Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 12 & 13)
Rate this Novel
Gumrah (Episode 12 & 13)
Gumrah By Yumna Writes
گڑیا ہاتھوں پر نگاہ مرکوز کیے پریشان حال سی بیٹھی تھی ،، اتنا وقت بیت گیا تھا لیکن محمد نے رابطہ نہ کیا تھا ۔۔۔
شکن زدہ اعصاب سے وہ بستر پر لیٹی تھی اور جانے انہی سوچوں میں غرق ہوتے اسکی کب آنکھ لگی اسے معلوم نہ ہو سکا ۔۔
سارہ بیگم بھی بیٹی کو پریشان دیکھتے اس کے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ سو چکی تھی ” اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی محبت بھری نگاہوں سے اسے دیکھتی واپس چلے گئی ،، ویسے تو وہ اس کے ساتھ سوتی تھی لیکن گرمی بڑھنے لگی تھی تو وہ چھت پر جانے لگی تھی جہاں چاند پہلے ہی چارپائیآن بچھا رہا تھا ۔
—————–
شام سے رات ہو گئی ،، ہر سو اندهیر چھانے لگا ،، پرندے اپنے گھروں کو لوٹنے لگے ،،
وہ جو ڈھیٹ بنا بیٹھا ہوا تھا غصّہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا تو اٹھتا سب سے اسلام دعا کرنے لگا ،، اور واپسی کی راہ لیتا اپنی پوکیٹس ٹٹولنے لگا ،، لیکن فون موجود نہ تھا ،، غصے میں وہ اپنا فون شاپ پر چھوڑ آیا تھا ۔۔
واپس آتے اس نے سب سے پہلے اپنا فون اٹھایا جس پر انگنت گڑیا کی کالز شو ہو رہی تھی ۔۔
فون ہاتھوں میں سختی سے بینچتا چہرے پر غصیل تیور لیے ورکرز کو کلوزنگ کا کہتے اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا ۔۔
فلیٹ میں آتے ہی اس نے گڑیا کو ویڈیو کال کی ،،غصّہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا ،،
رنگینگ جا رہی تھی لیکن ابھی تک کال موصول نہیں کی گئی تھی ۔۔
گڑیا جو گہری نیند میں ڈوبی تھی محمد کی ویڈیو کال دیکھتے فوراً سے سیدھی ہوتی یس کر گئی ۔
کیا سمجھتی کیا ہو تم خود کو ” میرے جذبات کے ساتھ کھیلنا چاہ رہی ہو تو یہ ممکن نہیں بی بی ،،
وہ بد لحاظی سے بولتا اس کے ستے ہوے چہرے پر نگاہ پڑتے خاموش ہو گیا جو کہ اس کے ہے تحاشہ رونے کی گواہی دے رہا تھا ۔۔
تم روئی ہو ؟؟۔۔۔
اچانک لہجہ میں نرمی در آئی ،، کیا ہوا ہے کسی نے کچھ کہا ہے ،،۔۔
متفکرانہ لہجے میں وہ پے در پے سوال کرتا اس کے چہرے کو بے تاب نگاہوں سے دیکھ رہا تھا جو نگاہیں جھکائے اس کے سامنے بیٹھی تھی ۔
بولو کچھ تو بولو کسی نے کچھ کہا ہے ،،۔۔۔ گڑیا عجیب نگاہوں سے سامنے بیٹھے اس ہرجائی کو دیکھنے لگی ۔۔
جو زخم بھی خود دیتا تھا اور بعد میں اس پر مرہم رکھنے آ جاتا تھا ۔
میں نے کیا نہی کیا تمہارے لیے ،، وہ چیخ پری ” لیکن تم تمم۔۔۔
عجیب ہو ،،تم انسان نہیں ہو حیوان ہو ” ۔۔
میں خود کو مزید ذلیل و رسوا نہیں کر سکتی ” میں تھک گئی ہوں ۔۔۔اور مجھے لگتا ہے تم بھی اب تھک چکے ہو ۔۔
ہمارا ساتھ یہی تک کا تھا میں مزید خود کو تمہارے لیے برباد نہیں کر سکتی ۔۔
خود کو مضبوط بناتے وہ سنجیدگی سے اٹل لہجے میں گویا تھی ۔
اسکی بات سے مقابل کے تن بدن میں جیسے شعلے بھڑک گئے ہوں ،، وہ اپنی کن پٹی کو سہلاتا اپنا اشتعال انگیز روپ قابو کرنا چاہ رہا تھا لیکن دوسری جانب وجود نے اس کے اندر کے جانور کو جیسے جگا ڈالا تھا ۔۔
وہ بپھرے شیر کی دھاڑ لیے اس کی جان لینے کے در پر تھا ۔
تم مجھے چھوڑنا چاہتی ہو ،، ۔۔۔مجھے ۔۔ محمد عمر مومن چودھری کو ۔۔
اسکی آنکھوں میں موجود “میں ” اور خون اترا دیکھ کر وہ خوف میں مبتلا ہوتی اپنے لرزتے بدن کو قابو میں کرنے کی سعی کرنے لگی ۔
اب اس نے اس مرد کے سامنے کمزور نہیں پڑنا تھا ،، وہ ڈٹ جانا چاہتی تھی ۔۔
ہاں میں “ملکہ ” میں تنگ آ چکی ہوں تم سے ،،تمہارے ان روز روز کے ڈراموں سے ،، تم ایک خبطی آدمی ہو پاگل جنگلی ،، سفاک ۔۔۔تم میں غیرت نام کی چیز نہیں ۔۔۔
گڑیا عرف “ملکہ ” غصے اور اشتعال کی ملی جلی کیفیت سمیت اس پر گرجی ،، اُسکا بپھرا روپ دیکھ کے عمر مومن آنکھوں میں نگواریت لیے دھاڑا ۔۔
اس کا طرز تخاطب اور اسکی چلتی زبان اسے کسی طور منظور نہ تھی ۔
اگر اس وقت وہ اس کے سامنے ہوتی تو وہ کب کا اسے سبق سکھا چکا ہوتا لیکن نہیں ۔۔۔۔وہ مقابل کو اتنی جلدی چھوڑنے کے حق میں نہ تھا ۔
تم پر تم سے زیادہ حق ہے عمر مومن کا ،،بھولو مت میرے احسان ،،میں نے کیا کچھ نہیں کیا تمہارے لیے ،،صرف تمہاری محبت میں ۔۔۔تم پر تم سے زیادہ حق محمد عمر مومن کا ہے ۔۔۔
اسکی دھاڑ پر ملکہ اندر سے سہم گئی تھی ” بظآخر خود کو مضبوط دکھا رہی تھی ۔۔
عمر مومن کی آنکھیں خطرناک خد تک سرخ انگارہ ہو گئی تھی ،،
دماغ کی شریانیں الگ پھٹنے کو بے تاب تھی ۔
میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا یہ بات ذہن نشین کر لو میری محبت میرا وقت ،،پیسہ تمہیں کچھ بھی یاد نہیں ،، تم سب بھلا بیٹھی ہو وہ طیش کے عالم میں چیخ پڑا ،، حلق خشک پر چکا تھا لیکن ملکہ فیصلہ کر چکی تھی ۔۔
میں فیصلہ کر چکی ہوں مجھے تم جیسے پاگل شخص کے ساتھ اپنی زندگی خوار نہیں کرنی ۔۔
کبھی تم مجھ سے خط لکھواتے ہو ،،کبھی مجھ سے پاسورڈ مانگتے ہو ،، میرا تمام ڈیٹا تمہارے پاس موجود ہے ” میری ایک ایک تصویر تمہارے موبائل میں ہے ۔۔
تم نے مجھے مکمل طور پر اپنا پابند کر لیا اور میں ہو بھی گئی” بغیر کچھ بولے لیکن میں ساری زندگی تمہیں اپنے کردار کی صفائیان دیتے نہیں گزار سکتی ۔
تمہاری تمام دیرینہ خواہشات کو میں نے پورا کیا ،، تم جو کہتے رہے میں کرتی رہی لیکن مزید نہیں ،، میں تھک چکی ہوں میں تھک گئی ہوں تم سے ،،، تنگ آ چکی ہوں
وہ غصے سے تپے سرخ سوجے چہرے اور لال بھبھوکا نگاہوں سے اسے دیکھتی اسے اُسکا اصل اسے دکھا رہی تھی ۔۔
اس کی لفاظی اور آنکھوں میں واضح ہوتی کڑختگی ” ناگواریت لیے ہوئے تھی ۔
مقابل تو اس کے اتنے سخت تاثرات اور رکیک الفاظ سے دھنگ رہ گیا ۔
اُسکا دل دھک دھک کرتا سامنے بیٹھی اس قاتل حسینہ کو دیکھ کر جلسنے لگا ۔
کیا وہ اس سے جان چھڑوا رہی تھی ،، ۔۔
تم مجھ مجھ ” اس کے الفاظ بے ربط ہوے مجھ سے جان چھڑوانا چاہ رہی ہو ۔۔
میری محبت تمہیں بوجھ لگتی ہے ،، تمھیں لگتا ہے میں تمہیں اپنا پابند کر رکھا ہے ۔
تم پر میں نے کبھی زور زبردستی نہیں کی ” ہمارے ہر فعل عمل میں تمہاری رضامندی شامل ہوتی تھی ۔۔
میں نے تمہیں کبھی اپنا پابند نہیں کرنا چاہا ” پورا ایک سال میں تمہارے پیچھے پڑا رہا کے اپنے گھر والوں سے میری بات کروا دو میں آ جاو گا تمہارے لیے ۔۔
تم نے انکار کیا ” ۔۔۔۔
تم نے جو جو کہا میں کرتا گیا ایک حرف نہیں نکالا زبان سے ،، تم نے مجھے اپنی فیملی سے اپنی دوست کا کزن کہہ کر مجھے متعارف کروایا ،،
مجھ سے کہا میں تمہیں سعودیہ سے انگوٹھی بھیجو میں نے بیجھی ،، تمہارے نام اپنا مکان کیا ۔۔
تمہاری ہر خواہش پر سر جھکاتے رہا اور اب ۔۔۔اب تم مجھے غلط بول رہی ہو
گڑیا کی باتوں نے اس کے دل پر کاری ضرب لگائی تھی ،،
میں تمہیں کبھی نہیں چھوڑوں گا اتنا تم یاد رکھو ” ۔۔۔ وہ شدت پسندی سے دھاڑہ ،،
بلاؤ اپنے باپ کو میں بات کرتا ہوں اس سے ،، دو ٹکے کے تم لوگ ،، میرے پیسے پر پلنے والے آج مجھے آنکھیں دکھا رہی ہو وہ آپے سے باہر ہوتا گرجا ،، اس کی گرج سے گڑیا کے منھ سے بے ساختہ چیخ نکلی اور اس کے بابا جو واشروم سے نکلے تھے فوراً سے قبل اس کے کمرے میں داخل ہوئے ۔۔
گڑیا کیا ہوا ہے میری جان ” ۔۔۔
متفکر لہجہ ،، بے چین سے وہ اس سے سوال کر رہے تھے ۔۔
بابا محمد ” محمد مجھے اتنے دنوں سے تنگ کر رہے ہیں ” وہ فون بند کرتی روتے اپنے بابا کے سینے سے لگی” مجھے کہتے ہیں بابا کو راضی کرو نکاح کے لیے ” کبھی مجھے ویڈیو کال کرتے کہتے دوبٹہ ہٹاؤ ،،
وہ آنکھیں میچتی روتی انہیں کچھ باتیں خود سے لگاتی بتا گئی ،، اور ندیم صاحب اشتعال میں آتے گڑیا کے سر پر ہاتھ پھیرتے گویا ہوے ۔۔
تمہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ،، آج کے بعد تم اس سے بات نہیں کرو گی ” ہم منگنی توڑ رہے ہیں ،، کسی کو کچھ بھی بتانے کی ضروری نہیں ” ناقابل فہم تاثرات چہرے پر سجائے وہ آنکھوں میں گہری سرخی لیے مستفسر تھے ۔
میرا بیٹا ابھی آرام کرو صبح بات کریں گے اس بارے میں وہ شفقت بھرا ہاتھ اس کے سر پر پھیرتے اٹھ گئے ،، گڑیا پیچھے اس پاگل شخص کا اگلا قدم سوچتی سوچوں میں گم بے حال ہونے لگی ۔۔
وہ بہت بڑا قدم اٹھا بیٹھی تھی ،، اسے اب احساس ہو رہا تھا لیکن اسے یہ کرنا تھا ۔۔
وہ اسے مزید نہیں جھیل سکتی تھی ،، اب اصل حقیقت گڑیا اور عمر مومن جانتے تھے ،، باقی سب تو ان دونوں کی حقیقتوں سے انجان تھے ۔۔اور اسے سب کو انجان ہی رکھنا تھا ۔
پاکستان پہنچتا وہ آئر پورٹ پر کھڑا اپنی جلتی آنکھوں پر چشمے لگائے سامنے دیکھنے لگا جہاں اسکا کزن پہلے سے کھڑا اُسکا منتظر تھا ۔۔
یاور سے ملتے اس نے مان کی طبیعت کا پوچھا ” جس کا اس نے مثبت جواب دیا ” کہ وہ کافی بہتر ہیں پہلے سے ” گہرے سانس بھرتے وہ اس سفر کے دوران اس کی باتوں کا ہوں ہاں میں جواب دیتا رہا ۔۔
اتفاق ہاسپٹل کے سامنے گاڑی رکتے ہی وہ باہر نکلا ” ہاسپٹل میں داخل ہوتے قدم من من کے بھاری ہونے لگے ،، اسے اپنا دل کانوں میں دھڑکتا سنائی دے رہا تھا ۔۔
سامنے کوریڈور میں اس کے بابا موجود تھے میر صاحب کو دیکھتے وہ قدرے تیز ڈھگ بڑھتا ان تک پہنچا تھا اور یہیں اس کا ضبط ٹوٹا تھا وہ قد آور وجہہ و دلکش مرد اپنے باپ کے گلے لگتا اونچی آواز سے رونے لگا تھا ،، بابا ۔۔۔ مان “
میرا بیٹا کچھ نہیں ہوا ماں کو وہ بالکل ٹھیک ہیں بی پی شوٹ کر گیا تھا بس اب بلکل ٹھیک ہے الحمداللہ ۔۔
میں یاور کو کال کرنے باہر آیا تھا آپکی ماں کے لیے سرپرائز تھا ” ۔۔
آپ کی آمد سے لاتعلق ہیں وہ اور یہ حور بیٹی نے جان بوجھ کر آپکو کال کی ہے ،، زیادہ پریشانی کی بات نہیں۔۔
وہ اس کو ریلیکس کرتے اس کے چوڑے شانے پر ہاتھ رکھتے اسے دیکھتے محبت بھرے لہجے میں گویا ہوے ۔۔
چلو میرے شیر اپنی مان سے مل لو ” ناب پر ہاتھ رکھتے جون ہی وہ روم میں داخل ہوا اسکی نگاہ سامنے بیٹھی سلوہ بیگم پر گئی جو اس کی راہ تکتی آنکھوں میں ممتا کی پیاس لیے اسکی دید کی منتظر تھی ۔
انہیں سلوہ چپکے سے اسکی آمد کا بتا چکی تھی اور ان کی طبیعت بھی زیادہ خراب نہ تھی ،، سب حور کا پلان تھا ۔
ماں کو دیکھتا وہ فوراً سے ان کے سینے لگتا اپنی نم ہوتی آنکھیں میچ گیا ۔۔
دنیا جہاں کا سکون اسے اس آغوش میں میسر تھا ” میرا بیٹا ” میری جان ۔۔۔
سلوہ بیگم اس کا چہرہ بے تخاشہ چومتی اسے سینے سے لگا گئی ۔
اٹھتا وہ ان کی حسین آنکھوں پر لب رکھتا ایک ایک نقش کو چومنے لگا ” ،، میری پیاری ماں ،، ۔۔۔
محبت پاش نگاہوں سے انہیں خود کو دیکھتا پا کر وہ ان کی گود میں سر رکھ گیا ” ۔۔
میں ڈر گیا تھا ماں جی ” دوبارہ کبھی ایسا نہیں کرنا ۔۔آپ سے دوری برداشت نہیں مجھے ” ۔۔
اس کے کرب زدہ لہجے پر وہ جھکتی اس کے ماتھے پر لب رکھ گئی ” ۔
میری جان میں پاس ہوں اپنے بیٹے کے ہر وقت ” آپکے دل میں ” اس کے دل پر ہاتھ رکھتی وہ بولتی اسے بے چین کر گئی ۔
بیٹا زندگی جینے اور مرنے کا نام ہے ” جانے اور کتنا وقت ہے ہمارے پاس ۔۔
ایسا مت بولیں” آپ جانتی ہیں آپ کے بغیر میرا سانس لینا دوبھر ہے اس کے باوجود ” وہ پہلو بدلتا خفگی سے بولا ۔
تو وہ گہرا مسکرا دی ” میر صاحب مان بیٹے کے لاڈ دیکھتے مبھم سا مسکرا دے ۔
حوری نہیں دکھائی دے رہی “؟؟..
اسے تو میں اچھے سے سبق سکھاو گا ۔۔
بابا کی جانب دیکھتے استفسار کیا ،، وہ یاور کے ساتھ گھر گئی ہے دو دن سے بچی ہمارے ساتھ تھی ،، تھک گئی ہے ،، جیسے ہی تمہارے آنے کا پتہ چلا واپس آ جائے گی ۔
میں ڈاکٹر سے بات کرکے آتا ہوں
بس ڈسچارج ہو جانا ہے شام تک ۔
میر صاحب ڈاکٹر سے بات کرنے نکلے تو آرون جٹ مان کی گود میں سر رکھ گیا ۔۔
میر صاحب نے روم میں داخل ہوتے ڈسچارج کا بتایا تو وہ سلوہ بیگم کو سہاراء دیتا ان کے گرد اپنا مضبوط خصار قائم کرتا باہر کی جانب قدم بڑھانے لگا ۔۔
بابا گاڑی کھڑی ہے یان کیب کروانی ہے وہ ماں کو ساتھ لیے میر صاحب سے استفسار کرنے لگا ،،
بیٹے گاڑی کھڑی ہے میری باہر ،،آپ کیز لے جائیں میں دوائیاں لے کر آتا ہوں میر صاحب شائستگی سے جواب دیتے فارمیسی کی جانب بڑھنے لگے ۔۔
بابا آپ ماں جان کو لے کر بیٹھیں ،، میں میڈیسن لیتا ہوں ،کہتے اس نے آگے بڑھتے پرسکرپشن لی ۔۔۔
فارمیسی پر جاتے ہی اتنی لمبی قطار دیکھتے اسکا دماغ گھوم گیا ،، ایک تو پہلے ہی وہ تھکا ہوا تھا دوسرا ماں کی پریشانی نے اسے بے حال کر دیا تھا ،،اور اب اس ہجوم کو دیکھتے اسے وحشت ہونے لگی تھی ۔۔
افف ،، آرام سے ،، وہ جو ایک جانب کھڑا اپنی باری کا منتظر تھا ،، اپنے بلکل قریب ابھرتی نسوانی آواز سنتا پلٹا ۔۔
تو اس کے اطراف میں رکھی کرسیوں پر بیٹھا ایک وجود سیاہ عبائے میں سیاہ ہی سکارف کا نقاب کیے اپنی گہری سیاہ آنکھوں سے اردگرد دیکھتی نقاب کو کھینچ کر تھوڑا آگے کی جانب کرتے ہاتھ سے ہوا دے رہی تھی ۔۔
اس قدر گرمی ہے خالہ میں کیا بتاو درحقیقت وہ فون پر مخو گفتگو تھی ،، اور مصیبت یہ ہجوم ،میری جان جا رہی ہے ۔اب مما کھڑی ہوئی ہیں وہاں مجھے تو سمجھ ہی نہیں آ رہی ٹوکن کی ۔۔
عجیب سسٹم ہے ” لگتا ہے بازار آ گئے ہیں ۔۔ تھکی بے ذاریت میں ڈوبی آواز اور اس پر مستزاد شکوہ ،، آرون جٹ کے لبوں کے گوشوں پر ہلکی سی مسکان چھو کر گزری ۔۔
اسکی نگاہیں بھٹک بھٹک کر اسکی جانب اٹھ رہی تھی جس کی دو دھیان رنگت نقاب میں بھی واضح ہو رہی تھی نقاب شاید کھینچنے کے باعث ڈھیلا ہو گیا تھا جس وجہ سے اس کے بالوں کی چھوٹی لٹین باہر نکل رہی تھی ،، وہ نگاہیں جھکائے اپنے ہاتھوں سے مسلسل سکارف کو ہلا رہی تھی ،، اے سی فل سپیڈ میں لگے تھے حسب معمول ،، لیکن گرمی پھر بھی محسوس ہو رہی تھی ” ۔۔ یاں نقاب میں اسے محسوس ہو رہی تھی ۔
آرون جٹ کی نگاہ اس کے خوبصورت چمکتے برف کی مانند ہاتھوں پر ٹھہر سی گئی تھی ۔۔
مجھے اسی لیے لاہور پسند نہیں ،، اپریل میں اتنا اچھا موسم ہوتا ہے یہاں ابھی سے گرمی پر رہی ،،میرا اسکارف بھی تھوڑا موٹا ہے وہ مسلسل باتیں کر رہی تھی اور آرون جٹ جانے انجانے میں اسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔جانے کیوں اسے اچھا لگ رہا تھا ۔
جب تک آرون نے دوائیاں لی اس لڑکی کی والدہ بھی دوا لے چکی تھی ۔۔۔
چلو حنین ” ۔۔۔ وہ جو پلٹ رہا تھا حنین زیر لب دھراتا ان کے ساتھ ہی لفٹ میں داخل ہوا ۔۔۔
اسکی نگاہ بھٹکتی اس کے چہرے پر پڑنے لگی ،، مما اب ہم خالہ گھر جائیں گے ” میں ان ڈرائیو کروا لوں ۔۔
حنین اپنی والدہ سے پوچھتی نگاہ اٹھاتے اپنے سامنے کھڑے وجیہ شخص پر ایک نگاہ ڈالتے واپس جھکا گئی ۔وہ جو بغور اسے دیکھ اور سن رہا تھا اسکی نگاہوں کا اٹھنا،، گہری سیاہ رنگت آنکھیں ،، گھنی مری مزگان ۔۔
آرون جٹ کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا ایک پل کے لیے ۔
وہ باہر نکلتے جا چکی تھی ،، آرون کی نگاہوں نے آخر تک اُسکا پیچھا کیا تھا ۔۔۔
وہ سر جھٹکتے آگے بڑھتے میر صاحب ساتھ پیسینجر سیٹ پر بیٹھ گیا ۔
جادو ٹونا ایک طرف، اُسکی آنکھیں ایک طرف ۔۔۔
وہ سر جھٹکتے مسکراتا ہر فکر سے آزاد تھا ۔۔
جانے یہ وقتی اٹریکشن تھی یاں کچھ اور ” وہ جان نہ سکا ۔
حنین اپنی والدہ آمنہ بیگم کے ساتھ ان کے چیک اپ کے لیے ہاسپٹل آئی تھی ،، لاہور ان کی خالہ کا گھر تھا ۔
