325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 1)

Gumrah By Yumna Writes

چھوٹے سے صحن کے بیچ و بیچ بیٹھی وہ خود کو نوچ رہی تھی ،، خود کو اذیت دے رہی تھی ،،آنسو گالو سے بہتے تھوڑی پر گر رہے تھے جو حقیقتاً دل پر گر رہے تھے ،، اس کے گرد لوگ جمع اسے خود کو تکلیف دینے سے روک رہے تھے لیکن اس پر عجیب سکتا طاری تھا ۔۔

وہ خود کو مار لینا چاہتی تھی ،، اس بات کا یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ اسکی زندگی کا کل اثاثہ آج اس دنیا سے چلے گیا ۔۔۔

ہائے میری ماں اٹھ جا نہ ،، میری امی ۔۔۔ امی جی میری امی میری ماں میری زندگی ،، میری دنیا اٹھ جاؤ ۔

میں نہیں رہ سکتی ان کے بغیر اُسکا بڑا بھائی اس کے دکھ اور خوشی کا ساتھی اس کی ماں کا لاڈلا روتا ہوا اسے خاموش کروا رہا تھا ليلکن اسے کہاں صبر آنا تھا ،، کبھی جانے والوں پر بھی صبر آتا ہے۔۔وہ رشتے جنہیں ہم اپنے دل و جان سے عزیز رکھتے ہیں ان کی جدائی ہمیں جیتے جی مار ڈالتی ہے ۔

گڑیا میری جان میری ” بہن ماں کو تکلیف ہو رہی ہے ۔۔تم ان کو جاتے ہوے تکلیف دینا چاہتی ہو اٹھو میری جان ماں کو الوداع کرو ۔۔وہ جو خود پر ضبط کیے بیٹھا تھا آخری الفاظ بولتا ہوا اس سے لپٹ کر رو پڑا ۔

نہیں چاند ایسا نہ بولو تم جانتے ہو نہ امی کے بغیر مجھے نیند نہیں آتی،، جانتے ہو نہ ان کے بغیر میرا سانس بند ہونے لگتا ہے ۔۔
میں مر جاؤ گی” ایسا کرو تم مجھے امی کے ساتھ دفن کر دو میں اپنی ماں کے بغیر نہیں رہ سکتی ،، تم جانتے ہو نہ امی کہتی تھی جب مجھے گڑیا نہیں دکھتی تو آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگتا ہے

ـــــــــــــــــــــــــــــــ yumna writes

اس کے دمکتے سراپے کو وہ گہری نگاہوں سے دیکھتا آنکھوں میں عجیب رنگ لیے ہوے تھا ،، جبکہ اس کی بدلتی آنکھوں کی رنگت اور اس میں موجود اپنا عکس وہ دیکھتی ایک ادا سے بال جھٹکتے اپنے تراشیدہ ناخنوں پر لگی سرخ رنگ کی نیل پینٹ دیکھنے لگی ،، موبائل سکرین پر چمکتے اس شخص کی آنکھوں میں بے لگامی کا اسے باخوبی اندازہ تھا ۔۔۔

لیکن یہی تو اُسکا مقصد تھا ” سامنے والے پر اپنے حسن کے جھال بچھانا اسے اپنے شکنجے میں جکڑنا ،، جبکہ اس کی سوچ کے برعکس مقابل بے حد شاطر تھا
_____________________

میری پیاری گڑیا ہر شخص نے ایک دن جانا ہے اٹھو ہماری ماں کے جانے کا وقت ہو گیا ،، اسکی دوستوں نے مل کر اسے زبردستی آسرا دے کر اٹھایا اور باہر پڑی اسکی ماں کے تخت کے پاس لے کر گئیں ـــــــــــــــ

لوگو کے بھرے ہجوم میں جو اس نیک خاتون کے لیے اکٹھے ہوے تھے اسے دیکھتے کوئی اس کے سر پر ہاتھ پھیرتا تو کوئی اسے دعا دے رہا تھا اور اس کے آنسو گالو پر گرتے جا رہے تھے سر سے دوپٹہ غائب تھا ،،بال بکھرے پڑے تھے سنہری آنکھیں رونے کی شدت سے سوجی ہوئی تھی ۔۔۔۔لوگو کی نگاہوں میں اپنے لیے ہمدردی اور بیچارگی دیکھ کر اُسکا دل منھ کو آ رہا تھا ۔

ماں کے پاس کھڑے ہو کے وہ چیخ رہی تھی ،، رو رہی تھی وہ ماں جو اُسکا ایک آنسو نہیں گرنے دیتی تھی آج خاموش پری تھی ،، وہ جن کی آنکھوں میں اسے دیکھتے ہی چمک آ جاتی تھی آج بند تھی ،،
امی اے میری مائے اٹھ جا میں کیا کروں گی اس دنیا میں ،، میری ماں میرا تیرے سوا کوئی نہیں ۔۔۔۔ اس کی آہیں سسکیاں سنتا ہال میں ہر شخص اسکی حالت دیکھتا پر نم آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ،،
وہ کہتے ہیں نہ کے ہم دوسرے کے غم پر نہیں بلکہ اپنے غم پر روتے ہیں ۔۔جب ہم کسی کو اس کے اپنے سے بچھڑتا دیکھتے ھیں تو ہمیں ہمارے پیارے یاد آ جاتے ہیں ۔

ـــــــــــــــــــــــ

چاند چاند اٹھو جلدی آؤ مجھے آفس چھوڑ کے آؤ ،، گڑیا جو ایک چھوٹی سی کمپنی میں ملازمت کرتی تھی چاند کو آواز دیتی اپنی ماں سے لنچ باکس پکڑتی بیگ میں رکھ گئی ،، امی آپ کیوں اٹھی میں خود بنا لیتی ماں کے ہاتھ پر لب رکھتی وہ چہرے پر مسکان لاتی بولی ۔۔
کیوں میری گڑیا کے لیے میں خود بناؤگی ، میں اپنے جیتے جی اپنی بچی کو کیوں کام کرنے دوں ۔
اس کے ماتھے پر لب رکھتی وہ چاند کو دیکھنے لگی جو اپنے کمرے سے نکلا تھا ۔
جاؤ میری جان جلدی بہن کو چھوڑ کے آؤ دیر ہو جائے گی ،، پھر اسکا بوڑھا باس بولے گا

وہ مسکراتی جلدی سے باہر نکلی تھی ماں کو الوداع کرتی بائک پر بیٹھی ۔۔۔
گڑیا ایک لوور مڈل کلاس فیملی سے تعلق رکھتی تھی ،، چھوٹا سا انکا گھرانہ تھا ” ماں باپ اور دو بہن بھائی۔۔۔ باپ کی ایک چھوٹی سی سبزی کی دکان تھی ، بیٹا کچھ بچوں کو آنلائن پڑھاتا اور ایک مدرسے میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دیتا تھا ،،چھوٹی بیٹی گڑیا ایک متوسط سی کمپنی میں نوکری کرتی تھی ۔۔۔۔۔
ان کا گزارہ اچھا ہو جاتا تھا ،، ضرورت کی اشیاء کے علاوہ باقی ساری خواہشات بھی گھر والے گڑیا کی پوری کرنے کی کوشش کرتے ،، سب کی آنکھوں کا تارا تھی وہ ۔۔

ماں باپ جان چھڑکتے تھے ،، چاند کی شادی ہو چکی تھی اسکی بیوی اور بیٹی تھی ۔۔
ان کی زندگیاں مکمل اور حسین تھی سوائے گڑیا کے ” گڑیا کی شادی کا ان سب کو جتنا شوق تھا اتنا ہی دکھی بھی ہو جاتے کے وہ دور چلے جاے گی ۔۔ سارا بیگم تو کبھی بیٹھے بیٹھے رو دیتی کے ان کی بیٹی چلے جاے گی

ــــــــــــــــــــــ

یار کب وہ دن آئے گا جب ہم بھی مہندی لگوائے گے اس کی سہیلی ڈرامیٹک انداز میں گاتے اسے ایک کولیگ کا بتا رہی تھی کہ اسکی بھی شادی ہو گئی اور صرف تم اور میں رہ گئے ۔۔
دونوں تقریباً ہم عمر تھی گڑیا چھبیس سال جبکہ خنین اس سے کچھ ماہ چھوٹی تھی

بس کرو ہو جائے گا ہمارا بھی تم ڈرامے کم کرو گڑیا اپنے سامنے دیوار میں نسب آئنے میں اپنا عکس دیکھتی اپنا جالی دار پرپل دوپٹہ سیٹ کرتی بولی ۔

گڑیا بوس بھی آ سکتے ہیں اور تم اس چھوٹے سے سکارف کو لے آئی ہو اس کے پرپل کڑھائی والے سوٹ پر چھوٹا سا دوپٹہ دیکھتی خنین نے سرنزش کی ،، بعض اوقات وہ خیران رہ جاتی تھی کے اس کے گھر کا ماحول اتنا مذہبی تھا لیکن اسے آج تک کسی نے ایسی ڈریسنگ کرنے سے روکا نہ تھا ۔۔

دوسرا وہ اکثر خیران رہ جاتی تھی کے اتنے پیسے اس کے پاس آتے کہاں سے تھے جو وہ ہمیشہ برانڈز سوٹ پہنتی ہر طرح کا فیشن کرتی ،، اس کے ساتھ دوستی کو تقریباً تین سال ہو چکے تھے ۔۔

گڑیا کا کھانا پینا اور لباس دونوں ہی بہت اعلی درجے کے تھے ،، جبکہ اسکی والدہ اس سے بلکل مختلف تھی وہ جب بھی ان کے گھر جاتی وہ سادہ سے لباس میں موجود ہوتی ،،گھر بھی ان کا بس تین کمروں کا تھا اور سادہ سا ۔۔ دیواروں پر شیٹ لگا کر خراب دیواریں چھپائی گئی تھی ۔
لیکن اس نے کبھی کچھ نہ کہا ،، وہ اپنا وہم سمجھتی سر جھٹک دیتی ۔
اور یہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی جو آنے والے وقت میں اس کے لیے بڑی مشکل کھڑی کرنے والی تھی
ـــــــــــــــــــــــــ

یار تم کتنی حسین ہو میں تو تمہارے حسن پر مر مٹا ہوں ،، سکرین کے پار موجود شخص آنکھوں میں چمک لیے بول رہا تھا ،، اسکی سانولی رنگت اور عام سے چہرے کو نظر انداز کرتی وہ مسکراتی بولی ،، آپ بھی مجھے بہت اچھے لگے ہیں ۔۔

مجھے لگتا ہے مجھے آپ جیسے شخص کی تلاش تھی اتنے وقت سے ،، سکرین پر نظر آتا اس شخص کا عکس دیکھتے وہ ایک دلفریب مسکراہٹ چہرے پر لاتی بولی جس سے سامنے والے شخص کو اور اجازت مل گئی ۔ وہ اپنی نگاہوں سے اس کا بھرپور جائزہ لیتا بھاری لہجے میں بولا ۔۔

پھر دیر کس بات کی ہے میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں ،میرا آگے پیچھے کوئی ہے نہیں ،، والدہ میری کا انتقال ہو چکا ہے دو بہنیں ہیں جن سے اکثر بات ہوتی رہتی ،،چھوٹا بھائی ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ گھر رہتا ۔۔
میری بہنیں تو کافی وقت سے مجھ پر شادی کا زور ڈال رہی لیکن مجھے کوئی پسند ہی نہیں آئی ابھی تک…. آپکو دیکھ کر مجھے بھی ایسا لگا کہ مجھے میرے صبر کا پھل مل گیا ۔۔
وہ مسکراتا اسکی جانب للچائی نگاہوں سے دیکھنے لگا ۔
تو وہ مسکراتی اس سے مزید باتیں کرنے لگی یہ جانتے بوجھتے کے وہ کس حرام کام میں لگ چکی ہے جس کا اگر کسی کو علم ہو جاتا تو وہ برباد ہو جاتی ،،لیکن جوان جذبات اور دولت کے آگے سارے احساس ماند پڑ چکے تھے ۔۔