325.9K
14

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Gumrah (Episode 3)

Gumrah By Yumna Writes

مجھ سے بات مت کرو ،، وہ ناراضگی کا اظہار کرتے اٹھنے لگی لیکن گڑیا نیا فوراً اس کے بازو سے تھام کے اپنی جانب گھسیٹا ،،یار ایسے نہ کرو ۔۔۔

سنو تو اس کو زبردستی اپنے قریب بٹھاتے وہ گویا ہوی ” دراصل میں نے تمہیں بتایا تھا نہ کے میری دوست کا کزن ہے تو بس اچانک اس نے مجھے کہا کہ میں نے اسے تمہاری تصویر سینڈ کی ہے اور اسے تم پسند آیا گئی ہو ،،

میری دوست اور اس کی والدہ ہمارے گھر آ گئی اور بس پھر جلدی جلدی میں سارے کام ہوے ،، لڑکے کا چھوٹا بھائی اور بھابھی آئی تھی اور ویڈیو کال پر لڑکا آنلائن تھا ۔
بہت اچھے لوگ ہیں ،،سب کو پسند آیا تو ہمارے پاس انکار کا جواز ہی نہ بچا …..

بس پھر گھر میں ہی چھوٹی سی تقریب کر دی ،،ان کی جانب سے بس چار لوگ تھے اور ہم بھی چار ہی تھے ۔۔

یہ دیکھو !!_____________

اپنا ہاتھ اس کے سامنے کرتی وہ آنکھوں میں چمک اور خوشی لیے گویا ہوی ،، یہ میں خود جا کے پسند کرکے آئی ہوں ۔۔

اس نے تین لاکھ بیجھا تھا کے جس طرح کی رنگ لینی ہے لے لو ،، میں یہ لے کر آی ہوں اور ڈریس میرے پاس ویسے ہی بہت ہیں اس لیے جوڑے کے لیے میں نے انکار کر دیا ورنہ وہ تو بول رہا تھا کے نیا جوڑا بھی لے کر آؤ ۔۔

میں تمہیں کیا بتاؤں خنین اتنا اچھا وہ شخص ہے ۔۔ گیارہ عمرے کیے ہوے ہیں اس نے اور حج بھی ،، ماشاء اللہ کافی نیک اور سمجھدار ہے ،، ہاں شکل و صورت بس مناسب سی ہے لیکن خیر ہے کوئی بات نہیں ،، میری سن کے چلے گا آگے زندگی میں ۔

میں بہت خوش اور مطمئن ہوں اور گھر والے بھی ” جس طرح کا ہم چاہتے تھے ویسا مل گیا ہے ہمیں ۔
وہ فون پکڑتے اس میں خنین کو اپنی تصاویر دکھانے لگی ۔۔
وہ بھی مسکراتی اس کی باتیں اور تعریفیں سننے لگی جس میں زیادہ تر ذکر عمر مومن کا تھا

______________ 

اس سالے حرامی کو میں چھوڑو گا نہیں اس کی تو میں جان لے لوں گا وہ طیش میں آتا کھولتے خون سے اپنا فون پکڑتا ایک نمبر ملانے لگا ،،

تم نے کہا تھا نہ جب تمہاری ضرورت پڑی تم خاضر ہو گے ” دوسری جانب موجود نفوس اس سے کچھ پوچھ رہا تھا لیکن وہ اسے کچھ بھی بتائے بغیر بس اپنا جملہ دہرا رہا تھا ” تم نے کہا تھا کے نہیں ۔۔مجھے ابھی تمہاری ضرورت ہے “

وہ پھٹتے دماغ کے ساتھ دھارا ” اس کی دھاڑ سے مقابل کا دماغ سننا اٹھا ،، وہ متفکر ہوتا اسکا فون کان سے تھوڑا پیچھے کرتا مقابل کے دماغی حالت پر اور لفاظی پر بے یقین ہوتا فون ہاتھو میں جکڑے ضبط سے مستفسر ہوا ۔۔۔

مجھے آرام سے بتاؤں ہوا کیا ہے ،، میں اپنی بات پر قائم ہوں لیکن بعد میں تمہارے لیے کوئی پیشانی کا باعث نہ بنے ، اپنے فیصلے پر نظرثانی کر لو اور پھر مجھے نتیجے سے آگاہ کرو ۔۔۔۔

وہ بڑے تحمل سے اس سے گویا ہوا ” وہ گاؤں کا وڈیرا” چودھریوں کا سب سے سخت گیر جوان مرد تھا جس کی وحشت سے گاؤں کانپ جاتا تھا ،، جس کی دھاڑ سے بندے پر سکتا طاری ہو جاتا تھا ،،لیکن وہ عمر مومن کا جگری یار تھا اس کی ہر بات سر آنکھوں پر ۔۔۔۔

اسی لیے اس کا گستاخ لہجہ اور الفاظ بھُلاتا وہ شائستگی سے استفسار کر رہا تھا ۔

چند لمحے وہ گہرے سانس لیتا خود کو ریلیکس کرتا گویا ہوا ۔۔۔۔

میں پاگل ہو جاؤں گا یار ——-

وہ بے بسی سے چلایا ۔۔۔۔

میرے اپنے دوستوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے ۔۔ میں نہیں رہ سکتا اس کے بغیر ،، میں نہیں چھوڑ سکتا اس کو ،، وہ میری زندگی بن چکی ہے ۔۔اور میرے اپنے ہی دوستوں نے میری پیٹھ میں خنجر کھونپا ہے۔

انہوں نے مجھے دھوکہ دیا ” اسے میرے خلاف کرتے رہے وہ جانتے تھے کے میں اس سے محبت کرتا ہوں ،، اس کے باوجود اسے فون کرکے سڈیوس کرتے رہے کے وہ مجھے چھوڑ دے” میرے خلاف جانے کیا کیا کہتے رہے ،، وہ مجھ سے خوف زدہ ہونے لگی تھی ۔
وہ تو مجھے کبھی نہ بتاتی لیکن میرے بارہا پوچھنے پر اس نے مجھے ساری سچائی سے آگاہ کیا ہے۔

میں ٹوٹ گیا ہوں ،میرا دل بند ہو رہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی وہ مجھے چھوڑ رہی تھی ،، میرا خون کھول رہا ہے ” ۔

وہ اپنے ماتھے کو مسلتے مٹھیاں بینچتا فرش پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
سب کچھ تو وہ تباہ کر چکا تھا کمرے کی حالت کافی ابتر تھی ” ۔۔
تم ریلیکس کرو ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہوتا وہ تمہاری ہے اسے تم سے کوئی نہیں چهین سکتا ہممم۔۔۔۔۔۔

بھولو مت میں اپنے قول سے مکرتا نہیں ہوں تم جو چاہو گے وہی ہوگا تم مجھے بّس بتاؤ کرنا کیا ہے ۔

لڑکی اٹھوانی ہے یاں کسی کو مارنا ہے ؟؟….

عمر مومن اسکی بات پر بے ساختہ ٹھٹھکا ۔۔۔ نہیں ایسا کچھ نہیں کرنا اس کے گھر والے کافی سادہ سے لوگ ہیں “جلد ڈر جائیں گے ،،بس ابھی تو انہیں خوف زدہ کرنا ہے ۔۔اس کے بعد دیکھتے ہیں ۔۔
وہ نفرت انگیز لہجے میں بولا ” دوسری جانب سے مثبت جواب ملتے وہ فون کھٹھک سے بند کرتا اپنے بال مٹھیوں میں بینچتا پچهلے کچھ وقت میں ہوئی اپنے ساتھ گزری قیامت کو سوچ رہا تھا
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــ

اس کا حلیہ ایسا تھا کے کسی حیا دار لڑکی کو دیکھ کر شرم آ جائے لیکن وہ بے حیائی سے سجی سن سکرین کے سامنے بیٹھی ان تینوں سے باتیں کر رہی تھی ،، وہ تینوں جو جگری یار تھے،، اور ان میں سے ایک لائیو ایپ میں” ابیوزر کنگ ” کے نام سے جانا جاتا تھا ” ان کی بے باک زبان اور گہری نظریں کسی بھی لڑکی کو سرخ ہونے پر مجبور کر دے لیکن وہ ملکہ تھی ،، کوئی عام لڑکی نہ تھی ۔۔۔۔

وہ خود کو ایک ملکہ ہی سمجھتی تھی اور اس کا دو آتشہ حسن دیکھ کر تو اچھے بھلے بندے ک ایمان ڈگمگا سکتا تھا وہ تو پھر طرح طرح کی لڑکیوں سے ملتے تھے ،، جانتے تھے ،، ان کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے تھے ،، لیکن جب بندہ حرام کام میں لگ جائے تو اسے کسی چیز کا ہوش نہیں رہتا ۔۔

شیطان دل و دماغ پر ایسا غالب آتا ہے کہ جب سب چھن جاتا ہے، ہاتھوں سے ریت کی طرح پھسلنے لگتا ہے تب انہیں لڑکیوں کو اپنی عزت یاد آتی ہے ۔۔

اور آخر کار اس خوف سے زیادہ تعداد میں لڑکیاں خود کشی کا شکار ہوتی ہیں ،، یاں درندوں کے ہاتھوں ماری جاتی ہیں جو انہیں نوچ دیتے ہیں ۔
_________________

دن بدن ان کے بیچ بے تکلفی بڑھنے لگی ،، باتوں کا دورانیہ بڑھنے لگا ،، عمر مومن تو اس کے پیار میں ایسا پڑا کے سب کچھ بھلا چکا تھا ،، آئے دن اس کے لیے تحائف آنے لگے ۔۔
مہنگے ترین تحائف ” ۔۔۔
وہ اس سے مختلف فرمائشیں کرتا اور وہ اس کی ہر بات پر لبیک کہ دیتی ” ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ رات کے دوسرے پہر بیٹھے ویڈیو کال پر موجود تھے ،،