Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12
“سر میں سوچ رہا ہوں ایس ایس ڈبلیو
(special services wing )
جائن کر لوں کم از کم اس اسامہ کے بچے سے تو جان چھوٹے گی نا ” طلحہ کی دہائیاں جاسم کے سامنے جاری تھیں ۔۔!!
“سر غالباا لوگ ایس ایس جی یا ایس ایس ڈبلیو تب جوائن کرتے ہیں جب انکی محبوبہ انہیں چھوڑ کے چلی جاتی ہے ۔مجھے تو ادھر بھی بات کچھ ایسی ہی لگتی ہے میرا نام تو صرف بہانہ ہے “اسامہ کی فضول سی بات پہ طلحہ نے اسے بے دریغ گھورا جبکہ جاسم نے ہاتھ کی مٹھی بنا کے ہونٹوں پہ رکھتے گویا اپنی مسکراہٹ روکی ۔۔ !!
“جس کی محبوبہ تیرے جیسی کمینی ہو نا وہ بندہ تو جہنم میں بھی چلا جائے تو کم ہے ” وہ مٹھیاں بھینچتا چبا چبا کے بولا ۔۔!!۔
“تو تجھے کہا کس نے ہے کہ مجھے محبوب نظروں سے دیکھو ؟ بھئی میری شادی ہو چکی ایک پیارے سے بچے کا باپ ہونے کا شرف بھی حاصل کر چکا ہوں ۔اس لئیے اب تیرا کوئی چانس نہیں ” اسامہ صاحب ہوں اور پٹر پٹر جواب نا دیں نا ممکن ۔طلحہ نے اپنا ہاتھ زور سے اپنے ماتھے پہ مارا ۔اگر اس کے ہاتھ میں اس ٹائم کوئی اور چیز ہوتی تو وہ بھی مارنے سے گریز نا کرتا ۔۔!!
“سر سر سر مجھے بچا لیں اس بلا سے ورنہ میں سچ میں خود کشی کر لوں گا ” وہ جاسم کے ہاتھ پکڑ کے لجاہت سے بولا ۔اسامہ کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔!!
” بتاو تو اب کیا کیا ہے اسامہ نے پھر ہی کوئی حل نکالتے ہیں ” اسنے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔!!
“سر کل ہم سی ویو پہ گئے تھے وہاں پہ ایک لڑکی ملی ہمیں ۔اسامہ نے اسکے پاس جا کے پتا نہیں کیا کیا باتیں کی اور میرا نمبر بھی اسے دے دیا ۔کل سے لے کے اب تک وہ مجھے اتنا زچ کر چکی ہے کہ میرا دل کرتا ہے میں واقعی مر جاوں ” اسکے لہجے میں اتنی بے چارگی تھی جیسے چھوٹا سا بچہ شکایت کرتا ہے ۔۔!!
” چلو آو آج ہم ایک کام کرتے ہیں ” جاسم نے اسکے کان میں کچھ بولا تو طلحہ کے چہرے پہ مسخراہٹ چھا گئی ۔جبکہ اسامہ حیرانی سے ان دونوں کو مسکراتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔!!
” اوکے ، تو طلحہ ریڈی ہو نا” جاسم کے پوچھنے پر طلحہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔ان دونوں نے اسامہ خو ایسے دیکھا جیسے شکاری شکار کرنے سے پہلے اپنے شکار کو دیکھتا ہے ۔اسامہ کہ بھی خطرے کی بو آ گئی تھی جب اگلے سیکنڈ اسنے دوڑ لگانا چاہی لیکن وہ دونوں اس پہ جھپٹ پڑے تھے ۔اور کچھ دیر بعد اسامہ کی حالت واقعی شکار کی طرح لگ رہی تھی ۔اس نے ان دونوں کو دیکھا جو اسکی عقل ٹھکانے لگانے کے بعد پاس پڑے صوفوں پہ بیٹھے ہنس رہے تھے ۔اسنے سامنے دیوار گیر شیشے میں اپنی حالت دیکھی اور خود بھی قہقہہ لگا کے ہنس دیا۔۔۔!!
_________________________
“فائیق تم آ رہے ہو میرے ساتھ شاپنگ پہ یا نہیں ؟ کب سے بول رہی ہوں لیکن تم یہاں بیٹھے یہ فضول سی نیوز سننے میں مگن ہو ” اسماء بیگم (فائیق کی امی ) اسکے سر پہ کھڑیں غصے سے استفسار کر رہی تھیں ۔فائیق جو بڑے آرام سے ٹانگیں سامنے ٹیبل پہ پھیلائے ٹی وی دیکھ رہا تھا نظریں اٹھا کے اپنی پیاری سی اماں کو دیکھا ۔۔!!
“اماں یار آپ کو بھی پتا ہے صبح سے بابا نے اپنے آفس میں قید کیا ہوا تھا ابھی آیا ہوں ۔اب مجھ میں ہمت نہیں کہیں بھی جانے کی ” اسماء نے اسے آنکھیں دکھائیں ۔۔!!
“ارے مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی ائیر فورس والوں نے تم لوگوں کو کیا سوچ کے رکھا ہوا ہے ۔گھر کا تو ایک کام بھی تم لوگوں سے نہیں ہوتا ۔وہاں جانے کیا کرتے ہو گے “
“ارے اماں جان وہ شاپنگ مالز میں خوار نہیں کرواتے ” بولتا ہوا اسماء کی گھوری کو محسوس کرتا زبان دانتوں تلے دبا گیا ۔اسماء نے آگے بڑھ کے اسکا کان کھینچا ۔۔!!
“میں کچھ نہیں سن رہے تم ابھی چل رہے ہو میرے ساتھ ۔صاحبزادے شادی آپکی ہے تو میں اکیلی کیوں خوار ہوں ۔اب جلدی سے گاڑی کی چابیاں لے کے آ جاو میں اور تمہاری چچی باہر ویٹ کر رہے ہیں ” وہ اسکا کان چھوڑ کے بولتی ہوئیں باہر چلی گئیں ۔فائیق نے تاسف سے نفی میں سر ہلاتے سامنے ٹیبل سے اپنا موبائل پکڑ کے جیب میں اڑسا اور چابیاں ہاتھ میں پکڑتا باہر کی جانب ہو لیا۔۔!!
__________
“رائمہ تم مجھے آج بتا ہی دو کب آ رہی ہو گھر ؟ چار دن باقی ہیں شادی میں کیا عین نکاح کے وقت آو گی ؟” صوبیہ بیگم فون پہ اسکی کلاس لے رہیں تھیں جو کہ گھر آنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی ۔۔!!
“ارے مما کول ڈاون ، آ جاوں گی ابھی چار دن ہیں شادی میں ” وہ کندھے اچکاتی لاپرواہی سے بولی ۔اسکی یہی لاپرواہی تو صوبیہ بیگم کو طیش دلاتی تھی ۔۔!!
“رائمہ رائمہ رائمہ ، تم اتنی لاپرواہ کیسے ہو سکتی ہو ۔کیسی پڑوسی کی شادی نہیں ہے جو تم اتنی لاپرواہی دکھا رہی ہو ۔یہ تمہاری اپنی شادی ہے ۔بتاو کل آ رہی ہو یا پھر تمہارے بابا کو بھیجوں تمہیں لینے ؟” وہ دو ٹوک لہجے میں بولیں ۔رائمہ نے دو انگیوں سے اپنا ماتھا مسلا۔۔!!
“ماما جیسے ہی لیو اپروو ہو جائے گی میں اسی ٹائم آ جاوں گی آئی پرامس ۔آپ بھی تو سمجھیں نا مجبوری ہے میری “
“سنیا لوگ بھی تو ہیں نا وہ تو آ چکے ہیں کل شام کے جاسم بھی آج رات آ جائے گا ایک میری اولاد ہی نکمی ہے ” وہ تو ٹھیک ٹھاک کڑھ رہیں تھیں۔۔اا
“ماما کیوں دل جلا رہی ہیں ۔بول تو رہی ہوں کل نہیں تو پرسوں تک ضرور آ جاوں گی ۔اچھا اب میں فون رکھ رہی ہوں کچھ دیر بعد میری فلائنگ ہے ۔اللہ خافظ ماما ” وہ جلدی سے انکی بات سنے بغیر کال ڈراپ کر چکی تھی ۔جبکہ صوبیہ بیگم دانت پیس کے رہ گئیں ۔۔!!
“کیا کروں میں اس لڑکی کا ” وہ تاسف سے سر ہلاتیں بڑ بڑا کے رہ گئیں ۔۔!!
__________
“تم نروس نہیں ہو ؟” رائمہ نے سنیا کا مہندی سے سجا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا ۔آج سنیا کی رخصتی اور کل رائمہ کی شادی ہونے والی تھی ۔اس ٹائم وہ لاہور کی ایک خوبصورت سی مارکی میں برائیڈل روم میں بیٹھیں تھیں ۔وہاں سنیا کی ماموں زاد بھی تھیں ۔سنیا نے گولڈن کلر کی کرتی کے ساتھ ڈیپ ریڈ کلر کا ماڈرن سا غرارہ پہنا ہوا تھا ۔فل میک اپ میں وہ انتہا کی خوبصورت لگ رہی تھی ۔جبکہ رائمہ نے لائٹ اسکن کلر کی گھٹنوں تک آتی سمپل سی پلین شرٹ کے ساتھ اسکن کلر کی ہی پینٹس پہنی ہوئیں تھیں ۔دوپٹہ اسنے ہمیشہ کی طرح گلے میں ڈالا ہوا تھا ۔میک اپ کے نام پہ صرف لپ گلوز اور مسکارا لگائے بھی وہ بہت پیاری لگ رہی تھی ۔۔!!
رائمہ کی بات پہ سنیا نے اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
“نہیں تو میں کیوں نروس ہوں گی ۔میں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پہ نروس نہیں ہوتی ” کندھے اچکائے اطمینان سے کہا گیا جبکہ دوسری طرف رائمہ تو اسکے اطمینان پہ غش کھاتے کھاتے ہی تو بچی تھی ۔۔۔!!
“یہ چھوٹی سی بات ہے ؟ او گاڈ سنیا تمہاری شادی ہو رہی ہے اور تمہیں یہ چھوٹی سی بات لگ رہی ہے؟” حیرانیاں اسکے لہجے سے عیاں تھیں ۔سنیا کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔۔!!
” تو یار کون سا دنیا میں پہلے کبھی کسی کی شادی نہیں ہوئی ۔میں انوکھی تو نہیں جس کی شادی ہو رہی ہے ۔اور ویسے بھی نروس ہونے کا تو کوئی جواز ہی نہیں بنتا ۔جاسم کو میں بچپن سے جانتی ہوں ۔بس اتنا سا چینج آئے گا میری لائف میں کہ ایک کمرے سے دودرے کمرے میں ہی شفٹ ہونا ہے۔تو میں کیوں فضول میں ٹینشن لے کے یا نروس ہو کے اپنی شادی اسپائل کروں ۔بھئی میں تو فل انجوائے کروں گی ۔آخر ایک دفعہ ہی تو شادی ہوتی ہے وہ بھی انسان ٹینشن لے لے کے ہی گزار دے ۔نا بھئی نا میں تو ایسا نہیں کروں گی” رائمہ تو رائمہ اسکے دو ٹوک لہجے سے اسکی کزنز بھی حیران ہو گئیں ۔مطلب کہ وہ تو کہیں سے نہیں لگ رہی تھی دلہن ۔نا کوئی ٹینشن نا کوئی نروسنیس ۔واقعی سنیا بھی اپنے نام کی ایک ہی تھی ۔۔۔!!
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی اسماء ، جاسم کی مما اور صوبیہ بیگم روم میں داخل ہوئیں ۔انہوں نے باری باری سنیا کو پیار کیا پھر رائمہ کو ۔اور پھر انہیں جلدی سے سنیا کو باہر لانے کو کہا ۔۔!!
رائمہ کا دل نہیں تھا باہر جانے کا لیکن اسماء بیگم کے اصرار پر وہ انیا کی کچھ کزنز سنیا کو لئے باہر آئیں ۔باہر ہر طرف ایک شور سا برپا تھا ۔موویز کیمرے ۔پھول جگمگاتی ہوئی روشنیاں ان پہ پڑیں ۔ہر آنکھ انکی جانب متوجہ ہوئی ۔سامنے اسٹیج پہ جاسم بلیو کلر کے ٹیکسوڈو میں ملبوس اپنی پوری شان سے کھڑا تھا ۔اس سے کچھ فاصلے پر ہی اسکے دونوں شیطان کے چیلے ( اسامہ اور طلحہ ) کھڑے تھے ۔سنیا تو بڑے مزے سے چلتی جا رہی تھی جبکہ رائمہ سب کی نظریں خود پر پڑھنے سے کنفیوز ہو رہی تھی ۔تبھی ضرار صاحب نے سنیا کے دوسری جانب فائیق کو کھڑا کیا ۔اب سیچویشن یہ تھی سنیا کے ایک جانب فائیق اور دوسری جانب رائمہ تھی ۔فائیق آج وائٹ کلر کے کرتا شلوار پہ اتفاقاا سکن کلر کی ہی واسکٹ پہنے ہوئے تھا ۔رائمہ صرف ایک نظر ہی اس پہ ڈال پائی ۔۔۔!!
فائیق جو کہ فنکشن کی تیاریاں دیکھنے میں مصروف تھا ضرار صاحب کے اصرار پہ انکے ساتھ آیا ۔جونہی اسکی نظر رائمہ پہ پڑی ایک پل کے لئیے تو وہ سب کچھ بھول گیا لیکن جلد ہی اسے اس پر سے نظریں ہٹا کے ہوش کی دنیا میں آنا پڑا ۔۔!!
سنیا نے آہستہ سے فائیق اور رائمہ کا ہاتھ پکڑا اور وہ آہستہ آہستہ اسٹیج کی جانب بڑھ گئے ۔۔!!
“عبید دیکھیں نا ہماری بیٹی کا کتنا پیارا کپل بنے گا نا فائیق کے ساتھ ” سامنے اسٹیج کی جانب دیکھتے ہوئے صوبیہ بیگم نے آہستہ سے عبید صاحب کو کہا ۔عبید صاحب خوش تو بہت تھے لیکن اداس بھی تھی انکی ایک ہی تو بیٹی تھی اور کل وہ بھی ہمیشہ کے لئیے پرائی ہونے والی تھی ۔۔!!
“ما شاء اللہ ۔بس اللہ سے یہی دعا ہے کہ وہ سب کی بیٹیوں کا نصیب اچھا کرے “
“آمین” صوبیہ بیگم نے دل سے کہا ۔۔!!
وہ اسٹیج کے پاس پہنچے تو جاسم نے تھوڑا سا جھک کے ایک ہاتھ سنیا کے سامنے پھیلایا ۔سنیا نے ایک نظر جاسم کو دیکھا پھر ایک نظر اپنے سامنے پہلے اسکے مضبوط ہاتھ کو اور اگلے ہی پل وہ اسکے ہاتھ میں اپنا ہاتھ تھماتی اسکے ساتھ وہاں رکھے صوفے کی جانب بڑھ گئی ۔۔!!
“you are looking absolutely beautiful”
رائمہ جو کہ دھیمی سی مسکراہٹ لبوں پہ سجائے سامنے دیکھ رہی تھی اس سرگوشی پہ ایک دم سے مڑ کے اپنے ساتھ کھڑے فائیق کو دیکھا ۔وہ کب ادھر آ کے کھڑا ہوا تھا اسے خبر ہی نا ہوئی ۔وہ دیکھ سامنے اسٹیج کی جانب رہا تھا لیکن سارا دھیان رائمہ کی جانب تھا ۔۔!!
رائمہ کو ایک دم سے گھبراہٹ ہوئی ۔۔!!
“ت۔۔تھینک ۔۔تھینک یو سر ” وہ جلدی سے کہتی صوبیہ بیگم کی جانب مڑ گئی ۔جبکہ وہ بیچارا اسے روکنے کی چاہ میں مخض آنکھیں گھما کے رہ گیا ۔۔!!
“اففف پتا نہیں یہ سر کا دم چھلا کب جان چھوڑے گا ” وہ سوچ ہی رہا تھا جب اسامہ اور طلحہ کی اینٹری پہ اسے اپنی سوچوں سے باہر نکلنا پڑا ۔اب وہ دونوں اسے اچھا بھلا تنگ کر رہے تھے ۔اور وہ بے بس سا مسکرائے جا رہا تھا ۔۔۔!!
__________
رخصتی کے وقت بھی مجال ہے جو سنیا میڈم نے ایک جھوٹا آنسو ہی بہایا ہو ۔اور روتی بھی کیوں وہ کون سا غیروں میں جا رہی تھی ۔اب وہ آرام سے جاسم کے روم میں بیٹھی ہوئی تھی ۔کمرے میں جا بجا پھول بکھرے ہوئے تھے ۔اسنے ایک نظر کمرے پی ڈالی ۔اس کمرے میں تو وہ بچپن سے ہی آتی جاتی رہی تھی اب بھی اسے کوئی بھی بےگانگی فیل نہیں ہو رہی تھی ۔وہ بڑے آرام سے تکیہ سیٹ کر کے ٹیک لگا کے آنکھیں موند گئی ۔ابھی اسے آنکھیں موندے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب کمرے کا دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی ۔وہ اسکے سینٹ سے ہی پیچان سختی تھی کہ یہ کون ہے لیکن وہ آرام سے لیٹی رہی ۔تھوڑی دیر بعد اسے اپنی کلائی پہ ایک لمس محسوس ہوا وہ اسے بریسلیٹ پہنا رہا تھا ۔سنیا کی مسکراہٹ گہری ہوئی ۔تبھی اسے مانوس سی آواز آئی ۔۔!!
“محترمہ مجھے پتا ہے آپ جاگ رہی ہیں اور اب تو منہ دکھائی بھی ہو گئی ۔اب آپ آنکھیں کھول سکتی ہیں” وہ اسکی کلائی میں وہ بریسلیٹ گھماتا ہوا بول رہا تھا جو اسنے ابھی پہنایا تھا ۔۔۔!!
” پہلے میری زیادہ ساری تعرف کریں ” جاسم نے اسے آنکھیں سکیڑ کے دیکھا ۔۔!!
“یار ڈرامے نہیں کرو آنکھیں کھولو ” اسنے اسکا کندھا ہلایا ۔۔!!
“پہلے میری تعریف کریں پھر ہی کھولوں گی آنکھیں “آنکھیں موندے ہی حکم دیا گیا ۔اسنے غصے سے اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
“دیکھو تم میرا دماغ خراب کر رہی ہو ۔نہیں کر رہا تعریف میں ۔اور آنکھیں تو تمہارے اچھے بھی کھولیں گے” اسنے اسکا ہاتھ تھامتے ایک جھٹکے سے اسے اٹھایا ۔جبکہ مقابل نے آنکھوں میں ڈھیڑ ساری خفگی سموئے اسے دیکھا ۔۔!!
“آپ بھی یہ بات یاد رکھیں ہمیں پی اے ایف والوں نے سیلف ڈیفنس کے ساتھ دوسری بھی بہت ٹریننگ دی ہے ۔ یہ نا ہو کہ میری اس ٹریننگ کا کچھ حصہ مجھے آپ پہ آزمانا پڑ جائے ” اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی ۔جبکہ وہ تمسخر سے ہنس دیا ۔۔۔!!
“ہماری بلی ہمیں ہی میاوں ۔محترمہ ہمیں دھمکیاں دے رہی ہیں آپ؟” ایک ابرو اچکاتا وہ اسے قریب کرتا بولا ۔۔وہ نروس سی ہو گئی ۔جانتی تھی اسکا مقابلہ واقعی نہیں کر سکتی ۔۔!!
“نہیں نا بس ویسے ہی بول رہی ہوں ۔۔۔دیکھیں اب آپ میری تعریف نہیں کریں گے تو پھر تو میرے زہن میں الٹی سیدھی سوچیں آئیں گی ہی نا ” بچوں کی طرح سر ہلاتے معصومیت سے اسے سمجھانا چاہا ۔اور اسنے بھی ایسے سر ہلایا جیسے سب ہی سمجھ گیا ہو ۔اسنے اسکے ہاتھ چھوڑتے اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھاما۔۔۔!!
“یار تم تو جاناں ہو ۔ اور مجھے یہ تعریف وغیرہ نہیں کرنی آتی ۔نا ہی یہ پیار محبت کا اظہار کرنا آتا ہے بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا ۔۔۔” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا مخمور لہجے میں بول رہا تھا ۔۔
“The way you have been with me , no one ever has , and no one can ever be , u are my true soulmate , my best friend and my partner for for life …
Thanks for being in my life .”
اسنے جھک کے آہستہ سے اسکی پیشانی پہ اپنے لب رکھے ۔وہ گہری سانس لیتی اس لمس کو محسوس کرتی مسرور سی مسکرا دی ۔۔!!
____________
“بابا اچھا نہیں کر رہے آپ مجھے خود سے دور بھیج کے ، میں کیسے رہوں گی آپکے بغیر ” وہ ابھی گھر پہنچے ہی تھے جب رائمہ چینج کر کے عبید صاحب کے کمرے میں آ کے انکے کندھے سے لگی اداسی سے بولی ۔عبید صاحب نے شفقت سے اسکا سر چوما ۔۔!!
“ارے میری گڑیا دور کہاں جا رہی ہو ۔بس بیس منٹ کی ڈرائیو پہ تو گھر ہے فائیق کا ۔آپکا جب بھی دل کرے بس آپ نے ایک کال کرنی ہے آپکے بابا اسی ٹائم اپنی گڑیا کو لینے آ جائیں گے ” انہوں نے پیار سے کہتے اسکے بال سہلائے ۔۔!!
“پر بابا جب بھی میں ویکیشنز پہ آیا کروں گی نا تو بیس سے سیدھا ادھر ہی آیا کروں گی ” اوں سوں خرتی وہ خفگی سے بولی ۔۔!!
“میرا بچہ۔۔۔” انہوں نے اسکے ماتھے پہ بوسہ دیا پھر سے اپنی بات جاری کی ۔۔!!
“اب سے وہ گھر ہی آپکا ہے ۔میری جان آپکی فرسٹ پرائیرٹی پہلے آپکا شوہر اور آپکا سسرال ہونا چاہئیے ۔باقی سب بعد میں آتا ہے ۔” وہ اسے سمجھا رہے تھے اور وہ اداسی سے سب کچھ سن رہی تھی ۔۔۔!!
جاری ہے
