Intekhab by Sehar Kanwal

"حرم موجود ہیں؟" وہ میڈم طاہرہ کی آواز تھی جو اس وقت اس کی کلاس کے دروازے میں کھڑی اس کا پوچھ رہی تھیں۔
"یس میم!"حرم یکدم کھڑی ہو گٸی۔
"بیٹا آپ میرے ساتھ آٸیں" ان کے کہنے پر حرم کلاس میں موجود ٹیچر سے اجازت لیتی کلاس سے باہر نکل گٸی۔
"حرم! منگل کے روز انٹر کالجز بیعت بازی مقابلہ ہے جس میں آپ اور سیکنڈ ایٸر کی ایک لڑکی ہمارے کالج کی طرف سے شرکت کریں گی" میڈم طاہرہ کلاس رومز کے باہر بنی راہداری میں چلتے چلتے اسے بلاۓ جانے کا مقصد بتانے لگی۔ حرم نے پہلے بھی اردو سے تعلق رکھنے والے کافی مقابلہ جات میں حصہ لیا تھا جس کے باعث میڈم اسے جانتی تھیں۔
"جی میم! لیکن وقت بہت کم ہے۔" وہ اس حوالے سے پریشانی کا شکار تھی۔
"لیکن اب مزید وقت ضاٸع کرنے کی بجاۓ آپ لاٸبریری میں جاٸیں اور ہر حرف سے اشعار کی لسٹ بناٸیں" میڈم طاہرہ اسے سمجھاتے ہوۓ کہنے لگیں۔
"اپنے ساتھ سیکنڈ ایٸر کی سٹوڈنٹ زنیرہ عباسی کو بھی لے جاٸیے گا" انہوں نے کہا جس پر اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
"ویک اینڈ پر اپنی تیاری مکمل کریں اور مَنڈے کو مجھے مکمل طور پر تیار ہو کر اشعار سناٸیں"
"نوٹس بورڈ سے بیعت بازی کے قواٸد و ضوابط پڑھ لیجیۓ گا" میڈم طاہرہ اب ڈیپارٹمنٹ کی طرف بڑھ گٸیں اور حرم سیکنڈ ایٸر کی کلاسز کی جانب جہاں سے اسے زنیرہ باجی کو لے کر لاٸبریری جانا تھا۔
* * * * * * * * * *
ابدال پلین میں بیٹھ کر بھی مسلسل خدیجہ بیگم اور عنایا کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
"بیٹا کچھ دن ٹھہر کے چلے جانا" خدیجہ بیگم نے منت بھرے انداز میں اس سے کہا تھا۔
"امی! میں بہت جلد واپس آٶں گا" اس نے انہیں یقین دلایا تھا۔
"تمہیں عنایا کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہیۓ تھا" خدیجہ بیگم اسے یاد دلا رہی تھیں کہ وہ عنایا کو ایک بار بھی اپنے ساتھ باہر نہیں لے کر گیا۔
"امی! وہ اب بڑی ہو گٸی ہے، اسے میری ضرورت نہیں رہی، اسے میرے یہاں ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا!" ابدال نے خدیجہ بیگم کے شانوں پر ہاتھ رکھے انہیں سمجھاتے ہوۓ کہا تھا۔
"مگر تم اس کی عادات بدل تو سکتے ہو نا! وہ ہر وقت فون میں گھسی رہتی ہے اور میری کوٸی بات نہیں مانتی" خدیجہ بیگم نہ چاہتے ہوۓ بھی اپنے اداس دل کا حال سنا بیٹھی تھیں۔
"امی آپ اور بابا اسے ہر معاملے میں مجھ سے بہتر گاٸیڈ کر سکتے ہیں۔" وہ اپنی ضد پر اڑا تھا اور کسی صورت رکنا نہیں چاہتا تھا۔
"ہاں مں کوشش تو کرتی ہوں اور تمہارے بابا! وہ اسے بچی سمجھ کر اس کی تمام نادانیاں اور بدتمیزیاں اگنور کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مزید سر پر چڑھ گٸی ہے" انہوں نے افسردہ لہجے میں کہا تھا۔
"آپ پریشان نہ ہوں، میں اسے سمجھا کر نکلوں گا" وہ انہیں بھروسہ دلاتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
"ہاں! تم اس سے مل کر ضرور جانا" وہ ابدال کو کہہ کر اس کے کمرے سے نکل گٸی تھیں۔
ابدال چاہتے ہوۓ بھی عنایا سے مل نہیں سکا تھا کیونکہ وہ تب ایٸر پورٹ کے لیٸے نکلا تھا جب وہ کالج میں تھی۔
* * * * * * * * * *
"تیری آنکھیں کیوں سرخ ہیں؟" عاٸز نے فکرمندی سے ہنزلہ سے پوچھا جب وہ تینوں کیفے ٹیریا میں بیٹھے تھے۔
"یار رات کو صرف دو گھنٹے سویا ہوں" ہنزلہ نے آنکھیں مسلتے ہوۓ جواب دیا۔
"کیوں؟" انس کو اس کے رات جاگنے کی وجہ معلوم تھی پھر بھی جھٹ سے بولا۔
"شعر یاد کرتا رہا ہوں" ہنزلہ شرمندگی سے سر جھکاۓ کہہ رہا تھا جس پر انس اور عاٸز نے تالی بجاتے ہوۓ قہقہہ لگایا۔
"مجنوں راتوں کو جاگ جاگ کر لیلیٰ کے لیٸے شعر یاد کرتا رہا ہے" انس نے عاٸز کو آنکھ مارتے کہا تھا جس پر ہنزلہ نے اسے گھوری سے نوازا۔
"تم دونوں کی ہی کرامات ہیں!" ہنزلہ ان دونوں کو ہنستے دیکھ کر غصے سے گویا ہوا۔
* * * * * * * * * *
وہ ڈارک بلیو شرٹ اور لاٸٹ بلیو جینز میں ملبوس، سلیقے سے سیٹ کیٸے گٸے بال ، آنکھوں پر کالہ چشمہ اور باٸیں ہاتھ پر کالی گھڑی پہنے اپنے پورے رعب کے ساتھ ریسٹورنٹ میں داخل ہوتے ہی کٸی نظروں کا محور و مرکز بنا تھا۔
"آ گٸے تم؟" فاٸق نے اس سے آ کر ملتے ہوۓ پوچھا اور اب وہ دونوں کونے والی ٹیبل کی طرف جا رہے تھے۔
"ہاں! کیسے ہو؟" ابدال نے اس کے سوال کا جواب دیتے ہی خیریت دریافت کی۔
"ٹھیک ہوں، تم سناٶ؟" فاٸق نے کرسی پر بیٹھتے ہوۓ جواب دیا۔
"میں بھی ٹھیک، میرے جانے کے بعد کوٸی مسٸلہ تو نہیں ہوا؟" ابدال اب فاٸق سے پوچھ رہا تھا۔
"میرے ہوتے ہوۓ کوٸی مسٸلہ ہو سکتا تھا؟" فاٸق نے کالر جھاڑتے ہوۓ فخریہ انداز میں کہا جس پر دونوں کا مشترکہ قہقہہ پڑا۔
"نہیں!" ابدال نے اعتراف کیا۔
فاٸق اس سے گھر والوں کی خیریت دریافت کر رہا تھا تبھی کچھ لڑکے ہُوٹنگ کرتے شور مچاتے ریسٹورنٹ میں داخل ہوۓ۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *