325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 5 & 6)

Gumrah By Yumna Writes

اس کا فون روشن ہوتا بند ہوا تھا ،، وہ جو اپنے کام میں مگن تھا برجستگی سے اپنے قریب پڑا فون تھامے سکرین پر نگاہ دوڑائے وہاں اپنے کام کے ہو جانے کا سن کر ایک لمحے کے لیے تھم سا گیا ،، مقابل نے کام مکمل ہونے کا وائس نوٹ سینڈ کیا تھا ،، اسکی بات کا پس منظر سمجھتے اُسکا دل عجیب ہوا تھا ۔۔

اس کی نگاہوں کے سامنے گذرے لمحے یاد آئے تھے جن میں وہ ان کے ساتھ بیٹھا خوش گپیوں میں مصروف تھا ۔۔

اچانک دماغ میں ہتھوڑے بجنے لگے ” اس نے اپنے سامنے موجود لیپ ٹاپ کو بند کیا اور سر سوفے پر گرا دیا ،، یہ میں نے کیا کر دیا ” اس کے ذہن میں بیتے لمحے سرکنے لگے جب وہ اسے بارہا آرام کرنے کی کوشش میں تھا اور وہ جنون خیزی میں پاگل ہوتا اسے اپنی دوستی کا طعنہ دے بیٹھا تھا ،،

اس نے صحیح کہا تھا کے وہ بعد میں پَچھتائے گا اور اب وہ بہت بری طرح پَچھتا رہا تھا کے کیوں وہ اپنی جذباتی طبیعت پر قابو نہیں پا پایا ۔

اسکی آنکھوں میں نمی اُمنڈنے لگی،، دل میں جیسے کسی نے کچھ چبو دیا ہو ،، آنکھوں میں مرچیان سی بھرنے لگی تھی

دل اچاٹ ہو گیا ہر شہ سے ،، گجر اسے بار بار لائیو آنے کا بول رہا تھا لیکن وہ سن کہاں رہا تھا ،،، اُسکا دماغ تو اس وقت جیسے عجیب وحشت میں مبتلا تھا ۔۔

فون کو گراتے وہ اپنے دل کی بڑھتی گھبراہٹ کو کم کرنے کے لیے تیزی سے شرٹ اتار کر پھینکتا واشروم داخل ہوا ،، شاور کے نیچے کھڑے ہوتے اس نے اپنے کھولتے دماغ اور شکن زدہ اعصاب کو تھوڑا ڈھیلا ہوتا محسوس کیا ۔۔۔

اسکا ضمیر اسے بار بار ملامت کر رہا تھا اور دماغ میں ان کے گھر کے کی جانے والی فائرنگ اور ویڈیو آ رہی تھی جو چوہدری نے اسے بھیجی تھی ،، اضطرابی کیفیت میں وہ گیلے بالوں میں انگلیاں پھیرتا ایک حیال کے تحت باہر نکلتا ٹیبل پر موجود فون تھامے ملکہ کو ویڈیو کال کرنے لگا ۔

ــــــــــــــــ 

خیریت ہے آج بڑی جلدی میں ہو ،، گڑیا سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتی استفسار کرنے لگی ،،

ہاں آج میں نے بوس سے ہاف لیو لی ہے ،، آج مجھے دیکھنے آیا رہے ہیں ۔۔
تم جانتی تو ہو کبھی کسی کو ہم نہیں پسند آتے اور کوئی ہمیں ،، اب یہ رشتہ پسند آیا ہے سب کو تو گھر بلایا ہے انہیں ” اب دیکھو کیا بنتا ہے حنین اپنا کام کرتی لیپ ٹاپ بند کرتی گویا ہوئی” ۔۔

انشاء اللہ بہتر ہوگا پریشان نہ ہو ۔۔ گڑیا اسے دیکھتی بولی ۔

تم بتاؤ کیسا رہا سب ؟؟.. گی تھی نہ تم ان کے گھر کیسا لگا سب ۔۔
وہ اسکی جانب دیکھتی مستفسر ہوئی ۔۔

گڑیا کی آنکھوں میں واضح ہوتی چمک کو وہ دیکھتی محفوظ ہوی ،، میں تمہیں کیا بتاؤں یار !!

اتنا خوبصورت محل نما گھر ” خوبصورت فرنیچر ،،ہر چیز اتنی خوبصورتی سے سیٹ کی گئی تھی کے میری آنکھیں خیران رہ گئی ،،

صرف بھائی ،بھابھی اور انکی چھوٹی بیٹی رہتی ہے اس اتنے بڑے گھر میں ،، بہت خاطر تواضع کی انہوں نے ہماری اور پھر” محمد ” (گڑیا کا منگیتر ) انہوں نے مجھ سے بات کی ،، یہ دیکھو انہوں نے میرے لیے یہ رنگ بھیجی ہے اور ساتھ بہت سے تحائف ،، وہ جو اپنی رنگ دکھاتی مسکرا رہی تھی جس پر خوبصورتی سے نام کا پہلا خرف لکھا تھا ۔۔

وہ جو اس کی رنگ دیکھتی تعریف کرنے لگی تھی اس سے پہلے ہی ان کی تیسری دوست جو پَچھلے کچھ دنوں سے طبیعت خرابی کی وجہ سے لیو پر تھی اسکا ہاتھ تھامتے ان کی باتوں میں شمولیت اختیار کرتی گویا ہوی ،،

ہمیں بھی تو دکھاؤ آخر ہمارے جیجو نے کیا کیا بیجھا ،، لہجہ میں شرارت لیے وہ اس کا ہاتھ قریب کرتی گویا ہوئی تو اس کی اس اداکاری پر حنین جو کافی گم سم اور پر سوز ا آنکھیں لیے بیٹھی تھی اس کے لبوں پر خوبصورت مسکراہٹ نے احاطہ کیا

وشمہ تم کب آئی ؟؟..

طبیعت کیسی ہے اب ،،مجھے تو تم ملی بھی نہیں گڑیا اسکی جانب دیکھتی اپنا ہاتھ چھڑواتی اسکی طبیعت کے متعلق استفسار کرنے لگی البتہ لہجے میں متفکرانہ اور ناراضگی کے ملے جلے تاثرات شامل تھے ۔

ابھی آئی ہوں یار ٹھک گئی تھی گھر بیٹھ کر ،، مجھے بتایا تھا حنین نے تمہاری منگنی کا تو میں نے سوچا کیوں نہ تینوں یار مل کے جشن منائیں ،، آخر ہم میں سے کسی کے تو سیان جی تشریف لائے ،،

شریر لہجے میں کھلکھلا کر کہتی وہ چہکتی ہوئی حنین کو دیکھنے لگی جو اس وقت خوبصورت چکن کاری کے مرجندہ لباس میں اپنے تھوڑے گداز سراپے میں خوبصورت دھلی شفاف رنگت پے چمکتے سیاہ نین جن میں بلحصوص ایک سیاہ دھاری اُتری ہوتی تھی ،، خوبصورت لبوں پر آج آزردگی کی چادر تھی ،، ۔۔۔۔

آنکھیں ایک الگ داستان سنا رہی تھی ،، حنین کیا ہوا ہے ؟؟.

اس کی جانب دیکھتی وہ جو اتنے شریر موڈ میں گڑیا کو تنگ کر رہی تھی اپنی چلبلی طبیعت کے باعث ٫، اسکی جانب آتی متفکر سی اسکی پر سوز نگاہوں میں دیکھتی مستفسر ہوئی …
حنین جو اپنے ذہن میں تانے بانے بن رہی تھی دونوں کو اپنی جانب متوجہ پا کر چونک سی گئی ” ۔۔

سچ سچ بتاؤ مجھے ” تمہارے چہرے پر تمہاری پریشانی رقم ہے اور تم ہم سے چھپا رہی ہو ،، وہ پل میں آگ بگولہ ہوتی بولی ۔
تو وہ جو خاموش تھی اسکی جذباتی طبیعت سے اچھی طرح واقف تھی وہ اسے یہاں سے ہلنے بھی نہ دیتی جب تک اسے اصل بات کا علم نہ ہوتا ۔۔

وہ جو اپنے رشتے کے لیے پریشان تھی ،،ساری بات اس کے گوش گزار کر دی ،، ۔۔۔

تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے حنین ،، تم مایوس ہو رہی ہو ,, تم جو مجھے ہر لمحے یاد دہانی کرواتی رہتی ہو کے سب بہتر ہوگا تو آج خود کیوں بھول گئی ،، زندگی اسی کا تو نام ہے ۔۔

غم ،، پریشانی ،،خوشیاں سب ساتھ ساتھ ہیں ” یہ تمہارے ہی الفاظ ہیں کے زندگی آپکو مختلف رنگوں سے متعارف کرواتی ہے تو پھر آج کیوں خود اتنی آزردہ ہو رہی ہو ، انشاء اللہ سب بہتر ہوگا ” جس کو اللہ نے ہمارے لیے چن لیا ہے وہ سات سمندر پار بھی کیوں نہ بیٹھا ہو ہمیں مل جائے گا ،،

اب اٹھو اور نکلو وقت ہو گیا ہے جاؤ آرام سے ،، حنین جو صبح سے پریشان بیٹھی ،، اپنے تنے اعصاب کو تھوڑا ڈھیلا ہوتا محسوس کیا ،، اسکی باتوں سے اسے کافی سکون ملا تھا ۔
وہ دونوں سے ملتی گھر کے لیے نکلی ،،
اس کے کال يس کرتے ہی وہ اس کے خوبصورت چہرے کو کسی پاگل مجنوں کی مانند نہارنے لگا ۔۔

کیا ہوا ہے ؟؟ یہ کیا حالت بنائی ہوی ہے اپنی ” وہ اس کی سرخ انگارہ ہوتی آنکھیں دیکھتے سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگی ،، شرٹ لیس ، کشادہ سینہ ” ایک ہاتھ میں سگریٹ تھامے وہ ہونٹوں سے دھوے کے مرغولے چھوڑتا مضطرب سا اپنی بکھری حالت لیے اس کے سامنے تھا “

سب کچھ ٹھیک ہے نہ عمر ” وہ مدھم آواز میں نرمی سے استفسار کر رہی تھی لیکن مقابل ہوش میں کہا تھا ،، وہ اپنی سوچ میں مگن آنکھوں کے دریچوں میں گزرے انہتائی خون آلود اور اپنی دل گرفتہ پست حالت یاد کرتا آنکھیں میچ گیا ،،

اور دماغ میں جو کچھ دیر قبل کسی فلم کی طرح چل رہی تھی اچانک ذہن کے پردوں پر وہ ناگوار اور انتہائی نفرت انگیز لمحے آ دھمکے اور وہ انتہائی وحشت زدہ ہوتا سگریٹ کے گہرے کش لیتا آگ بگولہ ہوتی آنکھیں اٹھا کے اسے دیکھنے لگا

تم مجھ پر کونسا طلسم پھونکتی ہو کے میں تمہارے لیے پاگل ہو چلا ہوں ،، وہ جو اس سے کچھ سخت اور غلط سننے کے لئے خود کو تیار کر رہی تھی ذہن میں جانے ایک پل میں کیسے گھناؤنے وسوسے بیدار ہوئے تھے ،، اس کی عجیب بے تکی بات سنتا بھونچکا کے رہ گئی ۔

کیا ” یک لفظی کہتی وہ اسکی جانب دیکھنے لگی جو اپنی کچھ پل قبل اپنی غیر ہوتی کیفیات و حالت پر قابو پاتے گویا ہوا ۔
تم مجھے خاصا خوار کر رہی ہو ملکہ ” اور میں یہاں پاگل ہو رہا ہوں تمہارے عشق میں ،، تمہارا عشق میرے سر پر سوار ہونے لگا ہے ۔۔۔میرے لہو میں سرایت کرنے لگی ہو تم ،،میری جنونیت بننے لگی ہو میرا صبر مت آزماؤ ۔۔

ورنہ میں بہت برا پیش آؤنگا تمہارے ساتھ جو تمہاری سوچ ہے ۔۔
ایک بار ہتھے آ جاؤ میرے وہ بے باکی سے کہتا اسکی جانب آنکھوں میں زومعنیت لیے اسے دیکھنے لگا ۔۔

مجھے شادی سے بہت خوف آتا ہے گڑیا ” یہ لفظ میرے دل میں ایک عجیب قسم کا خوف پیدا کر دیتا ہے ،، میرا دل ست پڑ جاتا ہے ،، میں جانتی ہوں ایک نہ ایک دن شادی ضرور کرنی ہے۔۔

لیکن مجھے مردوں سے خوف آتا ہے ،، ان کے بدلنے سے خوف آتا ہے ،، ان کا عورت کو ذلیل کرنا ،، اپنے گھر والوں کے سامنے دو کوری کا کر دینا مجھے ایک وحشت میں مبتلا کرتا ہے ۔۔
میرے والد بھت اچھے ہیں ،، اچھے انسان اچھے باپ ،، لیکن اچھے خاوند نہیں ۔۔

میں کبھی بھی ان جیسا ہمسفر نہیں چاہتی ” ۔۔۔
میں رب سے سجدوں میں دعا کرتی ہوں مجھے کبھی مریے باپ جیسا شخص نہ ملے ،، جو بیوی کی عزت نہ کرتا ہوں ،، اسکی عزت نہ کرتا ہو ،، سب سے بڑھ کر احساس سے عاری ۔

اللہ میرے مقدر میں عزت کرنے والا شخص دے ،، میں دعا کرتی ہوں اپنے رب سے اے میرے رب مجھے تجھ سے ڈرنے والا شخص دے ،، جس کے دل میں خوف خدا ہو ،،جو زیادتی کرنے سے پہلے خدا سے ڈرے ۔۔

وہ بول رہی تھی اور گڑیا خاموشی سے اسکی باتیں سن رہی تھی کیونکہ ان میں سو فیصد سچائی تھی ،، ۔۔

ہم سب لوگ ہی بہتر کی خواہش کرتے ہیں ٫ ،، جس نے غریبی دیکھی ہوگی وہ پیسے کی خواہش کرے گا ٫ جس نے بیماری دیکھی ھو گی وہ صحت یابی کی خواہش کرے گا ۔

ہم سب اپنے ماضی کو بھلا کر حال اور مستقبل میں بہتری چاہتے ہیں ۔
حنین ہمیں خدا سے بہتری کی امید رکھنی چاہیے وہ تو کارساز ہے ،، اسکی تقسیم ہے یہ ۔۔۔ ہمیں بھی دے گا وہ اس کے شانے پر ہاتھ رکھتی نرمی سے گویا ہوئی ۔۔

ہمارے ماں باپ ہماری خوشیاں دیکھنا چاہتے ہیں لیکن کیا تم نے کبھی سوچا ہے ہم مڈل کلاس لوگ اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر پاتے ،،۔۔۔۔
حنین ویڈیو کال پر اس کی جانب دیکھتی بول رہی تھی ۔

اور کچھ لمحے رکتی اپنے حلق میں اٹکتے آنسوں کے گولے کو پیچھے کو جانب دھکیلتی آنکھوں میں امڈتی نمی کو قابو کرنے لگی ،، وہ بہت مضبوط تھی ” بہادر ۔

۔۔ اپنے جذبات کسی پر عیاں کرنا اسے پسند نہ تھا ” لیکن بعض اوقات وقت اور حالات ہمیں ایسے موقعے پر لے آتے ہیں کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی کمزور پڑ جاتے ہیں ۔۔۔

اور شاید اس وقت حنین خود پر قابو نہ کر سکی ” کچھ توقف کیا بعد وہ گویا ہوئی ۔۔۔۔

ہماری زندگیاں ہمارے مطابق کبھی گزری ہی نہیں ” میں لاکھ کہتی رہوں لیکن سچ کو کبھی جھٹلا نہیں سکتی ” آپی ٹھیک کہتی تھی پیسہ ،زندگی میں سب سے اہم ہے ۔۔۔اگر آپ کے پاس دولت ہے تو سب کچھ ہے۔،، سب رشتے لوگ ،، ان کا پیار ،، دوستیاں ،، اور ہمارے رشتے ۔۔۔

اگر اس وقت ہمارے پاس دولت ہوتی تو ہمیں بھی شادی ،،گھر بار کسی شہّہ کی پریشانی نہ ہوتی ،، سارے فساد کی جڑ یہ پیسہ ہے ۔

یہ دوبٹہ کیوں لیا ہوا ہے تم نے ،،ہٹاؤ اسے اور گلے سے کپڑا نیچے کھسکاو ،، وہ اسے تنگ گلے میں دوبٹہ لیے دیکھ بگڑنے موڈ کے ساتھ ماتھے پر بل ڈالے سختی سے گرجا ،،

جبھی وہ اسکی بات سنتی تیزی سے گلے سے دوبٹہ نکالتے گلے کو ڈھیلا کر گئی جس سے اسکی بیوٹی بون ظاہر ہونے لگی ،، کیا ہو گیا ہے آپ کو ایک سیکنڈ میں آتش فشاں بن جاتے ہیں ،،،امی ابو بیٹھے ہوے تھے میں اکیلی تو نہیں تھی ۔۔۔۔

اسکو اس وقت کوئی لحاظ شرم نہ آئی کے ایک نا محرم کے سامنے وہ کس حالت میں بیٹھی ہے ،، اور ہٹاؤ اسے مجھے تمہارے کندھے ۔۔۔۔

عمر ” وہ آنکھیں دکھاتی اٹھتی فوراً سے دوسرے کمرے میں داخل ہوئی اور اچھے سے لوک لگاتے اسکی جانب متوجہ ہوئی ۔۔
اپنے کندھے سے دوبٹہ ہٹایا اور شرٹ کو کھسکا کر نیچے کیا کے اس کے کندھے پر موجود تل اپنی جھپ دکھلاتا عمر مومن کے دل میں تہلکہ مچا گیا ۔۔

اور نیچے ” ۔۔۔ وہ بری دیدہ دلیری سے اسے نہارتے نیا حکم صادر کر گیا تھا اور وہ اسے دیکھتی اس کے آنکھیں دکھانے پر اور چہرے پر موجود سخت تاثرات کو دیکھتی شرٹ کھسکا گئی اور عمر مومن اس کے وجود کی نرمیوں میں کھویا دنیا جہاں بھلا بیٹھا تھا ۔۔

وہ جو اس کے اس حکم پر تھوڑی حجالت کا شکار ہوئی تھی خود کی کیفیت پر قابو پاتے خاموش اس کے سامنے سٹیچو بنی بیٹھی رہی ، وہ ماحول میں چهائی زومعنیت اور اچانک چھانے والی قربت سے وہ عرق آلود پیشانی لیے گھٹی گھٹی آواز میں بولی ۔۔۔

عمر مومن ” ۔۔۔۔

اس کے ہونٹوں سے نکلتے اپنے حسین نام پر وہ جو اس کے وجود میں کھویا ہوا دنیا کو بھلائے بیٹھا تھا ،، خواسوں میں لوٹتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا لب دباتا چہرے پر کمینگی سی مسکراہٹ لیے اسکی دھڑکنوں کو ساکت کر گیا ۔۔
وہ اپنی شرٹ کو درست کرتی اس سے نظر ملانے سے گریز کر رہی تھی۔