325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 2)

Gumrah By Yumna Writes

آدھی رات کا وقت تھا ،، جہاں ہر ذی رح خواب خرگوش کے مزے میں تھی وہاں وہ اکیلی کمرے میں بیٹھی اپنے سامنے فون میں کوئی گیمنگ ایپ کھول رہی تھی ،، ۔۔۔

مکمل بناؤ سنگھار کیے ” وہ تو سادگی میں قیامت ڈھاتی تھی ،، اور اس وقت تو وہ سراپا قیامت بنی کسی کے بھی دل پر چھریاں چلا سکتی تھی اور اس بات سے وہ اچھے سے واقف تھی ،، اسی لیے تو خود کو مزید تیار کرتی ایک آخری نظر اپنے قریب پڑے چھوٹے سے آئینے میں دیکھتی لائیو کا بٹن دبا چکی تھی ۔۔۔

جہاں جن کے ساتھ وہ اکثر اوقات لائیو آتی اور گیمز کے نام پر حرام کام زیادہ ہوتے ۔۔۔۔ لڑکے لڑکیاں پیسے کمانے اس ایپ پر آتے اور ساتھ مل کر باتیں کرتے ،، فحش ویڈیوز بنتی ،، غلاظت ،، گالی گلوچ عام تھا ۔

ہائے کیسے ہو سب !! ۔۔۔۔۔

تم آج اتنی دیر سے کیوں آئی ہو ان میں سے ایک اپنی مدہوش نگاہوں سے اسے دیکھتا بولا جبکہ دوسرا اس کو یک ٹک دیکھتا لبوں پر زبان پھیرتا مستفسر ہوا ۔۔

چلو گیم لگاتے ہیں ” وہ مسکرائی اور ان کے ساتھ لائیو میں آتی کوئی گیم کھیلنے لگی ۔

یوں ہی وقت گزرتا گیا اور وہ چارو دنیا جہاں کو بھلائے اپنے شغعف میں لگے رہے ۔
Yumay: ـــــــــــــــــــــــــ

یار خنیں میرا رشتہِ آیا ہے اور گھر والوں کو بھی پسند آیا ہے تو کیا کروں ، گڑیا مصروف سے انداز میں بولی ،،

خنین جو کوئی فائل دیکھ رہی تھی اچانک سے اسکی بات پر الرٹ ہوئی ،، کس کا آیا ہے وہ جو تمہیں پسند کرتا تھا ۔۔

نہیں یار میری بےسٹ فرینڈ ہے اس کا کزن ہے کہتے تو ہیں بھت اچھا ہے اور سب سے زیادہ پسند چاند کو آیا ہے کے ایک تو شہر میں ہے رشتہ اور دوسرا کوئی ساس اور جیٹھانی کا چکر نہیں ،، مزے سے رہوں گی ، اب دیکھو کیا کرتے ۔۔دیکھنے جانا ہے چاند نے ان کا گھر ،،پھر بتائے گا وہ سادہ سے لہجے میں بولتی سینڈوش کھانے لگی

اچھا چلو بہتر ہے جو بھی ہو ویسے بھی اب ہو جانا چاہیے تمہارا بھی کہں آنٹی کی بھی پریشانی ذرا کم ہو اور کب تک ہم لوگ اپنی ماؤں کے پاس رہ سکتی ہیں ایک نہ ایک دن تو جانا ہی ہے وہ رسان سے کہتی اپنی فائل بند کرتی اس کی جانب مکمل متوجہ ہوئ۔۔

نہیں یار میرا نہیں خیال ،، میں امی سے دور نہیں جانا چاہتی میرا دل ہی نہیں مانتا جانے کیوں میرا دل کرتا ہمیشہ اپنی ماں کے پاس رہوں اس کے لہجے میں موجود کچھ کھو دینے کا خوف ،،محبت ،، پیار فکر کیا کچھ نہ تھا ،، ۔۔۔۔۔۔ وہ بے ساختہ سر نفی میں ہلاتی اپنے چہرے پر آتی فکر کو چھپا نہ سکی ۔

ـــــــــــــــــــــــــــ
دن گزرنے لگے اور ان کی باتوں کا دورانیہ بڑھنے لگا ، وہ دونوں کافی حد تک ایک دوسرے کے ساتھ کافی حد تک بے باک ہو چکے تھے ۔۔
آئے روز وہ اسے مختلف تحائف بھیجنے لگا ” جو وہ کہتی اسے ملتا اور وہ خود کو ساتویں آسمان پر محسوس کرتی کہ اسے اس پر مر مٹنے والا شخص ملا ہے ۔

گالی ….. ابے سالو میں کچھ دن غائب کیا ہوا تم لوگ تو مجھے شیر سے گیدڑ سمجھنے لگے ،، ابے سالو ” تم لوگ مجھے جانتے نہیں ــــــ
جان لے لوں گا میں تمہاری میری عزت پر غلط نگاہ بھی ڈالی تو ۔۔ وہ صرف میری ہے ۔۔
آج کے بعد میرا تم لوگوں سے کوئی تعلق نہیں بھار میں جاؤ گالی ۔۔

وہ شدید مشتعل ہوتا گالیاں بکتا ہے رہا تھا اور وہ جو دونوں کب سے خاموش تھے اپنی سالو کی دوستی کی وجہ سے اس کی ماں بہنوں کی گالیوں اور رزیل الفاظ سنتے غیض غضب سے چلا اٹھے ۔۔ ابے جا بھت دیکھے تیرے جیسے ،، تینوں دوست جو ایک جند جان ہوا کرتے تھے آج ایک لڑکی کے باعث ۔۔۔

تو اس کل کی آئی لڑکی کو مجھ پر فوقیت دے رہا ہے اس کا لہجہ حقارت لیے ہوے تھے اس کے لہجے کی حقارت اور کاٹ دار لفظوں کو محسوس کرتا وہ ہتھے سے اُکھرتا ان کی کچھ بھی لفاظی سننے سے انکاری تھا ،، سکرین پر تین نفوس دکھائی دے رہے تھے جو آج کہیں سے بھی جگری یار نہیں لگ رہے تھے بلکہ صدا کے دشمن محسوس ہو رہے تھے ۔۔

یہی یہیں ہے تم لوگوں کی حقیقت ،،

ٹھیک کہتی تھی وہ اور میں یقین نہ کر پایا تو جلتا ہے مجھ سے کے تیرے بجائے وہ میرے ساتھ کیسے سیٹ ہو گئی اور اب نکاح بھی کرنے والے ہیں ،،تیرے دل میں جو جلن اور حسد کے بھانپر جل رہے ہیں نہ میں ان سے واقف ہوں ۔۔

اور جسے تو کل کی آئی ہوئی لڑکی بول رہا ہے نہ وہ میری محبت ہے ،پسند ہے شادی کرنا چاہتا ہوں میں اس سے اپنے اشتعال انگیز لہجے میں وہ چيح رہا تھا اور وہ جو سمجھتا تھا کے اس کا دوست اس کی سنے گا چیخ چیخ کر تھک گیا لیکن سب الٹا ہوا چلا جا رہا تھا ۔۔

ہاں ٹھیک سمجھا تو جا جو مرضی کل اس بے حیا کے ساتھ ،، اپنے لہجے میں ناگواری کی آمیزش لیے وہ دبا دبا سا چیخا ،، کچھ تھا اس لہجے میں کے وہ چاہ کر بھی آج اس سے اس کی طرح لڑ نہ سکا ،،شاید دوستی یان اس کے ٹوٹنے کا دکھ تھا جو آنکھوں میں مرچو کی طرح چھبنے لگا تھا اور اس نے بلا تردد اپنے سامنے پڑا لیپ ٹاپ ٹھک سے بند کیا تھا ۔
اپنا سر بیڈ کراؤن سے ٹکاتا وہ ساری صورت حال سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا ،، لیکن اس کے ہاتھ میں کچھ نہ تھا ،،اسے ذرا سمجھ نہ آئی کے یوں بیٹھے بٹھائے اس کے ساتھ ہوا کیا ہے ۔

ــــــــــــــــــــــــــ

ویکینڈ کے بعد جب گڑیا آفس آئی تو خنین کو اس میں کچھ غیر معمولی سی تبدیلی محسوس ہوی لیکن وہ اسے کچھ کہہ نہ پائ ،، لیکن جون ہی بوس اپنے آفس گئے تو گڑیا بھاگتی اس کے قریب آی اور اس کے گلے میں اپنے بازو پھیلائے ،، کیسی ہو ؟؟ ۔۔۔۔۔
چہکتے ہوئے اس کی طبیعت استفسار کرتے اپنا ہاتھ اس کے سامنے کیا جس میں ایک خوبصوت انگوٹهی تھی ،، یہ کیا ؟؟
خنین خیران سے اسے دیکھتی گویا ہوی ، میری منگنی ہو گئی اس کا چہرہ اس وقت مختلف رنگوں سے جگمگا رہا تھا ۔۔ آنکھوں میں ایک الگ چمک تھی ۔
ماشا اللہ ۔۔۔۔ حنین مبارک باد دیتی ناراض نگاہو سے اسے دیکھتی گویا ہوی مجھے بتایا بھی نہیں بلکل ،، جاؤ میں نہیں بات کرتی وہ اپنا چہرہ مورتی خود کام میں مصروف ظاہر کرنے لگی ۔۔
سوری یار ۔۔۔۔۔ سب کچھ بھت جلدی میں ہوا میں بتاتی ہوں نہ ،، اچھا سنو تو میں تمہارا رییکشن دیکھنا چاہتی تھی ۔۔
میں بتاتی ہوں نہ ساری بات ایک منٹ سنو تو اس کا چہرہ تھامے وہ رسان سے گویا ہوی ۔