Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode09

Intekhab by Sehar Kanwal Episode09

“یار وہ بات ہی نہیں کرتی!” ابدال فاٸق کے اپارٹمنٹ میں آنے کے بعد سے مسلسل اس کا سر کھپا رہا تھا۔
“تو میں کیا کروں؟” فاٸق نے تنگ آ کر کہا۔
“تم مجھے اسکی انفارمیشن پتہ کر کے دو!” ابدال نے آرام سے کہا۔
“مگر کیسے؟” فاٸق نے شانے اچکاتے ہوۓ سوال کیا۔
“جیسے بھی!” ابدال نے الٹا جواب دیا۔
“پاگل ہو گۓ ہو؟” فاٸق نے غصے والے انداز میں کہا۔
“ہاں! یہی سمجھ لو!” ابدال نے دوبدو جواب دیا۔
“دیکھو ابدال۔۔۔۔” فاٸق اسے سمجھانے والے انداز میں بول رہا تھا تبھی یکدم ابدال بول پڑا۔
“فاٸق پلیز مجھے مت سمجھاٶ! میں سب سمجھتا ہوں” ابدال نے منت بھرے انداز میں کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے!” وہ خاموش ہو گیا۔
“مجھے اسکی انفارمیشن چاہیۓ ” ابدال چند لمحے بعد پھر گویا ہوا۔
“میں جاسوس تھوڑا ہی ہوں” فاٸق نے شانے اچکاتے ہوۓ کہا۔
“تو بن جاٶ نا!” ابدال بضد تھا۔
“کیا مطلب؟” فاٸق کو اسکا انداز عجیب لگا۔
“تم میرے لیۓ اتنا نہیں کر سکتے؟” ابدال نے اسے منت بھرے انداز میں بلیک میل کیا۔
“اچھا، کچھ کرتا ہوں!” فاٸق نے اسے امید دلاٸی۔
“کیا کرو گے؟” ابدال کو یکدم جاننے کااشتیاق ہوا۔
“کچھ کروں گا تو سب سے پہلے تمہیں ہی بتاٶں گا!” فاٸق اس کے انداز پر ہنس کر گویا ہوا۔
“کب تک کرو گے؟” ابدال نے بچوں والے انداز میں سوال کیا۔
“تھوڑا صبر رکھو ابدال!” فاٸق سوچ میں گم تھا۔
“ہممم۔۔! پر تھوڑی جلدی کرو فاٸق” ابدال نے پھر منت بھرا انداز اپنایا۔
“اچھا، اب سو بھی جاٶ” فاٸق نے موضوع سے تنگ آ کر بات بدلی۔
“ہاں، میں جا رہا ہوں شکریہ!” ابدال اسکی تھکاوٹ محسوس کر کے کمرے سے باہر نکل گیا۔
* * * * * * * * * *
“ڈانس اچھا تھا” وہ تینوں آڈیٹوریم کے باہر زمین پر بیٹھی ریفریشمنٹ کھول رہی تھیں جب عنایا نے فنکشن کے حوالے سے تبصرہ کیا۔
“ہاں! ٹیبلو بھی!” ہبہ نے اپنی پسند بتاٸی۔
“تمہیں کچھ پسند نہیں آیا؟” حرم کے خاموش رہنے پر عنایا نے خصوصاً اس سے سوال کیا۔
“پورا فنکشن اچھا تھا۔” حرم نے سینڈوِچ نکالتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔
“تم لوگوں کو پتہ ہے آج ایاز آۓ گا مجھے لینے” عنایا اپنے پسندیدہ موضوع کی طرف جا رہی تھی۔
“وہ کون ہے؟” ہبہ نے یکدم بھنویں اچکاتے ہوۓ سوال کیا۔
“وہی جس کے ساتھ ایک بار پہلے گٸی تھی، تم لوگوں کو بتایا تو تھا یار!” وہ سینڈوِچ کے باٸٹ لیتی مزے سے بتانے لگی۔
“کیوں آج تیرے ابو کدھر ہیں؟” ہبہ نے غصیلے لہجے میں سوال کیا۔
” بابا کی طبیعت خراب ہے، صبح بھی ڈراٸیور کے ساتھ آٸی ہوں” عنایا نے وضاحت دی۔
“آج تو تم نہیں جاٶ گی” حرم نے چہرے پر مسکراہٹ سجاۓ عنایا سے کہا تھا۔
“کیوں بھٸی؟” عنایا نے شانے اچکاتے ہوۓ حیرانی سے سوال کیا۔
“کیونکہ آج ہم تمہارے گھر جاٸیں گے۔” حرم نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“کیا مطلب؟” عنایا کو اسکا انداز عجیب لگا۔
“مطلب یہ کہ ہم تمہاری امی سے ملنا چاہتے ہیں!” حرم نے مزے سے کہا۔
“پھر کسی دن آ جانا” عنایا نے ٹالنا چاہا۔
“نہیں آج ہی ملنا ہے” حرم بضد تھی۔
“مگر آج تو ڈراٸیور کو بھی لیٹ ٹاٸم بتایا ہوا ہے اور پھر مجھے بھی جانا ہے” عنایا نے وضاحت دی۔
“تم آج اپنا پروگرام کینسل کر دو” حرم نے حل پیش کیا۔
“مگر کیسے؟” عنایا پریشان تھی۔
“ابھی آفس جا کر ہم بھی اپنے اپنے گھر کال کریں گے کہ ہم لیٹ گھر پہنچیں گے اور تم بھی کال کر کے اپنے بابا یاڈراٸیور کو بلاٶ گی” حرم نے اسے سارا پلین سمجھایا۔
“یار مگر۔۔۔۔”عنایا نے دوبارہ ٹالنا چاہا۔
“تم ہمیں اپنے گھر آنے سے روک رہی ہو؟” حرم نے اس سے سوال کیا۔
“نہیں ایسی بات نہیں ہے” عنایا نروِس ہو رہی تھی۔
“تو پھر بس ٹھیک ہے” حرم نے شانے اچکاتے ہوۓ مسکرا کر کہا۔
“اچھا میں پانی پی کر آتی ہوں” عنایا کہہ کر وہاں سے اٹھ گٸی۔
“کیا کہہ رہی ہو؟” ہبہ کو اسکی ایک بھی بات سمجھ میں نہ آٸی تھی سو عنایا کے جاتے ہی سوال کیا۔
“آج اسکا پروگرام کینسل کرنا ہے اور آنٹی سے بھی بات کرنے ہے” حرم نے اسے سمجھایا۔
“کیا بات کرنی ہے؟” ہبہ نے سوال کیا۔
“یہی کہ اس پر نظر رکھیں!” حرم نے کہا۔
ٗ”وہ ہماری بات کیوں مانیں گی؟” ہبہ پزل تھی۔
“کیوں نہیں مانیں گی؟” حرم نے اس سے الٹا سوال کیا۔
“یار! پھر ہم گھر کیسے جاٸیں گے؟” ہبہ کو نٸی فکر نے آن گھیرا۔
“عنایا کے ساتھ اسکی گاڑی میں” حرم کے پاس ہر مسٸلے کا حل موجود تھا۔
“وہ کیوں ہمیں ڈراپ کرے گی؟” ہبہ نے خدشہ ظاہر کیا۔
“کیوں نہیں کرے گی؟” حرم نے پھر الٹا سوال کیا۔
“میری گھر سے بےعزتی ہو گی!” ہبہ نے آرام سے کہا۔
“گھر کال کرتے ہیں، صرف ایک گھنٹہ لگے گا” حرم نے اسے تسلی دی۔
“اچھا، ٹھیک ہے!” ہبہ مان گٸی تھی۔
” کیا باتیں ہو رہی ہیں؟” عنایا نے آ کر بیٹھتے ہی پوچھا۔
“کچھ خاص نہیں!” حرم نے ہبہ کو بھی خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور جوس پینے لگی۔
* * * * * * * * * *
“تم لوگ بیٹھو، میں امی کو بلا کر لاتی ہوں” عنایا نے ان دونوں کو ڈراٸنگ روم میں بیٹھنے کا کہا اور خود اندر چلی گٸی۔
“گھر بہت خوبصورت ہے ماشا۶اللہ” حرم نے ہبہ سے کہا جو ڈراٸنگ روم کو ہر زاویے سے دیکھنے میں محو تھی۔
“ہاں! پتہ نہیں اسے کیا مسٸلہ ہے جو قدر نہیں کرتی” ہبہ نے عنایا کو کوسا۔
“ہممم۔۔! اللہ اسے ہدایت دے” حرم ڈراٸنگ روم میں بیٹھی دروازے پر نگاہیں مرکوز کیٸے ہوۓ تھی جہاں فرنیچر سے لے کر ایک ایک ڈیکوریشن پیس اس کمرے کو سیٹ کرنے والے کے اعلیٰ ذوق کا منہ بولتا ثبوت تھا۔
“السلام علیکم آنٹی!” عنایا کے خدیجہ بیگم کے ساتھ اندر داخل ہوتے ہی حرم اور ہبہ نے بیک وقت اٹھ کر سلام کیا۔
“وعلیکم السلام بیٹا، جیتی رہو! ” خدیجہ بیگم ان سے ہاتھ ملاتی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گٸی جب کہ عنایا کا موڈ کچھ آف تھا۔
“آٶ میرے بیڈروم میں چلیں!” عنایا نے چند لمحوں بعد ان دونوں کو آفر کی جو خدیجہ بیگم سے چھوٹے چھوٹے سوال کر رہی تھیں۔
“تم دونوں جاٶ، میں آتی ہوں!” حرم نے ہبہ اور عنایا کو وہاں سے جانے دیا۔
“آنٹی میں آپ سے عنایا کے بارے میں کچھ بات کرنا چاہتی ہوں!” ان دونوں کے جاتے ہی حرم نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
“اس نے پھر کوٸی بدتمیزی کی ہے؟” خدیجہ بیگم نے خدشہ ظاہر کیا۔
“نہیں آنٹی، ایسی کوٸی بات نہیں ہے” حرم نے تسلی دینے والے اندازمیں کہا۔
“تو پھر؟” خدیجہ بیگم پریشان ہو گٸی تھیں۔
“آپ کو نہیں لگتا، عنایا کچھ زیادہ ہی آزادخیال ہو گٸی ہے؟” حرم نے ڈھکے چھپے الفاظ میں اپنی بات خدیجہ بیگم تک پہنچاٸی۔
“تم ٹھیک کہہ رہی ہو بیٹا!” خدیجہ بیگم نے سرد آہ بھرتے ہوۓ کہا۔
“تو آپ اسکو سمجھاتی کیوں نہیں ہیں؟” حرم نے اگلا سوال کیا۔
“وہ اپنی زندگی میں کسی کی دخل اندازی پسند نہیں کرتی اور میں بھی سمجھا سمجھا کر تھک گٸی ہوں” خدیجہ بیگم نے اپنی پریشانی کا اظہار کیا۔
“کیا مطلب؟آپ اسکی ماں ہیں!” حرم کو حیرت ہوٸی۔
“ہاں! لیکن وہ مجھے خاطر میں نہیں لاتی!” انہوں نے نظریں جھکاتے ہوۓ کہا۔
“آپ اسے پیار سے سمجھاٸیں، وہ سمجھ جاۓ گی” حرم کو اندازہ نہیں تھا عنایا گھر میں ایسا برتاٶ کرتی ہے۔
“پیار سے بھی سمجھا چکی ہوں، وہ کچھ نہیں سمجھتی!” خدیجہ بیگم نے افسردہ لہجے میں کہا۔
“آنٹی آپ بار بار کوشش کریں، وہ ایک نہ ایک دن ضرور سمجھ جاٸیگی۔” حرم نے اپنی طرف سے مسٸلے کا حل پیش کیا۔
“میں کوشش کروں گی!” خدیجہ بیگم نے اسے امید دلاتے ہوۓ کہا۔
“شکریہ” حرم مسکراٸی تھی۔
“اب آ بھی جاٶ حرم!” عنایا اور ہبہ ڈراٸنگ روم میں داخل ہوتے ہوۓ کہہ رہی تھیں۔
“بس اب چلتے ہیں، تم ڈراٸیور انکل کے ساتھ چلو اور ہمیں ڈراپ کر کے آٶ!” حرم نے عنایا سے کہا۔
“کیا مطلب؟اتنی جلدی کیوں؟” عنایا نے بھنویں اچکاتے ہوۓ سوال کیا۔
“پھر کبھی آٸیں گے” ہبہ نے عنایا کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا۔
“کچھ کھا پی کے تو جاٶ نا” عنایا نے منت بھرے انداز میں کہا۔
“ارے نہیں، پھر کبھی کھا لیں گے، ابھی جانا ہے” حرم نے ایک بار پھر کہا۔
“اوکے، چلو راستے سے کچھ لے لیں گے!” عنایا نے اس سےکہا۔
“ہاں، یہ اچھا آٸیڈیا ہے بیٹا، راستے سے کچھ کھا لینا۔” خدیجہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“جی آنٹی، اللہ حافظ!” حرم ان سے ملنے لگی۔
“اللہ حافظ بیٹا!” خدیجہ بیگم انہیں رخصت کرتی ڈراٸیور کو ہدایات دے کر پورچ سے واپس اندر آگٸیں مگر دماغ حرم کی باتوں میں اٹکا ہوا تھا۔
* * * * * * * * * *
“انتظار ہو رہا ہے؟” فاٸق ابدال کو کافی دیر سے وہاں بیٹھا دیکھ کر اسکی طرف چلا آیا تھا۔
“ہممم۔۔۔! اور کروں بھی کیا؟” ابدال نے مسکراتے ہوۓ جواب دے کر نظریں دوبارہ ریسٹورنٹ کے داخلی دروازے پر مرکوز کر دیں۔
“میں نے تمہارے مسٸلے کا حل سوچاہے” فاٸق اسکی نظروں کے تعاقب میں دروازے کی طرف دیکھتے ہوۓ کہہ رہا تھا۔
“کیا؟” ابدال کی نظریں سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں فاٸق تک آٸی تھیں۔
“عبداللہ پاکستان ایمبیسی میں کام کرتا ہے” فاٸق نے آگے کو جھک کر رازدارانہ انداز میں کہا۔
“عبداللہ کون ہے؟” سفید رنگ کےکرتا شلوار میں ابدال فاٸق کو عام دنوں کی نسبت زیادہ خوبصورت لگا اور پھر اسکا بچوں والا بےچین انداز فاٸق کو مسکرانے پر مجبور کرتا تھا۔
“میرا دوست ہے” فاٸق نے پانی گلاس میں انڈیلتے ہوۓ کہا۔
“وہ تمہاری مدد کرے گا؟” ابدال بےیقین تھا۔
“ضرور کرے گا” فاٸق نے یقین دلایا۔
“تو پھر دیر کس بات کی ہے؟” ابدال آہستہ آواز میں مگر تیز تیز بول رہا تھا۔
“اس سے ملنے کی!” فاٸق نے عام سے انداز میں کہا۔
“فون پر بات کر لو نا!” ابدال کو بلا کی جلدی تھی۔
“معاملہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا تم سمجھ رہے ہو” فاٸق نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
“اتنا پیچیدہ بھی نہیں ہے یار!” وہ اب دوبارہ انٹرَنس کی جانب دیکھنے لگا تھا۔
“سَنڈے کو ملتے ہیں اس سے!” فاٸق نے حل پیش کیا۔
“سنڈے۔۔۔ ابھی تو چار دن ہیں اس میں” ابدال نے برا سا منہ بناتے ہوۓ کہا۔
“تو کیا ہوا؟” فاٸق کو حیرانی ہوٸی۔
“تمہیں کچھ نہیں ہوتا نا!” وہ ناراض سے لہجے میں کہہ کر دوبارہ وہیں دیکھنے لگ گیا۔
“”اچھا، ناراض تو نہ ہو نا” فاٸق نے منانے والے انداز میں کہا۔
“میں ناراض نہیں ہوں” ابدال نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ جواب دیا۔
ٗ”پھر ٹِین ایجرز کی طرح کیوں بی ہیو کر رہے ہو؟” فاٸق نے مسکراتے ہوۓ پوچھا۔
“کم از کم ٹین ایجر ہونے کا طعنہ تو نہ دو یار!” ابدال کا موڈ ٹھیک ہو گیا تھا، مسکراتے ہوۓ کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے، میں آج شام عبداللہ کو کال کروں گا اور پھر ہم جلد ہی مل کر مسٸلے کا حل نکال لیں گے” فاٸق نے اسے دیکھتے ہوۓ کہا۔
“اوکے!” ابدال نے اسکی بات کا یک لفظی جواب دیا۔
“تم وہاں کیا دیکھ رہے ہو؟” فاٸق نے اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔
“وہ آ کیوں نہیں رہی؟” ابدال نے رِسٹ واچ پر نظر ڈالتے ہوۓ اپنے آپ سے سوال کیا۔
“اف ابدال!” فاٸق نفی میں سر ہلاتا اسے دیکھنے لگا جو اب بھی داخلی دروازے پر نظریں مرکوز کیۓ ہوۓ تھا۔
“کیا ہے؟” ابدال نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔
“وہ شاید آج نہ آۓ” فاٸق نے ابدال کے سوال کے جواب میں کہا۔
“کیوں نہ آۓ؟” ابدال کو اسکی بات پر بلاوجہ غصہ آیا۔
“وہ اتنا لیٹ نہیں ہوتی” فاٸق نے اپنی گھڑی پر نظر دوڑاٸی۔
“اچھا، تم جاٶ! میں یہیں بیٹھا ہوں” ابدال نے اس سے کہا۔
“اوکے!” فاٸق اٹھنے لگا جبکہ ابدال وہیں بیٹھا انٹرنس پر نظریں جماۓ انتظار کر رہا تھا لیکن آج اس کا انتظار، انتظار ہی رہا کیونکہ اس نے نہیں آنا تھا۔
* * * * * * * * * *
“تم آٸی کیوں نہیں ہو؟” عنایا نے روم میں داخل ہوتے ہی واٸبریٹنگ فون دیکھا اور کال اٹھانے کے بعد نہایت غصیلے لہجے میں اسے پہلی بات یہی سناٸی دی۔
“یار وہ تھوڑا مسٸلہ ہو گیا تھا” اس نے بیڈ پر بیٹھتے ہوۓ ایکسکیوز کیا۔
“میں کالج کے باہر کھڑا ہو کر پاگلوں کی طرح پورا گھنٹہ انتظار کرتا رہا ہوں مگر تم دو لڑکیوں کے ساتھ سیدھی اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گٸیں، میری طرف دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا تم نے” عنایا مسکراتے ہوۓ جوس کے سِپ لیتی اس کی باتیں سن رہی تھی۔
“کہا نا! مسٸلہ ہو گیا تھا اور ٹاٸم بھی نہیں تھا کہ بتا دیتی” اس نے اپنی بات دہراٸی۔
“میرے لیٸے تمہارے پاس کبھی وقت ہوتا بھی ہے؟” عنایا فون کے سپیکر سے ابھرنے والا گلہ سن کر بے اختیار مسکرادی۔
“سارا وقت تمہارے لیۓ ہی تو ہے” اس نے پیار سے کہا۔
“اب بَٹرِنگ بند کرو” عنایا کو اس کی ہنستی ہوٸی آواز سناٸی دی۔
“اچھا، کیا کر رہے ہو؟” اس نے فوراً موضوع بدلا۔
“میں کچھ نہیں کر رہا، تم بتاٶ وہ دو لڑکیاں کون تھیں؟” عنایا کو اس کا سوال عجیب لگا۔
“وہ۔۔۔میری دوستیں تھیں” اس نے بیڈ کراٶن سے ٹیک لگاتے ہوۓ جواب دیا۔
“اچھا، حجاب والی خوبصورت ہے” اس کا عام سا انداز عنایا کے سینے میں آگ لگا گیا۔
“خبردار! جو تم نے کسی دوسری لڑکی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھا اور خاص طور پر میری دوستوں کی طرف!” عنایا نے تنبیہہ کی۔
“اچھا بھٸی! نہیں دیکھتا” اس نے مسکراتی ہوٸی آواز سنی۔
“تم کیا کرتے ہو ایاز؟” عنایا نے چند لمحوں کے توقف کے بعد اس سے پوچھا۔
“میں نے ایف ایس سی کر لی ہے” اسے ایاز کی آواز سناٸی دی۔
“تو اب آگے کیا کرنا ہے؟” عنایا نے سوال کیا۔
“اب یونیورسٹی میں ایڈمیشن لوں گا” عنایا نے سنا۔
“کب؟” اس نے دوبارہ سوال کیا۔
“جب ایڈمیشن اوپن ہوں گے” عنایا کو اس کے لہجے سے لگا وہ تنگ آ گیا ہے۔
“ایڈمیشن کب اوپن ہوں گے؟” عنایا متجسس تھی کہ اس نے ایف ایس سی کلیٸر کرنے کے بعد تقریباً چھ ماہ سے آگے داخلہ کیوں نہیں لیا۔
“تم کیا پڑھاٸی کی باتیں لے کر بیٹھ گٸی ہو یار؟” اس کے لہجے میں چڑچڑاہٹ صاف واضح تھی۔
“تو اور کیا بات کروں؟” عنایا نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“اپنے بارے میں بات کرو نا، ہمارے بارے میں۔۔” وہ آرام آرام سے کہہ رہا تھا۔
“اچھا جی؟”عنایا ہنستے ہوۓ پوچھنے لگی۔
“تمہیں پتہ ہے اگر تم اس بار ملتی تو ہم کہیں گھومنے جاتے” اس نے کہا تھا۔
“اوہ اچھا!” عنایا کو نہ جانے پر مایوسی ہوٸی۔
“اگلی بار ہم کسی خوبصورت سی جگہ پر جاٸیں گے۔” اس نے اسکی چہکتی ہوٸی آواز سنی۔
“ہاں! مگر اب پتہ نہیں کب موقع ملے” عنایا کی مسکراہٹ پھیکی پڑ گٸی۔
“دل چاہتا ہے تمہیں ہمیشہ کیلیۓ اپنے ساتھ لے جاٶں” عنایا اس کی بات سن کر مسکراٸی۔
“مجھے لگتا ہے کوٸی آ رہا ہے” اس نے قدموں کی چاپ محسوس کرتے ہوۓ ہلکی آواز میں کہا۔
“اوکے باۓ” عنایا نے سنتے ہی فون بند کر دیا تھا اور اٹھ کر دروازے تک آٸی جہاں سامنے سے خدیجہ بیگم آ رہی تھیں۔
“اف! آج پھر لیکچر سننا ہو گا” وہ انکا غصہ دیکھ کر منہ بناتی سوچنے لگی۔
“آکر چاۓ پی لو، تمہارے بابا تمہیں بلا رہے ہیں” وہ کہہ کر واپس چلی گٸیں جبکہ عنایا کمرے میں آ کر دوپٹہ گلے میں ڈالتی ڈاٸننگ ٹیبل کی طرف جانے لگی۔
“میرا بیٹا کیسا ہے؟” ذاکر صاحب کے چہرے پر اسے دیکھتے ہی مسکراہٹ پھیل گٸی۔
“ٹھیک!” اس نے انکا حال پوچھنا گوارا نہ کیا اور ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گٸی۔
“پڑھاٸی کیسی جا رہی ہے؟” ذاکر صاحب نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا جو لوازمات سے بھری ٹرے کو دیکھ رہی تھی۔
“بہت اچھی!” اس نے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا۔
“تمہیں پتہ ہے ہم تمہارے بھاٸی کی شادی کے بارے میں سوچ رہے ہیں” ذاکر صاحب نے چاٸے کی چسکی بھرتے ہوۓ اس سے کہا جو سموسہ کھا رہی تھی۔
“اوہ اچھا” اس نے چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجا کر کہا جبکہ اصل میں نہ اسے خوشی ہوٸی تھی ، نہ ہی برا لگنے والی کوٸی بات تھی۔
“تمہیں خوشی نہیں ہوٸی؟” ذاکر صاحب اسکے چہرے کا بغور جاٸزہ لیتے ہوۓ پوچھنے لگے۔
“ہوٸی ہے!” وہ ان کی طرف دیکھنے لگی۔
“لگ تو نہیں رہا بیٹا” ذاکر صاحب کو اس کے روکھے پن کی وجہ سمجھ میں نہ آٸی۔
“کچھ نہیں، بس زرا طبیعت خراب ہے” وہ مسکرانے کی ناکام کوشش کرتی کہنے لگی جبکہ اسے ان دونوں کے پاس بیٹھنے سے سخت چِڑ ہوتی تھی جو وہ بتانے سے قاصر تھی۔
“کوٸی ٹیبلیٹ لے لو!” ذاکر صاحب نے فکرمندی سے کہا جبکہ خدیجہ بیگم اسے دیکھ کر رہ گٸیں۔
“جی اچھا!” وہ چاٸے کا کپ اٹھا کر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی اور ذاکر صاحب اسے طبیعت کی خرابی سمجھ کر دوبارہ چاۓ پینے لگے۔
* * * * * * * * * *
“لیکچر میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہا ہے تُو، خیر تو ہے نا؟” ہمیشہ کی طرح انس کے فیورٹ یعنی لاسٹ بینچ پر بیٹھے ہوۓ وہ پروفیسر کے بورڈ کی طرف مڑتے ہی ہنزلہ کو کندھا مارتے ہوۓ کہنے لگا جو اپنی تمام تر توجہ اردو کے لیکچر پر دے رہا تھا۔
“تو چپ کر کے بیٹھ!” ہنزلہ نے انس کو آنکھیں دکھاتے ہوۓ کہنی مار کر سرگوشی والے مگر قدرے غصیلے لہجے میں کہا۔
“یار! اردو تو سکون سے پڑھ لیا کر” عاٸز نے انس کو منت بھرے لہجے میں کہا۔
“میں کونسا اٹھ اٹھ کر بھنگڑے ڈال رہا ہوں جو تم دونوں شروع ہی ہو گٸے ہو” انس نے ہلکی آواز میں سر آگے کو جھکا کر ان دونوں سے کہا۔
“اس سے کم بھی نہیں کر رہا” عاٸز نے سٹِکّی نوٹ انس کی کتاب پر چپکایا جس پر لکھا تھا۔
“اب تم دونوں چپ ہو گے یا نہیں؟” غزل سمجھاتے پروفیسر کی طرف دیکھتے ہوۓ ہنزلہ نے دھیمی آواز میں ان دونوں سے پوچھا جو مسلسل کبھی لکھ رہے تھے اور کبھی بول رہے تھے۔
“نہیں! بتا کیا کر لے گا؟” انس نے لیکچر سے تنگ آتے ہوۓ ہنزلہ سے کہا۔
“میں جا رہا ہوں!” ہنزلہ کتاب اور رجسٹر بند کرنے لگا۔
“کدھر؟” عاٸز نے جھٹ سے پوچھا۔
“یہ لڑکیوں والی دھمکیاں ہمیں نہ دے” انس نے ہنسنے والا منہ بنا کر اس کے ساتھ یہ لاٸن لکھی اور پیپر ہنزلہ کے آگے رکھ دیا۔
“سر؟” ہنزلہ نے پیپر پھاڑتے ہی ہاتھ اونچا کیا۔
“جی بیٹا؟” ہنزلہ کھڑا ہو گیا تھا جبکہ انس اور عاٸز اسے چُٹکیاں کاٹ کاٹ کر خاموش رہنے کا کہہ رہے تھے۔
“سر۔۔۔۔مجھے یہ شعر سمجھ نہیں آیا” ہنزلہ نے مسکراتے ہوۓ بورڈ پر لکھے شعر کی طرف اشارہ کیا جبکہ عاٸز اور انس اسے دیکھ کر غصے سے لال پیلے ہوتے دھمکی آمیز اشارے کر رہے تھے لیکن ہنزلہ پروفیسر صاحب کی طرف متوجہ اندر ہی اندر کھلکھلا کر ہنس رہا تھا۔
* * * * * * * * * *
“عبداللہ کب آۓ گا؟” وہ دونوں اپنی مخصوص کردہ میز پر بیٹھے عبداللہ کا انتظار کر رہے تھے جسے انہوں نے اپنے ساتھ ڈنر کرنے کی دعوت دی تھی اور ابدال مسلسل کبھی رِسٹ واچ پر اور کبھی داخلی دروازے کی طرف نظریں دوڑاتے ہوۓ فاٸق سے اسکا پوچھ رہا تھا مگر اندر ہی اندر وہ جانتا تھا کہ اسے عبداللہ سے زیادہ کسی اور کا انتظار ہے جس کی شکل اس نے تین دن سے نہیں دیکھی لیکن پھر بھی وہ روزانہ کسی امید کے تحت وہاں ڈنر کیلیۓ پہنچ جاتا تھا اور آج بہانہ عبداللہ سے ملاقات کا بنا تھا مگر اس کی نگاہیں اور دل کسی اور ہی کی طرف متوجہ تھا۔
“بس آتا ہی ہو گا” فاٸق نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوۓ کہا۔
” لو آ گیا” فاٸق نے چند لمحوں بعد ابدال کی توجہ ریسٹورنٹ میں داخل ہونے والے ایک ہینڈسم نوجوان کی طرف مبذول کرواٸی جس کیلیۓاب وہ دونوں کھڑے ہو گٸے تھے اور فاٸق اسے ہاتھ کےاشارے اپنی طرف آنے کا کہہ رہا تھا۔
“السلام علیکم، کیسے ہو؟” ابدال کو وہ شکل سے ترکش لگا۔ اس سے مصافحہ کرنے کے بعد وہ تینوں بیٹھ گٸے۔عبداللہ کو فاٸق نے فون پر ملنے کے مقصد سے آگاہ کر دیا تھا اس لیٸے ابدال کو اس سے جھجھک محسوس ہو رہی تھی۔
“ٹھیک ہوں، تم سناٶ دوست، کتنے عرصے بعد ملاقات ہو رہی ہے” فاٸق مسکراتے ہوۓ عبداللہ سے کہہ رہا تھا۔
“ہاں مگر دیکھو، کام کے لیۓ ہی سہی، تم نے مجھے یاد تو کیا!”عبداللہ نے مسکراتے ہوۓ فاٸق سے کہا۔
“اب شرمندہ تو نہ کرو یار” فاٸق نے ابدال کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا جو سامنے والی خالی ٹیبل کی طرف دیکھ رہا تھا۔
“ارے نہیں یار! ایسی کوٸی بات نہیں ہے” عبداللہ نےکہا۔
“تم بتاٶ کیسے یاد کیا؟” اس نے دوبارہ پوچھا۔
“وہی کام جسکا فون پر تم سے ذکر کیا تھا” فاٸق عبداللہ سے کہہ رہا تھا تبھی ابدال ان کی طرف متوجہ ہوا۔
“کس کی انفارمیشن چاہیۓ؟” عبداللہ نے ابدال سے سوال کیا۔
“وہ۔۔۔” ابدال کو اسکا سوال اور انداز عجیب لگا۔
“ایک لڑکی کی” فاٸق نے ابدال کو نروس دیکھ کر کہا۔
“کون ہے؟”عبداللہ نے اگلا سوال کیا۔
“یہی تو پتہ کروانا ہے” ابدال نے مسکراتے ہوٸے کہا۔
“مگر مجھے کچھ تو بتاٶ نا اس کے بارے میں!” عبداللہ نے اسی کے انداز میں کہا۔
“ہمیں صرف اتنا پتہ ہے کہ وہ روزانہ یہاں ڈنر کیلیۓ آتی تھی” فاٸق نے بات ک شروعات کی۔
“تُرکش ہے؟” عبداللہ نے پوچھا۔
“نہیں! پاکستانی ہے” ابدال نے جواب دیا۔
“واقعی؟”عبداللہ کو حیرانی ہوٸی۔
“ہاں! مگر اس کے ساتھ کبھی کسی اور کو نہیں دیکھا” ابدال نے اس سے کہا۔
“اوہ اچھا! مطلب پاکستان سے کسی کام کیلیۓ آٸی ہے!” عبداللہ نے پرسوچ انداز میں کہا۔
“مگر کس کام کیلیٸے؟” ابدال کو حیرانی ہوٸی۔
“اسکی عمر کتنی ہو گی؟” عبداللہ نے جواب دینے کی بجاۓ اگلا سوال کیا۔
“تٸیس یا چوبیس سال!” ابدال نے اندازہ لگایا۔
“مطلب پڑھاٸی وغیرہ کیلیٸے بھی آ سکتی ہے” عبداللہ نے کہا۔
“ہاں شاید!” ابدال نے اس حوالے سے بالکل نہیں سوچا تھا۔
“پھر ٹھیک ہے، میں پاکستان سے آنے والی لڑکیوں کی لسٹ میں چیک کرتا ہوں” عبداللہ نے ابدال سے کہا۔
“وہ تقریباً کتنے عرصے سے آرہی ہے؟” اس نے پھر سوال پوچھا۔
“تقریباً پانچ چھ ماہ سے” اب کی بار فاٸق نے کہا تھا۔
“وہ ڈنر کیلیٸے آتی تھی، مطلب یہاں کسی قریبی یونیورسٹی سے آتی ہو گی” عبداللہ نے اندازہ لگایا جبکہ ابدال کو اسکی ذہانت پر شک گزرا کیونکہ خود ابدال نے اس حوالے سے بالکل نہیں سوچا تھا۔
“ہاں ہو سکتا ہے” فاٸق نے ابدال کو خاموش پا کر کہا۔
“پھر تو کام آسان ہو گیا” ویٹر کو کھانا سرو کرتے دیکھ کر وہ آہستہ سے بولا جیسے اپنے آپ سے کہہ رہا ہو۔
“وہ کیسے؟” فاٸق نے پرسوچ انداز میں سوال کیا۔
“پچھلے کچھ سالوں میں پاکستان سے پڑھاٸی کیلیٸے آ کر تمہارے ریسٹورنٹ کے پاس والی گنی چنی چند یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے والی لڑکیوں کی انفارمیشن میرے آفس سے باآسانی مل سکتی ہے” عبداللہ نے ٹھہر ٹھہر کر سمجھانے والےانداز میں کہا۔
“اچھا!” ابدال کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گٸی۔
“تم لوگوں کو پتہ ہے، ایک عام انسان کیلیۓ یہ کتنا مشکل کام ہے” وہ مسکراتے ہوۓکہہ رہا تھا۔
“آخر دوستی اور کب کام آۓ گی؟” فاٸق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا جس پر تینوں کا مشترکہ قہقہہ پڑا۔ ابدال اب قدرے پرسکون ہو گیا تھا۔
* * * * * * * * * *
#جاری_ہے♥️

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *