Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 14)
Rate this Novel
Gumrah (Episode 14)
Gumrah By Yumna Writes
اس نے تیزی سے فون پکڑتے گجر کو کال کی تھی جو فوراً موصول کی گئی تھی ،، گجر اس کے ساتھ رہتا تھا وہ اکٹھے سعودیہ آئے تھے ،،لیکن ان کے بیچ اختلافات نے جوں ہی کریں پکڑنا شروع کی وہ خود ہی اٹلی شفٹ ہو گیا یہ بول کر کہ وہاں کا کام وہ دیکھ لے گا ۔۔
گجر ” ۔۔۔ اس کے ہونٹوں سے لفظ نہیں ادا ہو پا رہے تھے ،، ٹوٹے پھوٹے بے ربط الفاظ ،، جن میں پشیمانی ،، دکھ تکلیف ،اذیت ٹوٹے ہوئے مان کی کرچیاں تھی ۔
وہ مجھے چھوڑ گئی میرے یار ،، اس نے اس نے ،، آنسو پلکوں کی باڑ توڑتے دھاری میں شامل ہونے لگے ،، اس نے مجھے دھوکہ دے دیا ۔۔
میں اس سے محبت کرتا تھا،، میں نے اسے سچے دل سے چاہا ،، وہ مجھے پاگل سمجھتی ہے ،،
تو آ جا میرے یار میں مر جاؤں گا ،، مجھے تیری ضرورت ہے ٹوٹا ہوا لہجہ درد بھری آواز ۔۔ گجر تو اسکی آواز سنتا ساکت سا رہ گیا ۔
یہی تو وہ چاہتا تھا کہ اس لڑکی کی حقيقت اس کے دوست کے سامنے آ جائے لیکن وہ اپنے دوست کو کبھی ٹوٹتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا ۔
اسے عمر مومن پر ترس آنے لگا تھا ۔۔ میں صبح تیرے پاس ہونگا تو پریشان نہ ہو ۔۔
ایک لمحے کو دل کیا بھاڑ میں جھونکے اسے جسے وہ بارہا روکتا رہا ،، لیکن وہ اپنے جنون کی ضد میں اس وقت پاگل بنا پھر رہا تھا ،، اب وقت اُسکا تھا ،،دماغ نے ضد کی کہ چھوڑ دے اسکو اسکے حال پر ،، جبهی دل نے دوستی کا واسطہ دیا ۔۔ دل اس کے لیے بے تحاشہ پریشان تھا ،، چہرے پر سرخی اور تفکر کے سائے چهائے ہوئے تھے ۔
وہ کل ہی اس کے پاس جانا چاہتا تھا اس سے پہلے کے وہ چالاک لومڑی اسے پھر سے اپنے جھال میں پھنساتی ،، وہ حطرناک عورت اب اس کے تصور میں مکمل آ چکی تھی اور ذہن کے پردوں پر اسکا نازک اندام سراپا اور حسن نمایاں ہوا تھا جسے دکھاتے اس شاطر عورت نے اس کے دوست کو ٹریپ کیا تھا ۔
ــــــــــــــــــــ
ساری رات گڑیا بے چین رہی ،، وہ جو دوسروں کو بے چین کرتی آی تھی آج خود بے چینی سے کروٹیں بدلتی اس کے بارے میں سوچ رہی تھی ،،
سنہری چمکتی آنکھیں اس وقت پر اسرار حد تک خاموش تھی ،، ان میں موجود کشمکش اور تشویش واضح ہوتی اس کے خوبصورت پر رونق چہرے کو زرد رنگت میں مبتلا کر رہی تھی ،، اس کی رنگت پل میں سپید پری تھی ،،
وہ آنکھیں جن کے پیچھے وہ بہت سے مردوں کو ڈبو چکی تھی آج خالی پن لیے ہوے تھی ،، آنکھوں کے گرد موجود ہلکے اس کے راتوں میں جاگنے کی کہانی بیان کر رہے تھے ،، وہ چہرہ جو سامنے کھڑے انسان کو پل میں پرکھ جاتا تھا آج خاموش تھا ۔۔
وہ شاید اپنے انجام سے واقف ہو چکی تھی یاں پھر یہ اسکی کوئی اور چال تھی ،، کوئی معلوم نہ کر سکتا تھا کہ وہ پل میں بھیس بدلتی تھی کبھی گڑیا تو کبھی ملکہ ۔
وہ آتے ہی آرام کرنے کی غرض سے سونے اپنے کمرے میں جا چکا تھا ،، اسکی چھوٹی خالہ اور ان کے بچے ،یاور اور سلوہ نے ان کا استقبال بڑے خوبصورت انداز میں کیا تھا ،،حور اور یاور اس کے کزن تھے ،، جن سے وہ بہت زیادہ اٹیچ تھا ۔۔
اسکی تو کوئی بہن نہ تھی تو زیادہ تر حور انہی کے گھر موجود ہوتی ۔۔ یاور اور اسکی والدہ ،،والد کی وفات کے بعد بزنس سمبھال رہے تھے ۔۔۔ حور جو کہ ابھی چھوٹی تھی اور دسویں جماعت میں تھی تو وہ اپنی آنٹی کے ساتھ ہی رہتی ۔۔
اس نے آتے ہی پہلے اس کے کان کھینچے تھے جو اسے کافی پریشان کر چکی تھی ،، قبل دو دن اسکا وقت جیسے کانٹوں پر چلتے گزرا تھا کتنا ترپا تھا وہ ۔۔
شام میں وہ سو کر اٹھا تو سارے لاؤنج میں کھانے کی دلفریب مہک چهائی ہوئ تھی ،، نیچے آتے طویل لاؤنج میں قدم رکھا تو سب ملازم ڈائننگ ہال میں افراتفری سے جاتے دکھائی دے رہے تھے ۔۔
جلدی کرو سب میرا بیٹا اٹھنے والا ہے ،، سلوہ بیگم کی کھنکتی مترنم آواز پر اس نے دبیز باورچی خانے کا رخ کیا جہاں وہ کھڑی اس کے لیے اسکی پسند کے پکوان بنا رہی تھی ۔۔
دھیمے قدم اٹھاتے وہ ان کے گرد بانہوں کا حصار قائم کرتا لاڈ سے بالوں پر لب رکھتا گویا ہوا ۔۔
ماں جی جلدیں کریں بھوک سے پیٹ میں چوہے کود رہے ہیں ۔۔
ہائے میں صدقے ،،واری میری جان بس ہو گیا سب ۔۔ ان کی میٹھی آواز جس میں مسرت واضح تھی
۔۔تم جاؤں یہاں گرمی ہے ،، میں بس لگوا رہی ہوں کھانا ۔۔ اپنے پتر کو اپنے ہاتھوں سے کھلاؤں گی ،، ان کی آنکھوں میں جلتے محبت کے روشن دیپ دیکھتے وہ ان کی پیشانی پر لب رکھ گیا ۔
بس کریں ہم بھی یہاں موجود ہیں ،،کب سے دیکھ رہی ہوں ہمیں تو اگنور ہی کیے جا رہیں ہیں ۔۔ حور جو سلاد کی ڈشز اٹھانے آئی تھی ماں بیٹے کا پیار دیکھتی جل بھن گئی تھی ۔۔
جلدی سے کھانا کھائیں اور مجھے شاپنگ پر لے کر چلیں ،، میں نے اپنی دوستوں کو کتنی شوخیاں مار کر بتایا تھا میرے بھائی اٹلی سے آ رہے ہیں میرے لیے تو بہت سامان لا رہے ہیں اور آپ ۔آپ حالی ہاتھ آ گئے ،، منھ چڑھاتے وہ کیوٹ سی بچی لگی ۔۔ اچھا میری جان جو کہو گی دلوا دونگا ۔۔اب خوش ۔۔
اس سے ڈش لیتا کھیڑے کا ٹکڑا اٹھاتا بولا تو وہ کھلکھلا دی ۔۔
دن ڈھل چکا تھا ،، باہر ہلکی ہلکی ہوا چلنے لگی تھی ۔۔ دھوپ کی تمازت بھی ختم ہو چکی تھی ۔۔
ایسے میں وہ حور کو لیتے شاپنگ کے لیے نکلا تھا ۔۔اس نے جہاں جانے کا کہا اسے وہ وہاں لے گیا ۔
حور اپنی شاپنگ کرنے لگی تو وہ بھی جو یونہی کھڑا تھا سلوہ بیگم کے لیے جوڑا دیکھنے لگا ،، ۔۔
اپنے عقب میں کسی کی کھنکتی مترنم آواز سنتے وہ اپنے دل کی بڑھتی حالت پر قابو پاتے ایک لمحے کی بھی دیری کیے بغیر پلٹا تو سامنے کا منظر دیکھتا وہ ورطہ خیرت میں مبتلا ہوتا اسے اپنے اتنے قریب ہاتھ میں لباس تھامے دیکھ کے جیسے سکتا طاری ہو گیا ۔۔
یا اللہ ۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا تھا وہ تو ابھی صبح کی ملاقات بھول نہیں پایا تھا ،،، اور وہ بے ضرر سا وجود وہاں بھی موجود تھا توجہ کے تمام دھاگے اس وجود کو سامنے دیکھ کر سر اٹھانے لگے جنہیں وہ بڑی مشکل سے سلا چکا تھا ،، لاشعوری طور پر اس گداز سراپے کو وہ آنکھوں کے پردوں پر آتا اٹکیلیاں کرتا محسوس کر چکا تھا ۔۔ پر دل میں جاگتے جذبات کو کنٹرول کیا تھا کہ یہ محض ایک وقتی جزبہ تھا ۔۔
اپنے اتنے قریب وجود کو ساتھ کھڑی دو خواتین سے بات کرتا دیکھ وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہیں ۔۔
مجھے یہ چاہیے مجھے یہ پسند آ رہا ہے مما ،، اسکی خوبصورت آواز قریب سے گونجی تھی تو آرون جٹ نے درزيدہ نگاہوں سے اس کے ہاتھ میں موجود سیاہ ٹیل فراک کو دیکھا تھا جو سادہ مگر خوبصورت تھی ،، آرون جٹ کی سرمئی آنکھیں چمکی تھی ۔۔۔ لا شعوری طور پر وہ وہی جامد کھڑا اس پر بارہا ایک اچٹتی نگاہ ڈال رہا تھا جس کا گداز وجود سیاہ ابائے میں چھپا ہوا تھا ۔۔
لوگوں کو آنکھیں دیکھ کر محبت ہوتی ہے ،، آرون جٹ وہ واحد مرد تھا جسے اس کے ہاتھوں سے محبت ہوئی تھی ۔۔
اس کے سرخ و گلابی ” خوبصورت ہاتھ ۔۔ چھوٹے تراشیدہ ناخنوں پر کچھ نہیں لگایا گیا تھا ،، بغیر کسی مصنوعی رنگوں کے وہ ہلکے گلابی ناحن اسے بڑے دلکش لگے تھے ۔
حنین بیٹا یہ دیکھ لو ،، یہ بھی خوبصورت ہے ۔۔ نہیں مجھے یہی لینی ہے ،، وہ پانی کی بوتل نقاب کے اندر سے لبوں پر لگاتے بولی تو وہ جو اپنے دھیان تھی ،اُسکا نقاب سرکا تھا اور اس کے لبوں سے لگی بوتل واضح ہوی تھی ۔۔
آرون جٹ اس منظر کی دلکشی میں کھو سا گیا ،،، منتشر ہوتی دل کی دھڑکن اور سرمئی آنکھوں میں چهائے جذبات کا ٹھاٹے مارتا سمندر اسے جامد کر گیا ۔
وہ ڈریس لیتی اٹھ گئی تھی،، اپنے اطراف سے اسے حور کی آواز آتی سنای دی ۔۔ اس نے گردن موڑتے اسے دیکھا ۔۔ دماغ جیسے پل کے لیے بند ہو گیا ہو ،،، اردگرد کا منظر اس کی سمجھ سے باہر ہو ۔۔
تیزی سے نگاہیں واپس اسی منظر پر مرکز کی تو یکایک لوگوں کو آتے جاتے دیکھ اسکی آنکھیں چندھیان سی گئیں ۔۔ وہ جا چکی تھی لیکن کہاں ۔۔۔۔
وہ کون تھی ،، وہ نہیں جانتا تھا ۔۔بے چینی سے اس نے شآپ میں نگاہ درائی لیکن وہ کہیں دکھائی نہ دی ۔
بھائی کس کو دیکھ رہے ہیں ” ؟؟
حور قریب آتے مستفسر ہوئی تو وہ بے چین سا نفی میں گردن ہلا گیا ۔
چلیں ۔۔۔ آرون نے اثبات میں سر ہلاتے باہر کی جانب قدم بڑھائے نگاہیں اسی کو تلاش کر رہی تھی ۔
اسکی نگاہ اسے سامنے دیکھ کر ٹھٹھکی تھی ،، دل پر جیسے پھوار سی پڑی ہو ۔
حور آپ جا کے گاڑی میں بیٹھو میں کھانے کو کچھ لاتا ہوں ۔گاڑی کی چابیاں اسے پکڑاتے وہ آگے بڑھا تھا جہاں کھڑی حنین بھی موموز کی پلیٹ لے رہی تھی ۔۔
اس کے قریب کھڑے ہوتے وہ خود کو لاپرواہ ظاہر کرتا دوسری چیزوں کو دیکھتا ریٹ پوچھنے لگا ۔
مما ہمارے گجرانوالہ تو یہ اتنے اچھے ہوتے ،، لاہور میں پتہ نہیں کیسے ہوں گے اسی لیے ایک پلیٹ لے رہی ۔۔
اسکی جھنجھلائے سی آواز کانوں میں پڑی تھی جو پلیٹ تھامے ٹیبل کی جانب بڑھ گئی ۔
آرون زیر لب گجرانوالہ دہراتا حور کے لیے کچھ چیزیں پیک کرواتا واپس مر گیا ۔۔
مخترمہ ضرور بٹ ہوں گی ،، صحت سے بھی لگتا ہے ،، ہونٹوں کے کناروں پر جهپ دکھلاتی گہری مسکراہٹ ،، گجرانوالہ تو زیادہ تر بٹوں کا راج ہے وہ دل میں سوچتا اپنے اندر اٹھتے خوش کن احساسات کو لبوں پر مسکراہٹ کی صورت لاتا گاڑی میں بیٹھا تھا
آج کا دن آرون کے لیے بہت خوبصورت رہا تھا اسکی مان ٹھیک تھی ،، اسے جسکی تلاش تھی وہ بھی مل گئی وہ خوش تھا کافی ،، دل سے ۔
اس کے عنابی لبوں پر سجی مسکراہٹ ایک دلکش منظر پیش کر رہی تھی ۔۔۔
