Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10

“ویری سیڈ بابا آپ یی ریس ہار گئے” نفی میں سر ہلا کے بولا گیا جیسے واقعی بہت افسوس ہو ۔جبکہ لبوں پہ جاندار سی مسکان تھی ۔وہ بھی جانتی تھی اسکے بابا جان بوجھ کے یہ ریس ہارتے ہیں ۔لیکن یار کریڈٹ بھی کوئی چیز ہے ۔۔۔!!
“آپکو کس نے کہا کہ میں ہار گیا ۔میرا پیارا سا بچہ یہ ریس جیت گیا تو سمجھو میں جیت گیا ” انہوں نے پیار سے کہتے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا ۔۔!!
“آآآآآ میرے پیارے سے بابا ” وہ بچوں کی طرح ان سے لپٹ گئی ۔اکیڈمی میں یہی شفیق لمس تو وہ مس کرتی تھی ۔۔!!
“بابا فرض کریں اگر ڈیوٹی کے دوران مجھے کچھ ہو جائے تو آپ کیا کریں گے” ان سے الگ ہو کہ لان میں موجود بینچ پہ بیٹھتے ہوئے بولی ۔عبید صاحب کی مسکراہٹ ایک دم سے سکڑی ۔وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے ۔رائمہ ہی تو انکی زندگی تھی ۔۔!!
“یہ کیسی بات ہے رائمہ؟” لہجہ خفگی لئیے ہوئے تھا ۔وہ بھی اس کے پاس ادھر پڑے بینچ پر ہی بیٹھ گئے ۔رائمہ نے زرا سا رخ ان کی جانب موڑا پھر عجیب سے انداز میں مسکرائی ۔۔۔!!
“بابا آپ تو سب جانتے ہیں ۔میرا خیال ہے مجھے آپکو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ جب ایک جیٹ کریش ہوتا ہے تو کچھ نہیں بچتا ۔کچھ بھی…ملتی ہے تو صرف راکھ ” وہ ان کا ہاتھ ہاتھوں میں تھامے مدھم سے لہجے میں بول رہی تھی ۔عبید صاحب سمجھ نہیں سکے کہ وہ اسے کیا جواب دیں ۔وہ خود بھی آرمی میں تھے اور بہت اچھے سے جانتے تھے یہ سب ۔انکے یونٹ میں اگر کبھی کوئی جوان شہید ہوتا تو بہت دنوں تک وہ سو بھی نہیں پاتے تھے ۔وہ یہ سوچ رہے تھے اس طرح کی باتوں سے جس طرح انہیں تکلیف ہو رہی ہے اس سے کئی گنا زیادہ شہداء کے لواحقین کو ہوتی ہو گی ۔وہ بھی تو اپنی اولادیں اس ملک کے لئیے نچھاور کرتے ہیں اور کبھی بھی انکے حوصلے مانند نہیں پڑے۔۔۔!!
“میں یہ ہی سمجھوں گا کہ میری اولاد اللہ کی امانت اور اس سر زمین کی بیٹی تھی ۔جو اس نے وآپس لے لی ۔ مجھے فخر ہو گا کہ میری بیٹی نے اللہ کی راہ میں اس سر زمین کے لئیے اپنی جان تک نچھاور کر دی۔رائمہ بیٹا شہادت کا رتبہ بہت بلند،بہت عظیم ہے ۔ اس سے زیادہ فخر کی بات اور کیا ہو گی کہ میں ایک شہید کا باپ کہلایا جاوں ” یہ بات وہ کیسے کہہ رہے تھے یہ وہی جانتے تھے ۔چاہے جو مرضی ہو ایک باپ کے جزبات کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔انہوں نے آہستہ سے رائمہ کو اپنے ساتھ لگایا ۔وہ انکے سینے پہ سر رکھے منہ آسمان کی جانب کئیے نم آنکھوں سے مسکرا دی ۔۔۔!!
__________________
“ایڈیٹ ، ہمیشہ تیری وجہ سے میں بھی پھنستا ہوں ۔تم مجھے یہ بتاو اب سر کو کیا جواب دیں گے کہ ہم نے انکی گاڑی کے ساتھ کیا ظلم کیا ہے” دونوں مٹھیوں میں اپنے بال جھکڑتا وہ اس پہ برس رہا تھا جو کہ ایک ہاتھ سینے پہ باندھے دوسرا ہاتھ تھوڑی تلے رکھے بڑے غور سے وائیٹ سوکس (گاڑی)کے بونٹ کو دیکھ رہا تھا ۔طلحہ کی بات پہ اسنے زرا سا رخ موڑ کے اسے دیکھا پھر کانفیڈنس سے بولا۔۔۔!!
“یار سیدھی سی بات ہے ہم پائیلٹ ہیں اب گاڑی اور جہاز کے درمیان ڈفرینس کرنے میں مشکل ہو جاتا ہے تو کیا کریں” وہ کندھے اچکاتا ہوا بولا ۔طلحہ کا دل کیا اپنا سر سامنے بے حال کھڑی گاڑی کے بونٹ پہ دے مارے ۔۔۔!!
” اس دفعہ جاسم سر تیرا ایسا علاج کریں گے کہ تو واقعی جیٹ اور گاڑی میں فرق بھول جائے گا ۔” وہ اسے وارن کر رہا تھا ۔۔۔!!
“تیرا تو جو ہو گا وہ ہو گا مجھے تو اپنی ٹینشن پڑی ہوئی ہے میں تو بے موت مارا جاوں گا ۔تجھے کہتا کون تھا کہ گاڑی سامنے درخت میں دے مار ۔شکر ہے خود بچ گئے ورنہ اس ٹائم تیرے مرنے کی بریانی بانٹی جا رہی ہوتی” طلحہ صاحب فل موڈ میں تھے ۔وہ بے چارا واقعی پریشان تھا ۔کیونکہ امید تھی آج جاسم صاحب حال سے بے حال کرنے میں دیر نہیں لگائیں گے ۔۔!!۔۔
“ہاہایا جسٹ چِل میرے یار ۔سر کو میں سنبھال لوں گا تو بس اتنا بتا دے کہ سر کدھر ہیں” اسنے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا جو کہ طلحہ نے بے دردی سے جھٹک دیا ۔۔!!
” روٹین مشن پہ گئے ہیں سر ،پندرہ بیس منٹ تک لینڈ کریں گے ۔” وہ اسے کھا جانے واکی نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔۔پر یہاں بھی اسامہ صاحب تھے “مہاڈھیٹ” اسکے گھورنے کا اثر لئیے بنا وہ ہاتھ پہ چابی گھماتے گنگنا رہے تھے اور طلحہ کی جان جا رہی تھی ۔۔۔!!
__________
چھ بج کے چالیس منٹ پہ وہ بیسک فلائنگ ٹریننگ ونگ میں تھی ۔کلاس میں تقریباا پچاس کے قریب کیڈٹس تھے تمام ہی کورآل میں ملبوس تھے ۔کچھ دیر کے لیکچر کے بعد تمام کیڈٹس سے ونگ کمانڈر نے باری باری کچھ سوال پوچھے جو کہ سب نے ٹھیک جواب کیا تھا ۔کلاس کے ختم ہوتے ہی اب وہ وہاں پہنچے جہاں پہ انکے مخصوص انسٹرکٹر انہیں روٹین کے مطابق بریف کر رہے تھے ۔رائمہ نے تو اپنے انسٹرکٹر کو دیکھ کے آنکھیں گھمائیں جو کہ اسکے انسٹرکٹر اسکاڈرن لیڈر فائیق ضرار بھی دیکھ چکے تھے مگر اگنور کر گئے ۔انہوں نے کچھ دیر بریف کیا بعد میں وہ ایل ایس ای سیکشن میں تھے جہاں پہ انہوں نے کورآل کے اوپر پیراشوٹ بیگ پہنا اسکے اسٹریپس وغیرہ لگائے اور ڈیزیگنیٹڈ ہیلمٹ پہنا۔باہر نکل کے انہوں نے آئیر کرافٹ لوکیشن (ایک بورڈ کی طرح بنا ہوتا ہے جس پہ اپنے جیٹ کی لوکیشن چیک کرتے ہیں کہ وہ کہاں پارک ہے) سے اپنے جیٹ کی لوکیشن چیک کی اور چل دئیے ۔رائمہ فائیق سے ایک قدم پیچھے تھے ۔ ۔۔!!
“Cadet Raima you are doing very well MA SHA ALLAH “
“امید ہے کہ آپ ائیر فورس میں اپنا ایک نام بنائیں گی ” چلتے ہوئے وہ بولا ۔رائمہ کی گردن زرا فخر سے بلند ہوئی ۔بھئی فخر کرنا بنتا بھی ہے جس نے اتنی محنت کی ہو ۔۔۔!!
“تھینک یو سر ” وہ سنجیدگی سے بولی ۔بلاوجہ ہنسنا سختی سے منع تھا ۔۔!!
(وہ سب تو ٹھیک ہے اگر آپ ہی میرے انسٹرکٹر رہے نام کا تو پتا نہیں پھر میں اپنی قبر ضرور بنوا لوں گی) اسنے دل میں سوچا ۔وہ نہیں جانتی تھی کہ اسکے تاثرات کوئی بہت غور سے پڑھ کر مسکراہٹ دبا گیا ۔۔!!
“محترمہ ایک دفعہ میری زندگی میں آو پھر تمہارے ذہن سے ایسی فضول سوچیں نکال باہر نا پھینکیں تو میرا نام بھی فائیق ضرار نہیں ” جیٹ کی طرف جاتے ہوئے وہ خود سے مخاطب تھا ۔۔!!
کاک پٹ میں بیٹھ کے وہ دونوں اڑان بھرنے کے لئیے تیار تھے ۔ اطراف میں نظر ڈالتے ہیلمٹ کے ماسک کے نیچے رائمہ کے لب آہستہ سے مسکرائے۔اس کاک پٹ میں بیٹھ کے جو فیل آتی ہے نا وہ بہت ہی امیزنگ ہوتی ہے ۔۔۔!!
سترہ اٹھارہ سال کی عمر سے آپ اپنے اون پہ ہوتے ہو ۔مکٹری ٹریننگ کے ساتھ فزیکل ٹریننگ ہوتی ہے ۔پھر آپخو ڈفرنٹ برانچز میں بھیج دیا جاتا ہے۔جیسے کہ پائیلٹس ، ائیر ڈیفینس اور انجینئرز ہر ایک کی الگ الگ برانچ ہوتی ہے ۔۔!!
پی اے ایف میں آ کے آپ پروفیشنلی ڈویلپ ہوتے ہو ۔پی اے ایف اس لئیے بھی مختلف ہے کہ یہاں صرف افسر لڑتا ہے ۔ایک جہاز ایک بندہ ۔اتنی ٹریننگ کے بعد آپکی ایک چھوٹی بالکل چھوٹی سی غلطی آپکو ڈبو سکتی ہے ۔ اس لئیے پائیلٹس کے اسٹینڈرڈز سیٹ بہت ہائی سیٹ کئیے گئے ہیں ۔کیوں کہ آپ کے پاس اتنے ری سورسز نہیں ہیں کہ آپ فضول میں انہیں کنزیوم کرتے پھرو ۔اسی لئیے۔۔۔
“YOU HAVE TO DO MORE WITH LESS “
پائیلٹس اس کرائیٹیریا میں رہ کر ٹرین ہوتے ہیں ۔۔!!
______________________
“ویسے تو پی اے ایف والوں نے بہت زلیل کیا ہے پر اس زلالت کا بھی اپنا ہی مزہ ہے” فرنٹ رولز کرتے اکھڑی سانسوں کے درمیان وہ اپنی ساتھی کیڈٹ سے بولی ۔تبھی انسٹرکٹر کی کڑک دار آواز آئی جو کسی کیڈٹ پہ برس رہے تھے ۔۔!!
“یو ایڈیٹ ، اب یہاں موجود تمام کیڈٹس فورٹی پش اپس ایکسٹرا کریں گے” ان تینوں نے گہری سانس لی ۔سنیا اور عائشہ نے کھا جانے والی نظروں سے رائمہ کو دیکھا جس نے زبان دانتوں تلے دبائی ۔۔!!
“لو اب بڑا مزا آ رہا تھا نا تمہیں اس زلالت “آئی مین اس رگڑے کا اب انجوائے کرو ” سنیا دانت پیستے ہوئے بولی۔۔رات کے نو بج رہے تھے لیکن یہ انسٹرکٹر انکی جان نہیں چھوڑتے تھے بیچاروں نے جا کے پڑھنا بھی ہوتا تھا اور صبح صبح اٹھ کے پھر وہی بھاگ دوڑ ۔۔!!
“تم لوگ مجھے گھور ایسے رہی ہو جیسے میں طول کے آئی ہوں نا انسٹرکٹر کو کہ ہم سے فورٹی پش اپس ایکسٹرا لگوائیں ” مٹی والے ہاتھ سے اسکارف میں سے نکلے بال پیچھے کرتے وہ مسکرائی ۔اس سے پہلے کہ وہ دونوں کچھ کہتیں انسٹرکٹر کی سخت آواز پہ انہیں اپنے جزبات پہ قابو پانا پڑا ۔رائمہ نے دونوں کو دیکھ کے آنکھ دبائی ۔وہ مخض گھور کے رہ گئیں۔۔!!
___________________
“واٹ دا ہیک از دِس؟ اب تم لوگ ہی مجھے بتاو کہ میں کون سی زبان میں تم دونوں کو سمجھاوں تو سمجھ آئے گا ” اورنج کلر کے کور آل میں اسکا چہرہ سجت تاثرات لئیے ہوئے تھا جبکہ سامنے وہ دونوں “شیطان کے چیلے ” دونوں ہاتھ سینے پہ باندھے معصوم سی شکل بنائے سر جھکائے کھڑے تھے ۔۔!!
وہ ابھی ابھی گاڑی وآپس لائے تھے اور جاسم تو گاڑی کا حال دیکھ کے بمشکل غش کھاتے بچا تھا ۔اسے گاڑی کی ٹینشن نہیں تھی اسے ان دو پاگکوں کی ٹینشن تھی ۔اگر انہیں کچھ یو جاتا تو ۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سوچ کے آتے ہی اس نے سختی سے اپبا سر جھٹکا ۔۔!!
“کچھ آئیڈیا بھی ہے تم کوگوں کو کہ ایک پائیلٹ کی لائف کتنی قیمتی ہوتی ہے؟ اتنا پیسہ لگایا ہے ائیر فورس نے اور تم لوگ ہو کہ اپنی جان کی بھی پروا نہیں ۔۔۔سنو آج بھی مشورہ دے رہا ہوں ائیر فورس چھوڑو اور کسی فضول سی جگہ پہ ریڑھی لگاو مر بھی جاو گے نا تو تمہارے گھر والوں کی بھی اتنا فرق نہیں پڑے گا ” وہ حد سے زیادہ تلخ ہو رہا تھا ۔اسامہ نے جھکے چہرے سے ہی نظریں اٹھا کے اسکی جانب دیکھا ۔پھر طلحہ کو کہنی مار کے کچھ اشارہ کیا۔۔۔!!
“وی آر رئیلی سوری سر ۔ہم وعدہ کرتے ہیں آج کے بعد ایسی کوئی غلطی نہیں ہو گی” کانوں کو ہاتھ لگائے معصوم سی شکلیں التجا لئیے ہوئے تھیں ۔جاسم نے ایک نظر انہیں دیکھا پھر باکوں پہ ہاتھ پھیر کےگہری سانس ہوا کے سپرد کی ۔یہی تو اسکی کمزوری تھی کہ وہ ان دونوں پہ غصہ نہیں کر سکتا تھا ۔۔!!
“سر اگر آپ بولتے ہیں تو ہم ابھی جا کے بیس کے باہر ریڑھی لگا لیتے ہیں یقین کریں آپ سے پیسے بھی نہیں لیں گے” اسکا موڈ لائٹ ہوتے دیکھ اسامہ صاحب شوخ ہوئے تھے ۔جاسم نا چاہتے ہوئے بھی ہنس دیا ۔۔!!
“کب عقل آئے گی تم کوگوں کو بد تمیزوں ۔” اس نے ان دونوں کے سر پہ چپت لگائی تو وہ ہنستے ہوئے اس سے لپٹ گئے ۔۔!!
“وی لوّو یو سر ” وہ دونوں ایک ساتھ بولے ۔یہ منظر بہت مکمل سا تھا ۔جو کہ مسرور بیس کی یہ ہوائیں روز ہی دیکھتی تھیں ۔اور لہراتی ہوئی گزر جاتیں ____
__________________
آدھی رات کو پی اے ایف اکیڈمی رسالپور کے فی میل کیڈٹس ہاسٹل کے اس کمرے میں نیم اندھیرے میں وہ کھڑکی کے پاس کھڑی تھی ۔رف سے حلیے میں وہ سینے پہ بازو باندھے جانے کیا سوچنے میں مصروف تھی ۔کبھی راتوں کو اٹھ اٹھ کے وہ اس حسین جگہ کے بارے میں سوچا کرتی تھی ۔وہ ہمیشہ سے پریقین تھی کہ وہ اس حسین جگہ ایک دن ضرور آئے گی ۔اور بالآخر اس نے ایسا کر دکھایا بھی تھا۔اسکی نظریں سامنے گراونڈ کی جانب تھی جہاں پہ انہیں کتنی ہی پنشمنٹس ملی تھیں ۔اتنا ٹائم یہاں کیسے گزرا انہیں کوئی اندازہ نہیں تھا ۔صبح اس کی سولو(solo) فلائنگ تھی ۔اور وہ اس حد تک ایکسائیٹڈ تھی کہ نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔!!
اسنے ایک گہری سانس لے کے چہرے پہ آئی آوارہ بالوں کی لٹوں کو پیچھے کیا کھڑکی کے پردے برابر کر کے وہ دوبارہ اپنے بستر تک آئی اور نیم اندھیرے میں اسے دیکھا کچھ فاصلے پہ اپنے بستر پہ آرام سکون سے سو رہی تھی ۔وہ بھی مسکرا کے لیٹ گئی ۔نیند تو آنا نہیں تھی لیکن کم از کم کوشش کرنے میں کیا خرج تھا ۔۔۔!!
___________________
مسلسل بجتے آلارم کی آواز پہ سنیا آنکھیں مسلتی اٹھی ۔وہ خوابیدہ آنکھوں سے اردگرد دیکھ رہی تھی جب ایک منظر پہ اسکی آنکھوں سے ساری نیند اڑن چھو ہوئی ۔رائمہ سامنے زمین پہ جائے نماز بچائے نماز پڑھنے میں مشغول تھی ۔رائمہ نے آنکھیں سکیڑ کے اسے دیکھا گویا یقین کرنا چاہا کہ وہ رائمہ ہی تھی یا نہیں ۔کیونکہ رائمہ اور خود ہی اٹھ جائے، ناممکن سی بات تھی ۔رائمہ نے دعا مانگ کے جائے نماز وآپس اسکی جگہ پہ رکھا اور دوپٹے کو کھولتی وہ سنیا تک آئی جو آنکھوں میں حیرانی سموئے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔!!
“سنیا تمہیں پتا ہے آج میری فرسٹ سولو فلائیٹ ہے ۔میرا دل کر رہا ہے میں ساری دنیا کو چیخ چیخ کے بتاوں کہ لوگوں آج میں ان ہواوں کو اکیلی تسخیر کرنے جاوں گی ” وہ اسکا ہاتھ تھامے ایک جزب سے بول رہی تھی ۔اسکی ایکسائیٹمنٹ کا اندازہ اسکے چہرے سے ہو رہا تھا ۔۔!!
سنیا نے مسکرا کے اسے خوشی سے گلے لگایا ۔۔!!
“میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ تمہیں ہمیشہ کامیاب کریں ۔تم ہمیشہ ایسے ہی چہکتی رہو ” وہ اسے ساتھ لگائے خوشی سے بول رہی تھی ۔۔!!
“آمین” اسنے دل سے کہا ۔۔!!
“پھر سنیا نے جکدی سے نماز پڑھی اور چینج کر کے وہ دونوں فزیکل ڈرل گراونڈ کی جانب چل دیں ۔ایک گھنٹے کی مشقت کے بعد وہ ہاسٹل گئیں اور یونیفارم پہن کے میس میں گئیں ۔رائمہ کے تو ہر کام میں عجلت تھی ۔بریفنگ وغیرہ لے کے فائنلئ وہ اب جیٹ کے پاس کھڑی تھی ۔آخر کار وہ گھڑیاں آ ہی گئیں تھیں جنکا اس نے گن گن کے انتظار کیا تھا اسکواڈرن لیڈر عمیر بھی اسی کے پاس کھڑے تھے ۔رائمہ نے گہری سانس بھر کے جیٹ فیول کے اروما کو خود میں اتارا ۔پھر کاکپٹ کی جانب قدم بڑھائے ۔سیڑھی پہ چڑھتی وہ کاک پٹ میں بیٹھ چکی تھی ۔اسکواڈرن لیڈر عمیر اسی سیڑھی پہ کھڑے اسے ہدایات دے رہے تھے جو وہ دھیان سے سر اثبات میں ہلاتی سن رہی تھی ۔وہ سیڑھی سے اترے تو اسنے کاک پٹ بند کیا اور انگھوٹھے سے تھمز اپ کا اشارہ کیا ۔اسکا دل بہت زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔اور پھر کچھ ہی دیر میں وہ آسمانوں کو محسوس کر رہی تھی ۔ان بادلوں ان فضاوں سے باتیں کر رہی تھی ۔۔!!
“اب تو موت بھی آ جائے تو خوشی خوشی قبول ہے” آسمان کی جانب رخ کئیے وہ مسکرائی ۔اسے لگ رہا تھا یہ بدلیاں یہ فضائیں اس سے باتیں کر رہی ہیں ۔کہ ہاں رائمہ ابھی تو منزل کی جانب تمہارا پہلا قدم ہے ۔ابھی تو تم نے بہت کچھ کرنا ہے ۔ان اونچائیوں کے ساتھ اب تمہارا دن رات کا ساتھ ہے ۔سورج کی چمکدار کرنیں اسکو گویا حوصلہ دے رہیں تھیں ۔۔!!
آدھے گھنٹے کی شاندار فلائیٹ کے بعد اسنے رن وے پہ لینڈ کیا تھا ۔ وہاں موجود انجینئرز برانچ کے آفیسرز نے اسے مبارکباد دی جو کہ وہ مسکرا کر وصول کر رہی تھی ۔اب اسکا رخ ہاسٹل کی جانب تھا ۔آج تو سب کچھ نیا نیا اور خوبصورت لگ رہا تھا ۔وہ اپنے خیالوں میں گم ہاسٹل روم میں داخل ہوئی جب اس پہ پانی کی بوچھاڑ کر دی گئی ۔ایک لمحے کے لئیے تو وہ شاکڈ رہ گئی ۔پھر ان سب کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے اسے مبارکباد دے رہی تھیں ۔یہ ائیرفورس کا ٹریڈیشن تھا ہر کیشٹ کی سولو فلائیٹ پہ اسکا استقبال اسی طرح کیا جاتا ہے ۔۔!!
“Congratulations”
“Cobgratulations”
“Congratulations”
وہاں موجود اسکی تمام کورس میٹ اسے مبارک باد دے رہیں تھیں اور ساتھ ساتھ جانے کیا کیا اس پہ پھینک رہی تھیں ۔پانی اور جوس اور جانے کیا کچھ ۔۔۔!!
“تھینک یو تھینک یو ۔اب بس کر دو کیا اب مجھ معصوم کی جان لو گی تم لوگ” وہ ہاتھ سے چہرے پہ آیا پانی صاف کرتی ہنستی ہوئی بولی ۔۔۔تب کہیں جا کے انہوں نے اسکی جان چھوڑی ۔۔!!
“اچھا یہ بتاو پھر کیسی رہی فرسٹ فلائنگ؟” کیڈٹ عائشہ نے بے صبری سے پوچھا ۔۔!!
“That feeling can not be described in words .It can only be felt”
وہ رکی پھر بولی ۔۔!!
“یار مجھے تو دل کر رہا تھا وہ گھڑیاں تھم جائیں ۔کاش کے ایسا ہو پاتا ۔لیکن اتنی جلدی وہ ٹائم گزر گیا ” آخر میں بچوں کی طرح منہ بنا کے بولی تو وہ ساری جو اسکی داستانِ عشق سن رہی تھیں ہنس دیں ۔زندگی واقعی بہت حسین تھی۔۔!!
______________________
“اچھا عبید اب بتا بھی دیں نا کہ ان میں سے کون سی ڈریس پہنوں ” صوبیہ دونوں ہاتھوں میں ہینگر میں لٹکے ڈریسسز تھامے کھڑی تھیں اور وہ جو بڑے انہماک سے سامنے ٹی وی پہ لگی نیوز دیکھنے میں مصروف تھے ایک دم ہنس دئیے ۔۔!!
“ارے صوبیہ کوئی سا بھی پہن لیں آپ کون سا کسی کی شادی پہ جا رہی ہیں ” عبید صاحب نے انکی بات کو گویا ہوا میں اڑایا تھا ۔صوبیہ بیگم نے خفگی سے انہیں دیکھا۔۔!!
“عبید یہ میری بیٹھی کی پاسنگ آوٹ ہے جو کہ کسی بھی شادی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے ” وہ اپنے بات پہ زور دے کے بولیں ۔عبید صاحب کے ہونٹوں کی مسکراہٹ گہری ہو گئی ۔۔۔!!
“بھئی اسکی پاسنگ آوٹ پریڈ کا آپکے کپڑوں سے کیا تعلق ہے” انہوں نے ہنستے ہوئے سوال داغا ۔۔!!
“میرا ہی تو تعلق ہے آخر کو میری بیٹی فائیٹر پائیلٹ بننے جا رہی ہے اتنا تو حق بنتا ہے میرا ۔۔۔۔۔اور ہاں ان میں سے مجھے کوئی بھی ڈریس اچھی نہیں لگی اس لئیے آپ مجھے شاپنگ کروائیں” وہ تو کچھ زیادہ ہی ایکسائیٹڈ تھیں ۔انہیں تو ابھی تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ رائمہ نے واقعی اپنا کہا سچ کر دکھایا ہے ۔۔!!
“ٹھیک ہے بھئی کل لے جاوں گا آپکو شاپنگ پہ ، آخر کو فائیٹر پائیلٹ کی ماما ہیں آپ” وہ دوبارہ سے ٹی وی کا والیوم بڑھاتے ہنستے ہوئے بولے ۔صوبیہ بیگم مسکراتے ہوئے وارڈروب کی جانب مڑ گئیں ۔۔!!
___________________
میری سپنوں کی رانی کب آئے گی تو
آئی رت مستانی کب آئے گی تو
بیتی جائے زندگانی کب آئے گی تو
چلی آ تو چلی آ
آفیسرز میس میں بیٹھے اسامہ صاحب ہلکی ہلکی ٹیبل بجاتے گنگنانے میں مصروف تھے ۔طلحہ جو کہ اسکے سامنے والی چئیر پہ بیٹھا کافی پینے میں مصروف تھا تنگ آ کے اسامہ کے سامنے ہاتھ جوڑے ۔۔!!
“یہ دیکھ میری بھائی ۔میرے ان ہاتھوں کو دیکھ ۔اپنے یہ راگ الاپنا بند کر دے میرے سر میں پہلے ہی بہت درد ہے ۔ساری رات بیس کے باہر ڈیوٹی دی ہے میں نے ۔”اسکی بات پہ اسامہ نے ایک نظر اسے دیکھا پھر سے اپنے کام میں مشغول ہو گیا ۔طلحہ کا دل کیا سامنے پڑی ساری کی ساری کافی اسامہ کے سر پہ الٹ دے ۔۔!!
“دیکھ اسامہ میں بتا رہا ہوں ۔اب کی بار اگر تو نے یہ بے سرا گانا بند نہیں کیا تو میں بھابھی سے شکایت کر دوں گا تیری۔پھر تیری رانی بھی آئے گی اور رت مستانی بھی ” انگلی اٹھائے دھمکاتا ہوا بولا ۔اسامہ نے مسکراہٹ دبائے اسے دیکھا ۔۔۔!!
“ارے میرے یار میں تق تیرے لئیے گانا گا رہا تھا تا کہ تیرے بھی پتھر دل پہ جزبات کی چند چھنٹیں پڑیں۔تیری زندگی میں بھی کوئی رانی آئے” اسامہ صاحب تو ایسے انسان تھی جسے تپے ہوئے کو تپانے میں اور مزہ آتا تھا اب بھی وہ ایسا ہی کر رہا تھا ۔۔۔!!
“مہربانی تیری ،میرے پاس ان سب فضول جزبات کے لئیے کوئی ٹائم نہیں ۔اور نا ہی مجھے شوق ہے ایسی چیزوں کا ۔میرا میراج(جیٹ) ہی میری رانی ہے اور مجھے کوئی نہیں چاہئیے ۔اس لئیے تو چپ کر کے کافی حتم کر اور میرے ساتھ چل ” طلحہ تو اسکی بے وقت راگنی سے سخت عاجز آ چکا تھا ۔۔!!
“دیکھ طلحہ تو میری ہر بات کو مزاق میں نہیں اڑا سکتا ” وہ ٹیبل پہ کہنیاں ٹکائے زرا آگے ہو کے بولا ۔۔!!
“او کے فائن تیری یہ فضول بکواس بند نہیں ہو گی نا ۔تو یہاں بیٹھ کے رانی ڈھونڈ میں بھائی کو بتا کے تیری درگت بنواوں گا” اسنے بھی اب کی بار کھڑے ہوتے دل جلانے والی مسکراہٹ سمیت کیا ۔اسامہ نے آنکھیں گھما کے اسے دیکھا۔۔!!
“چل رہا ہوں چل رہا ہوں ” وہ اٹھتا ہوا بولا ۔۔!!
“پہلی بات میس کا بل تو دے گا ” جیب میں دونوں ہاتھ ڈالے آرڈر کیا گیا ۔۔!!
“پتا تھا تیرا مجھے تو ہے ہی صدا کا غریب” طلحہ نے والٹ سے پیسے نکالتے دانت پیس کے کہا ۔۔!!
“ہاہاہاہا ۔۔۔بیوی بچوں والا انسان غریب ہی ہوتا ہے” وہ بھی اسکے ساتھ چلتے ڈھٹائی سے بولا۔۔۔!!
“اور تو اس لئیے میری شادی کروانا چاہتا ہے کہ میں بھی بھوکا مروں” طلحہ نے اسکی کمر پہ دھپ رسید کی تو وہ ہنس دیا ۔۔!!
“نا یار اگر تیری شادی ہو گئی تو تیرے ساتھ میں بھی بھوکا مروں گا ۔اس لئیے اب تیری شادی کا پلین کینسل ۔” وہ تو کانوں کا ہاتھ لگاتا ہوا بولا۔۔۔وہ دونوں قہقہہ لگا کے ہنس دئیے۔۔۔!!
______________________
پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں پاسنگ آوٹ تقریب کے لئیے تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں ۔دو ہفتوں سے وہ روز پریڈ کے لئیے پریکٹس کر رہے تھے ۔جہاں وہ سب لوگ پاس آوٹ ہونے کے لئیے ایکسائیٹڈ تھے وہیں اداس بھی تھے ۔تین سال ایک ساتھ ان سب نے یہاں گزارے تھے ۔کتنی ہی یادیں جڑی تھیں انکی اس اکیڈمی سے ۔اب یہ گولڈن پیرئیڈ ختم ہونے والا تھا ۔اب انہیں اپنا لاابالی پن چھوڑ کے زمہ دار آفیسرز کی طرح اپنے فرائض سر انجام دینے تھے ۔۔!!
اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دن بھی آ چکا تھا ۔آج تو سب کیڈٹس کا چارم ہی الگ تھا ۔ڈارک بلیو کلر کا میس کوٹ پہنے وہ پریڈ کر رہے تھے ۔اسپیکر پہ اونچی آواز میں ملی نغمے گونج رہے تھے ۔وہاں ہر طرف رونق کا سماں تھا ۔کیڈٹس کے گھر والے بھی وہیں ایخ طرف رکھی کرسیوں پہ بیٹھے تھے ۔انہیں ونگ لگ چکا تھا سب کے گھر والے فخریہ مسکراہٹ چہرے پہ سجائے اپنے جوانوں کو دیکھ رہے تھے ۔کیڈٹس خود بھی پراوڈ فیل کر رہے تھے ۔وہ جانتے تھے کہ وہ بیسٹ ہیں کیونکہ ۔۔۔
“Only best comes to the PAF”
ان کیڈٹس کے اعزاز میں پاک فضائیہ کے شیر دل ایروبیٹکس کے طیروں نے انہیں سلامی دی ۔یہ بلندیوں پی اڑنے والے طیارے انہیں سلامی پیش کر رہے تھے ۔سب کا دھیان افق کی جانب تھا ۔جہاں وہ طیارے فضا میں رنگ بکھیرتے قلابازیاں کھا رہے تھے ۔اور انہی شیر دلز میں ایک وہ بھی تھا “فائیق ضرار ” جو اس سے محبت کرتا تھا لیکن آج تک کہہ نہیں پایا ۔۔!!
” From now you are the guardians of skies”
کاک پٹ سے شیر دل نمبر ایک کی آواز آئی ۔۔۔!!
یہ مستقبل تھے وطن کا ۔انکا خواب پورا ہو چکا تھا ۔ایسا خواب جو دیکھتا تو ہر جوان ہے لیکن پائہ تکمیل تک کوئی کوئی ہی پہنچا پاتا ہے ۔۔۔وہ پاکستان ائیر فورس کے شیر دل تھے ۔۔۔شہپر ۔۔۔ہواوں کے سپاہی ۔۔۔شاہین ۔۔۔
تو سمجھتا ہے راز ہے زندگی
فقط زوقِ پرواز ہے زندگی
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *