Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02
اسکی نظر اکیڈمی کی دیوار پہ پڑی ۔۔۔جہاں پی اے ایف کا موٹو لکھا ہوا تھا ۔۔””فقط زوقِ پرواز ہے زندگی”
وہ مبہوت سی بار بار اس موٹو کو پڑ رہی تھی ۔جو خوشی جو سرور وہ اس وقت محسوس کر رہی تھی شاید ہی اپنی زندگی میں اس نے کبھی ایسا سکون محسوس کیا ہو۔خواب حقیقت کا روپ دھارنے جا رہا تھا لیکن وہ ابھی بھی بے یقین سی تھی ۔اگر یہ خواب تھا تو بے حد خوبصورت تھا اور اگر حقیقت تھی تو جان لیوا تھی ۔۔!!
“کیا ہوا میری گڑیا کو؟ ” عبید صاحب نے اپنی لاڈلی کے گرد بازو حمائل کئیے تو وہ ایک دم سے چونکی ۔ایک نظر عبید صاحب کو دیکھا اور پھر ایک نظر اپنے خوابوں کے جہاں کو ۔۔ہاں یہ حقیقت تھی ۔۔۔اگلے ہی پل خوشی اور مسرت سے بھر پور چیخ اسکے گلے سے برامد ہوئی اور وہ وفورِ مسرت سے عبید صاحب کے گلے لگ گئی ۔۔!!
“اوو مائی گاڈ ۔۔بابا ۔۔۔مجھے تو ابھی تک یقین نہیں ہو رہا کہ میں یہاں ہوں …پی اے ایف اکیڈمی میں..او مائی گاڈ ..” وہ خوشی سے چلائی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولے ۔۔اسکی اکسائیٹمنٹ پہ عبید صاحب کھل کے مسکرا دئیے ۔۔۔!!
اللہ نے انہیں ایک بیٹی سے نوازا تھا ۔۔اور وہ خود چاہتے تھے کہ انکی بیٹی انہی کی طرح فورسسز میں جائے اور انکا نام روشن کرے۔اور آج جیسی خوشی رائمہ محسوس کر رہی تھی ویسی ہی خوشی عبید صاحب محسوس کر رہے تھے ۔کہتے ہیں کہ ایک باپ ہی ہے جو آپ کو خود سے زیادہ کامیاب دیکھ کر خوش ہوتا ہے ۔۔!!
“میری گڑیا یہی حقیقت ہے ۔اور اب اس حسین دنیا میں قدم رکھنے کا ٹائم آ گیا ہے ” انہوں نے پیار سے اسکے سر پہ یاتھ رکھا اور پھر گاڑی کا دروازہ کھول کے باہر نکلے ۔پیچھے ہی رائمہ اپنی سائیڈ کا دروازہ کھول کے باہر نکلی اور ایک گہرا سانس بھر کے مسکرائی ۔۔!!
” اچھا رائمہ گڑیا ۔میرے ایک دوست بھی یہاں ہوتے ہیں ۔میں ان سے بھی بات کرتا ہوں” وہ گاڑی کا سامان نکالتے ہوئے بولے تو وہ ٹوک گئی۔۔!!
“بابا اگر آپکو ویسے ہی اپنے دوست سے ملنا ہے تو مل لیں ۔لیکن میرے حوالے سے کوئی بات نہیں کریں گے ۔کیونکہ میں سب کچھ اپنے بل بوتے پر کرنا چاہتی ہوں” وہ انکی آنکھوں میں دیکھ کے سنجیدگی سے بولی ۔۔!!
“مجھے میری گڑیا پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ اپنے بل پہ سب کرے گی ۔میری دعائیں میری گڑیا کے ساتھ ہیں ۔اللہ تمہیں کامیاب کرے ۔”
“آمین”
“چلو پھر ٹھیک ہے گڑیا میں چلتا ہوں ۔دوست سے نیکسٹ تائم مل لوں گا ۔اور تم اپنا بہت سا دھیان رکھنا ” انہوں نے اسے اپنے ساتھ لگا کے شفقت سے اسکا سر چوما۔۔!!
“آپ بھی اپنا اور ماما کا دھیان رکھئے گا بابا جان” وہ انکے گرف بازو حمائل کر کے پھر الگ ہوئی ۔۔!!
“اللہ خافظ” عبید صاحب اس سے الگ ہوئے اور گاڑی موڑ کے ایک دفعہ پھر پیچھے دیکھ کے ہاتھ ہلایا اور آگے بڑھ گئے۔رائمہ تب تک وہاں کھڑی رہی جب تک عبید صاحب کی گاڑی نظروں سے اوجھل نا ہو گئی۔۔!!
وہ مڑی اور پھر اپنا سوٹ کیس گھسیٹتی چل دی۔وہ ہر چیز کو دم سادھے دیکھ رہی تھی ۔اسکے ہر انداز سے خوشی پھوٹ رہی تھی ۔وہ اکیڈمی کی کشادہ سڑکوں پر مست ہو کے چل رہی تھی ۔کتنی حسین تھی یہاں کی ہر چیز۔۔۔!!
(ایک دن انہی فضاوں میں اُڑھوں گی میں) چہرے پہ اک خوبصورت سی مسکان سجائے وہ اپنی سوچوں میں مگن چل رہی تھی ۔۔!!
وہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی جب اسے لگا کسی نے اسے پکارا ہے ۔اسنے پیچھے مڑ کے دیکھا تو ایک لڑکی اسے بلا رہی تھی ۔اسکے پاس بھی ایخ بڑا سا سوٹ کیس تھا مطلب کے وہ بھی شاید آج ہی آئی تھی۔وہ اسے دیکھنے میں ہی مگن تھی جب وہ لڑکی مسلسل کچھ نا کچھ بولتی ہوئی اسکے پاس آئی۔۔!!
“کیا یار کب سے تمہیں آوازیں لگا رہی ہوں اور ایک تم ہو کہ ایسے چل رہی تھیں جیسے پتا نہیں کون سے جہاں میں ہو” رائمہ نے حیران نظریں اٹھا کر مقابل کو دیکھا جو ایسے بول رہی تھی جیسے اسکی بہت شناسائی ہو رائمہ سے۔۔!!
“اب کہاں کھو گئی ہو یار؟؟ ” اسکی آواز پہ رائمہ ہڑبڑا کے ہوش میں آئی ۔۔!!
“نہیں تو۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کے رائمہ اسے کچھ بولتی سنیا جلدی دے اسکی بات کاٹی۔۔!!
“آل رائٹ ۔بائی دا وے ۔آئی ایم سنیا ضرار ۔اینڈ یو؟” سنیا نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے بڑھایا ۔۔!!
“آئی ایم رائمہ عبید” رائمہ نے مسکرا کر اسکا ہاتھ تھاما۔۔!!
” شکر ہے کہ تم بھی کچھ بولتی ہو ۔ورنہ مجھے لگ رہا تھا کہیں تم اپنی زبان وغیرہ گھر بھول آئی ہو” وہ اپنی بات پہ خود ہی قہقہہ لگا کے ہنس دی ۔رائمہ کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ پھیل گئی۔۔!!
” وہ اصل میں تم مجھ سے ایسے بات کر رہی تھی جیسے ہم دونوں بہت پرانی فرینڈز ہوں ۔بس اسی لئیے ۔۔۔۔” وہ دونوں اب آگے بڑھتے ہوئے باتیں کر رہی تھیں۔۔!!
“ہاہاہا تمہیں پتا ہے میرے گھر والے بھی یہی کہتے ہیں ۔پر یار کیا کروں عادت ہے کہ میں زیادہ دیر چپ نہیں رہ سکتی”
” اوووو اور میری ماما کا بھی کچھ حد تک میرے بارے میں یہی خیال ہے” رائمہ بھی ہنستے ہوئے بولی تو سنیا بھی مسکرا دی ۔۔!!
“مطلب کہ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں” سنیا شرارتی مسکراہٹ منہ پہ سجائے بولی ۔رائمہ نے بھی مسکراتے ہوئے اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔۔!!
” ویسے تم کہاں سے ہو؟” سنیا نے ٹشو سے ماتھے پہ آیا ہوا پسینہ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔۔!!
“میں لاہور سے اور تم؟”
کیاا تم لاہور سے ہو؟ میں بھی لاہور سے ہی ہوں ۔” سنیا نے جوش سے اسے گلے لگایا تو رائمہ ہنس دی ۔۔!!
وہ باتیں کرتیں جا رہی تھیں جب انکے پاس سے کیڈٹس کا ایک گروپ گزرا جو کہ ایک پی اے ایف کا یونیفارم پہنے سیکوینس میں مارچ کر رہے تھے۔ان میں سے کچھ میل کیڈٹس اور کچھ فی میل کیڈٹس بھی تھیں ۔وہ منظر بہت خوبصورت تھا ۔رائمہ نے دل پہ ہاتھ رکھ کے اپنے جزبات کو کنٹرول کیا۔(ریلیکس رائمہ تم بھی بہت جلد اسی طرح کے یونیفارم میں اسی طرح ہی پریڈ کرو گی ) وہ دونوں تب تک وہاں دیکھتی رہیں جب تک وہ گروپ انکی نظروں سے اوجھل نا ہو گیا ۔ہاں ابھی تو انکی زنگی حسین ہونے والی تھی ۔اور ظاہر سی بات ہے اسکے لئیے انہیں بیت محنت کی ضرورت تھی۔۔!!
____________
یہاں آ کے تو انکی زندگی جیسے بالکل ہی بدل گئی تھی خاص کر کے رائمہ کے لئیے۔یہ زندگی حسین بھی بہت تھی لیکن ٹف بھی اتنی ہی تھی ۔پہلے ایک ماہ تک تو رائمہ واقعی میں رات کو روتی تھی ۔اور یہ صرف اسی کے ساتھ ہی نہیں تھا ہوا بلکے پی اے ایف میں جو بھی جاتا ہے وہ شروع شروع میں ایک آدھ دفعہ تو ضرور روتا ہے ۔اب جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے تھے وہ اس ماحول کی عادی ہو رہیں تھیں ۔یہ انکا فرسٹ سمیسٹر تھا اور فرسٹ سمیسٹر کی ٹریننگ تو ویسے ہی بہت ٹف ہوتی تھی ۔اس سمیسٹر میں ایک کیڈٹ یاں تو ہمت پکڑ لیتا ہے یا پھر ہمت چھوڑ دیتا ہے ۔لیکن انہوں نے ہمت پکڑی تھی کیونکہ وہ جاتیں تھیں کہ وہ خواب انہوں نے دیکھا تھا اسکے لئیے انہیں بہت ساری ہمت کرنا پڑنی تھی ۔۔
“اٹھ جاو رائمہ ! ہمارے پاس صرف پانچ منٹ ہیں نماز پڑھنے کے لئیے ۔اسکے بعد گراونڈ میں بھی پہنچنا ہے ۔اور تم تو جانتی ہو انسٹرکٹر وجاہت کتمے سٹرکٹ ہیں ۔ناو ہری اپ” سنیا کب سے اسے اٹھانے کی کوشش کر رہی تھی ۔لیکن ایک وہ تھی جو اٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی اور یہ تو اسکا روز کا معمول تھا کہ سنیا کو اسے جنجھوڑ جنجھوڑ کے اٹھانا پڑتا ۔اب بھی اسنے اسکے کندھوں سے پکڑ کے جنجھوڑا اور الارم کلاک اسکے سامنے کیا ۔رائمہ نے مندی مندی آنکھوں سے الارم کلاک کی جانب دیکھا پھر ہڑبڑا کے اٹھی اور اگلے ہی سیکنڈ وہ واشروم میں گھس چکی تھی ۔
آج انہیں پی اے ایف اکیڈمی میں آئے پورے پانچ ماہ ہونے کو تھے ۔اتفاق سے ان دونوں کو ایک ہی کمرہ ملا تھا ۔باہر کی دنیا کے لئیے شاید ابھی رات تھی لیکن پی اے ایف اکیڈمی کی ان حسین فضاوں میں صبح کا آغاز ہو چکا تھا۔کیڈٹس جلدی جلدی میں اپنے کام نپٹا رہے تھے ۔ایک افراتفری کا عالم تھا ۔اب تمام کیڈٹس کو ٹائم مینیج کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہو رہی تھی ۔رائمہ جلدی سے فریش ہو کے باہر نکلی تب تک سنیا نماز ادا کر چکی تھی ۔رائمہ نے بھی جلدی سے نماز ادا کی ۔ انہوں نے جلدی سے کپڑے چینج کر کے ٹریک سوٹ پہنے ۔۔۔
“کیڈٹس رن ٹو دی گراونڈ ہری اپ ” انسٹرکٹر کی آواز پہ رائمہ جو کہ شو لیسزز باندھ رہی تھی اسکے ہاتھوں میں اور تیزی آئی ۔لیکن قسمت کا ستم کہیں یا کچھ بھی ان پانچ مہینوں میں بہت کچھ چینج ہوا تھا لیکن اسے شوز کے لیسسز ٹائی کرنے نہیں آئے تھے ۔۔
سنیا کچھ لمحوں تک تو اسکی حرکتیں ملاخظہ کرتی رہی پھر بعد میں خود ہی جھک کے اسکے شوز لیسسز ٹائی کئیے ۔۔
“کہا تھا میں نے کی ٹائم سے اٹھ جایا کرو ۔لیکن نہیں تمہیں تو نیند سے ہی فرصت نہیں ۔اب دیکھنا تمہارے ساتھ مجھے بھی ڈانٹ پڑے گی ” سنیا اسکے شو لیسسز ٹائی کرتے ہوئے غصے سے کہہ رہی تھی ۔
“تو یار اس میں میری کیا غلطی ہے اتنی کوشش تو کرتی ہوں لیکن نہیں باندھے جاتے مجھ سے” رائمہ نے جلدی سے اسقارف سر پہ باندھا۔۔!!
“چلو تمہیں تو میں رات کو پوچھوں گی اب جلدی کرو” وہ کہتے ہوئے اٹھی اور جلدی سے روم سے باہر قدم بڑھا دئیے ۔ابھی ایک منٹ باقی تھا وہ تقریباا دوڑتی ہوئیں گراونڈ میں پہنچیں ۔اور جا کے ایک قطار میں کھڑی ہو گئیں ۔اور بھی بہت سے میل اور فی میل کیڈٹس ادھر قطاروں میں کھڑے تھے ۔میل کیڈٹس کی قطاریں ایک طرف تھیں جبکہ فیمیل کیڈٹس کی قطاریں دوسری طرف۔۔!!
فزیکل ٹریننگ ڈرل کرتے پہلے دن تو ان دونوں کو حاص کر کے سنیا کو تو ضرور نانی جان یاد آ ہی گئیں تھیں ۔لیکن اب وہ تھوڑا بہت عادی ہو چکی تھیں ۔تقریباا پچیس منٹ بعد ہی رائمہ تھک چکی تھی ۔اسنے زرا سا آنکھوں کا رخ موڑ کے منہ بنا کے سنیا کو دیکھا ۔سنیا کی نظر اس پر پڑی تو اسنے بڑی مشکل سے اپنی مسکراہٹ روکی۔۔!!
“Raima you can do it”
(رائمہ تم یہ کر سکتی ہو)
رائمہ نے دل ہی دل میں خود کی ہمت بندھائی ۔پورے ڈیڑھ گھنٹے بعد انکی یہ آزمائش ختم ہوئی ۔رائمہ نے تو باقائدہ آسمان کی جانب منہ کر کے اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔!!
فزیکل ٹریننگ ڈرل کے ختم ہوتے ہی سب نے کیڈٹ ہاسٹل کی طرف دوڑ لگائی ۔رائمہ اور سنیا بھی تیزی سے ہاسٹل کی جانب بڑھ رہیں تھیں کیونکہ ٹائم بہت کم تھا ۔وہ جلدی سے اپنے روم میں آئیں ۔۔!!
“رائمہ پلیز اب جلدی سے تیار ہو جانا ۔کیونکہ ہمارے پاس صرف دس منٹ ہیں اور میرا زرا بھی ارادہ نہیں ہے اسپیشل کاک ٹیل پینے کا” سنیا وارڈروب سے اپنا وائٹ یونیفارم پکڑ کے جلدی سے بولی ۔کیونکہ وہ تو پی اے ایف کا اسپیشل کاک ٹیل پی چکی تھی ۔جسکے بعد وہ دو گھنٹے ابکائیاں کرتی رہی ۔جبکہ رائمہ کو ابھی تک اللہ نے کاک ٹیل پینے سے بچایا ہوا تھا ۔۔!!
” یار اب میں اتنا بھی لیٹ نہیں ہوتی جتنا بول بول کے تم مجھے کر دیتی ہو” رائمہ اپنا اسقارف اتارتے ہوئے منہ بنا کے بولی جبکہ اسکی اس بات پہ سنیا نے کچھ بھی بولے بنا طنزیہ نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا جیسے کہہ رہی ہو”میں تو تمہیں جانتی نہیں نا جیسے”
“اچھا اب جاو اب نہیں دیر ہو رہی تمہیں” اسکے مسلسل گھورنے پہ رائمہ نے جنجھلا کے کہا تو سنیا ہونہہ کہتی واشروم میں گھس گئی ۔۔!!
انہوں نے جلدی سے یونیفارم پہنے ۔اب رائمہ کے لئیے اصل کام تو تھا شوز لیسسز ٹائی کرنے کا ۔اسنے بے چارگی سے سنیا کی جانب دیکھا ۔تو سنیا نے مسکراتے ہوئے نفی میں گردن ہلائی ۔۔!!
“نو میری جان ! آج اپنے شوز کے تسمے تم خود ہی باندھو گی کیونکہ اگلے ایک منٹ میں ہمیں میس میں موجود ہونا چاہئیے” سنیا اپنے بالوں کو ربڑ میں قید کرتے ہوئے دل جلانے والی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے بولی ۔۔!!
“ہونہہ اتنی بھی کوئی طرم خان نہیں ہو تم۔ایک زرا سے تسمے کیا باندھ دیتی ہو ۔اور احسان ایسے جتاتی ہو جیسے پتا نہیں کونسے میرے کام کر رہی ہوتم۔نا کرو تم میں خود کر لوں گی” اس بیچاری کو بھی غصہ آ گیا تھا ۔اس لئیے جوتوں سے طبع آزمائی کرتے ہوئے غصے سے بولی ۔۔!!
“اوو رئیلی ڈئیر رائمہ! یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔ایک کام کرتے ہیں میں میس میں جاتی ہوں تم جلدی سے آ جانا ۔ٹھیک ہے نا ؟اوکے بائے” سنیا استہزائیہ بولتی ہوئی کمرے سے باہر تھی ۔جبکہ اسکی بات پہ رائمہ کا منہ پورا کا پورا کھلا تھا ۔اسے کیا پتا تھا کہ سنیا اسکی بات کو اتنا سیرئیس لے لے گی۔۔!!
“میں کیا کروں پھر ۔جیسے بھی بندھتے ہیں باندھ دیتی ہوں ۔اب نہیں ہوتا میرے سے اتنا سیاپا تو کیا کروں” اسنے غصے سے بولتے ہوئے تسمے کو عجیب سے طریقے سے گرہ لگائی اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔!!
وہ تیزی سے کمرے سے نکلی ۔ہاسٹل سے نکل کے اسکا رخ کیڈٹس میس بلڈنگ کی جانب تھا ۔ رائمہ نے اپنے شوز کے تسمے اس طرح باندھے ہوئے تھے کہ وہ کھل بھی چکے تھے ۔اور اسی اثناء میں جانے کب دائیں شوز کا لیس بائیں پاوں کے نیچے آیا اور وہ بری طرح گھٹنوں کے بل زمین پہ گری۔۔!!
ایک پل کے لئیے تو اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھا گیا ۔۔!!
“افف اللہ جی ۔شاید آج کا دن ہی خراب ہے” اسکا دل کیا ابھی رو دے ۔اسکے ہاتھوں کی ہتھیلیاں بری طرح سے چھل چکی تھیں ۔اور سونے پہ سہاگہ اس سے اٹھا بھی نہیں جا رہا تھا ۔۔!!
اسنے اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں سامنے پھیلائیں ۔آنکھیں لبالب پانیوں سے بھر گئیں تبھی اسے محسوس ہوا کہ اسکے سامنے کوئی کھڑا ہے ۔اسنے نظر اٹھا کے سامنے دیکھا ۔اور سامنے والا انہی بھیگی نظروں کی گہرائی میں ڈوب گیا ۔۔!!
فائیق کیڈٹس میس بلڈنگ کے سامنے کھڑا اپنے ایک سینئیر ونگ کمانڈر جنید سے کوئی ضروری بات کر کےمڑا جب سامنے اسکی نظر سامنے میس بلڈنگ کی طرف جاتی ہوئی لڑکی پہ پڑی ۔وہ وائیٹز(وائٹ یونیفارم)میں تھی۔وہ دیکھ رہا تھا وہ لڑکی ایک دو دفعہ ڈگمگائی تھی ۔اسنے اسکے شوز دیکھے تو معاملہ سمجھ چکا تھا کہ اسکے شو لیسسز بند نہیں تھے ۔فائیق کو ایک دم سے غصہ آیا ۔کیونکہ یہ پاکستان ائیر فورس اکیڈمی تھی۔اور ڈسپلن کے معاملے میں کوئی چھوٹ نہیں تھی ۔وہ ابھی اس لڑکی کی طبیعت صاف کرنے کے بارے میں سوچ ہی رہا تھا جب وہ لڑکی اسکی نظروں کے سامنے ہی دھڑام سے زمین پر گری ۔دور سے بھی فائیق اندازہ کر سکتا تھا کہ وہ واقعی کافی زور سے گری تھی ۔وہ اس لڑکی کی جانب بڑھ گیا اور اسکے سامنے جا کے کھڑا ہو گیا تب بھی وہ لڑکی اپنے ہاتھ سامنے پھیلائے پتا نہیں کیا دیکھنے میں مصروف تھی ۔اسکا سر جھکا ہوا تھا ۔کچھ لمحوں بعد شاید اسنے فائیق کی موجودگی کو محسوس کر لیا اسی لئیے نظریں اٹھا کے اسکو دیکھا ۔اور فائیق کو ایک لمحہ لگا تھا ان چمکتی ہوئی سنہری آنکھوں میں کھونے میں۔پھر وہ ایک دم سے جیسے ہوش میں آیا ۔آج سے پہلے وہ ایسے بے احتیار کبھی بھی نا کوا تھا تو پھر آج۔۔۔؟
تبھی لمحے کے ہزارویں حصے میں اسکے چہرے پہ وہی محسوس سختی چھائی جو کہ اسکی شخصیت کا خاصہ تھی ۔۔!!
“Stand up”
اسکی کرخت آواز گونجی تھی ۔حالانکہ کہ دل نکمہ بہت ہی غلط وقت پہ دغا دے چکا تھا لیکن وہ اپنی ڈیوٹی میں کوئی کوتائی کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔!!
رائمہ ہر تکلیف کو بھلائے جلدی سے کھڑی ہوئی ۔اپنی بوکھلاہٹ میں وہ اسے وِش کرنا بھی بول چکی تھی ۔۔!!
” what are you doing here?”
فائیق نے اسکی نم حسین آنکھوں میں دیکھتے ہوئے سنجیدہ لہجے میں پوچھا ۔۔!!
“سس….سر…سر…وہ…ایک…ایکچوئلی ..وہ میرے شو” فائیق کی آنکھوں میں چھائی سختی دیکھ کے وہ ہکلا سی گئی ۔فائیق نے اسکے تاثرات پہ بہت مشکل سے اپنی مسکراہٹ روکی۔۔!!
“I do not understand anything that what are you saying .just tell me clearly what’s the problem”
(مجھے تمہاری کچھ سمجھ نہیں آ رہی کہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔مجھے صاف صاف بتاو کہ مسئلہ کیا ہے)
آنکھوں میں سختی، پیشانی پہ شکن لئیے وہ اس سے سخت لہجے میں استفسار کر رہا تھا ۔رائمہ کی آنکھوں میں آئی نمی گالوں پہ بہنے کو بے قرار تھی لیکن وہ بار بار ہونٹ بھینچ کے خود کو کنٹرول کر رہی تھی ۔اب بھی وہ خاموش رہی تو اب کی بار فائیق کو سچ میں غصہ آیا ۔بھلا وہ پاگل تھا جو کب سے اس سے کچھ پوچھ رہا تھا اور ایک وہ تھی منہ پہ قفل لگائے ہوئے۔۔!!
“Cadet Raima! I am asking you something . Are you listening to me or not?”
( کیڈٹ رائمہ! میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں ۔آپ مجھے سن رہی ہیں یا نہیں)
رائمہ تو اسکی غصے بھری آواز سن کے ہی اچھل پڑی۔۔!!
” سس..سر..سر..وہ..وہ.. مجھ سے…شش..شو لیسز نہیں بندھتے..مم..میری..میری مما ہی ہمیشہ ..باندھ..باندھتی تھیں ..مم..مجھ سے نہیں بندھتے” کب سے رکے ہوئے آنسو پلکوں کی باڑ توڑ تے ہوئے گالوں پی بہنے لگے ۔فائیق کو لگا ان آنسووں کے ایک ایک قطرے کے ساتھ اسکا دل بھی پگھل جائے گا ۔اسنے بمشکل اپنی نظروں پہ قابو پاتے ہوئے نگاہوں کا زاویہ بدلا۔پھر اپنے لہجے کو سخت بنائے ہی بولا۔۔!!
“Listen to me carefully cadet Raima! That was your house but this is the PAF academy risalpur.
Here, no one is interested that what are you doing earlier . Here , it will be only seen what will you do now. Now stop crying and go back tou your class. But be carefull for next time .because here is no discount in case of dscipline “
(مجھے غور سے سنیں کیڈٹ ڑائمہ ! وہ آپکا گھر تھا لیکن یہ پی اے ایف اکیڈمی رسالپور ہے ۔یہاں کسی کو اس بات میں کوئی دلچسپی نہیں کہ آپ پہلے کیا کرتی رہیں ہیں ۔یہاں بس یہ دیکھا جائے گا کہ آپ یہاں کیا کرتی ہیں ۔اب رونا بند کریں اور وآپس اپنی کلاس میں جائیں ۔لیکن آئندہ احتیاط کرئیے گا کیونکہ یہاں ڈسپکن کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں)
وہ ہمیشہ سے ڈسپلن کے معاملے میں بہت سخت رہا تھا ۔اور شو کے لیسسز ٹائی کرنا بھی ڈسپلن کا ایک حصہ ہی تھا ۔وہ کبھی بھی کسی کو اسکی غلطی پہ معاف نہیں کرتا تھا اور آج وہ اسکی اتنی بڑی بات پہ اسے بنا کوئی سزا دئیے صرف سخت سست سنا کے جانے کا بول رہا تھا ۔اسے اس ٹائم خود سے کوفت ہو رہی تھی کہ اسے ہو کیا رہا تھا۔جبکہ دوسری طرف رائمہ بے یقینی سے نظریں اٹھائے اسے دیکھ رہی تھی ۔کیونکہ اسے آج تک ایسا کوئی بھی سینئیر نہیں ملا تھا جس نے بغیر کسی سزا کے چھوڑا ہو ۔اسکے ادھر ہی کھڑے رہنے سے فائیق جنجھلاہٹ میں مبتلا ہو گیا جسکا اسنے اظہار بھی کر دیا تھا ۔۔!!
“اب میرا منہ کیا دیکھ رہی ہیں ؟جائیں” وہ جیسے پھاڑ کھانے کو دوڑا ۔رائمہ ہڑبڑا سی گئی ۔پھر تیزی سے وآپس ہاسٹل کی جانب دوڑ لگا دی کیونکہ میس کی ٹائمنگ حتم کو چکی تھی ۔باقی کیڈٹس بھی میس بلڈنگ سے نکلتے دکھائی دے رہے تھے ۔وہ خوف سے دھڑکتے دل کو سنبھالتی وآپس روم میں آئی ۔اور اپنا بیگ پکڑ کر اپنی کلاس کی جانب روانہ ہو گئی ۔فائیق کی آنکھوں کے عجیب سے تاثر نے اسے ڈرا کے رکھ دیا تھا۔۔!!
جاری ہے
