Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 4)
Rate this Novel
Gumrah (Episode 4)
Gumrah By Yumna Writes
یار تم اتنی حسین کیوں ہو ؟؟… وہ مدہوش نگاہوں سے اس کے حسین چہرے کی جانب دیکھتا بے تاب سا ہوتا ،، آنکھوں میں واضح خمار کی سرخی لیے گہرے بھرپور لہجے میں گویا ہوا
اس کی گہری چمکتی بھوری آنکھیں جو اس کے حسن کو مزید جلا بخشتی تھی ،، اس وقت کاجل اور مسکارے سے مزین کسی کا بھی دل دھڑکانے کا سبب بن سکتی تھی ،،
وہ خوب واقف تھی اپنے حسن سے اسی لیے اس وقت اپنے مکمل حسن سے بھڑکتا شعلہ بنی مقابل شخص کا ایمان ڈگمگانے کا سبب بن رہی تھی ،، وہ دل پر ہاتھ رکھتا اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا مسکراتا سکرین پر چمکتے اس کے چہرے کو تکتے گویا ہوا ،، تمہیں بہت مہنگا پڑے گا میرا ضبط آزمانا ۔۔؟؟؟
ابھی تمہارا وقت ہے ۔۔میرا بھی جلد آئے گا ” ایک بار میرے قابو میں آگئ نہ تم تو ……. اففف ـــــــــ میں کچا چبا جاؤں گا تمہیں ۔۔۔
خود پر قابو پاتے وہ اپنے بہکتے جذبات کو تھپکتے نا محسوس انداز میں سکرین سے تھوڑا پیچھے ہوا ۔۔۔
تو کیا چاہتے ہیں آپ ؟؟ ۔۔۔ بند کر دوں کال ؟؟…. وہ سوالیہ نگاہوں سے اسے دیکھتی اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ،،،
کچھ بال آگے کی جانب کرتی اپنی گردن ڈھکنے لگی ،، سامنے بیٹھی لڑکی سراپا قیامت بنی ہوئی تھی اس پر مستزاد اسکا دوپٹے سے عاری وجود ــــــــــ
وہ جو ہنوز چار گھنٹوں سے اس کے سامنے بیٹھی اس سے باتیں کر رہی تھی مقابل کا اسے سر تا پیر تکنا ،، اس کے حسن کو سراہنا ،، بے باک لہجہ کچھ بھی اثر نہ کر سکا ،، اس کی تعریفیں ،، بے باک جملو سے اس کے چہرے پر ایک بھی بار غلطی سے بھی ذرا شرم و حیاء کے رنگ نمودار نہ ہوئے ،،البتہ اس کا کیمرے سے تھوڑا پیچھے ہونا اس کے تن بدن میں آگ لگا گیا اور وہ سلگتی اس سے فون بند کرنے کا بولتی اس کا پاره ہائی کر گئی ۔۔۔۔
خبردار جو تم نے کال بند کرنے کی کوششں بھی کی تو وہ ماتھے پر بل سمیٹے سنجیدگی سے گویا ہوا ،،
اس کے چہرے پر سرخی چھاتے دیکھ کر وہ بے ساختہ کھلکھلاتی لہجے میں شیریں گھولے گویا ہوی ،،
اچھا موڈ ٹھیک رکھیں اپنا ۔۔۔۔
وہ تھوڑی گھٹنے پر رکھتی نرمی سے بولی ۔۔۔۔ اچھا مجھے ایک بات کرنی تھی آپ سے !!!
وہ جو سنجیدگی سے اسے دیکھ رہا تھا چہرہ اسپاٹ تھا ،، اسکی بات سنتا رسان سے بولا ۔۔۔
میں سن رہا ہوں ۔۔۔
وہ نا مجھے ایک دو چیزیں منگوانی تھی آپ سے اب کی بار اس کا انداز کافی مختلف تھا ” وہ نگاہیں جھکاے ہوئے تھی ۔۔
کیا منگوانا ہے مجھے بتا دو میں بھیج دونگا ،، وہ اس کا نگاہیں جھکانا محسوس کرتا ،،ایک الوہی سی چمک اس کے چہرے پر نمودار ہوئی ،، ۔۔۔۔
وہ میں آپ کو سینڈ کر دونگی ،، کچھ پرسنل سامان ہے میرا جو یہاں سے نہیں مل رہا اور مجھے ضرور چاہیے ،،آپ وہاں سے دیکھیے گا ۔۔
مجھے بتا تو دو کس طرح کا سامان ہے تاکہ میں اس شاپ پر جا سکون مجھے زیادہ اکسپیرینس نہیں ہے
ہممم مجھے نہ کچھ پرسنل سامان چاہیے تو آپ لیڈیز شاپ پر جائیے گا ،، وہ ڈرامائی انداز میں پاس پر دوبٹہ انگلیوں میں مرورتی گویا ہوی جیسے کافی شرم و حیاء آ رہی ہو ،، تو وہ جو اسے تنگ کرنے کے چکر میں تھا خاموش ہو گیا ۔۔
اچھا “‘ چلو دیکھتے ھیں ” مجھے سمجھ نہ آی تو میں کال کے دونگا ،، وہ آنکھوں میں شرارت لیے گویا ہوا تو وہ مسکراتی فون بند کر گئی ۔
وقت دیکھا تو فجر ہونے والی تھی ۔
تمہیں تو میں اچھا قابو کروں گی ابھی تم دیکھتے جاؤ دل میں سوچتی وہ واشروم لباس بدلنے چلے گئی ۔
_____________
حنین کیا سوچ رہی ہو بیٹا ؟؟..
وہ جو آفس سے آئے خاموش سی تھی ماں کی آواز پر سوچو سے نکلتی ماں کی جانب دیکھنے لگی ،، کچھ نہیں امی میں نے آپکو بتایا تھا نہ گڑیا کا رشتہ ہو گیا ۔۔
وہ سر جھٹکتے بے چین سے لہجے میں بولی ۔۔
آمنہ بیگم خیران ہوتی اسے دیکھ رہی تھی آخر وہ کہنا کیا چاہتی ہے ،، جی بیٹا مجھے علم ہے ،،ابھی وہ بات کرو جو تمہیں تنگ کر رہی ہے وہ ماں تھی اپنی بیٹی کو بےچین سے دیکھ چکی تھی ۔
امی کچھ لوگو کو سب کتنی آسانی سے مل جاتا ہے ،،میرا مطلب ہے ۔۔
میں اس سے کوئی حسد یان جلن نہیں رکھ رہی ،، گڑیا میری بہت اچھی دوست ہے مجھے عزیز ہے ۔
لیکن وہ مجھے اکثر بتاتی رہتی تھیں اسکا فلاں جگہ سے رشتہ آیا ،، کبھی کچھ کبھی باہر سے ۔۔۔
مطلب کے ہمارے پاس بھی سب کچھ ہے لیکن میرے ساتھ تو ایسا نہیں ہوا ۔۔۔ مطلب آپ سمجھ رہی ہیں نہ ہمارا گھر بھی ان سے بڑا ہے ،، میری عمر بھی اس سے چھوٹی ہے ” لیکن پھر بھی میرا تو رشتہ نہیں ہو رہا ” میرے لیے تو جو آتا کہتا آپکا گھر چھوٹا ” کبھی کہتے گاڑی کہاں کھڑی کریں گے ،، تو پھر اسکا دیکھیں کتنا اچھا ہو گیا نہ ۔۔
ہر چیز ہے ” آج وہ بتا رہی تھی لڑکے کے بھائی نے انہیں گھر دعوت پر بلایا ہے ،ان سب نے وہاں جانا ہے اور لڑکے نے کہا ہے کہ اسکا گھر دیکھ کر آئیں ۔
وہ اس وقت گرین سادہ سے سوٹ میں میک سے پاک چہرے کے ساتھ بیٹھی کچھ الجھی الجھی سی تھی
اسکی باتوں کو بڑے غور سے سنتی وہ رسان سے گویا ہوئی ” حنین “…
میری بیٹی ” یہ سب قسمت کے کھیل ہیں “…
اللہ پاک جسے چاہتا ہے نوازتا ہے ” یہ تو اس ذات کی بانٹ ہے جسے وہ چاہتا ہے جتنا وہ چاہتا ہے تقسیم کرتا ہے …
اور یہ سب جھوٹے بہانے ہیں ” جب وقت آتا ہے اور قسمت میں لکھا ہو تو کوئی روک نہیں سکتا ” یہ جو کہتے ہیں نہ گاڑی نہیں ،، گھر چھوٹا ہے دراصل یہ لوگ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں ۔۔جن کے پاس ذرا سا پیسہ آ جائے تو وہ خود کو خدا سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔۔اور لڑکے آجکل زیاد تر تو پڑھتے ہی نہیں چھوٹی موٹی نوکریوں پر لگے ہوتے ہیں اور ماں باپ بھی مجبوراً انہیں اپنی بیٹی دے دیتے ہیں اور جو ذرا پڑھ لکھ جائیں کامیاب ہو جائیں ان کی ماؤں کے نخرے مان نہیں ۔۔
آخر ہم کیوں نہیں سمجھتے کے ہمارے پاس بھی ایک بیٹی ہے ” جب مائیں یہ سمجھنے لگ گئی نہ تو زندگی آسان ہو جانی ہے ۔
اور رہی گڑیا کی بات تو بیٹے یہ اسکی قسمت تھی ” آپ کی قسمت آپ کے ساتھ ۔۔۔
ہو سکتا ہے آتے ہوں اچھے رشتے ہمیں کیا ۔۔۔۔
اور بیٹا بعض لوگو کو ویسے بھی بات بڑھا چڑھا کر کرنے کا شوق ہوتا ہے ۔۔اسلئے آپ پریشان نہ ہوا کرو ۔۔۔
اسے اتنے پیار سے سمجھاتی وہ پرسکون کر گئی جبکہ حنین بھی ان کی بات سمجھتی سر ہلا گئی ۔
ـــــــــــــــــــ
گڑیا جو آج بن سنور کے اس کے گھر والوں سے ملنے گئی تھی ،، اس کا گھر اور اسکی زمینوں کو دیکھ کر خیرت و استعجاب میں جا چکی تھی ،، وہ تو خاصا امیر کبیر شخص تھا ” ۔۔۔۔
کیسا لگا پھر آپکو چودھریوں کا محل ” وہ کال پر بات کرتا اس سے اپنے گھر والوں سے ملاقات کا پوچھ رہا تھا ” گڑیا کا نمبر اسکی بیسٹ فرنڈ نشوہ نے دیا تھا ” کہ وہ اس سے کچھ بات کرنا چاہتا تھا ۔
اچھا تھا پسند آیا مجھے سب ،، بھابھی بھائی بھی اچھے ہیں وہ گاڑی میں بیٹھتی آہستگی سے بول رہی تھی ۔۔۔ چوہدری کے بھائی نے ان کے گھر اپنی گاڑی بیجھی تھی اپنے خاص ڈرائیور کے ۔۔۔ یہ اس کے بڑے بھائی کا حکم تھا ،، آتی دفع گڑیا کو انہوں نے کافی تحائف دے کر بیجھے تھے ،،جس کا ان کے گھر والوں نے کافی منع بھی کیا تھا لیکن انہوں نے زبردستی گاڑی میں رکھوائے کہ یہ سب ان کی بھابھی کے لیے ہیں ۔
میں نے آپ کے لیے کچھ پیسے بیجھے تھے اور رنگ بھی آپکو مل گئی ،، ؟؟؟..
وہ بات بڑھانے کو استفسار کرنے لگا ۔
جی بھابھی نے دے دیا ہے سب ،، شکریہ ۔۔۔۔لیکن اس سب کی ضرورت نہیں تھی ،، امی ابو کافی ناراض ہو رہے تھے ” آپ تو یہاں ہیں نہیں تو اچھا نہیں لگتا نہ ۔۔وہ نرمی سے کہتی خاموش ہو گئی ۔۔
جبکہ دوسری جانب چوہدری جان نثار ہوا تھا اس کی اس ادا پر ۔۔
وہ تو رب کا شکر ادا کر رہا تھا کے اسے اتنی حسین اور اچھی لڑکی مل گئی ہے ۔۔
اچھا گھر جاتے ہی مجھے اپنی تصاویر بھیجے گا ” رنگ پہن کے ،، وہ اس کا روپ تصور کرتا ” اس کے خوبصورت سرخ و سفید ہاتھوں میں اپنے نام کی انگوٹھی دیکھنے کی چاہ اس کا دل زورو سے دھڑکانے کا سبب بن رہی تھی ۔
جبکہ دوسری جانب گڑیا جو اس سے محض دوسری بار محو گفتگو ہوئی تھی اس کے لیے دل میں کچھ خاص سا جزبہ بیدار ہونے لگا تھا ،، وہ نہیں جانتی تھی کے جذبہ پسندیدگی کا ہے یان ان کے درمیان نئے استوار ہوئے اس رشتے کا لیکن کچھ تو تھا جو وہ اسے کچھ الگ محسوس کروا رہا تھا .
————————- yumna writes
میں اس کو چھوڑو گا نہیں اس لڑکی نے سب تباہ کر دیا آرون جٹ کو یہ جانتی نہیں ۔۔۔اس نے مجھ سے پنگا لیا ہے گجر تو دیکھ میں اس کا خال کیا کرتا ہوں ۔۔۔
زہر ہند لہجے میں سفاکیت سے وہ گرجتا اردگرد کے لوگو کو اپنی جانب متوجہ کرنے کا سبب بن رہا تھا ” اس کا خوبرو چہرہ اس وقت غصے کی زیادتی کی وجہ سے لال تھا ” ۔۔
میں نے کیا نہیں کیا اس کے لیے بتا تو ،، تو جانتا ہے نہ سب ۔۔۔
اتنا میں نے اس لڑکی پر لٹایا اور وہ سا* نے کیا کیا ۔۔۔
مجھ سے میرا جگری یار چهین لیا ۔
اگر تو میرے گھر کے باہر جو فائرنگ ہوئ ہے وہ عمر نے کروائی ہوی تو وہ دن اسکا آخری دن ہوگا ۔۔
میں اپنے خاندان کے خلاف ایک لفظ بھی برداشت نہیں کر سکتا اور یہاں میری ناک کے نیچے کسی نے میرے گھر والوں کو دھمکی دی ہے ۔
دل و دماغ میں اس لڑکی کو سوچتا وہ طیش و اشتعال میں برهکتا چہرے پر چٹانی تاثرات لیے ہوے تھا ۔
گجر خود بھی کافی آگ بگولہ ہوا تھا لیکن چودھری سے وہ ایسی حرکت کی توقع نہ رکھتا تھا اور دل ہی دل میں دعا گو تھا عمر مومن کی جانب سے ایسی کوئی کارروائی نہ ہوئ ہو ورنہ وہ نہیں جانتا تھا کہ کیسا طوفان برپا ہونا تھا اور دنیا نے دیکھنا تھا کیسے ایک لڑکی کی وجہ سے دو دوست جانی دشمن بننے تھے
گجر شرر بار نگاہیں اپنے فون پر ٹکائے ہوئے تھا اور گہرے جمود میں گھرا ہوا تھا کہ کیسے ایک لڑکی تین لڑکوں کے ساتھ کھیل کھیل گئی اور وہ جو خود کو دنیا بھر میں سب سے چالاک اور شاطر سمجھتے رہے ،، ان کی زیرک نگاہیں بھی اس فتنے کو بھانپ نہ سکی ۔۔۔
