Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363

Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 17) Last Episode

325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 17) Last Episode

Gumrah By Yumna Writes

دوسری جانب سے بہت شائستگی سے باوقار لب و لہجے میں علی بٹ ہمکنار ہوا تھا

میں علی بٹ بات کر رہا ہوں غالباً آپ مجھے نہیں جانتے لیکن میں آپکو جانتا ہوں اور آپکا کچھ وقت درکار ہو تو بات کرنا چاہتا ہوں ۔۔
اتنے شگفتہ لہجے اور اطمینان سا لہجہ اسے بے انتہا متاثر کر گیا ،، جی کریں بات میں سن رہا ہوں ۔۔
دیکھیں بھائی جان ، میں کوئی بھی نہیں ہوتا آپکو سمجھانے والا لیکن آپ مجھے اپنا بڑا بھائی کنسیڈر کر لیں ،،، میں بس آپ سے اتنی سی گزارش کرنا چاہتا ہوں جو آپ سوشل میڈیا پر اس بچی کی تصاویر ڈال رہے ہیں اسے چھوڑ دیں ،، یہ ایک بھائی کی اپنے مسلمان بھائی سے گزارش ہے ،، ان کے اتنے مہذب انداز و لب و لہجے نے اسے يقا يق ایک عجیب بھنور میں گھر لیا تھا ۔۔
آپ کیا لگتے ہیں اس کے ” وحشت و دہشت کے عالم میں اس کی زبان سے الفاظ پھسلے تھے ۔
جس طرح آپ میرے بھائی ہیں اسی طرح وہ بچی بھی میری بہن ہے ۔۔

علی بٹ کی گھمبیر شائستہ آواز سے ہی وہ پھچان چکا تھا کہ وہ کوئی بڑی ہستی ہیں ۔
آپ نہیں جانتے اس ذلیل شاطر عورت کو اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا ہے مجھے بہت لوٹ چکی ہے وہ ” اسکا لہجہ پل میں سخت ہوا تھا ۔
میں سب جانتا ہوں ” اور سب جاننے کے بعد ہی آپ سے ہمکلام ہوا ہوں ۔
وہ بچی میری کچھ نہیں لگتی لیکن جو تصاویر آپ نے پوسٹ کی ہیں ان میں میری زوجہ کی سہیلی بھی ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں ۔۔
وہ بہت شریف عزت دار گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں اور یوں آپ اس طرح سے انکی تصویر پوسٹ کر رہے ہیں جو ان کے لیے مشکل کا سبب بن رہی ہیں ۔

آپ میرے لیے بہت عزت کا مقام رکھتے ہیں ” آپکی باتوں نے مجھے آپکا اسیر کر دیا ہے آپ مجھے بتائیں میں ساری تصاویر ڈیلٹ کروا دیتا ہوں لیکن میں اسے چھوڑنے والا نہیں ۔
شروعات اس نے کی تھی ختم میں کرونگا ” ۔۔ اس کے لہجے میں طنز و حقارت موجود تھی گڑیا کے لیے ۔
نہیں میرا بھای ” یہ غلطی نہ کرنا ،، ہمارا دین ہمیں یہ نہیں سکھاتا ۔۔ اگر ایک غلطی کرے تو دوسرے کو دل بڑا کرکے اسے معاف کرنا چاہئے ،، ویسے بھی کافی بدنامی ہو چکی ہے ان کی لوگو میں ۔

مزید میں آپ سے گزارش کرونگا لڑکی ذات ہے ہو گئی غلطی آپ دل بڑا کرکے معاف کر دو ۔
جب آپ رب سے محبت کرتے ہیں تو وہ آپ کے دلوں میں صرف انہی لوگوں کو بسنے دیتا ہے جو آپ کی محبت کے اہل ہیں،
آزمائش ان کے لئے ہوتی ہے جنہیں الله چاہتا ہے⁦
اور صبر وہ کرتے ہیں جنہیں الله سے محبت اور الله پر یقین ہوتا ہے کہ یہ صبر وقتی ہے۔
کیونکہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے ۔۔۔
آپ رب کے قریب ہو جاؤ ۔۔
مجھے آپکی باتیں بہت اچھی لگی ،، میں ایسا نہیں تھا بھائی اس عورت نے مجھے مجبور کیا ہے ۔۔
لیکن آپ کہتے ہیں تو میں سارا ڈیٹا ڈیلیٹ کرواتا ہوں ۔
میرا دوسرا دوست تو کر دے گا لیکن ایک بہت سخت مزاج کا ہے ۔۔آپ اس سے خود بات کر لینا میں آپکو نمبر سینڈ کر دونگا ۔۔
مزید دو گھنٹے انہوں نے بات کی تھی اور علی بٹ نے انہیں لاہور آنے کی دعوت دی تھی ۔۔
وہ جماعت اسلامی سے تعلق رکھتے تھے اور تبلیغ کے لیے جایا کرتے تھے ،، لاہور میں انکا ایک نام تھا ۔

اب باری آرون جٹ سے بات کرنے کی تھی جو ایک بڑا معمہ سر کرنا تھا ۔۔
آرون جٹ سے پہلے عمر مومن نے بات کی تھی اور علی بٹ کی بے تحاشہ تعریفیں کی تھی ،،ایک پل کے لیے وہ بھی متجسس ہونے لگا تھا اس سے ملنے کے لیے ۔۔لیکن پھر جان بوجھ کر لا پرواہی کا چولا خود پر ڈال کر خاموش ہو گیا ۔۔
دن گزرنے لگے لیکن آرون جٹ ڈیٹھ بنا بیٹھا رہا ” اس نے ایک بھی کال موصول نہ کی تھی ” دوسری جانب علی بٹ اسکو کال کرکے تھک گیا تھا ۔
اس کے اندر اس وقت اشتعال کا آتش فشاں پھوٹ رہا تھا ،، عنابی لب بینچے وہ مٹھی بنائے ہونٹوں پر رکھے ہوئے گہری سوچ میں تھا ۔
آخر وہ کون تھی جس کے لیے اتنی تگ و دو کی جا رہی تھی ذہن میں اٹھتے سوال پر اس نے لیپ ٹاپ نکلا اور آی ڈی اوپن کی ،، ایک گروپ فوٹو تھی جس میں سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھتا وہ اگلا سانس نہ لے پایا تھا ” ہوا میں موجود آکسیجن جیسے ختم ہونے کو تھی ،،اسکا سانس اٹک گیا تھا ” ۔۔ وہ منجمد نگاہوں سے اپنی متحرک نگاہیں سامنے موجود وجود پر گاڑے ہوے تھا ۔۔
اسکا جلال سارا پل میں ڈھیر ہوا تھا ۔۔
۔متحرک لہو کو منجمند کر دینے والی خاموشی میں صرف اسکی سانسوں اور دھڑکتے دل کی آواز تھی جو اسے لگ رہا تھا آج باہر نکل آئے گا ۔۔
سیاہ لباس میں سر پر اچھے سے دوبٹہ اوڑھے وہ لبوں پر مسکان لیے سامنے دیکھ رہی تھی ” ۔۔
وہ لڑکی جسے وہ تلاش کر رہا تھا وہ سامنے تھی قسمت کی ستم ظریفی پر وہ شاکی ہوا تھا ۔۔
اس نے ہاتھوں کو جنبش دیتے وہ سارے کا سارا اکاونٹ ختم کر دیا ۔
جس کا پردہ اللہ نے رکھا تھا وہ کون ہوتا ہے اسکی عزت پر آنچ لانے والا ۔
آج اسے یقین آ گیا تھے کہ اللہ پاک کیسے وسیلے بناتے ہیں ،،،
وہ لڑکی جو اپنا ایک بال تک کسی کو دیکھنے نہ دیتی تھی آج اسکی وجہ سے جانے کتنے لوگ اسے دیکھ چکے تھے ۔۔

اس کے دل میں کچکولے لگنے لگے تھے ،، قسمت کی اس ستم ظریفی پر وہ خود پر ترس کھانے کے سوا کچھ نہ کر سکتا تھا ۔
اس نے بے ساختہ اپنا فون تھاما اور نمبر پر کال کی جس سے اسے کئی بار کال کی گئی تھی ۔
دوسری جانب علی بٹ موجود تھا ۔۔جس نے اسے تمام حقیقت سے آگاہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ وہ سب اس کی کولیگز تھی ۔۔اور شریف گھرانے کی لڑکیاں تھی ۔
وہ خاموش تھا ” اس کے دل میں اس لڑکی کی عزت اور احترام مزید بڑھ گیا تھا جس کے لیے وہ مرد اسٹینڈ لے رہا تھا اور اسے اسکا بڑا بھائی بول رہا تھا ۔۔
فون بند ہو چکا تھا لیکن وہ اس ساحرہ کے طلسم سے نہیں نکل پا رہا تھا ۔۔
میں آپکو ہمیشہ یاد رکھوں گا ” کہ عورتیں ايسی عزت دار اور پروقار ہونی چاہیے لیکن میں آپکو ڈيزرو نہیں کرتا ” دعا گو رہو گا کہ آپکو بہترین ہمسفر ملے ،، آنکھ سے ایک آنسو ٹوٹ کر گرا تھا ۔
وہ کیسے اپنے دین اپنے ایمان سی ھٹ سکتا تھا وہ پشیمان تھا اپنے رب کے حضور ۔۔ وضو کرتے نماز ادا کی اور دعا میں ایک آخری بار اس لڑکی کا روشن چہرہ نمودار ہوا تھا جو کسی کا بھی دل اور ایمان متزلزل کر سکتی تھی ۔۔اور پھر اس نے اپنے دل کو اسکے معاملے میں پتھر کر لیا تھا ۔۔
وہ ہیرا تھی اور وہ وہ تو کوئلہ تھا ،، حنین اس کے لیے ایک حسین یاد بن چکی تھی ،، ایک زندگی کا حسین واقعہ ۔۔۔
جس نے اسے برائی سے روکتے اچھائی کی جانب راغب کیا تھا اور اس سب سے انجان بھی تھی ۔

دکھ اور پریشانی کے بادل چھٹ چکے تھے حنین کو گڑیا کی تمام سچائی معلوم تھی لیکن اس نے اس سے کبھی اس بارے میں ذکر نہیں کیا ،، البتہ وہ اب اس سے روابط بہت کم کر چکی تھی ۔۔
اسکی والدہ کی وفات پر وہ گئی تھی ،، وہ اپنی ماں کے پاؤں تھامے چیخ رہی تھی اذیت سے رو رہی تھی ۔۔ حنین نے اسے قریب جاتے گلے لگایا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔
حنین کو اس پر ترس آیا ،، اسکی بے رنگ سیاہ آنکھیں ،، خشمگیں لب ،، زرد رنگت ،، ۔۔۔ اس پر گزری قیامت خیز لمحات سے آگاہ کر رہی تھی ۔
وہ اذیتوں سے نڈھال ویران چہرے اور نگاہوں اسے سب کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔
اسکا خوبصورت سراپا اس وقت حنین کو سوائے ہڈیوں کے ڈھانچے کو کچھ نہ لگا ۔۔ ، رنج و الم سے نڈھال وہ حنین کو جاتا بری اس سے دیکھ رہی تھی ،، مجھ سے ملنے آیا کرو گی نہ ۔۔میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں ۔۔
اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تو حنین جو جانے لگی تھی واپس پلٹی اس کے قرب جاتی اسے ساتھ لگا گئی

میں جانتی تو ہوں تم پر جو قیامت گزری ہے اسکا درد تمہارے سوائے کوئی نہیں جان سکتا ،،لیکن پھر بھی اتنا کہنا چاہوں گی میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔
تم پریشان نہ ہو آنٹی کے لیے دعا کرو اللہ انکا جنت میں اعلی مقام عطا فرمائیں ،، حنین اپنی آنکھیں خشک کرتی اسے الوداع کہتی باہر کی جانب قدم بڑھا گئی ،،بھاری دل اور دوست کے غم میں مغموم ۔۔
————————–
صبح کی کرنیں قبرستان میں موجود فضا میں عجب سکوت طاری کیے ہوے تھے ،، اتنی خاموشی کے پتوں کی سنسناہٹ بھی محسوس ہوتی ،، ایسے میں چاند اس کے قریب کھڑا یسین پڑھ رہا تھا ۔۔
وہ قبر پر سر گرآئے بیٹھی آنسو بہا رہی تھی ” قبر کی مٹی کو ہاتھوں میں لیتے وہ اپنی ماں کو پکار رہی تھی ۔۔
سیاہ چادر لپیٹے اپنا کمزور وجود لئے وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی چاروں اطراف دکھ اور تاسف کی دبیز پرت بن کر اُتری فضا کا حصہ لگ رہی تھی ۔ماں کی جدائی اس سے سہی نہیں جا رہی تھی
انکے آخری لمحات اسے بھلائے نہیں جا رہے تھے ۔۔امی اٹھیں نہ دیکھیں ہم کتنے تنہا ہو گئے ہیں ۔۔امی آپکی جدائی ناقابل برداشت ہے ،، وہ آنسو بہاتی رو رہی تھی ترپ رہی تھی ۔
چاند نے اسے ساتھ لگایا تھا ” میں تمہارے ساتھ ہوں گڑیا ،، تم کیوں رو رو کر مان کو تکلیف دے رہی ہو ۔اپنی جلتی آنکھوں سے وہ چاند کو دیکھنے لگی ” وہ اسے یوں ہی سینے سے لگائے مردہ قدم اٹھاتے قبرستان پاڑ کر گیا تھا ۔۔۔
انکی کل کائنات جا چکی تھی انکی زندگیاں تھم چکی تھی ” بس اسے لگنے لگا تھا اب زندگی میں کچھ واپس پہلے جیسا نہ ہوگا ۔
سارا وقت وہ جائے نماز پر بیٹھی روتے گزار دیتی” اپنے والدین کی دائمی جدائی ایک ناسور بن کر اسے اندر ہی اندر کھا رہی تھی ۔
اسکے اندر کا دکھ اور پچتاوا اسے اندر کہیں چھپے سانپ کی طرح ڈس رہا تھا ۔۔
چاند اسکی دن بدن گرتی صحت اور خراب ہوتی حالت کو دیکھ کر اسے زبردستی مفتی صاحب کی اہلیہ سے ملوانے مدرسہ لے کر گیا تھا جو مسجد سے ملحق تھا ۔
ان کے ہے تحاشہ سمجھانے اور مائنڈ واش کرنے سے یہ اثر ہوا کے وہ اس کے ساتھ مدرسہ جانے لگی تھی اور وہاں بچوں میں تھوڑی دیر کے لیے ہی لیکن اپنا غم بھول جاتی ۔
سب کی زندگیاں اپنی ڈگر پر چلنے لگی تھی ۔۔لیکن ان میں ایک خلا آ چکا تھا ۔کبھی نہ پر ہونے والا خلاء ۔
ــــــــــــــــــــــــــــ
میں عمر مومن جو اپنی عیاشیوں میں دین کو بھلا بیٹھا ” دنیا کی زندگی اور اسکی رنگینیوں میں ایسا کھویا کہ سب کچھ بھلائے حرام کی جانب کھینچتا چلا گیا ۔
پیسے اور حرام کی لت نے مجھے کہیں کا نہیں چھوڑا ،، آج میرے پاس پیسہ ہے دولت شہرت سب کچھ ہے لیکن سکون نہیں ،،میں ایک پل کے سکوں کے لیے ترپتا رہ جاتا ہوں ۔۔میرے پاس میرے انمول رشتے نہیں ہیں ۔۔
اللہ پاک نے قرآن پاک میں واضح الفاظ میں فرمایا ہے ۔

وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ۞ ترجمہ: “اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔

اور دنیا کی زندگی دھوکے کی لذت کے سوا کچھ نہیں (سورۃ آل عمران آیت 185)
اس آیت سے معلوم ہو اکہ دنیا کی عیش و عشرت اور زیب و زینت اگرچہ کتنی ہی زیادہ ہو، یہ دھوکے کے سامان کے علاوہ کچھ نہیں ،لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ دنیا کی رنگینیوں سے ہر گز دھوکہ نہ کھائے ، ذلیل دنیا کو حاصل کرنے کے لئے اپنی قیمتی ترین آخرت کو ہر گز تباہ نہ کرے۔
امام محمد غزالی رَحْمَۃُاللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ایک بزرگ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ اے لوگو اس فرصت کے وقت میں نیک عمل کرلو اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ امیدوں پر پھولے مت سماؤ اوراپنی موت کو نہ بھولو۔ دنیا کی طرف مائل نہ ہوجاؤ، بے شک یہ دھوکے باز ہے اور دھوکے کے ساتھ بن ٹھن کر تمہارے سامنے آتی ہے اور اپنی خواہشات کے ذریعے تمہیں فتنے میں ڈال دیتی ہے، دنیا اپنی پیروی کرنے والوں کے لیے اس طرح سجتی سنورتی ہے جیسے دلہن سجتی ہے۔ دنیا نے اپنے کتنے ہی عاشقوں کو ہلاک کردیا اور جنہوں نے اس سے اطمینان حاصل کرنا چاہا انہیں ذلیل ورسوا کر دیا، لہٰذا اسے حقیقت کی نگاہ سے دیکھو کیونکہ یہ مصیبتوں سے بھرپور مقام ہے، اس کے خالق نے اس کی مذمت کی، اس کا نیا پرانا ہوجاتا ہے اور اسے چاہنے والا بھی مرجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں دنیا کی حقیقت کو پہچاننے ،اس کے دھوکے اور فریب کاری سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے آمین ۔۔

میری طرح آپ لوگ بے سکونی سے بچنے کے لیے اس رب کی جانب لوٹ جائیں وہی ہمارا حقیقی ٹھکانہ ہے ۔

___________________yumna writes

میں گڑیا عرف ملکہ ” میں نے اپنی زندگی خود برباد کی ،، کوئی ہے میرا جیسا بے وقوف جو خود کو خود ہی برباد کرتا ۔۔
میں نے خود کو برباد کر دیا ،، میں نے خود کے لیے رسوائی چنی ،،میں نے خود کو ایک ایسی ان دیکھی آگ میں جلایا جس میں میرا سب کچھ راکھ ہو گیا ۔

میں راکھ ہو گئی ،، ۔۔۔
پیاری لڑکیوں میری طرح تم لوگ بھی اس آگ میں مت کودنا ،، میں اس میں جلتے اپنا سب کچھ ہار بیٹھی ہوں ،، جب تمہیں کوئی حرام کی جانب پکارے اور کھینچے تو تم اپنا دامن بچا کر رکھنا ۔
میں نے کسی کو اپنا وکیل نہیں بنایا ،، سوائے میرے رب کے ” میری طرح ہر کوئی خوش قسمت نہیں ہوتا ۔۔سب کو موقع نہیں ملتا ۔
جب تمہیں کوئی غیر محرم اپنی جانب راغب کرے تو اسکی جانب قدم نہ بڑھانا ” ہر چیز کا منفی اور مثبت پہلو ہوتا ہے اسی طرح تم لوگ اس جدید دور میں جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال نہ کرنا ۔۔
لڑکیوں کی عزتیں بڑی نازک ہوتی ہیں تم اپنی عزت بچا کے
رکھنا ورنہ یہ بھیڑے تمہیں زندہ نوچ کھائیں گے ۔

میں حنین یوسف ” مجھے یہ سمجھنے میں کافی وقت لگا کہ زندگی میں ہر چیز کا مطلب ایک خوبصورت کہانی نہیں ہے۔ ہر وہ شخص جس کے ساتھ ہم کچھ گہرا محسوس کرتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کا مقصد ہمارے اندر گھر بنانا نہیں ہوتا، نا ہی اس کا مطلب ہمیشہ کے لیے رہنا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی، لوگ ہماری زندگیوں میں ہمیں سکھانے کے لیے آتے ہیں کہ محبت کیسے کی جائے۔ اور کبھی کبھی، لوگ ہماری زندگی میں آتے ہیں ہمیں سکھانے کے لیے کہ محبت کیسے نہ کی جائے۔ کیسے آباد نہ ہوں۔ ہاں، کبھی کبھی لوگ چھوڑ دیتے ہیں-لیکن یہ ٹھیک ہے، کیونکہ ان کے اسباق ہمیشہ باقی رہتے ہیں، اور یہی بات اہم ہے۔ یہی رہ جاتا ہے

ختم شد ۔۔۔