325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 9 & 10)

Gumrah By Yumna Writes

دن تیزی سے گزرنے لگے تھے ،، گڑیا محمد کے ساتھ کافی اٹیچ ہو چکی تھی ،، وہ تو پہلے ہی اُسکا دیوانہ تھا ،، لیکن اس نے گڑیا کو اپنے ساتھ اتنا اٹیچ کر لیا تھا کہ اب اس کی عادت بن چکی تھی ،، روز صبح اٹھ کے اس کے ڈھیروں میسج پڑھنا ،، اس کے محبت بھرے شعر ،، غزلیں پڑھنا ،، البتہ وہ جواب کم ہی دیتی تھی ،، اس کے باوجود اس نے کبھی اس سے جوابی کاروائی نہیں چاہی تھی ،، ۔۔۔ وہ اسے ہر لحاظ سے قبول تھی ۔۔۔

جمعے کا دن تھا گڑیا کے گھر کے تمام نفوس اکٹھے بیٹھے دوپہر کا کھانا نوش فرما رہے تھے ،،کہ فضا میں چاند کا فون گنگنایا ۔۔۔

محمد کا فون تھا ،،اسلام دعا کرتے اس نے عظم صاحب کی طرف بڑھایا ۔۔،،
آپ سے بات کرنا چاہ رہے ہیں ۔۔۔

گڑیا اس کا یوں اچانک فون کرنے کا مقصد سمجھ چکی تھی ،، وہ اسے کچھ دنوں سے بارہا نکاح کے لیے فورس کر رہا تھا ٫ لیکن گڑیا کا صاف انکار سنتے وہ اشتعال میں آتا فون بند کر چکا تھا ۔۔

اسلام دعا کے بعد اس نے نرمی اور شائستگی سے اپنی بات کا آغاز کیا تھا ،، انکل میرا اس سال کے آخر میں آنے کا پلان ہے لیکن میں چاہتا ہوں کہ پہلے ہمارا نکاح ہو جائے فون پر ،،

اس کے بعد میں گڑیا کو یہاں بلا کر اس کے ساتھ عمرہ کرنا چاہتا ہوں ،، میں آپکی اور امی جی کی بھی ٹکٹ کروا دونگا ۔۔ آپ دونوں ہمارے بڑے ہیں ، آپ لوگو کی دعائیں ہمارے لیے بے حد اہم ہیں ۔۔

کیا آپ مجھے نکاح کی اجازت دیتے ہیں ،، وہ متانت بھرے لہجے میں دھیمی مہذبانہ آواز میں ان سے استفسار کر رہا تھا ۔

اس کے مطالبے پر ان کے چہرے کے تاثرات یکسر بدلے تھے ،، چہرے پر سنجیدگی نمودار ہونے لگی تھی ،، وہ بہت سخت گیر انسان نہ تھے ” ان کی نگاہ میں بچوں کی مرضی جاننا بہت ضروری تھا ” ۔۔
دیکھو بیٹے ” میں زور زبردستی کا قائل نہیں ہوں ،، آپ نے مجھ سے اپنی خواش ظاہر کی ۔۔میں آپکی خواہش کی عزت کرتا ہوں ۔۔۔

محمد اپنے پیر جھلاتا سگریٹ کے گہرے کش لیتا ان کے جواب کا منتظر تھا ،، وہ عام سے نقوش رکھنے والا سانولی رنگت والا شخص جس کے چہرے پر اسکی گہری سیاہ رنگت آنکھیں اپنے اندر ایک عجب کشش لیے ہوئے تھی جو اسے دوسروں سے مختلف اور پرکشش بناتی تھی،اس وقت ان آنکھوں میں واضح ہوتی سنگینی اور کچھ حاصل کرنے کا جنون چھایا ہوا تھا ۔۔

بیٹے میں سب سے مشورہ کرکے آپکو کل تک سب کے فیصلے سے آگاہ کرونگا ۔۔ وہ اسے نرمی سے کل تک اپنا فیصلہ بتانے کا کہتے فون چاند کو دے چکے تھے

سارہ بیگم جو ان کے قریب بیٹھی بڑے وثوق سے انہیں بات کرتی دیکھ رہی تھے ۔۔ فون بند ہوتے ہی فوراً سے استفسار کرنے لگی ۔۔
کیا بات ہے ؟؟

کیا پوچھ کے بتائے گے ،، ان کی عجلت بھرے انداز پر سب مسکرا دے ۔۔

رخصتی چاہتا ہے آپکا بیٹا ” ۔۔۔ نکاح کی ڈیمانڈ کی ہے فون پر ــــــ
پھر وہاں بلا کے ہمیں عمرہ کروانا چاہتا ہے ۔۔

وہ ساری بات ان کے گوش گزرا کر گئے ،، آپ نے کیوں نہیں کہا کہ ہم ایسے رخصت نہیں کریں گے ہماری بچی کو ، ہمارے اتنے ارمان ہیں اپنی بچی کے لیے ، اور سب سے بڑھ کر میں اپنے خاندان کے بغیر کبھی نہ یہ قدم اٹھاو ،،

پہلے ہی لوگ کہتے کہ لڑکے میں کوئی کمی ہوگی جو ہم جیسے سادہ لو اور متوسط خاندان سے رشتہ جوڑا ،، رخصتی کرکے میں لوگو کی زبانیں نہیں کھلوانا چاہتی میں ،، وہ انہیں دو ٹوک انکار کا بول رہی تھی ۔۔

مجھے مناسب نہیں لگا ،، اسی لیے خامی بھر لی بچے کا دل نہیں برا کرنا چاہتا تھا ،، وہ ان کی جانب دیکھتے گویا ہوے اور ایک نگاہ گڑیا پر ڈالی جو چہرے پر قابل فہم تاثرات لیے اپنا فون ہاتھ میں تھامے بیٹھی تھی ۔۔۔
گڑیا تم کیا چاہتی ہو میری بچی ” جو آپ سب کو بہتر لگے گا میں اس میں راضی ہوں وہ سب کی جانب دیکھتی دھیمے لہجے میں اپنی مرضی ان کے فیصلے پر چھوڑ گئی

وہ ایک نظر اپنے فون کو دیکھتی اس کے میسج کا سوچنے لگی تھی ،، جس میں صاف لکھا تھا کے وہ اپنے ابو کو منائے رخصتی کے لیے ،، ۔۔۔
تم ان کو راضی کر سکتی ہو تم جان بوجھ کر میرا ساتھ نہیں دے رہی ۔۔
میں ایسا کیوں کروں گی محمد ،،

وہ دبے دبے غصے میں فون پر انگلیاں تیزی سے چلاتی اس کی ضد سے تنگ آ گئی تھی
میں کیا کر سکتی ہوں ،، میں نے آپکو پہلے سب کے فیصلے سے آگاہ کیا تھا،، وہ لب کچلتی بے بسی سے اسے میسج کر رہی تھی

تم راضی کرو انہیں ،، دوسری جانب سے میسج موصول ہوا ۔

میں کیسے “… آپ کیوں نہیں سمجھتے ” محمد “….
رخصتی کے لیے تو وہ خود بھی تیار تھی ،، لیکن اپنے گھر والوں کی رضامندی اس کے لیے سب سے اہم تھی

وہ اسکی بے تکی تکرار سے تنگ آ چکی تھی ” ۔۔۔
اتنا یاد رکھنا گڑیا ،، اگر مجھے انکار ملا تو میں تمہیں چھوڑو گا نہیں ، میری شدتوں اور جارحانہ گرفت سے آپکو کوئی نہیں بچا سکتا ، آپ کے وجود پے میں اپنی تشنگی اور وحشت کے ایسے نشان چھوڑو گا کہ آپ پچتائے گی اپنے فیصلے پر ۔۔

اس کا دلفریب سراپا اور حسن جمال اس کی آنکھوں میں حمار کی گہری سرخی بکھیر گیا ۔۔

جبکہ دوسری جانب اس کے میسج پڑھتے گڑیا کے ہاتھ کانپ گئے تھے ،اس کا نازک دل کانپ اٹھا تھا ،، اس کے الفاظوں نے اسے ہلا کے رکھ دیا تھا ،، اس کے لفظوں کی سنگینی اور گہرائی سمجھتے اُسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا تھا ،اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتی عظم صاحب نے اس سے سوال کیا تو وہ جو گھبرائی سی اسے جواب دینے لگی تھی ان کو ٹھٹھک کر اپنی روشن ساکت آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔
میں آتی ہوں

اپنے شل ہوتے دماغ کے ساتھ اٹھتی سب کے درمیان سے زینے اُترتی نیچے کمرے میں داخل ہو گئی ، ہاتھوں میں سر گراتے وہ اس شخص کی فضول کی ضد اور ڈھٹائی سے تنگ آ چکی تھی ،، اس کا برجستہ جواب اور الگ روپ دیکھ کے وہ حیران و پریشان سی تھی ۔ اس کا دماغ سنسنا اٹھا تھا ،، حنین کی کال آتی دیکھ اس نے سکھ کا سانس بھرا ، آخر کوئی تو تھا جس سے وہ سب کچھ شئر کر سکتی تھی ۔
اس موضوع کو وہ فلحال بند کرتے وہ اس کی کال یس کر گئی تھی۔

حال چال پوچھنے کے بعد ان کا شوپنگ کا پلان بنا ۔۔۔

اور دونوں کچھ ہی دیر بعد اکٹھے ہوتی مال جانے کے لئے نکل چکی تھی ۔۔
موسم کافی خوبصورت تھا ” دونوں رکشے میں بیٹھی ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے لطف اٹھاتی باتو میں مصروف تھی ۔۔

یار میں نے محمد کے لیے اچھا سا ڈریس لینا ہے ،، وہ کافی ناراض ہیں مجھ سے گڑیا متفکر سی اسکی جانب دیکھتی گویا ہوی ۔۔

ایک تو اب تمہارے فضول قسم کے چونچلے شروع ہو گئے ہیں ” میں تمہیں بارہا بول چکی ہوں مجھے یہ بندہ ٹھیک نہیں لگتا ۔
حنین اپنی چمکتی سیاہ رنگت خوبصورت آنکھوں سے نقاب تھوڑا چہرے سے نیچے کھسکاتی آنکھوں میں عجیب تاثرات لیے گویا ہوئی تو ساتھ بیٹھی گڑیا نے اسے شاکی نگاہوں سے گھوڑا ۔۔
اس کے من موہنی صورت اور بھرے بھرے گالوں کی سرخی کو وہ دیکھتی رہ گئی

اب ایسا بھی نہ کہو ،بہت اچھے ہیں وہ ویسے کبھی تھوڑا جذباتی ہو جاتے ہیں ۔
ہنہہہہ ۔۔۔۔۔ یقین جانو گڑیا مجھے اس شخص کے تیور کچھ ٹھیک نہیں لگتے ،، عجیب دماغ کا بندہ ہے ۔۔
ہاتھ پر دل بنا لیا ہارٹ بیٹ نہیں بنائی تو واپس جاؤ ،، ایسے کون کرتا ۔۔
اور اب جو تم نے بتایا ہے ۔۔۔

بولتے ہوئے وہ رکشے سے اترتی بھائی کو پیسے پکڑاتی ،، روشنیوں سے چمچماتے اس مال میں داخل ہو گئی ۔

تم ہی بتا رہی ہو نہ کے اب نئی ضد ،، نہ کوئی جان نہ پہنچان ۔۔ابھی وقت ہی کتنا ہوا ہے منگنی کو یان تو ہو وہ اس ایک سال میں پاکستان آیا ہو تم سے ملاقات کی ہو پھر بھی یہ سوچا جا سکتا تھا کہ نکاح کر لیا جائے ۔۔

چونکہ وہ ابھی تک واپس نہیں آیا تو کیا تمہیں بہتر لگتا ہے ایسے شخص سے نکاح کرکے وہاں چلے جاؤ جسکا موڈ پل میں تولہ پل میں ماشا ہوتا ہے ۔۔

جے ڈاٹ کی شاپ پر جاتے حنین پرفیوم والے سیشن میں گئی ۔
یقین مانو گڑیا مجھے یہ محمد بلکل کسی گھٹیاں پرفیوم کی مانند معلوم ہوتا ہے اوپر سے خود کو برانڈ ظاہر کرتا ہے اندر سے پھوکا ۔۔
ہاتھ پر ضرار پرفیوم چھڑکتے اس کو اپنی چھوٹی سی ناک کے قریب کرتے وہ اس کی خوبصورت مہک میں کھو سی گئی ۔

تم جانتی ہو میں صرف اس برینڈ کی پرفیوم کیوں لیتی ہوں ۔۔
گڑیا کی جانب دیکھتی وہ استفسار کر رہی تھی ۔۔ گڑیا نے بنویں اُچکائی ۔۔

تم مجھے کہتی رہتی ہو تم پرفیوم پر پیسے ضائع کرتی ہو لیکن میں کبھی کچھ نہ بولی کیونکہ میں کافی دوسرے بڑے برانڈز سے پرفیومز خرید چکی ہوں لیکن لگانے کے کچھ دیر بعد ہی وہ بے اثر ہو جاتی ہیں ۔۔
جیسے تمہارا محمد ” ۔۔ اونچی دکان پھیلا پکوان ۔۔
باہر سے کچھ اور اور اندر سے کچھ اور ،، وہ اپنا اصل تم سے چھپا رہا ہے حقیقتاً وہ شخص نہیں ہے ۔

جانے تم کیوں نہیں سمجھتی” ۔۔۔

اپنی پسند کی دو پرفیومز لیتے بل پے کرتی وہ ڈریسز دیکھنے لگی ” گڑیا تو جیسے اس کی بات سے ساکت آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی جو اپنے کام میں مگن بولتی اسے اس تلخ حقیقت سے آشنا کر رہی تھی ۔۔
اس کے دل میں جو اندیشہِ تھا وہ حنین کی زبان پر تھا ” اُسکا دل خوف سے لرزہ تھا ۔۔
دل میں دعا گو تھی کاش ایسا نہ ہو جیسا وہ سوچ رہی ہے ۔

میں تمہیں اس سے بدظن نہیں کرنا چاہتی یار !!!!

لیکن تم آج کل کے حالات سے واقف نہیں ہو کیا ؟… وہ لوگ مال میں موجود کیفے میں بیٹھ چکی تھی ،،گڑیا کا تو ہر چیز سے دل اچاٹ ہو گیا تھا وہ جو بخوشی محمد کے لیے شوپنگ کرنا چاہتی تھی حنین کی باتوں کی سنگینی کے احساس سے دماغ جیسے ماؤف سا ہو گیا ۔۔

تم جانتی ہو نہ آجکل سمگلنگ کتنی عام ہے ،، اور اب لوگ چیزوں سے زیادہ انسانوں کی سمگلنگ کرتے ہیں ہزاروں کیس روزآنہ نیوز چینلز پر نشر ہوتے ہیں ۔۔ کسی کو انصاف نہیں ملتا ۔۔

اور ہم لوگ ہم لوگ تو ہیں بھی مڈل کلاس ” ہمیں تو قبر میں اتارتے ہوے بھی اس بات کی فکر لاحق ہوتی ہے کہ روٹی کا کیا کرنا ہے تدفین کے کتنے پیسے ہونگے ۔؟؟

ہمیں کوئی تلاش نہیں کرتا ” مائیں روتی دھوتی رہ جاتی ہیں اپنے جوان بچوں کے لیے لیکن وہ واپس نہیں آتے اور نہ کوئی انہیں لاتا ہے ۔
ف ل س ط ع کا حال تمہارے سامنے ہے لاکھوں بچے جوان مرتے ہیں ہم میں سے کون بڑھا ہے انہیں بچانے ،، کوئی بھی نہیں ۔۔

کسی میں اتنی ہمت نہیں ” اور جو دولت مند ہیں وہ اس دولت کے نشے میں مست سب کچھ بھلائے بیٹھے ہیں ۔

ایسے حالات میں تم خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کرکے قدم اٹھانا ،، تمہاری ایک غلطی تمہیں پچھتاؤں کی زد میں مبتلا کر سکتی تھی لیکن تب تک فقط پچتاوے رہ جائیں گے پیچھے کچھ نہیں ۔۔
حنین برگر سے انصاف کرتی اس پر بہت سی تلخ حقیقتیں عیاں کر گئی تھی

اس کے اتنے آرام دہ انداز اور رسان سے کھاتے دھیمے لہجے پر گڑیا حیران پریشان سی اسے تکنے لگی تھی ،،

بلا آخر وہ خاموش نہ رہ سکی اور چیخ اٹھی ،، ۔۔۔ تم کیسے اتنے آرام سے اتنی گہری باتیں کر لیتی ہو حنین ،،کبھی کبھی تو تم مجھے شوکڈ کر دیتی ہو یار ۔۔

گڑیا اپنے بھاری پڑتے اعصاب پر قابو پاتے اپنا ماتھا مسلتے نا قابل فہم تاثرات سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
حنین دھیمہ سا مسکراتی اپنی گہری سیاہ رنگت خوبصورت آنکھیں اس پر ٹکاتی مبھم سے لہجے میں گویا ہوئی ۔۔

کیونکہ میں اپنے سامنے بہت سے مشکل حالات دیکھ چکی ہوں ،، اپنی ماں کو پریشان دیکھ چکی ہوں ۔۔
اپنے رشتے کے لیے ان کے حدشات دیکھ چکی ہوں ۔۔
میں ان حالتوں سے واقف ہوں جن کو تم نے ابھی تک فیز نہیں کیا

گڑیا اس کے لہجے کی مضبوطی اور آنکھوں میں واضح ہوتی نمی دیکھ چکی تھی ۔۔
میں توقع کرتی ہوں کے تم بہتر فیصلہ کرو گی ۔

بل پے کرتے وہ گھر کے لیے نکلیں تھی ” لیکن اس بار گڑیا مطمئن تھی اس کی دوست نے اسے ان باتوں کے بوجھ سے آزاد کیا تھا جن کا وزن اسکا نازک دل و دماغ برداشت نہیں کر پا رہا تھا ۔
تم بس اللہ کا نام لو اور اس پر سب چھوڑ دو ” اللہ پاک بہترین فیصلہ کریں گے ” انشاء اللہ ۔

الوداعی کلمات ادا کرتے حنین اسے راستے میں چھوڑتی اپنے گھر کی جانب روانہ ہوئی ۔

سچ کہتے ہیں اچھا دوست آپ کے لیے بہترین نعمت ہے اور آج گڑیا نے مان لیا تھا کے اسکی دوست بہترین دوست ثابت ہوئ تھی ۔
——————

شام کے سائے گہرے ہوتے اس خوبصورت فلیٹ کو اندھیرے کی لپیٹ میں لے رہے تھے ،، جہاں موجود شخص خاموش دوزانو بیٹھا گہری سوچ میں ڈوبا تھا ۔۔

سرخ لہو چھلکاتی آنکھوں میں عجب وحشت اور پراسراریت موجود تھی ۔
فون ہاتھوں میں تھامے وہ جانے کتنے ہی وقت سے اسی حالت میں بیٹھا شل سا ہو گیا تھا ۔۔۔ اس کی والدہ بیمار تھی ۔۔

وہ بیپی کی مريضہ تھی ” دو دن سے ہائی بلڈ پریشر کی وجہ سے وہ ہاسپٹل ایڈمیٹ تھیں” ڈاکٹر نے کہا تھا کہ اگر ایسی ہی صورت حال رہی تو ان کے دماغ کی نس بھی پھٹ سکتی ہے ۔۔

اسے کسی نے بتایا نہ تھا لیکن اب جب اسکی چهوٹی بہن (کزن) نے اسے ساری صورتحال سے آگاہ کیا کہ ماں نیم غنودگی میں بس اسے ہی پکارے جا رہی ہیں تو وہ اشتعال انگیز میں آتا اپنا فون پوری قوت سے سامنے دیوار پر مارتا چیخیں مارتا فرش پر بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔ سگریٹ جو اس نے سلگای ہوئ تھی لبوں پر آنے سے پہلے ہی ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر گری تھی ،، آج اسے محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ سگریٹ نہیں بلکہ اسکا اندر کوئی آگ سے سلگا رہا ہو اس کے تن بدن میں ایسی آگ لگی تھی کے وہ بلبلا کے رہ گیا تھا ۔

صدمہ اس قدر گہرا تھا کہ ضبط کی شدت سے دماغ کی شریانیں پھٹنے والی ہو گئی ۔۔
پل میں آنکھیں نم ہونے لگی ،، نگاہوں کے سامنے دھند چھانے لگی ۔۔ ایک احساس کے تحت اس نے اپنا دوسرا فون اٹھایا اور گجر کو کال کی جو فوراً موصول کر لی گئی ۔

اپنے آنسو پر بند باندھنے کی کوشش میں ہلکان ہوتا وہ مزید تکلیف محسوس کرتا لرزتے ہاتھوں سے اپنے چہرے پر موجود موتی صاف کرتا گویا ہوا ۔

گجر جو اس کی خاموشی سے پریشان ہوتا تنگ آتا اس سے پوچھ رہا تھا کہ ہوا کیا ہے خاموش کیوں ہو ۔۔۔

اس کی سانسوں کی گہری آواز سنتا تھم سا گیا ۔

تو رو رہا ہے ؟؟… اس کا تو کیلجہ کسی نے چیر دیا ہو جیسے ۔۔
آرون ۔۔۔ تجھے میری آواز آ رہی ہے کیا ہوا ہے تجھے کچھ بول کیوں نہیں رہا ” کرب سے مٹھیاں بینچتا وہ غیض وغضب سے چلا اٹھا ۔
میں مر رہا ہوں گجر ” مجھے بچا لے وہ بچوں کی طرح کہتا جوان خوبصورت مرد رو پڑا”….

میری ماں گجر ۔۔۔ مجھے واپس جانا ہے مجھے ماں پاس جانا ہے متواتر بہتے آنسو اس کے دلکش خوبصورت چہرے پر گرتے بھوری خوبصورت تراشی ہوئ دھاری میں جذب ہو رہے تھے ۔۔
وہ اذیت سے بول رہا تھا وہ جوان مرد کہیں سے بھی آج مضبوط نہیں لگ رہا تھا ۔۔ اپنوں کا دکھ انسان کو مار دیتا ہے ۔۔مضبوط سے مضبوط انسان زیر ہو جاتا ہے ۔

ماں میری مان مجھے یاد کر رہی ہیں ،، اپنے بال مٹھی میں جکڑے وہ بس ماں مان کی گردان لگاے ہوے تھا ۔
میں ابھی تیری ٹکٹ کروا رہا ہوں تو بس ریڈی ہو میں نکل رہا ہوں ۔۔
گجر کہتا تیزی سے باہر نکلا تھا ” چہرے پر کرب و تکلف واضح تھی وہ اپنے دوست کی حالت سے متفکر سا لب بینچے سب سے پہلے اسکی لاہور کی ٹکٹ کرواتا اسکی طرف جانے کا ارادہ کرتا نکلا تھا ۔

کچھ ہی دیر میں وہ اپنی سرخ آنکھوں پر چشمہ لگائے گجر کے ہمراہ ائیر پورٹ پر موجود تھا ۔۔

تھوڑی دیر بعد اسکی لاہور کی فلائٹ تھی ،، اٹلی میں اسکا گجر کے سوا کوئی نہ تھا ” دوست یار بہت تھے لیکن اتنے جگری نہ تھے گجر سے اسکی آٹھ سال پرانی دوستی تھی اور وہ دوست نہیں بھائی تھے ایک دوسرے کے ،، دونوں کا تعلق لاہور سے تھا ۔۔
عمر مومن سعودیہ عرب رہتا تھا اس کی ملاقات ان دونوں سے پہلے لائیو ایپ پر ہوی تھی اور پھر وہ اپنے امپورٹ ایکسپورٹ کے بزنس کے سلسلے میں اٹلی آیا تھا تو وہاں ان کی ملاقات ہوئی ۔

عمر مومن چھ ماہ سعودیہ اور چھ ماہ اٹلی رہتا ۔۔اسے پیسے کمانے کا جنون سوار تھا جبکہ اس سے مختلف گجر اور آرون کی فیملی کافی ہائی کلاس تھی ،، وہ دونوں اپنے شوق کی بنا پر باہر آئے تھے اور دونوں کا اپنا مال تھا ۔۔ باپ دادا کی کافی جائداد تھی ” انہیں زیادہ محنت مزدوری نہیں کرنی پڑی ۔۔
جب دل چاہتا واپس چلے جاتے ” ورنہ گھومتے پھرتے رہتے ۔
دونوں دوست آٹھ ممالک کی سیر کر چکے تھے اور اب آگے جانے کا ارادہ تھا ۔