325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 11)

Gumrah By Yumna Writes

ملکہ اور عمر مومن میں بے تکلفیان بڑھنے لگی تھی ،، عمر مومن کی من مانیاں بڑھنے لگی اور ملکہ اس سے اب تنگ آنے لگی تھی ۔۔ وہ اس سے جتنا پیسہ مانگتی وہ بھیجتا ،، جس چیز کی ڈیمانڈ کرتی وہ پوری ہوتی لیکن اب عمر مومن کا اس سے روز روز نئی فرمائشیں کرتا اور اس کی آنکھوں میں خمار اور ہوس کے ملے جلے تاثرات دیکھ کر ملکہ شرمندہ ہونے لگی تھی کہ انکا آخر کیا ہے ۔

یان تو عمر مومن اس سے نکاح کر لے یان پھر اس پیش رفت اور اس کی شوریدگی کو وہ وہی روک لے ۔۔

عمر مومن اس کی سن نہیں رہا تھا اور وہ تنگ آنے لگی تھی ،،
وہ نکاح کرنا چاہتا تھا لیکن فلوقت نہیں ۔۔۔۔ اور اس کی اس نہ نہ اور نکاح کی بات کو لٹکاتا دیکھ کر ملکہ کو کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہونے لگا تھا ۔

حسب معمول عمر مومن نے رات کے دو بجے ویڈیو کال کی تھی ” ملکہ جس کا موڈ بری طرح خراب تھا عمر مومن اسے دیکھ کر باتوں کے جھال بننے لگا ۔۔

یار تم کیوں پریشان ہو رہی ہو میں جلد واپس آؤنگا ،، ضروری کام ہیں کچھ جنہیں خود مکمل کرکے آنا چاہتا ہوں ۔۔

وہ اس کے سامنے سفید سلک کے نائٹ سوٹ میں موجود بیٹھی تھی ،، عمر مومن کی نگاہیں اس کے جسم کے آر پاڑ ہوتی اس کے ملائم نرم مومی وجود کو دیکھنے کے لیے ترپنے لگی ۔۔۔

مجھے تمہیں دیکھنا ہے ملکہ ،، میں ترپ رہا ہوں تمہارے لیے ،،میرا اندر جل رہا ہے ۔۔ مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو پا رہا میری آنکھیں ترس رہی ہیں تمہارے خوبصورت وجود کو دیکھنے کے لیے ،، عمر مومن نگاہوں میں حمار کی گہری سرخی لیے شدت پسند سا اس کے نازک سراپے پر نگاہیں گاڑھے ہوے بولا ۔۔

نہیں بلکل نہیں۔ ۔۔۔اب جب تک ہمارا نکاح نہیں ہو جاتا میں تمہاری ایسی کوئی ڈیمانڈ پوری نہیں کرونگی ،،

ملکہ نے سنجیدگی سے ترخ کر جواب دیا ،، ۔۔۔

اس کے الفاظ سنتے عمر مومن وحشت زدہ سا ہوتا اپنے اندر اٹھتے ابال سے بے قابو ہوتا قہر برساتی نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔
تم جانتی ہو تم کسے انکار کر رہی ہو ،، مجھ سے ضد اچھی نہیں ملکہ ۔۔
تم میری ہو اور تمہارے اس وجود پر صرف عمر مومن کی حکومت ہے ۔

نہ مجھ سے پہلے کوئی نہ بعد،، تمہیں مجھ سے کوئی نہیں چهین سکتا ،، تم میرا نشہ ہو جو اگر مجھے میسر نہ کیا جائے تو میں پاگل ہو اٹھتا ہوں ،، میں خود کا نہیں رہتا ۔۔۔

اس کے لہجے کی سختی ،، شدت پسندی پاگل پن ملکہ کو لرزنے پر مجبور کر کیا تھا ۔

بوجھل سانسوں اور نم ہوتی نگاہوں سے اسے دیکھا تھا جو اب حکم دیتا اپنے حکم کی تعمیل کا منتظر تھا ۔

میں کیا بول رہا ہوں تمہیں میری آواز نہیں آ رہی ،، دبے دبے لہجے میں تپے ہوے انداز میں وہ چلایا ۔۔۔

آہستہ بولیں غلام نہیں ہوں آپکی ” جو ہر وقت آپ کے مطابق آپکی مرضی سے کٹھ پتلی کی طرح عمل کرو۔۔۔

میں آپکو پہلے یہ بات اچھے سے باور کروا چکی ہوں کہ میں مزید آپکی کوئی من مانیاں برداشت نہیں کرونگی ۔۔۔

اس کا یہ کہنا تھا کے مقابل کے تن بدن میں اس کے الفاظ آگ لگانے کا کام کر گئے ،، اس نے اشتعال میں آتے اپنی مٹھیاں بينچتے اس کے نیم عریاں وجود پر نگاہ ڈالی جو اس کے سامنے آج ڈٹ کر کھڑی تھی ۔۔۔

سوچ لو میری بات کی نفی تمہیں بہت مہنگی پڑے گی ،، اس کے لہجے میں کچھ تھا ،،

اسکی آنکھوں کی چمک سے وہ فق چہرے سے اسے تکنے لگی ،، تمم۔۔۔تم ایسا کچھ نہیں کرو گے ۔۔

اس نے با مشکل اپنے کانپنے لہجے لرزتے بدن ،، اور پیلی پڑتی رنگت سے اسے روکنے کی ایک چھوٹی سی سعی کی ۔۔،،

جانتی تھی وہ کبھی نہیں سننے والا “
آج پہلی بار اسے اپنا آپ بے بس اور کمزور محسوس ہوا تھا ۔

میں کچھ بھی کر سکتا ہوں اس کی جانب دیکھتا مضحکہ خیز انداز میں مسکراتا تو ملکہ کا دل چاہا اسکا چہرہ نوچ ڈالے ،، وہ کس دلدل میں پھنس چکی تھی جہاں سے نکلنا محال ہو گیا تھا ۔۔
ایک منٹ میں اپنے چہرے پر جان لیوا مسکراہٹ لاتی وہ اسے اپنی خوبصورت آنکھوں سے دیکھنے لگی ۔۔

آپ میرے ساتھ ایسا کریں گے عمر ” آپ مجھ سے محبت کے دعویدار ہیں اور آپ جانتے ہیں میں آپ سے عشق کرتی ہوں لہجے میں بے تخاشہ چاشنی گھولتے وہ اس کی جانب دیکھتے دھیمے نرم لہجے میں گویا ہوی کہ مقابل پل میں سب بھلاتا اس کا دیوانہ ہوتا بول اٹھا ۔۔

جان من میں کب کچھ کر رہا ہوں ” تم میری جان ہو میں کبھی تمہارے خلاف کچھ نہیں کر سکتا ” بس میں تمہارا طلبگار ہوں ۔۔
تمہیں دیکھے بغیر مجھے چین نہیں آتا روح میں عجیب تشنگی سی برپا رہتی ہے جو تمہارے اس دو آتشہ حسن سے ہی سکون میں آئے گی ۔۔
مجھے تمہیں دیکھنا ہے ملکہ ” نگاہوں میں لپک لیے وہ اس کے نازک مومی وجود کو دیکھ رہا تھا ۔

اس کی ضد پر وہ ہار بیٹھی تھی
آنکھیں میچتی وہ اذیت سے خود کو ہر پردے سے آزاد کرتی اس کے سامنے موجود تھی ،،

عمر مومن کی استحاق بھری نگاہیں اس کے وجود پے ٹھری ہوی تھی ،، اس کی آنکھوں میں خمار اور اپنی خواش کی تکمیل نے اسے اندھا کر دیا تھا ،، اپنی ہوس اور لطافت میں ڈوبا وہ سب بھلا بیٹھا تھا “

دوسری جانب ملکہ کو آج پہلی بار اپنے وجود پر اسکی نگاہوں سے چیونٹیاں رینگتی محسوس ہوی تھی ،، اسکا وجود ہولے ہولے لرزنے لگا تھا ۔۔
عمر مومن اس کے وجود کی گہرائی اور خوبصورت میں ایسا کھویا کہ اسے دنیا جہاں کا ہوش نہ رہا ۔
ملکہ اسے دو دو ہاتھوں سے لوٹ رہی تھی ،، آخر اسے بھی تو کچھ فائدہ چاہے تھا نہ ۔۔
دونوں ایک جیسے تھے ” ایک کو دولت کی ہوس تھی تو دوسرے کو جسم کی ۔۔

ـــــــــــــــــــــــ

چوہدری محمد کو جب انکار ملا تو وہ تلملا اٹھا ،، دل تھا کہ سب جلا کر خاک کر دے ،، دماغ الگ ان کے انکار پر سنسنا اٹھا تھا ،، ہاتھوں کو مٹھیاں بینچتا وہ ضبط سے پاگل ہونے کو تھا ،،، دماغ کی شریانیں کھولنے لگی ،، دماغ کی محسوس رگ تیزی سے پھرپھڑانے لگی ،، محمد کو انکار کیسے کر سکتے ہیں مجھے ، مجھے انکار کیا ،،

اپنی سرخ ڈورون والی لہو چھلکاتی نگاہیں سامنے دیوار پر مذکور کیے وہ بے تخاشہ سرخ پڑتے چہرے سے اٹھتا باہر نکلا تھا ،، اُسکا دم گھٹتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔

اس قدر غصّہ تھا کہ اسے لگ رہا تھا آج اُسکا دماغ پھٹ جانا ہے ۔
آنکھوں کو سختی سے میچتے وہ خود پر ضبط کیے گہرے سانس لینے لگا ،، خود کو باتوں میں لگاتا قدرے نارمل ہوتا وہ مال میں موجود سب کے درمیان بیٹھا تھا تاکہ دماغ تھوڑا پرسکون ہو سکے ۔۔
اسکا ارادہ رات میں گڑیا سے بات کرنے کا تھا ۔

فون غصے میں وہ اپنا شاپ میں چھوڑ آیا تھا ” ۔۔۔۔۔

گڑیا جو اس کے غصے کا سوچ سوچ کر ہول رہی تھی ،، اسے فون کرنے لگی لیکن کال موصول نہ ہوتے دیکھ وہ مزید بے چین ہوتی اسے میسج کرنے لگی ۔۔
دل بے تحاشہ پریشان تھا ” جانے اب وہ کیا کرے گا ۔۔