Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode (Watching)
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
“رائمہ ریلیکس۔۔۔ یہ لو پانی پیو اور ایک گہری سانس لے کے خود کو ریلیکس کرو ” سنیا نے اسکا ہاتھ تھامتے اسے پھولوں سے سجے بیڈ پہ بٹھایا اور اسکے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھمایا ۔جو کہ رائمہ نے دو گھونٹ بھر کے اسے وآپس تھما دیا ۔پہلے ہی اسکا رو رو کے گلا خشک ہوا پڑا تھا ۔آج اسکی شادی تھی اور رخصتی کے وقت وہ خود اتنا روئی کہ باقی سب کو بھی رلا دیا جبلن میں سنیا بھی شامل تھی جو اپنی رخصتی پہ ایک زرا نہیں تھی روئی آج وہ بھی رو دی ۔۔!!
” اب میری بات دھیان سے سنو ۔اب زرا بھی آنسو نا آئیں تمہاری آنکھوں میں ۔اگر فائیق بھائی ڈانٹیں یا تنگ کریں تم مجھے بتانا میں بابا سے انکی ایسی کلاس لگواوں گی کہ یاد رکھیں گے ۔اور ڈرنا بھی مت ، ٹھیک ہے نا ” وہ اسکو ریلیکس کرنے کے لئیے شریر سے انداز میں بول رہی تھی اور یہ پہلی مسکراہٹ تھی جو اتنے ٹائم میں رائمہ کے لبوں پہ آئی تھی ۔۔!!
” اوکے اب آپ اپنے کمرے کا جئزہ لیں صبح ملاقات ہو گی بھابھی جان ” وہ شرارت سے کہتی اسکا گال تھپتھپاتی باہر چلی گئی ۔اسکے جانے کے بعد رائمہ نے دل پہ یاتھ رکھ کے گویا دھڑکنوں کو اعتدال پہ لانا چاہا ۔پھر سیدھا ہو کے اسنے کمرے کا جائزہ لیا ۔سارا کمرہ وائٹ اور بلو کمبینیشن کا تھا ۔ دیواروں پہ مختلف جیٹس کے پورٹریٹ لگے ہوئے تھے ۔جو اس کمرے کی خوبصورتی خو دوبولا کر رہے تھے ۔۔اسکی نظریں جیسے ہی سامنے دیوار پہ پڑیں اسنے آنکھیں سکیڑیں ۔پھر اپنا لہنگا سنمبھالتی اٹھی اقر اور اس انلارجڈ سائز فوٹو کے بالکل سامنے جا کے کھڑی ہو گئی ۔۔!!
وہ اب غور سے اس تصویر کو دیکھ رہی تھی جب میں فائیق گرین کلر کا کور آل پہنے ایک ہاتھ سے ڈیزیگنیٹڈ ہیلمٹ تھامے دوسرا ہاتھ کمر پہ ٹکائے ایک شان سے کھڑا تھا اور اسکے ساتھ ہی جے ایف سیونٹین تھنڈر اپنے پورے کروفر سے اپنی پوری شان و شوکت سے براجمان تھا ۔۔!!
“پیاری لگ رہی ہے نا پک؟ پر اب یہاں پہ ہم دونوں کی ایسی ہی کمبائن پِک لگے گی ” گھمبیر آواز میں یہ مد ھم سرگوشی جو اسے بالکل اپنے پیچھے سے محسوس ہوئی ۔رائمہ کو اپنی جگہ سے اچھلنے پر مجبور کر دیا ۔اسنے پیچھے مڑ کے آہستہ سے نظریں اٹھا کے دیکھا تو وہ اسے ہی دیکھنے میں مشغول تھا ۔۔!!
فائیق جو ابھی روم میں آیا تھا اسکی نظریں سیدھا رائمہ کی جانب ہی اٹھیں تھیں جو کہ تصویر کو اس قدر انہماک سے دیکھ رہی تھی اسکی موجودگی بھی نا نوٹ کر سکی ۔وہ آہستہ آہستی قدم اٹھاتا بالکل اسکے پیچھے جا کے کھڑا ہو گیا اقر اسکے کان میں سرگوشی کی ۔وہ ایک دم سے مڑی اور فائیق کو مبہوت کر گئی تھی ۔وہ کتنی پئاری لگ رہی تھی ۔ریڈ بلڈ کلر کے لہنگے میں ملبوس ۔ فل برائیڈل میک اپ کئیے ۔نوز رنگ اسے کتنی جچ رہی تھی ۔کہنیوں تک اسکے ہاتھوں پہ مہندی کا کتنا تیز رنگ آیا تھا ۔کلائیوں میں سرخ اور گولڈن رنگ کی چوڑیاں ۔اور ہاتھوں کی کچھ انگلیوں میں انگھوٹھیاں پہنے وہ قاتل حسینہ ہی تو لگ رہی تھی ۔جبکہ وہ خود بھی بہت ڈیشنگ لگ رہا تھا ۔فائیق نے بھاری پلکوں تلے اسکی سنیری آنکھوں کو دیکھا ۔اسکے اس طرح دیکھنے پہ وہ ایک دم سے نظریں جھکا گئی ۔۔!!
وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی اسے کیا کہے ۔اس رشتے کو ایکسیپٹ کرنا اسکے لئیے تھوڑا مشکل ثابت ہونے والا تھا ۔۔!!
“اسلام علیکم سر ” فائیق کا سکتہ ٹوٹا تھا اور دل کیا اپنا سر پیٹ لے ۔مطلب کہ یہ لڑکی اسے مجبور کرتی تھی ڈانٹنے پہ ۔۔!!
“وعلیکم اسلام ، پر مسسز میں آپکا سر نہیں ہوں شوہر ہوں اس لئیے اچھا ہو گا کہ آپ مجھے میرے نام سے ہی بلائیں ” ماتھے پہ بل ڈالے وہ کہہ رہا تھا ۔رائمہ نے گھبراہٹ سے انگلیاں مروڑتے اسے دیکھا وہ کم از کم آج کے دن ڈانٹ نہیں کھانا چاہتی تھی ۔۔!!
“اوکے سر۔۔۔۔” جتنی جلدی اور جتنی تابعداری سے بولی تھی اتنی ہی جلدی اسے زبان دانتوں تلے دبانی پڑ گئی کیونکہ فائیق نے گھور کے جو دیکھا تھا ۔۔!!
“آ۔۔آئی مین ٹھیک ہے میں آپخو سر نہیں بولوں گی اب ” وہ اسکے چمکتے شوز دیکھ رہی تھی ۔فائیق نے ایک نظر اسکے نظروں کے ارتکاز کو دیکھا پھر ایک نظر اسے دیکھتے اسکا مہندی سے سجے ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے۔چوڑیوں کے شور نے کمرے کے ماحول کو اور فسوں خیز کیا تھا ۔رائمہ نے ایک دم دھڑکتے دل کے ساتھ اسکے ہاتھوں میں مقید اپنے ہاتھوں کو دیکھا ۔اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ اپنا ہاتھ چھڑائے یا نہیں ۔۔!!
“یہ جو تمہاری سنہری آنکھیں ہیں نا ۔۔۔۔” وہ اسکی آنکھوں کی اپنے ہاتھ کے پوروں سے چھو رہا تھا ۔” انہوں نے فائیق ضرار کے دل کی دنیا بدل دی ۔انہی آنکھوں پہ میں نے اپنا دل ہار دیا ۔اور تمہیں ڈانٹنا تو میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا ۔پر میں اپنے دل کی حالت سے جنجھلا جاتا تھا ۔تو وہ ساری فرسٹریشن سارا غصہ تم پہ نکلتا ۔اینڈ آئی ایم رئیلی سوری فار دیٹ ” فائیق ضرار اور معافی مانگے ہے نا عجیب کمبینیشن ۔۔۔!!
“او اوکے اوکے سر ، پلیز آپ سوری مت کریں ” اسے لگ رہا تھا اسکا دل بند ہو جائے گا ۔گھبراہٹ اسکے لہجے سے عیاں تھی اور اسی گھبراہٹ کے زیر اثر وہ پھر سے اسے سر کہہ گئی ۔فائیق اسے ٹوکنے کی بجائے مخض بالوں میں ہاتھ چلاتا گہری سانس بھر کے رہ گیا ۔۔!!
“ادھر بیٹھو ایک منٹ ” وہ اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے بیڈ پی بیٹھاتا خود بھی اسکے سامنے بیٹھ گیا اور ڈریسنگ ٹیبل کی دراز سے کوئی چیز نکالی ۔رائمہ نے دیکھا تو اسکے ہاتھ میں ایف -16 کا ایک چھوٹا سا ماڈل تھا پر وہ بالکل اصلی لگ رہا تھا ۔اسنے اسکی کاک پٹ کو کھولا تو اندر سے ایک خوبصورت سے انگوٹھی برآمد ہوئی ۔رائمہ کا دل انگوٹھی پہ نہیں بلکہ اس ماڈل پہ آ گیا تھا ۔۔!!
” میں نے سوچا ائیر فورس والے ہیں تھوڑا ئیر فورس کے طریقے سے رونمائی کریں ” وہ ماڈل ٹیبل پہ رکھتا وہ ہلکا سا ہنسا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے انگوٹھی اس میں پہنائی ۔۔!!
” I just want to make u happy .Beacause you are the reason that I’m so happy .I’m in lovw with your eyes.I’m in love with your smile.I’m in love with your voice .and I am in love with u prettiest ….
I want to hold your hand , laugh at your jokes , walk by your side .I want to spend the rest of my life loving u janaaa…
Don’t ever forget how special u are to me ,today and everyday of the year .I love u more than words can express.”
وہ بے خود سا بول رہا تھا رائمہ سن بھی رہی تھی لیکن اسکا دھیان فائیق کی باتوں سے زیادہ اس ماڈل کی جانب تھا ۔اسکے خاموش ہونے پہ رائمہ نےایک نظر اسے دیکھا ۔۔!!
“سر کیا میں یہ ماڈل لے لوں ۔یہ بہت پیارا ہے” اففف رائمہ افففف تم جیسا بے وقوف کون ہو گا .وہ اپنی بے تابیاں بتا رہا تھا اپنے پیار کا اظہار کر رہا تھا اور وہ محترمہ کو ایف-16 کے ماڈل کی پڑھ گئی ۔فائیق نے بے حد بے چارگی سے اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
“مسسز تم واقعی سائیکو ہو ۔یار کم از کم آج کے دن تو باقی سب بھول کے مجھے سن لو ” اسکے ہاتھ میں ماڈل تھماتا وہ تاسف سے بول رہا تھا ۔۔!!
“کبھئ بھی نہیں ، میں باقی سب بھوک سکتی ہوں ائیر فورس کو نہیں ” سارا ڈر خوف کہیں غائب ہو گیا تھا اس لمحے وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کے غصے سے بولی ۔۔!!
فائیق نے اسے کندھوں سے پکڑ کے زرا سا قریب کیا ۔۔!!
“اوکے فائن لیکن ائیر فورس کی یادوں میں میں بھی تو کہیں نا کہیں رہا ہوں نا ۔مجھے بھی یاد رکھ لو تھڑا سا پلیز ” وہ سرگوشی کے سے انداز میں بول رہا تھا جبکہ وہ آنکھیں جھکا گئی ۔۔!!
_________
چھ ماہ بعد
“بھابھی ڈنر میں کیا بنا ہے ؟ ” اسامہ نے بے صبری سے لاونج میں داخل ہوتے کہا ۔طلحہ بھی اسکے ساتھ ہی تھا ۔جبکہ جاسم کافی کا مگ ہاتھ میں تھامے صوفے پہ مگن سا بیٹھا تھا ۔۔سنیا نے ٹرانسفر کے لئیے اپلائی کیا تھا جو کہ اسکا ہو گیا تھا اب وہ بھی مسرور بیس کراچی میں ہی پوسٹڈ تھی اس ٹائم وہ ابھی کچھ دیر پہلے آ کے بیٹھی ہی تھی جب یہ شیطان کے چیلے آ گئے ۔۔وہ ہنس دی ۔انہیہ کی وجہ سے تو وہ کچھ ٹائم ہنس لیتی تھی ۔۔!!
“ابھی تو کچھ نہیں بنا ۔میں ابھی ابھی آئی ہوں ۔جاسم کو بولا بھی تھا آج کا ڈنر آپ بنائیں گے لیکن یہ سنتے ہی کہاں ہیں ۔” اسنے جاسم پہ طنز کیا ۔جاسم نے مسکراہٹ دبائے اسے دیکھا جو سامنے صوفے پہ ہی بیٹھی ہوئی تھی ۔۔!!
” تو اب بنا لو یار تمہارے دیور آئیں ہیں کوئی خاطر تواضع کرو ۔اور ویسے بھی میں اتنا تھکا ہوتا ہوں آ کے مجھ سے کچھ بھی نہیں ہوتا ” وہ صاف اپنا دامن بچا گیا ۔سنیا نے کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورا ۔۔!!
“ہاں ہاں آپ تو تھک جاتے ہیں ہم تو زرا نہیں تھکتے ہم تو بس بیٹھ بیٹھ کے آ جاتے ہیں ” طلحہ اور اسامہ مزے سے اپنے سر کم بھائی کی تھوڑی تھوڑی بے عزتی ہوتے دیکھ رہے تھے ہاہاہا۔۔!!
“ہاں تو انجینئرز کرتے ہی کیا ہیں ۔سارا دن بیٹھ بیٹھ کے ہی آتے ہیں اصل کام تو ہمارا ہوتا ہے ۔پلین ہم نے اڑانا ہوتا ہے ” وہ اب اسے جان بوجھ کے تنگ کر رہا تھا ۔۔!!
“ہاں بالکل ائیر فورس تو آپکے دم سے ہی چل رہی ہے ۔”اسنے کڑھتے ہوئے طنز کیا ۔۔!!
” میں بنا رہی ہوں کھانا صرف اسامہ ،طلحہ اور اپنے لئیے آپ خود بنائیں اور خود کھائیں ” کچن کی جانب جاتی وہ غصے سے بولی ۔اپنے پیچھے اسے ان تینوں کا قہقہہ سنائی دیا ۔جاسم کون سا اسے سیریس لیتا تھا
اور وہ خود بھی تو بس دھمکیاں دیتی ہی تھی کھانا پھر بھی سب سے پہلے جاسم کو ہی ملنا تھا ۔۔۔!!
_______
جیٹ لینڈ ہوا کاک پٹ کھلا اسنے ہیلمٹ اتارا اور جیٹ کے ساتھ لگی لوہے کی سیڑھی کو تھامتے ہوئے اتر گئی ابھی وہ مڑی ہی تھی جب اسے وہ اسی جگہ پہ کھڑا دکھائی دیا جہاں پچھلے پانچ ماہ سے آ کے کھڑا ہوتا تھا ۔ائیر فورس کے یونیفارم میں وہ کتنا ڈیشنگ لگ رہا تھا ۔وہ مسکراتی ہوئی اسکی جانب بڑھی ۔۔!!
“کیسی تھی فلائنگ ؟ کوئی پرابلم تو نہیں ہوئی نا ؟” وہ جیسے ہی پاس پہنچی اس نے بے صبری سے اس سے پوچھا ۔۔۔!!
“ہاہاہا بہت اچھے تھے ویسے میں نے کبھی سوچا نہیں تھا اسکواڈرن لیڈر فائیق ضرار اتنی بے صبری سے میرا انتظار کیا کریں گے ” اسنے ہنستے ہوئے کہا تو وہ بھی ہنس دیا ۔پچھلے چھ ماہ میں اس نے رائمہ کو اتنی ریسپیکٹ اتنی محبت دی تھی کہ اسکے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا ۔وہ واقعی اپنے رب کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرتی تھی کہ اسنے اتنے پیارے ہم سفر سے اسے نوازا ۔۔!!
“اور میں نے بھی نے تو جب پہلی دفعہ تمہیں دیخھا تھا تب ہی سوچ لیا تھا کہ بھئی یہ پیاری سی سنہری آنکھوں والی لڑکی ہی میری مسسز بنے گی ۔تو دیخھ لو آج تمہارے رونے دھونے کے باوجود بھی اپنا بنایا ہے یا نہیں ؟” انکے قدم اب ریزیڈنشیل ایریا کی جانب تھے ۔وہ یہ سارا فاصلہ روزانہ پیدل ہی طہ کرتے تھے ۔۔!!
رائمہ نے اپنا بازو اسکے بازو کے گرد لپیٹ کے اپنا سر اسکے کندھے سے ٹکایا ۔۔!!
“Yes,I know that I am blessed with the best …
آپ میری زندگی کا سب سے خوبصورت تخفہ ہیں ۔اپنی زندگی کا ایک پل بھی آپکے بغیر نہیں سوچ سکتی ۔اتنے اہم ہیں آپ میرے لئیے” وہ آہستہ آہستہ بول رہی تھی فائیق نے اسکے اسکارف سے لپٹے سر پہ اپنے لب رکھے پھر آگے بڑھ کر گھر کا دروازہ کھولا ۔۔
وہ دونوں برابر قدم اٹھاتے گھر میں داخل ہوئے ۔رائمہ نے اسکارف اتار کے لاونج میں موجود صوفے پہ رکھا اور اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے ساتھ بٹھایا ۔فائیق جو کہ روم میں جانے لگا تھا اسنے صوفے پہ بیٹھتے حیرانی سے اسے دیکھا ۔۔!!
“کیا ہوا ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا ؟” اسنے فکر مندی سے اسکا ماتھا چھوا ۔رائمہ نے آنکھیں بند کر کے اثبات میں سر ہلایا ۔ !!
“مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے ” اسکے بولنے پہ فائیق نے ابرو اچکایا گویا پوچھا کیا پوچھنا ہے ۔۔!!
“جب بھی میں فلائنگ پہ جاتی ہوں آپ اتنے ٹینسڈ کیوں ہوتے ہیں ؟ جب میں جیٹ لینڈ کرتی ہوں آپکے چہرے پہ آنے والا اطمینان دور سے بھی دیکھ سکتی ہوں ” وہ اس سے وہ پوچھ رہی تھی جو وہ کبھی بھی نہیں بتانا چاہتا تھا ۔اسنے ایک گہری سانس لی پھر تجوڑا سا اسکی جانب جھکا ۔۔!!
“تمہیں پتا ہے رائمہ ، جب میری فلائنگ ہوتی ہے تو میں بہت ایکسائیٹڈ ہوتا ہوں ۔جیسے پہلئ بار فلائنگ کرنے لگا ہوں ۔کوئی ڈر نہیں ہوتا اگر یہ مشین کبھی دھوکا دے گئی تو کیا ہو گا ۔اس ملک کے لئیے ہی جان جائے گی نا ۔شہید ہی ہوں گا ۔لیکن جب تمہاری فلائنگ ہوتی ہے نا تو میری جان خلق میں اٹک جاتی ہے ۔یار میں ایسا سوچنا نہیں چاہتا۔پر یہ سوچیں میرا پیچھا نہیں چھوڑتیں ۔پر میں تمہارے بغیر رہ بھی تو نہیں سکتا ۔” اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ کیا بول رہا ہے الفاظ بے ربط سے ادا ہو رہے تھے وہ اپنی کیفیت پہ خود بھی جنجھلا رہا تھا ۔۔!!
رائمہ نے دونوں ہاتھوں سے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کے اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔۔!!
“فائیق آپ تو اتنے اچھے آفیسر اتنے سینئر آفیسر ہو کے ایسا سوچ بھی کیسے سکتے ہیں؟ آپ یہی سوچیں اگر میں ائیر فورس میں نا آتی تو آپکو کیسے ملتی پھرآپ مجھ سے شادی کیسے کرتے ” شرارت سے اسنے آنکھیں گھمائی ۔لیکن وہ سنجیدہ رہا۔۔!!
“سچ کہہ رہی ہوں فائیق ! اگر آپ مجھے میرے پیشن سے روکیں گے تو میں ویسے بھی مر جاوں گی ۔آپ جانتے ہیں ائیر فورس میں میری جان ہے تو کیا آپ چاہیں گے کہ میرے پیشن سے دوری مجھے مار دے؟” وہ اب سنجیدگی سے آنکھوں میں سوال لئیے اسے پوچھ رہی تھی ۔۔!!
فائیق نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور غصے سے اسے دیکھا ۔۔!!
“یہ جو تم مرنے مارنے کی باتیں کرتی ہو نا یقین مانو کسی دن ضائع ہق جاو گی میرے ہاتھوں ” اسکے غصے پہ وہ زور سے ہنس دی ۔۔!!
“ڈانٹ لیں اب مجھے آپ سے اتنا سا بھی ڈر نہیں لگتا ” اسنے ہنستے ہوئے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے اور انگشت شہادت کو ملا کے چٹکی بنائی ۔۔!!
فائیق خفگی سے نگاہ پھیر گیا ۔۔!!
“اچھا اوکے نا سوری آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کروں گی پر آپ بھی پرامس کریں کہ آپ آئندہ ایسا کچھ نہیں سوچیں گے ” اسنے اسکے سامنے ہاتھ پھیلایا ۔فائیق نے ایک نظر اسکی شفاف ہتھیلی کو دیکھا ۔پھر دونوں ہاتھ سینے پہ باندھ کے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی ۔۔!!
“پرامس تو نہیں کر رہا لیکن کوشش کروں گا ” وہ سامنے دیکھتا سنجیدگی سے بولا ۔رائمہ نے منہ بنا کے اسے دیکھا پھر غصے سے دونوں بازو اسکی گردن میں ڈال کے اسے اپنی جانب کھینچا ۔نا چاہتے ہوئے بھی فائیق ہنس دیا ۔۔۔!!
“کر رہے ہیں پرامس یا نہیں ؟”
“نہیں نہیں نہیں ” وہ مسکراہٹ دبائے قطعی انداز میں بولا ۔رائمہ نے روہانسی ہو کے اسے دیکھا پھر غصے سے صوفے سے اٹھ کے کمرے کی جانب قدم بڑھائے ۔اور ااتھ ساتھ غصے کا اظہار بھی برابر بولتے ہوئے کر رہی تھی ۔۔!
“فائیق آپ آپ بہت تنگ کرتے ہیں مجھے ، کوئی بات نہیں مانتے میری آپ نے اس لئیے شادی کی تھی کہ مجھے ایسے تنگ کریں ” فائیق بھی اٹھ کے اس کے پیچھے ہو لیا ۔وہ اب اپنی واچ اتار کے ڈریسنگ پہ رکھ رہی تھی ۔اپنے پیچھے موجود فائیق کو بالکل نظر انداز کیا گیا ۔۔!!
“یار ظالم لڑکی کسی اور کی بھی بات سن لیا کرو ۔اچھا نا پرامس آئندہ ایسا کچھ نہیں سوچوں گا ۔کیونکہ میں جانتا ہوں ہمارا اور آسمان کا ساتھ ہمیشہ کا ہے ۔اور ایک پائلٹ کو اگر زمین تک محدود کر دیا جائے تو وہ واقعی زندہ نہیں رہ سکتا ۔اسی لئیے تو کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔۔
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط زوق پرواز ہے زندگی
فریبِ نظر ہے سکون و ثبات
تڑپتا ہے ہر زرہ ِکائنات
ٹھہرتا نہیں کاروانِ وجود
کہ ہر لخظہ ہے تازہ شانِ وجود
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط زوقِ پرواز ہے زندگی
بہت اس نے دیکھے ہیں پست و بلند
سفر اس کو منزل سے بڑھ کر پسند
سفر زندگی کے لئیے برگ و ساز
سفر ہے حقیقت ،ہزار ہے خجاز
وہ اسے بانہوں کے حصار میں لئیے کہہ رہا تھا ۔اور وہ اپنا سر اسکے سینے پہ ٹکائے اسے سن رہی تھی ۔وہ دونوں بنے ہی ان فضاوں کو تسخیر کرنے ، ان ہواوں سے باتیں کرنے ، ان گھٹاوں کو چیرنے کے لئیے تھے ۔اور بے شک وہ دونوں اس جملے کی گہرائی کو دل میں اتارتے تھے ۔۔۔فقط زوقِ پرواز ہے زندگی ۔۔!!
……..ختم شد
