Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363

Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 16) 2nd Last Episode

325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 16) 2nd Last Episode

Gumrah By Yumna Writes

میں اسکو کبھی معاف نہیں کروں گا آرون اسے ایسی سزا ملنی چاہیے کہ وہ اپنے ہونے پر پَچھتائے ،، جس طرح میں ترپا ہوں اسکی خاطر ،،اسے بھی بلکل ویسے ہی ترپتا دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔
محبت کے چکر میں مجھے پھنسا کر دھوکہ دھی کی ہے اس ظالم لڑکی نے میرے ساتھ ۔ خود کو مظلوم ظاہر کرنے کے لیے وہ مجھ سے جانے کتنے جھوٹ بولتی رہی ،،مجھے تم لوگو کے خلاف بھڑکایا ” مجھ سے غلط بیانی کی کہ تم لوگ مجھ سے جلتے ہو ” اسے فون کرکے تنگ کرتے ہو ۔ اسے ایسی سزا دو کہ وہ مجھ سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے لیکن اس وقت میں ،، اسے ایسے کروفر سے رابطہ منقطع کرونگا جیسے اس نے کیا ،،
میں اس غدار لڑکی کو کبھی معاف نہیں کرونگا ۔
عمر مومن سفاکیت سے کہتا ہاتھ میز پر مار گیا ۔۔
تم بے فکر رہو اس کا تو میں وہ حال کرونگا کہ وہ تمہارے پاؤں
پڑنے کو تیار ہو جائے گی ۔

Yumna writes………

وہ تینوں اس وقت وہ زخمی شیر بنے بیٹھے تھے جو شکار کو زندہ نگل لینا چاہتے تھے اور انکا شکار اس وقت ان کے بلکل سامنے تھا ،، گڑیا کی تباہی کا آغاز تھا جس سے وہ نہ آشنا تھی ۔
دن گزرنے لگے لیکن گڑیا آفس نہ گئی وہ واپس جوائن کرنا چاہتی تھی لیکن اس میں مزید ہمت طاقت نہیں تھی کہ وہ کوئی اور دکھ برداشت کرسکے ۔

وہ جانتی تھی کہ وہ بہت غلط کر چکی ہے اور ایک ایسے دلدل میں گھڑ چکی ہے جہاں سے نکلنا ممکن نہیں ۔۔۔ لیکن جانے کیوں اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود اسکی انا میں کمی نہیں آی تھی
وہ جانتی تھی اسکی جانب سے کوئی اقدام اٹھایا جائے گا اور اسی کی منتظر تھی ۔
دل کو ہر وقت ایک عجیب دھڑکا لگا رہتا ۔۔۔ صحت گرنے لگی تھی ۔۔ آنکھوں کے نیچے گہرے کالے نشان نمایاں ہونے لگے ،، خوبصورتی ڈھلنے لگی ۔

کافی وقت سے وہ باہر نہ نکلی تھی گھر کا کچھ ضروری سامان تھا وہ اپنے چھوٹے کزن کو لیتی باہر نکلی تھی ۔۔
گھر سے باہر نکلتے اسے خود پر لوگوں کو عجیب نظروں کا احساس ہوا تو وہ بے چین ہوتی جلدی سے قدم بڑھانے لگی ،، اس کے بڑھتے قدموں کے ساتھ اسے اپنے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی محسوس ہو رہی تھی ،، جانے کیوں کچھ غلط ہونے کا احساس بری شدت پکڑ رہا تھا ۔۔

وہ قدم روکتی واپس پلٹ گئی ” اور دھرا دھر فون پر آتے نوٹفیکیشنز نے اسے بوکھلا کر رکھ دیا ۔
وہ عجلت میں گھر میں داخل ہوتی اپنا فون نکالتے کانپتے ہاتھوں سے سکرین پر موجود اپنی لا تعداد تصاویر اور ان پر موجود لاکھوں میں لائکس دیکھتے گھبرا کر ماتھے پر نمودار ہوتے پسینے کو صاف کرتی وہی فرش پر بیٹھ گئی ۔
ٹانگیں ایسے کانپ رہی تھی کہ ایک قدم اٹھانے کی خود میں سکت نہ رہی ہو ۔۔ اسکا وجود شل ہونے لگا تھا ۔۔
اِتنی ذلت ــــــــــــــ وہ کیا کرے گی اب اسکا دماغ مفلوج ہونے لگا ۔
اپنے لرزتے وجود کو وہ بڑی مشکل سے گھسیٹتے قدم آگے بڑھانے لگی ۔
امی ” امی ۔۔۔۔
اسکی آواز میں اتنی تکلیف ،،درد تھا کے سارہ بیگم اسکی بلند آواز سنتے تیزی سے کمرے سے نکلی

گڑیا میری بچی کیا ہوا ہے تمہیں ،، اس کے پسینے میں نہائے لرزتے وجود کو دیکھتے وہ بوکھلاتی شدید متفکر ہوتی استفسار کرتی اس کو سہارا دیتی کمرے میں لے جانے لگی ۔
وہ بے اختیار اپنی چمکتی بھوری آنکھوں میں آنسو لیے انہیں دیکھنے لگی جو اس سے سوال کر رہی تھی لیکن اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا

خدا کا واسطہ ہے گڑیا مجھے بتاؤ کیا بات ہے کیوں مان کا دل بند کرنا چاہتی ہو وہ اس کے آنسو دیکھتی بے اختیار رو پری ۔۔۔
امی میں برباد ہو گئی اس نے مجھے کسی قابل نہ چھوڑا ،، اس نے کہا تھا وہ مجھے نہیں چھوڑے گا اور اس نے اپنا کہا سچ کر دکھایا ۔
وہ اٹکتی سانسوں کے درمیان روتے ہوے بولتی ہچکیاں بھرنے لگی ،، عمر نے میری تمام تصاویر سوشل میڈیا پر لگا دی ہیں ۔
سارے خاندان میں بھیج دی ہیں ” وہ سب سے واقف تھا اس نے مجھے برباد کر دیا امی وہ کپکپاتے لبوں پر ہاتھ رکھتے اپنی چیخیں گھوٹ رہی تھی ۔۔
سارہ بیگم اسے منجمند نگاہوں سے تکتی سکتے میں چلی گئی ۔
اپنی اتھل پتھل ہوتی دھڑکن کو محسوس کرتے انکا دماغ پھٹنے کو تھا

دل پر ہاتھ رکھتے وہ بدستور متفکر ہوتی اسے کھینچ کر سینے میں بینچ گئی ، مت رو میری بچی تم نے کچھ غلط نہیں کیا ۔
وہ حرام # ہے ہی ایسا تھا ہمیں کیوں وقت پر سمجھ نہ آئی ۔
وہ روتی گڑیا کے بال نرمی سے سہلانے لگی ،، دل و دماغ پر ایک خوف طاری ہونے لگا تھا لیکن وہ گڑیا کو اس وقت کچھ بھی بول کر مزید پریشانی میں مبتلا نہیں کرنا چاہتی تھی ۔

ان کے ذہن میں چاند کا خیال آیا تھا اور آنکھوں کے سامنے اپنے معصوم بچے کا عکس ۔۔جس نے آج تک کبھی کسی کے ساتھ غلط نہ کیا تھا انکے بیٹے کی عزت کا سوال تھا ۔۔
سارا خاندان جو بھی کہتا انہیں پرواہ نہ تھی لیکن اپنے بیٹے کی عزت اور اس کے وقار پر وہ خرف برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔
گڑیا بہت مضبوط تھی ” وہ جانتی تھی اس وقت وہ جذباتی ہو رہی ہے لیکن وہ سب سمبھال لے گی لیکن چاند کبھی اس صورت حال کو سمجھ نہیں پائے گا ۔
خدا غارت کرے گا اسے میری بچی ،، ایک مان کی ہائے لگے گی اسکو ۔

ان کے چہرے پر انکی بے بسی اور کرب عیاں تھا ۔
گڑیا کو مختلف نمبروں سے کال آنے لگی تھی ۔۔ عمر مومن نے اس کے تمام رشتے داروں کو اسکی تصویریں ہی نہیں بلکہ چاند کے دوستوں کو اس کے سلک کا لباس تن سے جدا کرنے والی ویڈیوز بھیجی تھی جو وہ جانے چھپ کر بنا چکا تھا ۔
ان کے رشتے داروں کے دھرا دھر فون آنے لگے تھے اور وہ سر پکڑ کے بیٹھ چکی تھی کہ کس کو کیا جواب دے ۔
چاند گھر آیا تو لال بھبھوکہ چہرہ اشتعال سے بھڑک رہا تھا ،،دماغ کی نسیں تنی ہوی تھی ۔۔

چاند اس نے مجھے کسی کے قابل نہیں چھوڑا گڑیا بھاگتی اپنے بھائی کے سینے سے لگی تو اس کے اندر اٹھتا ابال جیسے مدھم پڑا ،، میری جان میری شہزادی عزت ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ یہی تو چاہتا ہے کہ ہم پریشان ہو کر اس سے رابطہ کریں ۔
گرنے دو اسے کتنا گرے گا ” آخر کار تھک ہار کر چھوڑ دے گا سب ۔
وہ ایسا ہی تھا بے پناہ محبت کرنے والا اور مہربان” اسکی والدہ اسے نم نگاہوں سے دیکھنے لگی تھی اس وقت اگر کوئی دوسرا ہوتا تو وہ اپنی بہن کو جان سے مار دیتا لیکن وہ الگ تھا سب سے الگ اور اسکو سب سے منفرد اسکے دین نے بنایا تھا ۔
جو اچھے برے کی سمجھ جانتا تھا لیکن معصوم شخص اپنی بہن کے کالے کارناموں سے ناواقف تھا ۔ اسے اپنی بہن دنیا کی معصوم ترین لڑکی معلوم ہوتی تھی وہ اس حقیقت سے نہ آشنا تھا جو دوسرے جانتے تھے ۔

چھوڑ دو اس بے کار شخص کو وہ اسی لائق ہے لعنت بھیجو اس پر ،، اس کو سوچ کر اپنا وقت برباد نہ کرو وہ سرد لہجے میں بولتا اس کے ماتھے پر لب رکھ گیا ۔
گڑیا ندامت کے آنسو بہاتی اپنی جلتی آنکھیں موند گئی ۔۔
کیا بتاتی اسکو کہ وہ کتنا بڑا گناہ سرزرد کر چکی ہے جسکی کوئی معافی نہیں کوئی مدعاوا نہیں ۔

لیکن چاند وہ ،،وہ اس نے میرا فون ہیک کرکے میری تمام تصاویر اپنے فون میں کرلی ہیں اور جانے کس کس کی ویڈیوز پر میری تصویریں لگا کر چڑھا رہا ہے اور سینڈ کر رہا ہے سب کو ۔۔ وہ اٹکتے اٹکتے بولی دماغ کے گھوڑے بھگاتے وہ تیزی سے ایک بہانہ گھڑتی اسے ایک اور جواز پیش کر گئی ” اپنے جذباتی پن میں وہ کچھ بھی غلط الفاظ کا چناؤ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
وہ اپنے بھائی کا مان نہیں توڑنا چاہتی تھی اسی لیے اپنے چہرے پر عیاں ہوتی تکلیف اور کرب چھپاتے اس کے سینے پر سر رکھ گئی ۔
تم بے فکر رہو جب تک میں تمہارے ساتھ ہوں کچھ غلط نہیں ہوگا ،، ہم اس تمام صورت حال کا بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ لیں گے ۔ میں کل مفتی صاحب سے بات کرونگا ان کے جاننے والے ہیں سائبر کرائمز میں ۔
دیکھتے ہیں ان سے بات کرکے ” ہم سب کچھ ہٹوا دیں گے ۔ اسے تسلی دیتا وہ سارہ بگیم کے بھی سفید پڑتے چہرے کو دیکھتا سر اثبات میں ہلا گیا ۔ جو پریشان حال سی بیٹھی ان پر ٹوٹی اس قیامت کو دیکھ رہی تھی ۔
ابھی ان کے خاوند کا غم کم نہیں ہوا تھا کہ ایک نئی آزمائش نے انکے گھر کا رخ کیا تھا ۔
_________________________

گڑیا بیڈ پر لیٹتی چاند کی بات کو سوچ رہی تھی ذہن میں
عجیب گڈمڈ ہونے لگی تھی ،، اگر سائبر کرائم گئے تو انکو سب پتہ چل جائے گا وہ حقیقت سے آگاہ ہو جائیں گے پھر وہ کیا کرے گی ساری رات سوچتے سوچتے بستر پر گزری ،،اسے آج یہ ملائم بستر بھی کسی پتھریلے پتھر کی مانند چب رہا تھا ۔

ـــــــــــــــــــــ yumna writes

دوسری جانب آرون نے ٹک ٹاک پر اسکا اکاؤنٹ بنایا تھا اور اسکی ویڈیوز ڈالنا شروع کی تھی ۔
اس پر تھوڑے ہی وقت میں لاکھوں ویوز اور لائکس آنے لگے تھے ،، اس لڑکی کو ایسا برباد کروں گا میں کہ آئندہ کسی کے منھ دکھانے کے قابل نہیں رہے گی ۔
اسکی ویڈیو ڈالتے وہ ہاتھوں کی مٹھیاں بینچ گیا ،، حنین کا خیال تو کہیں دور جا سویا ۔
صبح اسے واپس اٹلی کے لیے روانہ ہونا تھا بہت دن ہو گئے تھے اپنا بزنس وہ کسی دوسرے کے سہارے چھوڑ کر آیا ہوا تھا ۔

باقی سب وہ ان دونوں کو سمجھا چکا تھا ” آرون اسکی ویڈیوز ٹک ٹاک پر پوسٹ کرے گا ” عمر مومن فیس بک پر اور گجر لائیو ” اسے وہ چاروں جانب سے لپیٹے ہوے تھے اپنے شکنجے میں ” وقت نے بازی پلٹی تھی اور اب گڑیا کا زوال تھا ۔
یہ ایک جنگ کی شروعات تھی ، جو نہ تو لفظوں سے تھی نہ گولیوں سے ۔۔ یہ تھی عزت کی جنگ ۔۔۔محبت کی جنگ جس میں فنا گڑیا نے ہونا تھا کیوں کہ وہ تینوں تو اس آگ میں جل چکے تھے لیکن اب اس آگ میں گڑیا کو بھسم کرنا چاہتے تھے ۔

تینوں اپنے اپنے کام لگ چکے تھے ،، گڑیا کی جانب سے کوئی جوابی کارروائی نہیں موصول ہوئ تھی نہ کوئی فون کال اور نہ کوئی میسج۔
دن گزرنے لگے اور ان کے محلہ کے بچے بچے کے فون میں اسکی تصاویر اور ویڈیوز دکھنے لگی ” لوگ طرح طرح کی باتیں بنانے لگے ۔۔

ہاں البتہ چاند نے اپنے جاننے والوں میں سب کو سچ بتایا تھا کہ کس طرح عمر مومن نے اسکی بہن کا فون ہیک کیا اور ساری ویڈوز اور تصاویر اپنی جانب کی ” اور اب اے آئی جنریٹڈ ویڈوز بنوا کر انہیں رسوا کر رہا ہے تاکہ وہ گڑیا کی اس سے شادی کر دیں ،، کچھ لوگو نے افسوس کیا تو کچھ اسکی شرافت پر سچ جانتے بھی خاموشی اختیار کر گئے ۔
چاند نے اپنی جانب سے سائبر کرائمز میں بھی کیس فائل کروا دیا جو جلد از جلد کوئی ایکشن لینے والے تھے ۔
اب وہ تھکنے لگے تھے لوگو کو سچ بتاتے بتاتے ” یہ بات ان کے لیے ایسا نا سور بنتی جا رہی تھی جو ان تینوں کو اندر ہی اندر کھانے لگی تھی ۔۔

سارہ بیگم مسلسل بیمار رہنے لگی تھی ،، وہ پہلے ہی دل کی مریضہ تھی” لوگوں کی باتیں اور رشتے داروں کی قطع تعلقات کرنے سے وہ مزید دل مسوس کے رہ گئی تھی ۔
مسلسل آزمائش اور مسائل کو برداشت کرتے انکا دل برا ہونے لگا تھا اس پر مستزاد ذلت و رسوائی ” انہیں اندر سے کاٹ رہی تھی ۔
وہ تھکنے لگی تھی اور یہ غم ان کے سینے میں اپنی جڑیں مزید پکڑتا جا رہا تھا

دن گزرنے لگے اس نے اپنا نمبر بدل لیا ،، گھر میں بیٹھ گئی لوگوں سے ملنا جلنا چھوڑ دیا لیکن پھر بھی وہ پیچھے نہ ہٹا ۔۔۔۔
ہر جگہ اسکی بدنامی ہونے لگی ” حنین جانتی تھی سب ،،اس نے اسے تمام صورتحال سے آگاہ کیا تھا وہ خود اسکے لیے بہت متفکر تھی لیکن وہ بھی سچ جاننے سے گریزاں تھی کہ گڑیا نے سب کو اپنی کہانی سنائی تھی جس میں وہ مظلوم تھی ۔

حنین اس سے مل نہیں سکتی تھی کہ اسکے گھر والے بھی ساری بات جانتے تھے اور گڑیا کی معاشرے میں ہوی رسوائی اور ذلت سے بھی واقف تھے ۔
لیکن اسکی مجبوری تھی کہ وہ اس سے ملنے سے محروم تھی ” ۔۔
گڑیا خاموش تھی ” سارا دن بس گھر میں خاموش پڑی رہتی اور آنسو جو تھمنے سے انکاری تھے ۔
اب تو آنکھیں بھی رو رو کے خشک پر چکی تھی لیکن دل کا درد کم نہیں تھا ہو رہا ۔
پھر اچانک ایک دن ان سب کے سرو پر پہار ٹوٹ پڑا ” حنین کی تصویر ٹک ٹاک پر پوسٹ ہو چکی تھی اور پوسٹ کرنے والا اور کوئی نہیں آرون جٹ تھا ۔۔
دوسری جانب آرون جٹ جس نے دیکھے بغیر اسکی تصویر پوسٹ کی ،،
اس بات سے لا علم تھا ” ۔۔ حنین کے گھر والے جان چکے تھے اسکی مان نے تو کچھ خاص نہیں کہا تھا لیکن اسکا بھائی کافی آگ بھگولہ ہوا تھا ان کی عزت تھی معاشرے میں اور وہ جانتا تھا اسکی بہن آج تک بغیر نقاب کے کبھی باہر نہ نکلی تھی ۔۔
گھر میں کسی نے حنین کو کچھ نہ کہا وہ جانتے تھے اس میں اسکی کوئی غلطی نہیں لیکن اس کے ساتھ ویڈیو میں کھڑی باقی اسٹاف کی لڑکیوں نے کافی شور مچایا تھا ۔
حنین کے بھائی نے اپنے طور گڑیا کا پتہ کروایا تھا اور اسکا کریکٹر بلکل بھی اچھا نہ نکلا تھا ” وہ اپنی بہن کے لیے مزید پریشان ہوا تھا اور حنین کو گڑیا کا نمبر بلاک کرنے کا کہا ۔۔ حنین پریشان حال سی سر پکڑے بیٹھی تھی آخر وہ کہاں پھنس چکی تھی ۔

گڑیا کو آفس بلایا گیا تھا ” تمام لڑکیاں اس سے ملنا چاہتی تھی اور بات کرنا چاہتی تھی ۔
بارہا کال کی وجہ سے گڑیا چاند کے ساتھ آفس گئی تھی اور اسے سب کے اتنے تضہیک بھرے انداز و اطوار اور لحجے کو دیکھ کر وہ مزید شرمندہ ہونے لگی تھی ۔۔
سب کی نگاہوں میں اپنے لیے چھپی حقارت کو دیکھتی وہ مزید زمین میں گھڑ گئی
اپنے لیے وہ سب کچھ برداشت کر سکتی تھی لیکن چاند کی ذات پر ایک حرف بھی وہ برداشت نہیں کر سکتی تھی ” اور اس وقت چاند کی ذات پر سوالیہ نشان لگایا جا رہا تھا ۔
ان میں سے ایک کولیگ بہت بتمیزانہ لہجے میں چاند کی جانب دیکھتے پھار کھانے کو پڑی تھی ” آپ جانتے تھے کہ آپکی بہن غلط ہے اس کے باوجود آپ اُسکا ساتھ دے رہے ہیں ۔۔
یان پھر آپ بھی اس کے ساتھ ملے ہوے ہیں ” اس سب میں ” مل کر لوٹ رہے تھے اس لڑکے کو ” آپکو شرم نہ آئی ایسا کرتے ہوئے ۔

اور اب معصوم بننے کا ڈھونگ رچا رہے ہیں ” اس کے لہجے کی سختی اور چاند کا سپید پڑتا چہرہ دیکھ کر وہ اندیکھی آگ میں جلتے خود کو محسوس کرنے لگی ” ۔۔
شرم کرو تم لوگ ایسا کچھ نہیں ہے میرا بھای معصوم ہے اور میں نے کچھ غلط نہیں کیا ،، اپنی بے بسی پر وہ خالی ہاتھوں اور منجمد نگاہوں سے اسے دیکھتی چیخی ،،اور چاند کو لیتے باہر نکلنے لگی جب اس کی نگاہ قریب کھڑی حنین پر پری ” مجھے معاف کردو حنین میں سب ٹھیک کر دوں گی بس اللہ پر یقین رکھو ۔۔
اس کے گلے لگتی وہ اپنی آنکھوں میں ابھرتی نمی کو پیچھے دھکیلتی باہر کی جانب قدم بڑھا گئی ۔
حنین کو اس وقت اپنا آپ متحرک ہوتا معلوم ہوا ” اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ تو اس وقت ایک پل صراط پر کھڑی تھی ” جانے کیا سچ تھا کیا غلط ۔۔
وہ معصوم پر تحمل سی لڑکی ،، جسے چھوٹے موٹے الفاظ ،، جانوروں کا دکھ ۔۔۔ لوگو کے رویے تکلیف دے جاتے ہیں وہ معصوم جان اس سب میں خود پر ایک الگ سا بوجھ محسوس کر رہی تھی ۔

اور اللہ پاک سے مدد مانگ رہی تھی ” بے شک اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے ۔
گڑیا گھر جاتے ہی عمر مومن کو کال کرنے لگی تھی ” وہ تنگ آ گئی تھی اس سب سے اب ۔
دوسری جانب سے کال موصول کر دی گئی ” کیا چاہتے ہو اب تم رسوا تو کر چکے ہو مجھے پھر کیا تکلیف ہے تمہیں اب ۔۔ وہ پھٹ پڑی ،، ۔۔۔

ہاہاہاہا قہقہ لگاتے وہ سرد برفیلی آواز میں گرجا تھا ۔۔
تم تم مجھ سے پوچھ رہی ہو میں چاہتا کیا ہوں ۔۔ کونسی ذلالت ” کونسی رسوائی ۔۔ ابھی تو کچھ ہوا ہی نہیں ۔
ابھی تو میں نے کچھ کیا ہی نہیں آگے آگے دیکھو ہوتا ہے کیا ۔
شکر کرو ابھی تمہاری وہ عریاں تصاویر اور ویڈیوز میں نے لیک نہیں کی ،، مجھ میں ابھی بھی تھوڑی غیرت موجود ہے ہاں البتہ میں تمہیں چھوڑوں گا کہیں کا نہیں ۔ تم نے جو میرے ساتھ کیا ہے اسکا بھگتان تم بگھتو گی ۔۔ میں نے بہت کوشش کی تمہارے برابر آنے کی لیکن میں پھر بھی تمہاری طرح اتنا گر نہیں سکا اور میری تربیت آرے آ گئی کہ تمہاری گندگی کو میں چھپا بیٹھا ۔۔
میں تمہاری زندگی کا وہ ناسور ہوں گڑیا عرف ملکہ جس سے تم چاہ کر بھی چھٹکارا نہیں پا سکتی ۔۔
تم نے میری محبت ” میرے بھروسے کی دھجیاں اڑائی ہیں مجھے میرے دوستوں کے سامنے شرمندہ کیا ہے میں تمہیں کسی کے قابل نہیں چھوڑوں گا ۔
میں تمہاری زندگی اتنی جہنم بناؤگا کہ تم اپنے ہونے پر پَچھتاؤ گی ،،۔۔میں تمہاری عزت تمہارا نام ،،رتبہ سب کچھ تباہ کر دونگا ۔۔ اسکی سرد منجمند کر دینے والی آواز گونج رہی تھی گڑیا کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ برپا ہونے لگی ۔
اسکی دہشتناک دھاڑ ماحول میں ایک عجب سکوت طاری کیے ہوئی تھی ۔۔

اسکی آنکھوں میں ندامت ،،پشیمانی ” دکھ ،،اذیت کیا کچھ نہ تھا ۔۔
کچھ ساعت بعد ماحول میں اسکی نم خوردہ آواز نے فضا میں مزید کثافت بڑھا دی ۔۔
تم جو مرضی کرو ” مجھے برباد کرنا چاہتے ہو میں ہو گئی برباد ۔۔ میرے ساتھ جو مرضی کرو لیکن پلیز میری دوستوں کی تصاویر نہیں لگاؤ ۔
میری دوست کا پیچھا چھوڑ دو ،، وہ اس سب سے الگ ہیں ” وہ کچھ نہیں جانتی اس کے گھر والے بہت سخت ہیں ۔۔ اور انکی پہنچ بھی بہت دور تک ہے ۔
اسلئے بول رہی ہوں اب مزید حنین کی ایک بھی تصویر نہ لگانا ،، اُسکا خاندان بہت پہنچا ہوا ہے اور تم واقف ہو بٹوں سے وہ مار دھار سے ڈرنے والے نہیں ۔۔
اسکی نم آواز میں اچانک ابھرتا تناؤ اور سختی پر وہ خیران ہوا ۔۔
کچھ پل بعد وہ گویا ہوا تو اچھا ہے نہ انہیں بھی معلوم ہو انکی بیٹی کیا کرتی پھر رہی ہے اسکی دوستی کس قسم کی عیاں# گالی سے تھی ۔۔
وہ فون بند کرتی وہی فرش پر ڈھیر ہو گئی تھی ” جسم پر لرزہ طاری ہونے لگا اور آنکھوں پر ہاتھ رکھتی وہ وہی بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔۔
میں مر کیوں نہیں جاتی مجھے تو مر جانا چاہیے ۔۔ خود کو پیٹتے وہ چیخنے لگی ۔۔
چاند اور سارہ بیگم تیزی سے اس کے قریب آئے اور اسے سینے میں بنچتے خاموش کروایا ۔۔
اسکے ہاتھ پاؤں ٹیرهے ہونے لگے تھے اسکو پینک اٹیک آنے لگے تھے ” اتنی ذلت اتنی توہین وہ اب تنکا تنکا کرکے بکھرنے لگی تھی ۔

———————

حنین جو پریشان حال سی بیٹھی جانے کتنی ہی دعائیں مانگ چکی تھی ،، اپنے فون پر چمکتا نمبر دیکھ کے کال یس کر گئی ” دوسری جانب اسکی بہت قریبی دوست تھی جس سے وہ تمام باتیں شیر کرتی تھی ۔
آنسو بہاتے تمام بات اس کے گوش گزار کر چکی تھی ” دل کا غم بانٹنے سے کچھ کم ہوا تھا ۔
میرے ہسبنڈ کے جاننے والے ہیں سائبر میں ،، تم پریشان نہ ہو میں پتہ لگواتی ہوں ۔۔اس نے کچھ حوصلہ دیا تو وہ پرسکون ہوئی ۔
نماز پڑھتے جائے نماز پر بیٹھی خدا کے سامنے اپنا مقدمہ رکھ چکی تھی ۔
دن گزرنے لگے ” اور اسکی دوست نے جو بات اسے بتائی تھی اس کو سنتے اس کا دماغ چکرا کے رہ گیا ۔
اور کوئی نہیں حنین تمہاری دوست غلط ہے اسکا اپنا کیا دھڑا ہے سب ۔
اب ایسا کرو مجھے اس سے اس لڑکے کا نمبر لے کر سینڈ کرو میں علی کو دیتی ہوں” وہ خود بات کریں گے اس سے ۔۔
حنین کی آنکھوں میں نمی چمکنے لگی تھی اسکو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکی اپنی دوست ایسا کر سکتی ہے ۔۔ اس انکشاف پر اسکا دماغ بھک سے ارا تھا ،، وہ شدید تکلیف سے آنکھیں موندتے اپنے آنسو کو بہانے لگی جو اس کے اندر کے دکھ تکلیف کو باہر نکال رہے تھے ۔۔
وہ اب فیصلہ خدا پر چھوڑ چکی تھی ،، بھاری دل و دماغ سمیت اس نے ایک میسج گڑیا کو کیا تھا اور نمبر ملتے ہی سینڈ کر دیا ۔
عمر مومن جو اپنی شاپ پر بیٹھا تھا انجان نمبر سے کال آتی دیکھ فون یس کرتے کان سے لگا گیا