اس کے سامنے کرتی اکڑ کر بولی۔
عاکف صاحب ان دونوں کی نوک جھونک پر مسلسل مسکرا رہے تھے۔ بچپن کی شرارتیں اور شوخیاں کہیں غاٸب نہیں ہوٸی تھیں، جیون پھیکا نہیں پڑا تھا جس پر انہوں نے اپنے رب کا شکر ادا کیا۔
* * * * * * * * * *
وہ روزانہ کی طرح آج پھر ڈنر کے لیۓ ریسٹورنٹ میں موجود تھی اور اسے آج وہاں کے ویٹرز اور باقی لوگ کچھ زیادہ ذمہ داری سے کام کرتے ہوۓ نظر آۓ۔
کھانا آرڈر کرنے کے بعد وہ فون پر مصروف ہو گٸی۔ کچھ دیر بعد ساتھ والی ٹیبل پر بیٹھی لڑکیوں کی چہ مگوٸیاں اس کے کانوں تک بھی پہنچنے لگیں جو ریسٹورنٹ میں داخل ہونے والے کسی نوجوان کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔
“کتنا ہینڈسم ہے نا؟”کشف نے اس لڑکی کی نظروں کے تعاقب میں دیکھنے کی کوشش کی جہاں سے ایک وجیہہ نوجوان ریڈ ٹی شرٹ اور بلیک پینٹ میں ملبوس، خوبصورتی سے سیٹ کیۓ گٸے بال اور آنکھوں پر خوبصورت چشمہ لگاۓ آ رہا تھا۔بلاشبہ وہ خوبصورت تھا اور ڈیسینٹ پرسنالٹی کا مالک تھا۔کشف نے دل ہی دل میں اعتراف کیا۔
“یہ اس ریسٹورنٹ کا اونر ہے۔”دوسری لڑکی کی آواز کشف کے کانوں میں پڑی۔
وہ شاید اس سے اگلی ٹیبل کی طرف بڑھ رہا تھا جب ویٹر اس کو راستہ دیتے ہوۓ ہاتھ میں پکڑی ڈِش کشف پر الٹا بیٹھا۔جوس گرنے کے باعث اس کے کپڑے خراب ہو گٸے تھے۔
“سوری میڈم”اس نے ویٹر کو کہتے سنا۔
“سوری”یہ آواز اسی وجیہہ نوجوان کی تھی جو ان لڑکیوں کے مطابق اس ریسٹورنٹ کا اونر تھا۔
“کوٸی بات نہیں” کشف بس اتنا ہی کہہ کر دوبارہ بیٹھ گٸی۔
وہ اس سے اگلے ٹیبل پر جا کر بیٹھا تھا،مگر نگاہیں مسلسل کشف پر مرکوز تھیں۔ جسے کشف نے ایک دو بار دیکھنے کے بعد مکمل طور پر نظر انداز کر دیا اور کھانے میں مصروف ہو گٸی۔
“آ گٸے تم؟”یہ فاٸق تھا جو اب ابدال کے قریب آیا تھا۔
“ہاں! آٶ اکٹھے ڈنر کرتے ہیں” ابدال نے فاٸق کو دعوت دی جسے فاٸق خوش دلی سے قبول کرتے ہوۓ اس کے ساتھ بیٹھ گیا۔
کچھ دیر بعد کشف اس وقت ان دونوں کی طرف متوجہ ہوٸی جب وہ دونوں قہقہہ لگا کر ہنس رہے تھے اور پھر اٹھ کر ہاسٹل کی طرف گامزن ہو گٸی۔
“کوٸی دوسری لڑکی ہوتی تو آسمان سر پر اٹھا لیتی”ابدال اب فاٸق سے کہہ رہا تھا۔
“ہاں! یہ ایسی ہی ہے، خاموش مزاج! کسی سے نہ الجھنے والی، ہمیشہ ہمارے ہی ریسٹورنٹ میں ڈنر کے لیۓ آتی ہے، مگر کبھی اس کے ساتھ کسی کو نہیں دیکھا۔”فاٸق اسے تفصیلات بتا رہا تھا۔
“اوہ آٸی سی!” ابدال کو کچھ حیرانی ہوٸی تھی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا۔
اب وہ دونوں خاموشی سے ڈنر کرنے میں مگن تھے۔
* * * * * * * * * *
ذاکر صاحب اپنی مصروفیات کو ترک کر کے اپنے چہیتے بیٹے کو ریسیو کرنے ایٸر پورٹ پر موجود تھے جب اچانک انہیں ابدال کی جھلک دکھاٸی دی۔
وہ شاید کسی دوسری طرف جا رہا تھا جب ذاکر صاحب نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اپنی طرف متوجہ کیا جس پر وہ مسکرا کر تقریباً بھاگتے ہوۓ ان تک آیا اور فوراً بغل گیر ہوا۔
ایک عرصے بعد اپنوں سے ملنے کا احساس کس قدر خوبصورت ہوتا ہے، ابدال کو اس وقت احساس ہوا اور اب وہ دونوں مسکراتے ہوۓ باتیں کرتے ایٸر پورٹ سے نکل کر اپنی کار کی طرف جا رہے تھے۔
* * * * * * * * * *
“ماما؟” ہنزلہ، صادق صاحب اور منیبہ بیگم ڈاٸننگ ٹیبل پر بیٹھے خاموشی سے ڈنر کر رہے تھے جب اس خاموشی کو ہنزلہ کی آواز نے توڑا جو منیبہ بیگم کو پکار رہا تھا۔
“جی میری جان!” انہوں نے ہنزلہ کی طرف دیکھ کر محبت بھرے لہجے میں جواب دیا۔ ان کے اس انداز پر صادق صاحب اور ہنزلہ دونوں ہلکے سے مسکراۓ تھے۔
“آپ کی آپی سے بات ہوٸی ہے ؟” وہ کشف کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
“جی روزانہ ہوتی ہے اور وہ ہر روز آپ دونوں کے لیۓ سلام بھیجتی ہے”منیبہ بیگم مسکراتے ہوۓ گویا ہوٸیں۔
“وعلیکم السلام، کیسی ہیں وہ؟” ہنزلہ نے دوبارہ سوال پوچھا۔
“بالکل ٹھیک ہے مگر کچھ اکیلا محسوس کرتی ہے”منیبہ بیگم نے پانی گلاس میں انڈیلتے ہوۓ ہنزلہ کی بات کا جواب دیا۔
“کیوں؟ کیا انہوں نے کوٸی دوست نہیں بناٸی؟” ہنزلہ کو حیرانی ہوٸی۔
“تم اس کی طبیعت کو جانتے تو ہو! وہ کتنی خاموش مزاج ہے اور لوگوں سے دوستیاں کرنا اسے قطعاً پسند نہیں ہے۔” بریانی کا لقمہ لیتے ہوۓ انہوں نے وجہ بتاٸی۔
“جی! میں جانتا ہوں، مگر جگہ کی تبدیلی کے باعث انسان کی طبیعت میں بھی کچھ نہ کچھ بدلاٶ تو آ ہی جاتا ہے۔” ہنزلہ نے تبصرہ کیا۔
“مگر اس میں نہیں آیا، ویسے بھی عادتیں بدلتی ہیں، فطرت نہیں” منیبہ بیگم مسکراتے ہوۓ کہہ رہی تھیں۔
“جی بالکل، آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں”ہنزلہ جانتا تھا کشف شروع سے ہی ایسی تھی۔
#جاری_ہے
