Gumrah By Yumna Writes Readelle 50363 Gumrah (Episode 15)
Rate this Novel
Gumrah (Episode 15)
Gumrah By Yumna Writes
گجر اس کے پاس موجود تھا اور اسکی بگڑتی حالت دیکھ کر اسے ہاسپٹل لے کر گیا تھا ۔۔ عمر مومن کا اچانک سانس رکنے لگا تھا ۔۔
اسکا سرخ چہرہ سوجی آنکھیں دیکھ کر وہ بے حد متفکر ہوتا
ہاسپٹل میں کھڑا ہی آرون جٹ کو کال ملانے لگا ۔۔
کال موصول ہوتے ہی اس نے تمام صورت حال اس کے گوش گزار کی ،، اور وہ جو اس سے دوستی حتم کرنے اور اسے جان سے مارنے کا دعویٰ کرتا تھا اپنے دوست کی حالت کا سن کر بے چین ہوتا رات کی ہی فلائٹ بک کروانے کا اسے حکم دیتا فون بند کر گیا تھا ۔
وہ جو ایک حسین رات گزار کر اٹھا تھا ،، صبح اٹھتے ہی اسے گجر سے ایسی خبر ملی تھی کے وہ طیش اور بے چینی کے ملے جلے تاثرات سے چہرے پر سرخی لیے عجلت میں اٹھتا اپنا سامان کیری میں رکھنے لگا ۔
گجر جو کوریڈور میں چکر لگا رہا تھا ڈاکٹر کے باہر آتے ہی فوراً انکی جانب قدم بڑھا گیا ۔۔
کیا ہوا ہے میرے دوست کو ڈاکٹر صاحب ؟؟…
بے حد متفکرانا انداز اور چہرے پر کرب کی سرخی ۔۔
دیکھیں مسٹر پیشنٹ نے کسی بات کا بھت زیادہ اسٹریس لیا ہے جس کے باعث انکا بیپی خطرناک حد تک بڑھ چکا تھا ۔۔
ابھی تو وہ پرسکون ہیں لیکن آگے اب آپ انکا خیال رکھیں ۔۔ انہیں مزید کسی بھی پریشانی اور صدمے سے بچائیں ،، ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔۔ ڈاکٹر اپنے پروفیشنل انداز میں کہتا جا چکا تھا اور پیچھے گجر دیوار کے ساتھ لگتا ڈاکٹر کے جملے کی زد میں تھا ۔۔
آزردگی سے اس نے شیشے کے اس پار اس کے ہے سدھ وجود کو دیکھا ۔۔
کیا وہ سچ میں اس لڑکی سے محبت کرتا تھا ،، گجر تو بس اسے وقتی کشش اور وقت گزاری سمجھ رہا تھا لیکن اب اس کی بگڑتی حالت اپنے سامنے دیکھ کر وہ بونچھکا رہ گیا تھا ۔۔
کیا سچ میں ایک عورت اتنی طاقت رکھتی ہے کے ایک مرد کو اپنے پیروں میں گرنے پر مجبور کر دے ۔۔
عشق نے ایسا نكمہ کیا غالب ۔۔۔۔
ورنہ آدمی ہم بھی بڑے کام کے تھے ۔۔
اسکا دل بند ہونے کو تھا ” اسکا دماغ اس شاطر عورت کو سوچ رہا تھا جو کیسے ان تین دوستوں کے ساتھ کھیل گئی ۔
وہ جو خود کو سب سے زیادہ تیز طرار سمجھتے تھے” ایک چھٹانک بھر کی لڑکی انکی آنکھوں میں دھول جھونک گئی تھی ۔
جانے کتنے پیسے وہ عمر مومن سے نکلوا چکی تھی ،، اسکا مکان اپنے نام کروا چکی تھی ،، آرون جٹ سے مختلف تحائف اور بہت سی دوسری چیزیں ۔
اس نے اشتعال سے مٹھیاں بینچی ” جب وہ ایک لڑکی ہو کر پیچھے نہیں ہٹی تو اب باری انکی تھی ،، وہ بھی اسے ایسے ترپا
ترپا کر مارنا چاہتا تھا جیسے اس نے انہیں ترپایا تھا ۔۔
انکی بار گڑیا بچنے والی نہیں تھی ۔
عمر مومن چیختا چلاتا اسکی بے وفای پر آنسو بہاتا سو چکا تھا ۔
ایک نئی صبح انکی زندگیوں میں آنے والی تھی ان تینوں کے لیے روشنی اور گڑیا کے لیے قیامت خیز ۔۔۔۔۔۔
آرون جٹ سب سے ملتا انہیں ارجنٹ کام کا کہتا نکل چکا تھا ۔۔
ایک آتش فشاں تھا جو اندر اٹھتے خون میں ابال پیدا کر رہا تھا ۔
اسکا دل چاہ رہا تھا وہ لڑکی سامنے آئے اور وہ اس کے چیتھڑے ارا کر رکھ دے ۔۔
ایسا فریب ” ایسا ظلم ” یہ ظلم ہی تو تھا لوگ مردو کو فرعون اور فریب کار کہتے ہیں اور بعض عورتیں ،، بھی تو ایسی ہیں ۔
۔اسکا دل چاہ رہا تھا دنیا کو چیخ چیخ کر بتائے کہ مردوں پر بھی ظلم کیا جاتا ہے ۔۔ محض عورت ہی دکھیاری نہیں ہوتی ،، صرف عورت ذات ہی ظلم کا شکار نہیں ہوتی ۔۔
یہ معاشرہ اور اس میں پائے جانے والے ظالم اور جابر لوگ ہوتے ہیں جو مرد اور عورت کو ظالم بناتے ہیں ،، ایک مچھلی پورے تالاب کو گندہ کرتی ہے بلکل ویسے ہی ایک مرد یان عورت کے غلط قدم سے سب کو غلط ٹھرایا جاتا ہے ۔۔ اور اب وہی ہو رہا تھا ۔۔
آرون جٹ کے دماغ میں عورت کا خاکہ بری طرح مسخ ہو چکا تھا ۔۔وہ جو کل تک موم تھا آج پھر سے پتھر کا ہو چکا تھا ۔۔
گڑیا کے گھر والے عمر مومن کے گھر والوں کو انگوٹھی لوٹا چکے تھے ،، اس کے بابا نے اسے یقین دلایا تھا کہ وہ اس کے ساتھ ہیں ۔۔
اسکی زندگی ایک بار پھر سے پرسکون ہو چکی تھی ــــــــــــــــ.
اسے لگ رہا تھا اب سب کچھ بلکل تھیک ہے لیکن اچانک اسکی زندگی میں ایک دن گہرے طوفان کی مانند آیا اور سب کچھ تباہ کر گیا ۔۔
وہ آفس میں پرسکون بیٹھی تھی کہ اس کے گھر سے کال آئی اسے عجلت میں گھر بلایا گیا ۔
وہ شورٹ لیو لیتی جلدی سے گھر پہنچی ،، گھر کے باہر لوگوں کا مجمع موجود تھا
۔
اسکا دل گھبرانے لگا ” بے چینی سے سب کو پیچھے دھکیلتی وہ آگے کی جانب اپنے لڑکھڑاتے قدم بڑھا گئی ۔
دل سست پڑنے لگا اور پیر بھاری ہونے لگے ۔۔ قدم اٹھانا محال ہو گیا جب اس کی نگاہ صحن میں رکھے تحت پر پڑی جہاں اس کے والد صاحب کے اوپر سفید کپڑا دیا گیا تھا ۔۔اس کے قدم لڑکھڑاھٹ کا شکار ہوے اور وہ چکرا کر گرتی اس سے پہلے ایک مضبوط حصار نے اسے کھینچتے اپنے ساتھ لگایا ۔
چاند” اس کے لب ہولے سے پھرپھرائے اور وہ اپنے ہوش گنوا بیٹھی ۔۔
جب اسے ہوش آیا تو اس کی نگاہ سارا بیگم کی جانب اٹھی جو اسے دیکھتے ہی سینے میں بینچ گئی ۔۔
میری گڑیا تم یتیم ہو گئی ” تمہارا باپ ہمیں اکیلا چھوڑ گیا ۔۔
انکی سسکیاں اور آہیں فضا میں گونجتی ماحول کو اور بھی آزردہ کر رہی تھی ۔۔
اسکا دل بند ہونے لگا وہ انہیں پیچھے دھکیلتی اپنے بابا کے قریب ہوی بابا اٹھیں ۔۔۔۔
آپ ایسا نہیں کر سکتے میرے ساتھ اٹھیں بابا ۔۔ اس کا چہرہ فق پڑنے لگا ،، سارا وجود زلزلوں کی ضد میں آ چکا تھا ۔۔۔
وہ لرزنے لگی ” آپ نے کہا تھا آپ میرے ساتھ کھڑے رہیں گے ہمیشہ ،،آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جا سکتے ۔۔
جیسے ہی آدمی قریب آئے میت کو اٹھانے کے لیے چاند نے تیزی سے اسکی جانب قدم بڑھاتے اسے قابو کیا جو چیختی چلاتی ان کا تحت چھوڑ نہیں رہی تھی ۔۔
نہیں چاند نہیں ” بابا کو نہ لے کر جائیں ۔۔ ہم کیسے رہیں گے بابا ۔۔۔
اسکی چیخیں صدائیں بلند ترین ہوتی گئیں ،، اردگرد موجود لوگ اس کے غم میں شریک ہوتے انہیں سنبھالنے لگے ۔۔
ایک بار پھر سے وہ تیورا کر نیچے گر چکی تھی ۔۔
سارا بیگم کیا کیا برداشت کرتی ،،، شوہر کے چلے جانے کا دکھ یان بیٹی کا بے سدھ پڑا وجود ۔۔
وہ بھی ہوش کھونے لگی ” تو اسکی چچی نے انہیں فوراً تھامتے بیڈ پر لٹایا۔۔۔۔
رات کے جانے کونسے پہر اسکی آنکھ کھلی ” آنکھوں سے بے اختیار گرم سیال بہنے لگا ۔۔
بابا لبوں سے سسکی نکلی” ۔۔
اس نے اٹھتے وضو کیا اور نوافل ادا کیے ۔۔جانے کتنے ہی وقت وہ جائے نماز پر بیٹھی روتی رہی ” سرخ سوجی آنکھیں ،اور سرخ چہرہ ۔
فجر کی نماز ادا کرتے ہی وہ چاند کے ساتھ قبرستان گئی ۔
باپ کی قبر سے لپٹتی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔
بابا میرے بابا لوٹ آیں ،،
بابا آپ ٹھیک کہتے تھے ۔۔میں آپ سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔
بابا آپ میری محبت ہیں ۔۔
میں آپ کے بغیر مر جاؤ گی ۔۔
میرے بابا ،، پیارے بابا لوٹ آؤں نہ
مجھے آپ یاد آ رہے ہیں ۔۔
قبر پر سر رکھتی جیسے وہ ان کے سینے سے لگتی تھی وہ دونوں ہاتھ پھیلا گئی ۔۔
چاند قریب بیٹھا دعا مانگتا رہا وہ کیسے اسے خاموش کرواتا ۔۔آج تک وہ لفظ ہی نہیں بنے جو والدین کی جدائی کا مداوا کر سکیں ۔۔
وہ الفاظ ہی نہیں جن سے دل پرسکون ہو سکے ـــــــــــــ
دن گزرتے گئے اور گڑیا کی صحت گرنے لگی ” آفس سے لگاتار مہینہ ہو گیا وہ چھٹیاں کر رہی تھی ۔
گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا ” سب چیزوں سے وہ کنارہ کشی کر چکی تھی ۔۔
اللہ سے رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگتی رہتی ” سارا دن جائے نماز پر بیٹھی رہتی ” حنین اس سے ملنے آتی رہتی تھی ۔ اسے بارہا آفس آنے کا کہتی لیکن وہ انکار کر دیتی ۔۔
حنین کی دوستی دیکھ کر اسے مزید پچھتاوا ہوتا کہ وہ اس سب میں حنین کو بھی گھسیٹ چکی تھی اور وہ بے چاری کچھ جانتی تک نہ تھی۔
وہ تینوں اس وقت کمرے میں بیٹھے تھے ،، ماحول میں عجیب سا سکوت طاری تھا ،، ۔۔۔۔ جو حقائق انہیں ایک دوسرے سے جاننے کو ملے تھے وہ ان پر یقین نہیں کر پا رہے تھے ۔
انکا دماغ مفلوج ہونے لگا تھا اس عورت کی مکاری اور چال بازی پر ۔۔
جب سامنے بیٹھے تو ایک دوسرے سے سارے گلے شکوے کیے اور انہی کے بیچ انہیں یہ جاننے کو ملا کے وہ بیک وقت تینوں سے رابطہ میں تھی ،، ایک کو کہتی دوسرا زبردستی کر رہا ہے وہ دوسرے کے ساتھ رہنا چاہتی اور دوسرے کو اس کے خلاف کرتی ۔
جانے ان سے کتنا مال لوٹ چکی تھی۔
میں اسے چھوڑوں گا نہیں ،، اس کے گھر جا کر اسے زندہ درگور کروں گا ۔۔۔ عمر مومن گہرے تنفر اور اشتعال میں کہتے مٹھیاں بنچتا چیخ اٹھا ۔۔
!!…کول ڈاؤن
ہمیں احتیاط سے کام کرنا ہوگا ،، وہ لڑکی ہمارے ناک کے نیچے
سے یہ گہری چال چلتی رہی اور ہمیں معلوم نہ ہو سکا ۔۔
ٹھیک اسی طرح ہمیں بھی سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا ہوگا ۔۔
جذبات سے نہیں عقل و شعور سے فیصلہ کرنا ہوگا ” آرون سنجیدگی سے گویا ہوا ۔
وہ جو اسکی بے وفائی پر آگ کی بھٹی میں خود کو جلتا محسوس کر رہا تھا اس کے کہنے پر خاموش ہوا ۔
آرون بلکل ٹھیک کہہ رہا ہے یہ وقت جذباتیت کا نہیں ۔۔
ہمیں اپنا ہر قدم بری ہوشیاری سے اٹھانا ہے جیسے اس لڑکی نے ہمیں ذلیل کیا ہے اسی طرح اسے بھی وہی تکلیف دیں گے ۔
اسے ترپا ترپا کے ماریں گے آرون جٹ کی آواز خون منجمند کر دینے والی سرد تھی ۔۔۔
