Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 7)
Rate this Novel
Gumrah (Episode 7)
Gumrah By Yumna Writes
دن بڑے بے کیف اور سبک روی سے گزر رہے تھے ،، سب اپنی زندگیوں میں مصروف تھے ،، ۔۔۔۔
گڑیا اور اس کے گھر والے کافی خوش اور مطمئن تھے کے انہیں محمد جیسا ذہین ،،شریف لڑکا ملا ہے جبکہ محمد گڑیا کی والدہ کے ساتھ کافی وقت خوش گپیوں میں لگا رہتا ،، اس کی والدہ حسب عادت اس کے ساتھ دن بھر کی باتیں کرتی اور دل میں جیسے سکون ہی سکون تھا کہ ان کی بیٹی کو اچھا شریک حیات تو ملے گا ہی البتہ انہیں بھی ایک اور بیٹا مل جائے گا ،،
دوسری جانب محمد کو ماں مل گئی تھی ،، اسکی ماں کی کمی پوری ہو چکی تھی ،، وہ سارہ بیگم سے بات کرکے اپنے دل میں اترتا سکون و راحت محسوس کرتا تھا ۔۔
میری پیاری ماں ،، بس کر دو چھوڑ دو اپنے بیٹے کی جان ،، مجھ سے زیادہ تو میری منگنی کا آپ کو فائدہ ہوا ہے باتیں کرنے کے لئے ایک عدد بندہ مل گیا وہ بیگ کندھے سے اُتارتی ان کے پاس بیٹھتی مسکراتی بولی ،،اور مصنوعی حفگی کے تاثرات چہرے پر سجائے ،،
میری تو اہمیت ہی نہیں رہی ۔۔۔
اچھا میری گڑیا ،، میری چندہ ناراض نہ ہو ۔۔۔ میں اپنی بیٹی کے لیے کھانا لاتی ہوں وہ تیزی سے اٹھتے بولی تم فون پکڑو بات کرو میں آتی ہوں ،، وہ کہتی دنیا جہاں کی محبت اور نرمی چہرے پر سمیٹے باہر کی جانب قدم بڑھا گئی ،، پیچھے گڑیا نے چلتی کال کو دیکھ کر فون کان سے لگایا ۔۔۔
آپکو چین نہیں جو ہر وقت فون سے چپکے رہتے ہیں گڑیا لہجے میں شرارت لیے استفہامیہ انداز میں گویا ہوئی ۔۔
کوئی کام وام نہیں…….. ویلے ہیں کیا “
میرا چین و قرار تو آپ لیے بیٹھی ہیں تو مجھے چین کیسے میسر ہو سکتا ہے ،، وہ جذب کے عالم میں کہتا اپنا حال دل بیان کر رہا تھا ،،جبھی گڑیا کی کھنکتی ہنسی سے وہ حیرت و استعجاب سے گویا ہوا ،، ہنس کیوں رہی ہیں ؟…
انداز خاصہ سنجیدہ تھا “
میں باز آئی ایسی عشق و محبت سے ،، میرے تو سر سے گزر جاتے ہیں ایسے عاشقی معشوقی والے التفات ۔۔
وہ تاسف سے کہتی سر جھٹک کر اپنی ماں کے ہاتھ سے کھانا کھانے لگی ۔۔۔
آپ کیا جانیں عشق و محبت کی رمزیں ،، یہ وہ بلا ہے جس کا کوئی توڑ نہیں ،،کوئی تعویذ نہیں ،، جسکو لگ جائے بس وہی جانے ،، محبوب کا لمس ، اسکی خوشبو ۔۔۔۔
وہ جذب سے بول رہا تھا ۔۔۔
بس بس مجھے جاننا بھی نہیں میرے نزدیک یہ سب فضول مفروضے ہیں ،،ان کا کوئی جواز نہیں ۔۔۔ عجیب ۔۔۔
چلیں ،، وقت بتائے گا ” ۔۔۔
سال ہونے کو آیا تھا ان دونوں دوستوں نے ایک دوسرے کو پلٹ کے نہ دیکھا تھا البتہ گجر دونوں میں پھنسا پڑا تھا کبھی ایک کی جانب تو کبھی دوسرے کی ،، ۔۔۔
کچھ پہلے جیسا نہ رہا تھا ان تینوں میں وہ جگری یار اب جانی دشمن بن چکے تھے ،، آرون جٹ جان چکا تھا کے اس کے گھر حملہ کروانے والا عمر مومن ہی تھا لیکن جانے یہ بات جان کر اس کا دل اتنا دکھا کے وہ چاہ کر بھی کوئی جوابی کارروائی نہ کر پایا ۔۔۔ وہ دشمن ضرور بنے تھے لیکن ایک دوسرے کی فیملی کو نقصان پہنچانے کی حد تک اس نے ایسا سوچا نہ تھا اور یہی چیز اس کے دل کو سو ٹکڑوں میں کر چکی تھی ۔۔
سینے میں اٹھتی تکیلف پر وہ سینا مسلتا ،، لبوں میں سگریٹ ڈالے گہرے کش لیتا دھواں چھوڑتا پوری قوت سے میز پر لات مارتا دھاڑا ،،
تم نے بہت غلط کیا ہے عمر ،، وہ جو اپنے اندر کے وحشی کو سلائے ہوئے تھا وہ ہزار اژدھوں کی پھنکار لیے اس پر حاوی ہوا تھا ۔۔
میں جان لے لونگا اس لڑکی کی بھی اس کی لہو رنگ آنکھوں میں جلتی آگ میں سب تہس نہس کرنے کی چمک تھی
گجر جو اس کے فلیٹ میں داخل ہو رہا تھا یوں کمرے کی بری حالت بکھرا سامنا دیکھ کر متفکر سا اسکی جانب بڑھا ،، ۔۔۔
کیا ہو گیا ہے یار تجھے ” بیڈ کے کنارے پر بیٹھا آرون جٹ لہو رنگ آنکھوں میں نفرت اور جنون لیے سگریٹ کے کش لیتا گہرے سانس بھرتا فرش پر سرد نگاہیں ٹکآئے ہوئے تھا ۔۔۔
آرون ” اس کے شانے پر ہاتھ رکھتا گجر اس کے قریب بیٹھا ،، جٹ تجھے ہوا کیا ہے کیوں بپھرا شیر بنا پھر رہا ہے لہجے میں یاسیت لیے وہ استفسار کر رہا تھا جبکہ آرون جٹ اپنی انگارہ ہوتی
آنکھیں بند کرتے مٹھائیاں بیچتا سگریٹ کو مٹھی میں مسل گیا ۔۔
پاگل ہو گیا ہوں میں ،، مر رہا ہوں میں یہ سوچ سوچ کر کے میرا جگری یار ایک آوا ۔۔۔ رہ * بد ۔۔* چ لن لڑکی کے پیچھے میرے ماں بابا میرا کل سرمایہ میری کائنات ،،میری زندگی پر حملہ کروا سکتا ہے ۔۔۔ گجر جو یہ بات بہت پہلے سے جان گیا تھا لیکن اس کو نہ بتا سکا اس کی گہرے دکھ میں ڈوبی آواز سنتا لب بینچ کر رہ گیا
یار وہ دوست ہے ہمارا غلطیاں سب سے ہوتی ہیں ،، میں اسکی حمایت نہیں کرونگا ،،میں جانتا ہوں وہ غلط ہے لیکن ایک بار تو ٹھنڈے دماغ سے سوچ کے اس لڑکی نے ٹریپ ھی ایسا بچھایا ہے کہ ہم پھنچان ہی نہ پائے ،، اور وہ تو ہی تھا جو سب سے پہلے اس کی حقیقت سے آشکار ہوا تھا کجا کہ میں کہتا رہا تم دونوں کو کہ بچ کر رہو آج کل کسی پر اعتبار ممکن نہیں ،، کمرے میں سناٹا چھا گیا وہ دونوں خاموش تھے ،،کمرے میں موت سا سناٹا چھایا ہوا تھا ” دو دوست ساتھ بیٹھے تھے ،، ایک کا دل اور روح زخمی ہوئی تھی جبکہ دوسرا دل میں وحشت اور انتقام لیے ہوئے بیٹھا تھا ۔۔
اب ایسی جنگ کی شروعات ہونی تھی جو سب کچھ تباہ و برباد کر دیتی ۔
اب دیکھنا یہ تھا کہ تباہی کس کا مقدر بننی تھی ۔
صبح کی ہلکی کرنیں نیم وا کھڑکی سے اندر آ رہی تھی ،، ٹھنڈھی ہوا کے تازہ جھونکے بستر میں موجود وجود پر بھی کوئی اثر نہ ڈال سکے اس پر سکوت طاری تھا ،، وہ گہرے سانس لیتی سکون سے بستر پر گہری نیند کی وادیوں میں غرق تھی ،، ۔۔۔۔
آج کچھ الگ سا تھا دوسرے دنوں کے مقابلے ،، ۔۔۔
معاََ سارہ بیگم کمرے میں داخل ہوئی ،، اٹھ جا میری بچی محمد نے گاڑی بھیج دینی ہے ،، اٹھ ناشتہ کریں پھر تجھے تیار ہوتے بھی خاصہ وقت لگنا ہے اس پر سے چادر ہٹاتے وہ اسے جنجھورتے وہ حفا سی گویا ہوئی ۔
گڑیا اٹھتے ایک زوردار انگڑائی لیتی اٹھ بیٹھی ، افّفف میں نے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے ،، گفٹ بھی پیک کرنا ہے بھابھی کے لیے وہ سر نفی میں ہلاتی سرعت سے اٹھ بیٹھی اور بھاگتی واشروم میں داخل ہوئی ۔
اب منظر کچھ یوں تھا کہ وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے محمد چودھری کے گھر کی جانب روانہ ہوئے تھے ،، مختلف سامان سیٹ پر موجود تھا جن میں فروٹس اور کھانے کا سامنا موجود تھا ،، خاص طور پر محمد کے لیے گڑیا نے گفٹ پیک کیا تھا ،، اس کے علاوہ سردیوں کی سوغات پنجیری ،، پنیان ،، جو محمد نے خود بنوائی تھی ۔۔
گڑیا کانوں میں ائر پوڈز لگائے محمد سے بات کر رہی تھی جو اس وقت ویڈیو کال پر اسے دیکھتا دل اور آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچا رہا تھا ۔
راوی پھنچنے میں دس منٹ کا راستہ بچا تھا ۔۔۔
میں کیسی لگ رہی ہوں کھڑی کی جانب رخ کیے وہ سوال کر رہی تھی ،،۔۔۔
بہت اعلی ” ۔۔۔
میری چوڑیان کیسی لگ رہی ہیں ؟؟
بہت خوبصورت ” ۔۔اس کے خوبصورت لالیاں بکھیرتے حسن کو دیکھتا وہ دل پر ہاتھ رکھتا اظہار محبت کر رہا تھا ۔۔
آپ تو سراپا قیامت ہیں ،، بنانے والے نے آپکو فرصت سے بنایا ہے میرے لیے ،، گنگناتا وہ دھیمے آنچ دیتے لہجے میں بولا ۔۔۔
یہ دیکھیں ” گڑیا اپنی کلائی کے نیچے بنے مہندی سے اس کے اور اپنے نام کے پہلا خرف اور بیچ میں بنا دل دکھاتی مسکرا اٹھی ۔۔
یہ کیسا ہے ؟… اسکی کلائی کو دیکھتے اس کی پیشانی پر بل نمودار ہوئے ۔۔
یہ کیا ” میں نے آپکو کہا تھا نیچے ہارٹ بیٹ بھی بناؤ ، وہ کیوں نہیں بنائی ۔۔۔اچانک اس کے لہجے میں سختی در آئی ۔
بس ویسے ہی ایسے ہی اچھا لگ رہا تھا تو بس یہی بنوا لیا ۔۔ وہ رسان سے کہتی اس کے سخت لہجہ کو نظر انداز کرتی گویا ہوی۔
میری بات کی آپکی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ،، جب میں نے آپکو کہا تھا تو آپ نے میری بات کیوں نہیں مانی ” ۔۔۔ وہ شدید اشتعال میں آتا غصے سے چیخا ٫ ۔۔ کیا ہو گیا ہے آپکو ” گڑیا خیرت سے اسکی جانب دیکھتی سوالیہ نگاہوں سے اس بپھرے شیر کو دیکھ رہی تھی ۔
تم ابھی مہندی خریدو اور میرے سامنے ہاتھ پر نشان بناؤ ، وہ سرد لہجے میں حکم دیتا لال آنکھوں سے اُسے تکنے لگا ۔۔
کیا مطلب ” ۔۔۔ آپکا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا – ہم گھر پھنچنے والے ہیں میں اب واپس جاؤنگی تو بنا کے آپکو تصویر سینڈ کر دونگی ” وہ صلح جو انداز میں اسے ٹھنڈہ کرنے کے لیے نرمی سے گویا ہوئی ۔
میں کچھ نہیں جانتا ” ابھی اسی وقت جاؤ واپس میں کچھ نہیں جانتا ، وہ اپنی بات پر اٹل چہرے پر چٹانوں جیسے تاثرات لیے دھاڑا ۔۔
محمد …. یہ کیا بکواس حرکت ہے اسے سنتے نہ دیکھ وہ بھی گرجی تو وہ جس کا پارا پہلے ہی ہائی تھا اور آسمانوں کو چھونے لگا ٫ ،، شدید اشتعال انگیزی میں آتا وہ اپنے کھولتے دماغ کے ساتھ پاگل ہونے کے در پے تھا ،، آج سے قبل اس نے کبھی اس سے ایسا جارحانہ روّیہ نہ اختیار کیا تھا ۔۔ وہ پھٹی آنکھوں سے اس کے بدلے بدلے عجیب و غریب تاثرات دیکھ رہی تھی جو چھوٹی سی بات کو کتنا بڑھاوا دے گیا تھا ۔
کیا ہوا ہے گڑیا ” ۔۔۔ وہ جو پریشان سی فون بند کرتے گاڑی سے اترنے لگی تھی اپنے عقب میں سارہ بیگم کی بے چین آواز سنتے ان کی جانب دیکھتی گویا ہوئی ،، کچھ نہیں ہوا امی ۔۔ آ جائیں …… باہر کے جانب قدم رکھتے وہ آگے بڑھ گئی ۔
پیچھے اسکی والدہ اور والد ڈرائیور کو سامنا لینے کا کہتے عالی شان چکمتَی بلندیوں والے محل نما گھر کی سامنے کھڑے ہوئے ،، گارڈ نے عزت و احترام سے خارجی دروازہ کھولا اور انہوں نے اندر کی جانب قدم بڑھاے ۔۔۔
گڑیا کا موڈ اچھا خاصا بگڑ چکا تھا۔ وہ اس شخص کے دن بدن بدلتی شخصیت سے خاصا پریشان تھی ،، لیکن کسی سے اس بات کا ذکر تک نہ کر رہی تھی ،، وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اس شخص کا جنون جو دن بدن بڑھتا جا رہا تھا ۔۔
بھابھی بھائی دونوں ان سے ہمیشہ کی طرح بہت پیار سے ملے ،، کیسی ہو ؟…
وہ پیار سے پوچھتی اسکے قریب براجمان ہو گئی ۔
پہلے تو بہت اچھی تھی لیکن آپ کے جیٹھ نے میرا دماغ گھوما کے رکھ دیا ہے ،، عجیب حرکتیں کرتے پھرتے ہیں وہ جو بھری بیٹھی تھی ایک ایک بات اس کے گوش گزار کر دی ۔
ہممم ۔۔۔۔۔ صدرہ بھابی نے کچھ سوچتے ہنکار بھرا۔ تم فکر نہ کرو میں شان سے بات کرتی ہوں ، وہ خود انہیں دیکھ لیں گے اب اتنے پیارے لگ کے آپ موڈ نہ آف کرو ۔
میں آپ کے لیے کچھ لے کر آتی ہوں آپ نے تو کچھ کھایا ہی نہیں ، وہ اٹھتی اس کے لیے کچھ کھانے کو لینے گئی تھی ،، معاً اسی وقت شان کمرے میں داخل ہوا ،، گڑیا اس وقت ان کے کمرے میں موجود تھی ۔
بھابی یہ بھائی کی کال ہے ،،مودب انداز میں سر جھکائے اس نے فون اسکی سمت بڑھایا ۔۔۔
مجھے نہیں بات کرنی بھائی آپ ان سے بول دیں
وہ اسکی جانب دیکھتی چھوٹی سی حوریہ کو اسکی گود سے لیتی منھ موڑ گئی ،، جبکہ فون پر موجود محمد کے غصے کا گراف بڑھا گئی ۔
وہ اس وقت شعلہ جوالہ بنا سرخ چہرے پر ہاتھ پھیرتا خود پر ضبط کرنے کی کوشیش میں تھا ۔۔
ہاں اب مجھ سے کیوں بات کریں گی یہ ،، جان جو گئی ہیں کہ میں ان کے پیچھے پاگل ہوں ،، مجھے پہلے ہی محتاط رہنا چاہئے تھا ان لڑکیوں کا تو کام ہی یہ ہے لڑکوں کو اپنے پیچھے پاگل بنانا ،، ان سے اپنے حسن کی تعریفیں بٹورنا ،، اُسکا پورا وجود اس وقت آگ کی لپیٹ میں آ گیا تھا وہ شدید اشتعال میں یہ بھول بیٹھا تھا کہ وہ اپنے چھوٹے بھائی کے سامنے اپنی ہونے والی بیوی کے بارے میں کیسے رکیک الفاظ بول رہا ہے ۔
گڑیا فون سے ابھرتی اس کی بلند آواز پر ہتک سے سر جھکاتے اپنی شرمندگی پر آنکھوں میں چمکتی نمی کو پیچھے دھکیلتی اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔
پیچھے شان پریشان سا اس ساری صورتحال کو سمجھنے سے قاصر فون اسپیکر سے ہٹاتا گویا ہوا ۔
وہ جا چکی ہیں ۔۔۔ آپکو ذرا خیال نہیں ہے بھائی کے آپ کیسے الفاظ کا استعمال کر چکے ہیں ،، تھوڑی عقل سے کام لیں ۔۔ یہ نہ ہو آپ اپنی اس سے قبل دو منگنیوں کی طرح یہ بھی تروا بیٹھیں گے تاسف سے کہتا وہ فون کاٹ گیا ۔۔
گڑیا واپس جانے کے لیے کھڑی تھی جب شان ان کو الوداع کرنے کے لیے باہر تک ان کے ساتھ چلتا آیا ۔۔
صدرہ نے اِسے بھت روکا تھا لیکن وہ پھر آنے کا کہتی انہیں ٹال گئی
بھابی ” وہ جو گاڑی میں بیٹھنے لگی تھی شان اس کے ستے ہوئے چہرے کی جانب دیکھتا شرمندگی سے گویا ہوا ۔۔
بھابھی بھائی کی جانب سے میں آپ سے معافی مانگتا ہوں ،، میں نہیں جانتا انہیں کس بات کا اتنا غصہ تھا لیکن پھر بھی ان کو ایسے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیے تھا۔ بھائی بہت اچھے ہیں بس وہ اپنے غصے پر قابو نہیں کر سکتے ،،آپ دیکھنا آپ گھر جائیں گی تو وہ آپ سے معافی مانگیں گے ،، ان کو احساس ہوگا کہ وہ بہت برا پیش آئے ہیں آپ کے ساتھ وہ تاسف سے کہتا اس کے سر پر ہاتھ رکھتا پیچھے ہٹا تھا ،، کہنے کو وہ چھوٹا تھا لیکن جب بھی اس سے ملتا تو سر پر ہاتھ رکھتا ،، اس عمل میں عزت و احترام موجود تھا جو گڑیا کو بہت پسند تھا ۔
