Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intekhab by Sehar Kanwal Episode11

Intekhab by Sehar Kanwal Episode11

“السلام علیکم!” وہ آفس میں بزنس میٹنگ کیلیۓ آۓ ہوۓ لوگوں میں صادق صاحب کو دیکھ کر فوراً بغل گیر ہوۓ۔
“وعلیکم السلام! کیسے ہو ذاکر؟” صادق صاحب خوشگوار انداز میں احوال دریافت کرنے لگے۔
“میں بالکل ٹھیک، تم سناٶ! بھابھی اور بچے کیسے ہیں؟” وہ انہیں ساتھ لیٸے اپنے آفس کی طرف جا رہے تھی۔
“سب ٹھیک ہیں، اپنی بتاٶ؟”صادق صاحب ان کے ساتھ آفس میں داخل ہوتے ہوۓ بتانے لگے۔
“اللہ کا خاص کرم ہے یار، کہاں گم ہو آج کل؟” ذاکر صاحب ان کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے اپنی مخصوص نشست پر براجمان ہو گۓ۔
“میں تو ادھر ہی ہوں، تم کہیں گم ہو” صادق صاحب نے گلہ کیا۔
“ارے نہیں یار! بس کام میں بزی ہوتا ہوں، ملاقات کا وقت ہی نہیں ملتا” انہوں نے وضاحت پیش کی۔
“جی! آپ بڑے لوگ جو ہیں” صادق صاحب نے ہنستے ہوۓ کہا۔
“یار صادق! میں اور خدیجہ تمہارے گھر آنا چاہ رہے تھے” انہوں نے ابدال سے کنفرمیشن کے بعد اصل موضوع چھیڑا تھا۔
“سو بسم اللہ یار! کب آٶ گے؟” وہ صادق صاحب کے انداز پر مسکرا کر رہ گٸے۔
“بہت جلد!” ذاکر صاحب انہیں کہہ کر انٹرکام پر کچھ آرڈر کرنے لگے۔
* * * * * * * * * *
“تم اور ہبہ کبھی میری کلاس میں دفعہ نہ ہونا” بریک کے پانچ منٹ گزرنے کے بعد بھی جب ہبہ اور حرم میں سے کوٸی عنایا کی کلاس میں نہ گیا کیونکہ وہ دونوں اپنا کوٸی ٹیسٹ تیار کرنے میں مصروف تھیں تب عنایا منہ پھلاۓ حرم کی کلاس سے اس کو کھینچتے باہر لا کر کہنے لگی۔
“ہم بس آ ہی رہے تھے” حرم نے سر کھجاتے مسکراتے ہوۓ بہانہ بنایا۔
“بکواس بند رکھو، یہ ہبہ کدھر مر گٸی ہے؟” عنایا اس کو غصے میں تنبیہہ کرتے ہبہ کی کلاس کی طرف دیکھتے ہوۓ خود سے سوال کرنے لگی۔
“آٶ، اس کو لینے چلیں” حرم نے اس کے چہرے کے تنے اعضا۶ کو ڈھیلا کرنا چاہا۔
“چلو!” عنایا حرم کا ہاتھ پکڑتی ہبہ کی کلاس کی طرف جانے لگی۔
“یہ کتاب تو رکھ دو، اللہ کا واسطہ ہے یار!” وہ اسکے دوسرے ہاتھ میں پکڑی کتاب کو کھینچتے ہوۓ حرم سے کہنے لگی۔
“یار! بریک کے بعد ٹیسٹ ہے” حرم نے دھیان سے اسکے ہاتھ سے کتاب چھڑواتے ہوۓ منت بھرے انداز میں کہا۔
“بریک میں تو نہیں پڑھنےدوں گی بیٹا!” عنایا ہنستے ہوۓ اسے خبردار کر رہی تھی۔
“جاٶ ، بلا کر لاٶ! میں یہیں کھڑی ہوں” ہبہ کی کلاس کی ایک لڑکی سے لڑاٸی کے باعث وہ اسکی کلاس میں جانے سے گریز کرتی تھی، سو ابھی بھی حرم کو حکم دیا۔
“جلدی باہر آٶ، آج خیر نہیں ہے” حرم نے کلاس میں بیٹھی ہبہ کو اٹھاتے ہوۓ رازداری سے کہا۔
“کیوں، کیا ہوا ہے؟” وہ کتاب اور رجسٹر کرسی سے اٹھاتی دریافت کرنے لگی۔
“باہر چلو، خود ہی پتہ چل جاۓ گا” حرم نے ہبہ کو تقریباً گھسیٹتے ہوۓ کلاس سے باہر نکالا۔
“اچھا اچھا چلتی ہوں!” وہ حرم کے کھینچنے پر گویا ہوٸی۔
“جی آج کیا ہواہے؟” وہ اپنی کلاس کے باہر کھڑی عنایا سے ہنستے ہوۓ پوچھنے لگی جسکا چہرہ خطرے کا اشارہ دے رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہوا، مرو تم دونوں، دفعہ ہو جاٶ، روزانہ میں ہی تم لوگوں کے پاس آیا کروں، تم لوگوں کو تو ٹیسٹ سے فرصت نہیں ملتی۔ہےنا؟” وہ ہبہ کی کلاس کے باہر کھڑی ایک ایک لفظ دباتے ہوۓ اپنے غصے کا بھرپور اظہار کر رہی تھی جبکہ حرم ساتھ ہی کھڑی فیصل مسجد کے میناروں کا اوپری حصہ دیکھنے اور ساتھ ساتھ اس کی باتیں سن کر مسکرانے میں محو تھی۔
“آج لگتا ہے صبح صبح کسی سے لڑاٸی ہوٸی ہے” ہبہ نے حرم کو تالی دیتے ہوۓ عنایا کے غصے کو مزید ہوا دی۔
“اللہ نہ کرے” عنایا ان کے انداز پر یکدم ٹھنڈی پڑ گٸی اور اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
“دیکھا دیکھا، چور کی داڑھی میں تنکا!” ہبہ اسکی طرف اشارہ کرتی حرم کو بتانے لگی۔
“کوٸی تنکا نہیں ہے، اب چلو وہاں چل کر بیٹھیں، میری ٹانگوں میں درد ہو رہا ہے” عنایا کا موڈ خوشگوار ہو گیا تھا۔ ہمیشہ کی طرح دو چار باتیں سنانے کے بعد اس بار بھی وہ ٹھیک ہو گٸی تھی۔
“دس سیڑھیاں چڑھ کر آگٸی ہو تو رعب جمانے کی ضرورت نہیں ہے” ہبہ نے اسکو ٹانگوں پر ہاتھ رکھے دیکھ کر کھینچتے ہوۓ کہا۔
“یار آج کوٸی شعر سناٶ، قسم سے بڑا دل کر رہا ہے” عنایا نے ہبہ کی بات کو نظر انداز کر کے عجیب و غریب خواہش کی جس پر ان دونوں کا قہقہہ بھی پڑا۔
“چلو میں سناتی ہوں، عنایا کیلیٸے خاص طور پر” کلاس کے باہر اپنی مخصوص کردہ جگہ پر بیٹھتے ہوۓ حرم نے کہا۔
“ہاں سناٶ! مگر کوٸی ایسا سنانا جو سمجھ میں آۓ” عنایا نے تنبیہی انداز میں کہا۔
“پرانے خط ہیں،دراز آدھی کھلی ہوٸی ہے
ہوا کے اندر کسی کی خوشبو گھلی ہوٸی ہے
میں کتنی مشکل سے خود کو اچھا بنا رہا ہوں
مگر محبت! بگاڑنے پر تلی ہوٸی ہے۔۔۔!!”
“واہ واہ واہ!” عنایا اور ہبہ نے جھوم جھوم کر خوب داد پیش کی۔
“اب تو سنا!” ہبہ نے عنایا سے کہا۔
“میں اپنی ٹاٸپ کا شعر سناٶں گی”عنایا نے بمشکل ہنسی روکتے ہوۓ کہا۔
“اب سنا بھی!” ہبہ نے اسے مسلسل ہنستے دیکھ کر دوبارہ کہا۔
“چلو سنو” عنایا نے گلہ کھنکارتے ہوۓ کہا۔
“ارشاد ارشاد” حرم نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“مجھے محبت ہے ان جوانوں سے
جن کا تعلق ہے اونچے گھرانوں سے”
عنایا کے شعر سنانے کے بعد ہبہ کی ہنسی چھوٹ پڑی تھی جبکہ حرم شاعری کی یوں توہین کرنے پر عنایا کو دیکھ کر مسکراتے ہوۓ نفی میں سر ہلانے لگی جو خود اپنی ہنسی روک نہیں پا رہی تھی۔
* * * * * * * * * *
وہ تینوں پانی پینے فِلٹر کے سامنے کھڑے بلاوجہ کی ہانک رہے تھے کیونکہ پروفیسر امجد آج چھٹی پر تھے تبھی انس نے ایک سنجیدہ سوال کیا۔
“تم دونوں کی سب سے بڑی خواہش کیا ہے؟” اس نے ہنزلہ کو پانی پیتے دیکھتے ہوۓ ان دونوں سے پرسوچ انداز میں سوال کیا۔
“میری؟”ہنزلہ نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا۔
“نہیں تیرے فرشتوں کی!” انس اس کو گھوری سے نوازتے کہنے لگا جبکہ عاٸز ہنزلہ کے ساتھ کھڑا اسے دیکھ رہا تھا۔
“یار! میری سب سے بڑی خواہش۔۔۔۔” وہ سوچنے کی ایکٹِنگ کرنے لگا۔
“بَک بھی دے” انس نے چند لمحوں بعد کہا۔
“شہادت!” یک لفظی جواب انس کو کچھ دیر کیلیٸے حیرانی میں مبتلا کر گیا۔
“اکٹھے چلیں گے” عاٸز نے مسکرا کر کہتے ہوۓ ہاتھ اس غرض سے آگے کیا کہ وہ دونوں وعدہ کریں۔
“کہاں؟” انس حیرانی کی کیفیت سے نکلتا پوچھنے لگا۔
“جنت میں!” ہنزلہ نے انس کے سوال کرتے ساتھ ہی ہاتھ عاٸز کے ہاتھ پر رکھ دیا جب کہ انس ابھی تک ان دونوں کو دیکھنے میں محو تھا۔
“چل اب رکھ دے” عاٸز نے انس کو کسی سوچ میں گم دیکھ کر کہا۔
“یار! مجھے تھوڑا ڈر لگتا ہے”?انس نے سر کھجاتے ہوۓ کہا۔
“تجھے ایک بات بتاٶں؟” ہنزلہ نے عاٸز کو اشارہ کرتے انس کی طرف دیکھ کر فوراً سوال کیا۔
“بتا؟” انس ان دونوں کے ایک دوسرے پر رکھے ہاتھ دیکھ رہا تھا۔
“تجھے پتہ ہے لڑکیاں آرمی بواٸز کی کتنی دیوانی ہیں!” ہنزلہ نے مسکراتے ہوۓ رازداری سے کہا۔
“قسم اٹھا!” انس نے یقین دہانی چاہی۔
“اللہ کی قسم!” ہنزلہ نے بنا کسی انتظار کے فوراً یقین دہانی کرواٸی۔
“پھر تو تمہارا بھاٸی سب سے پہلے آرمی جواٸن کرے گا” انس نے زور سے اپنا دایاں ہاتھ ان دونوں کے ایک دوسرے پر رکھے ہاتھوں پر رکھ کر ہنستے ہوۓ کہا۔
“دیکھا کتنا دل پھینک ہے!” عاٸز کے کہنے پر انس فخر سے کالر جھاڑنے لگا جب کہ ہنزلہ اسے دیکھتے ہوۓ ہنسنے میں مصروف تھا۔ مذاق تو انس کی فطرت میں شامل تھا مگر وہ سچ میں تہہ ِدل سے اپنی فوج کا دیوانہ تھا۔
ہم حق پر جان لٹاٸیں گے، ہم شوقِ شہادت والے ہیں
وہ ساتھ ہمارا ترک کر دیں جو موت سے ڈرنے والے ہیں
* * * * * * * * * *
“کیا بنا نٸے ریسٹورنٹ کی لوکیشن کا؟” وہ دونوں اپارٹمنٹ میں بیٹھے کافی پی رہے تھے تبھی فاٸق نے یاد آنے پر سامنے بیٹھے ابدال سے فوراً سوال کیا جو اپنی ہی دنیا میں کھویا ہوا تھا۔
“ہممم۔۔۔! جگہ مل گٸی ہے، کچھ دن میں کنسٹرکشن سٹارٹ کرواٶں گا” ابدال نے اپنی سوچوں سے چونک کر اس کے سوال کا جواب دیا۔
“کچھ دن؟ کیوں؟” فاٸق کو اس کے کنسٹرکشن ڈیلے کرنے کی وجہ سمجھ میں نہ آٸی۔
“بس یونہی! میں کچھ ضروری کام کرنے کے بعد اس کام کو شروع کرنا چاہتا ہوں” ابدال نے کافی کا مگ ہاتھ میں پکڑے فاٸق کے سوال کا جواب دیا۔
“کونسے کام؟” فاٸق نے بھنویں اچکاتے ہوۓ سوال کیا۔
“تم جانتے ہو!” ابدال نے اسکی طرف دیکھتے ہوۓ پُراسرار انداز میں کہا۔
“نہیں تو!” فاٸق نے نفی میں سر ہلایا۔
“یار! میں شادی کے بعد یہ کام شروع کروں گا” ابدال کسی قدر شرمایا تھا۔
“اوہ! تو یہ ضروری کام ہے؟” فاٸق اسکی طرف دیکھتے ہوۓ مسکرا کر رازداری سے پوچھنے لگا۔
“لیکن تم ریسٹورنٹ بنوا لو، افتتاح بعد میں کر لینا، ویسے بھی شادی کو کیا پتہ ابھی کتنا وقت لگ جاٸے؟” فاٸق نے مخلصانہ مشورہ دیا۔
“امی لوگ جا رہی ہیں اس کے گھر میرا پروپوزل لیکر اسی سَنڈے” ابدال نے وضاحت دی۔
“اچھا، مبارک ہو!” فاٸق نے اثبات میں سر ہلایا۔
“مبارک تب دینا، جب ہاں ہو گی” ابدال نے خدشہ ظاہر کیا۔
“میرے اتنے خوبصورت دوست کو کوٸی انکار کر سکتا ہے بھلا؟” فاٸق نے مسکراتے ہوۓ کافی کا مگ سامنے ٹیبل پر رکھا۔
“پھر بھی ہزاروں مساٸل ہوتے ہیں” وہ کسی حد تک پریشان تھا۔
“ہو تو سکتے ہیں، پر انشا۶اللہ سب ٹھیک ہو گا! اللہ پر بھروسہ رکھو” فاٸق نے اسے تسلی دیتے ہوۓ کہا۔
“ہاں! تمہارا آٸیڈیا کافی اچھا ہے ریسٹورنٹ پہلے بنوا لینے کا، افتتاح بعد میں کروا لوں گا” ابدال نے کمال مہارت سے موضوع بدلا۔
“کروا لوں گا؟” فاٸق کو حیرانی ہوٸی۔
“ظاہر ہے اسی سے کرواٶں گا” ابدال نے مسکراتے ہوۓ کہا۔
“کس سے؟” فاٸق نے نہ سمجھتے ہوۓ دوبارہ سوال کیا۔
“تمہاری بھابھی سے!”ابدال نے ہنستے ہوۓ پاس پڑا کشن فاٸق کو دے مارا جو مسلسل اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔
* * * * * * * * * *
وہ کھڑکی کھولے سامنے لان کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہوۓ فون پر محوِ گفتگو تھی جہاں آندھی کے بعد اب تیز بارش کے ساتھ ساتھ سرخ اور پیلے گلابوں پر پڑتے اولے ان کی پتیوں کو زمین بوس ہونے پر مجبور کر رہے تھے اور کھڑکی سے آتی اکتوبر کی ٹھنڈی ہواٸیں اسے بار بار اپنے بال کانوں کے پیچھے اڑسنے کا حکم سناتی تھیں۔
“کتنا خوبصورت موسم ہے”اس نے لان میں موجود درخت کی شاخوں کو محوِ رقص دیکھ کر کہا۔
“تم سے خوبصورت نہیں!” وہ فون پر یہ جملہ سن کر بے اختیار مسکرا دی تھی تبھی دروازے پر دستک ہوٸی مگر اس نے دھیان نہ دیا اور چند لمحوں بعد خدیجہ بیگم کمرے میں داخل ہوٸیں اور عنایا کی طرف دیکھتے ہی سوال کیا جو جلدبازی میں فون بند کر کے بیڈ پر پھینکتے ہوٸے ہڑبڑاہٹ کا شکار نظر آٸی تھی۔
“کس کا فون تھا؟” خدیجہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ پرشفقت انداز میں سوال کیا۔
ٗ”کسی کا نہیں” اپنی ہڑبڑاہٹ پر قابو پا کر وہ غصے سے کہتی دوبارہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
“کیا ہو گیا ہے عنایا؟” وہ چلتے ہوۓ اس تک آٸی تھیں۔
“امی پلیز! مجھے بچوں کی طرح ٹریٹ نہ کیا کریں”اس نے فوراً الجھن کا شکار ہوتے ہوۓ خدیجہ بیگم کے اپنے گالوں پر رکھے ہوۓ ہاتھ جھٹکے۔
ٗ”تم اتنی بڑی بھی نہیں ہو!” خدیجہ بیگم ضبط کے باجود تلخ ہو گٸی تھیں۔
“امی خدا کا واسطہ ہے، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں” وہ ہاتھ جوڑتے ہوۓ کہنے لگی جیسے وہ اتنے خوبصورت موسم میں ان کی شکل دیکھنے کی بھی روادار نہ تھی۔
“کل میں، تم اور تمہارے بابا ان کے کسی دوست کے گھر جاٸیں گے” انہوں نے اسکے کمرے میں آنے کا مدعا بیان کیا۔
“میں نہیں جا رہی” اس نے لان سے نظریں ہٹا کر خدیجہ بیگم پر مرکوز کرتے ہوۓ کہا۔
“میں تم سے مشورہ لینے نہیں آٸی، تمہیں بتانے آٸی ہوں” وہ اس سے کہتی آنکھوں میں آنسو لیۓ اس کے کمرے سے نکل گٸیں۔
“اونہہ!” عنایا نے ان کے جاتے ہی منہ بسور کر دوبارہ فون اٹھا لیا۔
* * * * * * * * * *
وہ کافی دن سے پریشان دل کو اللہ کے سامنے ہلکا کرنے کیلیۓ یونی سے آ کر ہاسٹل کے کمرے میں جاٸے نماز بچھاٸے عصر کی نماز ادا کرنے کے بعد دعا کرنے میں مگن تھی۔
“یا اللہ! میں نے ٹرینڈ اور فیشن کا نام دے کر دوسروں کی طرح تیری حدوں کو نہیں توڑا، یا اللہ! میں نے اپنی ناجاٸز خواہشات کو پورا کرنے کی دعاٸیں نہیں مانگیں، میں نے اپنے نفس پر پاٶں رکھا ہے، میرے دل کو سکون عطا کر اور میرے فیصلے پر مجھے ثابت قدم کر دے، یا اللہ! مجھے اس طرف نہ لے کر جا جس میں میری وجہ سے میرے والدین کی رسواٸی ہو، یا اللہ! میرے دل و دماغ کو اپنی حدیں پار کرنے والا نہ بنا، مجھے غلط راستوں کی طرف نہ لے کر جانا، یا اللہ! مجھے صراطِ مستقیم پر چلااور میرے والدین کو صحت و تندرستی عطا فرما” آمین ثم آمین!
وہ اپنے ہاتھ چہرے پر پھیر کر اٹھتے ہوۓ قدرے پرسکون تھی اور پھر روم کے باہر سے اسے کشف کشف کی آوازیں سناٸی دی جو یقیناً اسکی کوٸی کلاس فیلو تھی جو اسکے ساتھ بیٹھتی تھی کیونکہ دوستیں بنانا تو اس کی عادات میں کسی طور شامل نہ تھا۔
* * * * * * * * * *
خدیجہ بیگم، ذاکر صاحب اور عنایا گزشتہ روز طوفانی بارش ہونے کے بعد خوشگوار موسم میں شام کے وقت کشف کے گھر جا رہے تھے۔ عنایا کا آنے کا ہرگز کوٸی ارادہ نہ تھا مگر پورا دن ایاز کو کالز کر کر کے وہ تھک گٸی تھی مگر اس کا فون مسلسل بند آ رہا تھا تو اس نے گھر پر رہ کر بور ہونے کی بجاۓ خدیجہ بیگم کے ساتھ بھاٸی کا پروپوزل لے جانے مں بہتری سمجھی۔گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے وہ باہر کے نظاروں کے ساتھ ساتھ مسلسل فون پر اسے کالز اور میسجز کرنے مں مصروف تھی۔”ایاز پہلے تو کبھی ایسا نہیں کرتا تھا” اس نے سوچا۔
تقریباً بیس منٹ کی ڈراٸیو کے بعد وہ صادق صاحب کے گھر کے باہر کھڑے تھے اور گاڑی دیکھتے ہی بوڑھے چوکیدار نے فوراً گیٹ کھول دیا۔ کار پورچ میں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ صادق صاحب اور منیبہ بیگم ان کے استقبال کے لیۓ اندرونی دروازے کے پاس موجود تھے۔
“السلام علیکم!” ذاکر صاحب اور صادق صاحب بغل گیر ہوۓ۔
“وعلیکم السلام” خواتین بھی ایک دوسرے سے گلےملیں اور پیچھے کھڑی عنایا منہ بسورتے انہیں دیکھ رہی تھی جب منیبہ بیگم نے خود ہی اس سے ہاتھ ملایااور ذاکر صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ پھیراجو اسے سب سے چِیپ لگتا تھا کہ بھٸی پرانے زمانے والی عورتوں کی طرح دلاسہ لینے کی کونسی تُک ہے۔ وہ نفی میں سر ہلاتی ان سب کے ساتھ ڈراٸنگ روم میں داخل ہو گٸی اور داخل ہوتے ہی خدیجہ بیگم کے ساتھ صوفے پر بیٹھتے ہوۓ اس نے اعتراف کیا کہ یہ ڈراٸنگ روم ان کے ڈراٸنگ روم سے زیادہ خوبصورت تھا۔
“آپ کیسی ہیں بیٹا؟” منیبہ بیگم نے اسکی والدہ سے حال احوال دریافت کرنے کے بعد اس کے ٹاپ جینز پینے ہاتھ میں فون پکڑے کھلے بالوں کے ساتھ براۓ نام مفلر کی طرح دوپٹہ اوڑھے(جو اس نے خدیجہ بیگم کے اسرار پر لے لیا تھا) سراپے پر نظر ڈالتے مسکراتے ہوۓ سوال کیا۔
“میں ٹھیک ہوں، آپ؟” وہ مختصراً جواب دیتے ہوۓ مسکرا بھی نہ سکی۔
“اللہ کا شکر ” انہوں نے جواب دیا اور پھر خدیجہ بیگم سے باتوں میں مصروف ہو گٸیں جب کہ سامنے بیٹھے ذاکر اور صادق صاحب سدا کے بچھڑے دوستوں کی طرح مل کر پرانے قصے اور باتوں میں محو تھے اور وہ مسلسل فون چیک کر رہی تھی کہ شاید جواب آ جاۓ۔
“آج ہم آپ کے گھر بہت ضروری بات کرنے آۓ ہیں” ذاکر صاحب کے کہنے پر منیبہ بیگم ان کی طرف متوجہ ہوٸیں۔
“جی کہیے؟” منیبہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ سوال کیا۔
“دراصل ہم آپکی بیٹی کشف کیلیۓ اپنے بیٹے ابدال کا پروپوزل لے کر آٸے ہیں”ذاکر صاحب کے بات مکمل کرنے کے بعد چند لمحے خاموشی کی نذر ہوۓ۔
“تمہارے ساتھ دوستی کے علاوہ بھی کوٸی رشتہ جُڑ جاۓ تو میرے لیٸے اس سے بڑی خوشی کی بات کیا ہو گی میرے یار!” صادق صاحب اٹھ کر ذاکر صاحب سے گلے ملتے ہوۓ کہنے لگے۔
“تمہیں پتہ ہے نا مجھے کالج کے زمانے سے ایک لفظ سے نفرت ہے” انہوں نے ان کےساتھ بیٹھتے ہوۓ مزاحیہ انداز میں کہا۔
“اور وہ لفظ ہے”نہیں” صادق صاحب کے انداز پر ڈراٸنگ روم میں سب کے قہقہہے گونجے تھے سواۓ ایک شخص کے جسے نہ جانے کونسی فکر ستاۓ جا رہی تھی۔
“میں زرا کچن سے ہو کر آتی ہوں” منیبہ بیگم نے خدیجہ بیگم سے معذرت خوانہ انداز میں کہا جس پر انہوں نے مسکراتے ہوۓ اثبات میں سر ہلا دیا اور ان کے جانے کے بعد وہ مسلسل اسے فون رکھنے کا کہہ رہی تھیں مگر اس نے بھی نہ سننے کی قسم کھا رکھی تھی۔
“پر یار! میں پہلے کشف سے پوچھنا چاہتا ہوں” صادق صاحب ان کے منہ سے شادی کی بات سن کر عام سے لہجے میں کہنے لگے۔
“ہاں! وہ تو ضروری ہے، تم بیٹی سے پوچھ لو، مجھے یقین ہے وہ انکار نہیں کرے گی، وہ نافرمان یا اپنی مرضی کرنے والوں میں سے بالکل نہیں ہے، ابدال نے اسکو ترکی میں دیکھا ہے اور وہ اسے سادہ مزاج کی ہی وجہ سے پسند آٸی ہے کیونکہ ابدال کو آج کل کی چالاک اور فیشن ایبل لڑکیوں میں بالکل دلچسپی نہیں ہے، وہ ہر چیز کو ایک حد میں پسند کرتا ہے” ذاکر صاحب ان کے ساتھ محوِ گفتگو تھے تبھی ہنزلہ ڈراٸنگ روم میں داخل ہوا۔
“السلام علیکم انکل!” وہ ذاکر صاحب کے اٹھنے پر ان کے بغل گیر ہوا۔
“السلام علیکم آنٹی!” وہ خدیجہ بیگم کو سلام کرتا سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا، اس کے سلام پر عنایا ایک لمحے کو چونک کر اسکی طرف متوجہ ہوٸی تھی مگر پھر اپنے فون میں گھس گٸی۔
“وعلیکم السلام، جیتے رہو بیٹا” خدیجہ بیگم نے پرشفقت انداز میں کہا تھا۔
“صاحبزادے کیا کر رہے ہیں آجکل؟” ذاکر صاحب اس سے سوال کرنے لگے جو سادہ سی واٸٹ ٹی شرٹ کے ساتھ بلیک پینٹ پہنے، بالوں کو خاص سٹاٸل سے داٸیں طرف موڑے اور ہاتھ پر بلیک کھڑی پہنے نہایت ڈیسنٹ لُک کے ساتھ ان کے سامنے بیٹھا تھا۔
“انکل میں ایف ایس سی کر رہا ہوں!” اس نے کالج کا نام بتایا۔عنایا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا تھا اتنے میں منیبہ بیگم میڈ کے ساتھ لوازمات سے بھری ٹرے اور چاۓ سرو کرنے لگیں۔
“اس کے بعد کیا ارادہ ہے؟” انہوں نے دوبارہ سوال کیا جب وہ عنایا کی طرف دیکھ رہا تھا اور اسے وہ کسی قدر امیچیور لگی جسے یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ بھری محفل میں فون میں اس قدر گم نہیں ہوتے کہ دوسروں کی طرف دیکھنے کی بھی فرصت نہ ہو۔
“آرمی انشا۶اللہ” اس نے مسکراتے ہوۓ مختصراً جواب دیا جس پر ایک پل کیلیۓ صادق صاحب نے اسے خوشگوار انداز میں گھوری سےنوازا تھا۔
“اچھا خواب ہے، مگر تعلیم؟” ذاکر صاحب اسکی گفتگو اور انداز سے لطف اندوز ہو رہے رھے۔
“بابا تو یہی کہتے ہیں مگر میں ایف ایس سی کے بعد جواٸن کرنا چاہتا ہوں” وہ ان کی طرف دیکھتے ہوۓ مزے سے بتا رہا تھا اور عنایا اس کی باتیں سن کر حیران ہو رہی تھی کہ اتنی چھوٹی عمر میں فوج میں جانے کا فیصلہ بہت بڑے جگر کی بات ہے۔اس نے دل ہی دل میں سامنے بیٹھے لڑکے کی بہادری کا اعتراف کیا جو انتہاٸی گُڈ لُکنگ تھا۔
“ہممم۔۔۔” انہوں نے اثبات میں سر ہلا دیا اور دوبارہ صادق صاحب سے محوِ گفتگو ہو گٸے جبکہ ہنزلہ کو اس لڑکی سے خاصی الجھن ہو رہی تھی جو چار بڑے لوگوں کے بیٹھے ہوۓ بھی فون سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے کے دے رہی تھی۔
“آخر فون میں ایسا کیا ہے؟” وہ صرف سوچ سکا کیونکہ انجان لڑکیوں سے بات کرنا وہ نہایت چِیپ سمجھتا تھا، وہ نروس بھی ہو جاتا تھا اور اسے یہ حرکت بہت گھٹیا لگتی تھی۔
“ہم جلد از جلد شادی کرنا چاہتے ہیں” خدیجہ بیگم نے منیبہ بیگم کے سامنے ابدال کی خواہش کا اظہار کیا۔
“ہم سوچ کر آپکو بتاٸیں گے” منیبہ بیگم کچھ پریشان لگ رہی تھیں۔
“لیکن ہمیں جواب ہاں میں چاہیۓ ” خدیجہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ ہاتھ میں چاۓ کا کپ پکڑے انہیں خبردار کیا تھا۔
” جو اللہ کو منظور ہوگا، وہی ہو گا!” انہوں نے مسکرانے کی کوشش کرتے ہوۓ کہا۔
“انشا۶اللہ” خدیجہ بیگم یقین سے کہہ رہی تھیں۔
منیبہ بیگم نے اثبات میں سر ہلاتے لوازمات سے بھری ٹرے خدیجہ بیگم کے بعد عنایا کے آگے کی مگر اس نے کچھ لینے سے انکار کر دیا۔فون خدیجہ بیگم کے بار بار کہنے پر بند کر کے رکھ دیا تھا مگر موڈ ایسا آف ہوا کہ چاۓ پینے یا کوٸی اور لوازمات لینے سے صاف انکار کر دیا اور گھر پہنچنے تک اسکا منہ یونہی لٹکا ہوا تھا مگر خدیجہ بیگم نے سوال و جواب کرنے سے گریز کیا اور ذاکر صاحب ہمیشہ کی طرح یہ اسکی خاموش مزاجی سمجھے تھے۔
* * * * * * * * * *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *