Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 8)
Rate this Novel
Gumrah (Episode 8)
Gumrah By Yumna Writes
ہمارا ظرف تو دیکھو ،، ایک بے وفا شخص کی خاطر خود کو کھوئے بیٹھے ہیں ۔۔
اس کے ٹک ٹوک پر ایک نئی ویڈیو دیکھتی وہ بے ذاری سے فون ایک جانب رکھتی سر ہاتھوں میں گرا گئی ،،، ۔۔۔
کیا وہ غلط شخص کا چناؤ تو نہیں کر بیٹھی ،، ہزار سوچیں اس وقت اس کے دماغ میں آتی اسے مفلوج کرنے کے در پے تھی ،، وہ اس وقت خود کو عجیب سراے میں بھٹکتا محسوس کر رہی تھی ،، اس نے درد سے پھٹتے دماغ کو اپنی نازک انگلیوں سے سہلایا ،، ۔۔
شدید اشتعال اور ہتک کے باعث وہ اس سے بات کرنے سے گریزاں تھی ،،
گڑیا نے آج تک جھکنا نہیں سیکھا تھا۔،،زندگی کے ہر موڑ پر وہ ہمیشہ آگے رہی تھی اول درجے پر ،، اور آج اس شخص کی باتیں یاد کرتے اُسکا دماغ کھول رہا تھا ،دل بنجر زمین کی طرح خشک پڑا تھا ۔۔
وہ مقابل کو کچھ نہیں سمجھتی تھی اور یہی باور کروانے کے لیے وہ اس سے بات کرنے سے گریزاں تھی ،، وہ اسکی اوقات اسے باور کروا رہی تھی کے گڑیا کی نظر میں اس کی کوئی ویلیو نہیں ،، اگر وہ اسے چھوڑنا چاہے تو منٹ سے پہلے سب ختم کر سکتی ہے ۔۔
وہ بار ہا اسے فون کر چکا تھا لیکن اس نے ایک بار بھی جواب نہ دیا ،، سارہ بیگم بمبر گئی ہوئی تھی اپنے بھائی کے گھر ،، ان کے فون سے وہ بڑی خاموشی سے اسکا نمبر بلوک کر گئی تھی ۔۔
ہفتہ ہونے کو آیا تھا لیکن گڑیا کی جانب سے خاموشی دیکھ کر محمد کا سارا غصّہ ،، اشتعال جھاگ کی طرح بیٹھ چکا تھا اور اس کی خاموشی کے باعث اس پر خوف ،، پچتاوا جنجھلاہٹ نے قبضہ جما لیا تھا ۔۔
تنگ آتا وہ اٹھا اور آتش فشاں بنا اپنے فلیٹ کے لیے نکل گیا ،،کیونکہ کام میں تو اب اسکا دل لگنا نہیں تھا ،، گاڑی میں بیٹھتے اپنے اندر اٹھتے فشار خون کو وہ گہرے سانس لیتا قابو پاتے فون سکرین کی جانب دیکھتا ایک نمبر ملا گیا ۔۔
کال جا رہی تھی !!!….. اس سے دو لمحہ کا انتظار کرنا بھی دوبھر ہو گیا تھا ۔۔
اسلام علیکم!!! مقابل نے اسلام کیا ۔۔
خوش دلی سے جواب دیتے چودھری محمد نے سب کا حال چال استفسار کرتے گڑیا کا پوچھا “…
ان کا نمبر بند جا رہا ہے آپ میری بات کروا سکتے ہیں ،، چاند کے نرم خوش مزاج رویے سے اسے اتنا تو اندازہ ہو گیا کہ اس نے ان کے بیچ خلش کو کسی کے ساتھ بھی ڈسکس نہیں کیا ۔۔
دماغ کچھ پرسکون ہوا ٫ ،،
اپنے رویے پر اچانک سے ملال ہونے لگا ،،۔۔ وہ اس سے معزرت کر لے گا اپنے رویے پر دل نے گواہی دی کہ وہ اسے راضی کر لے گا ۔
میں بات کرواتا ہوں ایک منٹ ” چاند کہتا گڑیا کے کمرے میں داخل ہوا جہاں وہ بستر پر آرہی ترچھی لیٹی آرام کر رہی تھی ۔۔۔
آپکا فون کہاں ہے ؟؟… یہ محمد کی کال ہے بات کر لو ٫.. وہ کب سے کال کر رہا بتا رہے کہ نمبر بند جا رہا ،، اسکی جانب دیکھتے وہ دھیمے لہجے میں کہتا اپنا فون اسکی جانب بڑھا گیا اور گڑیا جو اس سے بات کرنے سے انکار کرنے والی تھی ،، اپنے بھائی کو دیکھتی خاموشی سے فون تھام گئی ،، وہ میرا فون بند ہے بیٹری لو ہے ، ایک جھوٹا جواز پیش کرتی وہ مقابل کی عزت رکھ گئی تھی ۔۔
چاند سر اثبات میں ہلاتا کمرے سے نکل گیا پیچھے وہ فون ہاتھ میں تھامے لب بینچے ” روشن سکرین کی جانب دیکھتی کان سے لگا گئی ۔
سرخ پڑتے چہرے کے ساتھ وہ تپے دبے دبے لہجے میں گویا ہوئی
جی ” ۔۔۔۔
ناراض ہیں ؟… مقابل نے سوال داغا ۔۔۔
نہیں پھر سے ایک خرفی جواب ۔۔
چند ثانیے دونوں میں خاموشی رقص کرنے لگی ،کچھ توقف کے بعد اسی نے بات کا آغاز کیا اتنا تو وہ جان گیا تھا کہ مقابل میں حد سے زیادہ انا ہے اور وہ کبھی اس سے بات نہ کرتی ،، ۔۔۔۔
میں بہت معزرت خواہ ہوں اپنے رویہ پر ،،، میں آپ سے بہت
شرمندہ ہوں ،، میں ایسا نہیں تھا چاہتا جانے کیسے میں اتنے غلط لفاظی کا استعمال کر بیٹھا ،، میں دل سے آپ سے معافی چاہتا ہوں اور آپ سے بھی یہی چاہتا ہوں کہ آپ اس بات کو یہی ختم کرتے آگے بڑھیں ۔۔۔
جس طرح آپ نے اپنے گھر والوں کے سامنے میری عزت رکھی ہے میرے پاس الفاظ نہیں جن میں آپکا شکریہ ادا کروں ۔۔ آپ نے مجھے ان کی نگاہوں میں گرنے سے بچا لیا ۔۔
اس کی جانب سے مسلسل خاموشی محسوس کرتا وہ مزید گویا ہوا ۔۔۔
ابھی ہمارے رشتے کی شروعات ہے اور میں نہیں چاہتا کہ ابھی سے ہمارے درمیان اختلافات جڑ پکڑ لیں ۔۔
میں نہیں چاہتا کہ آپ میرے لیے دل میں کوئی کجی رکھیں یان مجھ سے متنفر ہوں ،، بھاری آواز ،، دھیمے لہجے میں وہ متانت سے کہتا خاموش ہو گیا ۔۔
دوسری جانب گڑیا خود کو ایک منجھدار میں گھرا محسوس کر رہی تھی ،، ۔۔۔ اس کا دل اور دماغ اس وقت عجب وحشت میں مبتلا تھا ،، کیا وہ شخص ڈبل پرسنلٹی رکھتا تھا ۔۔۔۔
کیا تھا اس کا اصل وہ پہچان نہیں پا رہی تھی اور یہی چیز اس کے اعصاب بری طرح متاثر کر رہی تھی ،، اس کی سنہری آنکھیں موتیوں سے بھرنے لگی اور آنکھوں سے گرتے موتی اسکی گالو پر بہنے لگے ،، ہولے ہولے لرزتے بدن سے اسکی سسکیاں جاری ہونے لگی جنہیں وہ لب بیچتی دبانے کی کوشش میں تھی ۔۔
گڑیا پلیز ،۔۔۔۔۔ میری جان ،، میری زندگی ۔۔۔۔۔ صرف آخری غلطی سمجھ کر معاف کردیں ، بے بسی سے کہتا وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا اپنے اندر اٹھتے جوار کو قابو کرنے لگا ۔۔
اس لڑکی نے اسے ایک ہفتے سے خوار کر رکھا تھا ۔۔ وہ اس کے لیے بہت خاص تھی ۔۔۔
گڑیا پلیز میں شرمندہ ہوں ۔۔۔ رونا بند کریں ،،آپ کے آنسو میرے لیے تکلیف کا باعث بن رہے ہیں ،، میں کبھی بھی آپکو تکیلف نہیں دینا چاہتا تھا ،، جانے انجانے میں ٫،، میری ذات آپکو تکلیف دینے کا باعث بنی ہے یہ بات مجھے کچکولے کی طرح کھا رہی ہے ۔۔ میں کبھی نہیں چاہتا کہ میرے کسی عمل سے مجھ سے منسلک عورت تکلیف میں مبتلا ہو
بس میں اپنے جنون پر قابو نہیں رکھ پایا ،، میں اپنے رشتے اور چیزوں کو لے کر حد سے زیادہ حساس ہوں ۔۔۔
اور آپ تو میری شریک حیات بننے جا رہی ہیں ، میرا دل ہیں آپ۔۔
میری روح سے منسلک ہونا ہے آپ نے ،، آپ کے لیے میں حد سے زیادہ حساس اور جذباتی ہو رہا ہوں ۔
[
مدہم گھمبیر لہجے میں وہ کہتا لمحہ بھر میں اسکی ساری ناراضگی مٹا چکا تھا۔۔۔۔۔ اور اب نارضگی کی جگہ غرور وتکبر اور چاہے جانے کے احساس نے لے لی تھی ، وہ جو پہلے خود کو سب سے الگ اور منفرد ،، خاص سمجھتی تھی مقابل کے الفاظ اسے ساتویں آسمان پر پہنچا گئے تھے ۔۔چاہا جانا کس کو نہیں پسند ۔
یہ وہ شخص نہیں تھا جس نے اس سے سخت الفاظ کہتے اس کے دل کو دکھایا تھا ،، اس کے ذہن کے دریچوں میں کچھ دن قبل اس کے میسج گزرے ۔۔
تم مجھ سے چاہتی کیا ہو اب ؟؟..
وہ سوالیہ نگاہوں سے اسکی جانب دیکھتا غصے اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات سمیت سامنے دیکھ رہا تھا جہاں اسکا تھوڑا سا عکس رونما ہو رہا تھا ۔۔۔
معافی……. یک حرفی لفظ ٫،، اس کے علاوہ وہ کچھ نہ بولی ۔
اب میں یعنی ” چوہدری محمد تم سے معافی مانگے گا ” وہ استہزایہ مسکراتی نگاہوں سے سامنے دیکھتا بولا تو اس کے لہجے کی حقارت آمیز لفظی سن کر وہ دھک سے رہ گئی ۔۔
دل میں کچھ ٹوٹا تھا جس کا شور اور تکلیف آنکھوں میں واضح ہونے لگی تھی ۔
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
سلک کے سیاہ گون میں لپٹی ،، اپنے سنہرے خوبصورت بالوں کو کھولے ،، خوبصورت چہرے بھرے بھرے لب ،، دھو دھیان رنگت اور سانچے میں تراشا گیا اُسکا خوبصورت سراپا قیامت خیز تھا ۔
اپنے دو آتشنہ حسن سمیت وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی ،، گاون سے جھلکتا اُسکا سراپا ،، گلے کی ابھری ہوئ ہڈی ،، خوبصورت شفاف گردن ،، اس کے شعلہ جوالہ بنے وجود کو وہ دیکھتا اپنے جوان جذبات کو کنٹرول کرنے کے باوجود بھی بہک رہا تھا ۔۔
[
کیسی لگ رہی ہوں ۔۔۔ ایک ادا سے پوچھتی وہ اس کے سامنے بیٹھی تھی ،، اس لباس سے جھلکتی اس کی خوبصورت رعنایان مقابل کے ہوش اڑانے کا سبب بن رہی تھی ۔۔
میرے لیے میری پسند کے لباس میں ،، میرے سامنے بیٹھی میری لگ رہی ہو ،، قیامت خیز لگ رہی ہو ۔۔
وہ خود پر اختیار کھو رہا تھا ” تم میرا نشہ بنتی جا رہی ہو ،، ایسا نشہ جو میں کبھی نہیں چھوڑ پاؤ گا ،،
گہرے استحاق بھرے لہجے میں کہتا وہ اپنے اندر اٹھتے باغی جذبات کو قابو نہیں کر پا رہا تھا ۔۔
دیکھو میری طرف ،، وہ جو اس کے سامنے سجی سنوری ” بغیر کسی ڈر خوف کے بیٹھی تھی اس کی گھمبیر بھاری آواز پر سکرین میں نظر آتے اس کے عکس کی جانب دیکھنے لگی ۔۔
میں خود سے کنڑول کھو رہا ہوں ،،میں تم سے ایک خواہش کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔
اسے اس وقت بس اپنے حد سے تجاوز کرتے جذبات کو تسکین پھنچانا تھا ،، ملکہ کی سانسیں بے ترتیب ہوی جیسے وہ اس کی خواھش جانتی ہو ۔۔
میں تمہیں تمام پردوں اور پرتوں کے بغیر دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔
میں تمہیں اپنی روح میں شامل کرنا چاہتا ہوں ملکہ ” ۔۔۔۔ میرا دل اس وقت بے قابو ہوتا میرے اندر جذبات کا طوفان برپا کر رہا ہے ،، تم میری ملکیت ہو ملکہ ۔۔
میں تمہارے حسن و جمال سے واقف ہونا چاہتا ہوں ،، شدت و جذبات سے بوجھل لہجے میں وہ سب کچھ بھاڑ میں جھونکتے اپنی خواہش کا اظہار کر گیا ۔۔
اس کے جذبات چھپاے نہیں چھپ رہے تھے ،، ۔۔۔
ملکہ جو اسکی اس خواھش پر لرزتی پلکوں سے اسے دیکھنے سے گریزاں تھی ،، وہ انکار کے لیے لب دانتوں تلے دبا رہی تھی ۔۔
میں انکار نہیں سننا چاہتا ملکہ ،، یہ سب میرا ہے ،،تم مجھ سے میری جاگیر نہیں چھپا سکتی ” ۔۔
تم میری ملکیت ہو ،، تمہارے پور پور پر میرا حق ہے ” عمر مومن ” کا ۔۔
اسکا لہجہ شدت پسند تھا ۔
آخر خواہش کا سر بلند ہوا اور حیا کہیں جا سوئی ۔۔۔
وہ خواہش جس سے حیاء کا خاتمہ کرتے وہ سب کچھ جلا کر دنیا کو آگ میں جھونکتے ۔۔ ہر پردے کو اٹھاتے دیکھ کہیں دور دفن ہو چکی تھی ۔
وہ خود کو اس کے خوالے کر گئی تھی ” عمر مومن کی نگاہ ساکت رہ گئی تھی ۔۔۔۔حلق میں جیسے کانٹے ابھرنے لگے ہوں ۔۔۔ اچانک اس کا گلا اسے خشک پڑتا محسوس ہوا تھا ،، جیسے صدیوں کا پیاسا ہو ۔۔۔
سانسیں سینے میں اٹکنے لگی ،،نگاہ سامنے دکھائی دیتے منظر سے پلٹنا بھول چکی تھی ۔
اس کے ہوش ربا حسن کو دیکھتے وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا ۔۔
اپنے وجود میں اٹھتے جذبات کو وہ بھڑکتا محسوس کر رہا تھا ۔۔
اس سے قبل کے وہ کچھ بولتا ملکہ جو اس کے سامنے خاموش بیٹھی اسکی بے لگام نگاہیں اپنے وجود کے آ ر پار ہوتی محسوس کر رہی تھی ،، ہے ساختہ بول اٹھی ” کوئی آ جائے گا ۔۔۔
اور کال منقطع کر دی ۔۔
تیزی سے اٹھتی اپنا لباس سمبھالتِی وہ واشروم میں داخل ہو گئی ۔۔
یہ جانے بغیر کے آج صرف اس نے اپنا وجود عمر مومن کے سامنے ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سامنے عیاں کیا تھا ،، وہ اپنا سب کچھ ہار بیٹھی تھی لیکن یہ احساس اسے ابھی نہیں ہونا تھا ۔۔۔
لیکن وہ جیت اور دولت کے نشے میں چور سب بھول بیٹھی تھی ۔
