Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04
اسنے اسے پیار سے پچکارتے آخر میں رعب سے کہا تو وہ منہ بنا کر رہ گئی ۔کتنے دنوں بعد کوئی ملا تھا جو اسکی خفگی اسکے نخرے برداشت کر رہا تھا ۔۔!!
“اور سناو کیسی گزر رہی ہے زندگی یہاں پی اے ایف کی ان حسین فضاوں میں؟” وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے جب فائیق نے اسکے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا ۔تو سنیا نے رک کر مسکراتی آنکھوں سے اسکی آنکھوں میں جھانکا ۔۔!!
” بہت ہی زبردست ، بھائی میں ان گزرے دنوں کو الفاظ میں بیان نہیں کر سکتی ۔ مجھے لگتا ہے یہ لمحات ہی میری زندگی کا کل اثاثہ ہیں ۔یہ حسین ترین لمحات مجھے کچھ اور سوچنے ہی نہیں دیتے” وہ مسکراتے لہجے میں سرشار سی بولی۔فائیق کے لبوں کی مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی۔۔!!
” واقعی یہ لمحات قسمت والوں کو نصیب ہوتے ہیں” فائیق نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی ۔دفعتاا کچھ یاد آنے پہ سنیا ایک دم چونکی۔۔!!
“او شٹ بھائی ۔پھر ملتے ہیں ابھی مجھے جانا ہوگا” وہ پریشانی سے کہتے ہوئے جکدی سے مڑی جب فائیق نے اسکا ہاتھ تھام کے اسے روکا۔۔!!
” کیا ہوا گڑیا ؟ ایک دم سے اتنی پریشان کیوں ہو گئی؟” اسنے حیرانی اور پریشانی کی ملی جلی کیفیت میں اس سے استفسار کیا ۔۔!!
” بھائی میری فرینڈ کی طبیعت آج بہت حراب ہے ۔میں جا کے اسکا پتا تو کروں”
“کیا زیادہ خراب طبیعت ہے اسکی؟” فائیق نے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔!!
” پتا نہیں بھائی ، صبح اسے ہاتھ پہ چوٹ بھی آئی تھی اور اب اسے اسپیشل کاکٹیل پینا پڑ گئی ۔اب جا کے دیکھوں گی تو پتا چلے گا نا ۔اوکے پھر ملیں گے اللہ خافظ” وہ جکدی سے بولتی ہاسٹل کی جانب بڑھ گئی تو وہ بھی اپنے روم کی جانب بڑھ گیا ۔لیکن سنیا کی چوٹ والی بات پہ فائیق کو وہ صبح والی لڑکی اور اسکی گہری نم آنکھیں یاد آئیں ۔کتنی حیرانی سے وہ آنکھیں فائیق کی جانب اٹھیں تھیں ۔اور ایک لمحہ لگا تھا اسے ان آنکھوں میں قید ہونے میں ۔اسے بھی تو چوٹ لگی تھی ۔جو وہ تب اتنا دھیان نہیں دے پایا تھا لیکن بعد میں صبح سے اسکا دھیان اسی لڑکی کی جانب لگا ہوا تھا ۔اسکی منتظر نگائیں اسے صبح سے ہی ڈھونڈ رہی تھیں لیکن وہ لڑکی تو جانے کہاں چھپ گئی تھی ۔اپنی سوچوں میں گم وہ روم میں پہنچا تو سامنے ہی ثاقب بازو سینے پہ باندھے تیکھے چتونوں سے اسے گھور رہا تھا ۔فائیق نے ابرو اچکا کے حیرانی سے اسے دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو “کیا ہوا”۔۔!!
“وہ لڑکی کون تھی جسکے ساتھ تم اتنی دیر سے باتیں کر رہے تھے اور وہ بھی ہنس ہنس کے ۔اور سونے پہ سہاگہ مجھے وہاں سے دفعہ ہونے کا بول دیا “
جتنے غصے سے وہ بول رہا تھا اتنا ہی جاندار قہقہہ فائیق کے خلق سے برآمد ہوا تھا ۔پھر اسے چھیڑنے کے لئیے بولا بھی تو فقط اتنا۔۔!!
” تمہیں کیا مسئلہ ہے وہ جو بھی ہو “اسنے آرام سے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے اور چینج کرنے چلا گیا ۔ وہ وآپس آیا تو ثاقب نے آگے بڑھ کر اسکی گردن بازو کے خلقے میں لی۔۔!!
“بیٹا بتانا تو تجھے پڑے گا” وہ دانت پیستے ہوئے بولا ۔فائیق کو اسکی حالت پہ ہنسی آ رہی تھی کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ثاقب کو اگر کوئی بات پوری پتا نا چلے تب تک اسے سکون نہیں ملتا ۔۔!!
“میں تو نہیں بتاوں گا تجھے جو کرنا ہے کر لے” وہ اسکی گرفت سے اپنی گردن چھڑاتے ہوئے ہنستا ہوا سائیڈ پہ ہو گیا ۔عمر نے دانت پیستے ہوئے غصے سے اسے گھورا ۔۔!!
” ٹھیک ہے جیسے تیری مرضی ۔کل میں خود اس لڑکی کی کلاس لوں گا اور اس سے پوچھوں گا کہ ااے افئیر چلانے کے لئیے تم جیسا ہے ملا”
“شٹ اپ یار ، بہن ہے وہ میری ” اب کی بار فائیق نے ناگواری سے اور کچھ غصے سے کہا ۔۔اب حیران ہونے کی باری ثاقب کی تھی ۔۔!!
“مطلب کہ جاسم کی منکوحہ؟” اسنے حیرانی سے پوچھا ۔فائیق نے اثبات میں سر ہلایا۔ثاقب کی فائیق اور جاسم سے دوستی یہاں آنے سے پہلے کی تھی لیکن کبھی گھریلو معاملات کی ڈسکشن ان میں نہیں ہوئی تھی اس لئیے وہ بس اتنا ہی جانتا تھا کہ پانچ سال پہلے جاسم کا فائیق کی بہن سے نکاح ہوا تھا ۔۔!!
” نا کر یار ، وہ تو ابھی چھوٹی سی ہے ۔بالکل بچی” وہ ابھی بھی حیران تھا ۔فائیق نے اسے گھورا پھر بستر پہ اوندھے منہ گر گیا ۔۔!!
” بھاڑ میں جا نہیں ماننا تو نا مان ۔پر میری جان چھوڑ دے ۔پہلے ہی اس لڑکی نے دل اور دماغ دونوں خراب کر دیا ہوا ہے” تمام بات کہتے اسنے آخری جملہ آہستہ سے کہا ۔شکر ہے کہ ثاقب سن نا سکا ورنہ آج فائیق کا تو پکا ریکارڈ لگنا تھا ۔۔!!
“اچھا اچھا ٹھیک ہے میں جاسم سے خود ہی پوچھ لوں گا ۔تیرا ویسے بھی آج دماغ جانے کہاں غائب ہے” وہ بڑبڑاتے ہوئے واشروم میں گھس گیا ۔۔!!
” اس سنہری آنکھوں والی لڑکی میرا دل دماغ لے گئی ہے یار” اسنے آہستہ سے بڑبڑاتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔۔!!
_________________
سنیا روم میں آئی تو سامنے ہی رائمہ تکیے میں منہ دئیے سو رہی تھی ۔اسنے آگے بڑھ کے اسکے ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے ٹمپریچر وغیرہ چیک کرنا چاہا کہ کہیں بخار نا ہو گیا ہو ۔اسکا ٹمپریچر بالکل نارمل تھا تو اسے کچھ سکون ہوا۔اسنے زرا سا جھک کر اسکا کندھا ہلایا ۔۔!!
” رائمہ سو گئی ہو یا جاگ رہی ہو؟” یہ ایک بہت ہی بے وقوفانہ بات تھی کہ کسی سوئے ہوئے انسان کو جگا کے اس سے پوچھا جائے کہ وہ سویا ہوا ہے یا جاگ رہا ہے ۔لیکن وہ دونوں ہی تھوڑی تھوڑی سائیکو تھیں ۔رائمہ نے ہلکا سا کسمسا کے آنکھیں کھولیں اور اپنے اوپر جھکی ہوئی سنیا کو نا سمجھی سے دیکھا ۔اسے لگ رہا تھا کہ اسے سوئے ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی لیکن یہ سنیا کیوں اسے جگا رہی تھی ۔۔!!
” کیا ہوا سنیا ؟ خیر تو ہے ؟ کہیں صبح تو نہیں ہو گئی؟” وہ جلدی سے بالوں کو سمیٹتے اٹھتی ہوئی پریشان سے لہجے میں بولی ۔۔!!
” نہیں میں بس جاننا چاہتی تھی کہ تم سو رہی ہو یا جاگ رہی ہو ” وہ اطمینان سے کہتی اپنے بیڈ پہ بیٹھی ۔جبکہ سنیا نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو پاگل ہو گئی ہو ۔۔!!
سنیا نے اسکی نظروں سے جنجھلا کے اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
“کیا ہے ؟ اب ایسے دیکھ کے کیا نظروں سے نگلنے کا ارادہ ہے؟” سنیا نے خفگی سے اسکی نیند سے سرخ پڑتی آنکھوں کو دیکھا ۔۔!!
” لائک سیریسلی سنیا ۔مجھے یقین نہیں آ رہا کی تم اتنی بے وقوف بھی ہو سکتی ہو کہ ایک سوئے ہوئے انسان کو جگا کے پوچھ رہی ہو ۔افففففف، مجھے سمجھ نہیں آتی رات کے وقت تمہاری ساری عقل کہاں جاتی ہے ” وہ دونوں ہاتھوں میں اپنا سر تھام کر رہ گئی ۔۔!!
“اچھا اچھا اب زیادہ بنو نہیں ۔مجھے تمہاری ٹینشن ہو رہی تھی اس لئیے پوچھ لیا ۔”
” بہت اچھا کیا ۔۔۔۔پوچھ لیا۔۔۔۔پکڑ کے میری نیند بھی خراب کر دی” وہ اسے طنزیہ نگاہوں سے گھورنے لگی تو اس دفعہ سنیا کی شمندہ سے ہنسی گونجی۔۔!!
“ہاں تو اب کیا جان لو گی بچی کی” وہ اپنے بال جھٹکتے ایک ادا سے بولی تو نا چاہتے ہوئے بھی رائمہ مسکرا دی ۔اسے مسکراتے دیکھ کے سنیا کو کچھ حوصلہ ہوا ۔۔۔!!
“بائی دا وے تم اتنی دیر سے کہاں تھی” رائمی نے کچھ خیال آنے پر آنکھیں سکیڑتے ہوئے پوچھا ۔۔!!
” یہ پھر کبھی بتاوں گی ابھی مجھے سونے دو بہت نیند آ رہی ہے” وہ جمائی لیتے ہوئے بولی ۔سنیا نے غصے سے گھورا۔لیکن وہ اسکا گھورنا اگنور کرتی کمبل اوڑھ کے لیٹ گئی۔۔!!
” سنیا کمینی ، میری نیند خراب کر دی اور خود کتنے آرام سے سو رہی ہو” اسنے غصے سے اپنا تکیہ اٹھا کے اسے مارا جو کہ سنیا نے آرام سے کیچ کر کی سر کے نیچے رکھ لیا ۔۔!!
“یہ میرا ہے” وہ چبا چبا کے بولی اور اسکے سر سے اپنا تکیہ کھینچ کر اپنے بستر پہ جا کے لیٹ گئی ۔جبکہ سنیا کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔۔۔!!
______
دن جیسے پر لگا کے اڑھ رہے تھے ۔آج انکا فرسٹ ٹرم کا لاسٹ پیپر تھا ۔رائمہ پیپر دے کے باہر نکلی تو اسے لگا جیسے سر سے ایک بہت بھاری بوجھ سرک گیا ہو ۔وہ ہاسٹل کی جانب چل دی کیونکہ سنیا بھی ڈائریکٹ ادھر ہی پہنچنے والی تھی ۔۔!!
آج اسکے لب آپ ہی آپ مسکرا رہے تھے ۔جب کہ اسکہ حسین سنہری آنکھیں ضرورت سے زیادہ چمک رہی تھیں ۔وہ مسکراتے ہوئے ،اکیڈمی کی ان حسین فضاوں کو محسوس کرتی اپنے ہی دھیان نظریں جھکائے بڑے آرام آرام سے چل رہی تھی ۔جب اچانک اسے رک جانا پڑا ۔وہ سامنے ہی تو کھڑا تھا ۔اپنی دلکش آنکھوں میں غصہ لئیے اسے ہی تو دیکھا رہا تھا ۔ایک سیکنڈ لگا تھا رائمہ کو اسے پہچاننے میں ۔گھبراہٹ کے مارے اسکے گلے کی ہڈی ڈوب کر ابھری تھی۔لیکن وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھی کہ اب اسنے ایسی کیا غلطی کر دی تھی جو وہ اسے اتنے غصے سے گھور رہا تھا ۔!!
فائیق پچھلے ایک ماہ سے آتے جاتے ہائے لاشعوری طور پہ اسے ڈھونڈ رہا تھا ۔لیکن وہ تو ناجانے کہاں کھو گئی تھی جو مل کے ہی نہیں دے رہی تھی ۔بہت کوشش کے بعد بھی وہ اسے نا ملی تو اسے دن بہ دن اپنی اس بے چینی کیفیت پہ جنجھلاہٹ ہونے لگی ۔اور آج اسے ایک دم سامنے دیکھ کا اتنے دنوں کی جنجھلاہٹ پہ غصہ حاوی ہونے لگا تھا ۔وہ ااے سرد نظروں سے گھور رہا تھا ۔جبکہ وہ سہمی سہمی نظروں سے اسکے شوز دیکھ رہی تھی وہ بھی اسکی نظروں کا ارتکاز دیکھ چکا تھا اس لئیے سر لہجے میں بولا۔۔!!
” اگر میری شوز دیکھ لئیے ہوں تو مجھے سلام بھی کر دو” رائمہ نے ہڑبڑا کے اسکی جانب دیکھا ۔(کیا ڈھونڈ رہی ہو انکے شوز میں ،پاگل لڑکی) اسنے شرمندہ ہوتے ہوئے دل ہی دل میں خود کو ڈانٹا۔۔!!
” Cadet Raima ! I am saying you something”
وہ دبے دبے غصے میں چلایا تھا ۔رائمہ سہم سی گئی ۔۔!!
“سس سسوری سر مجھے ۔۔مجھے خیال نہیں آیا ” اتنی گھبراہٹ کے مارے وہ بس اتنا ہی کہہ پائی ۔ساتھ ہی آنسو پتا نہیں کہاں سے پلکوں کی باڑ توڑتے رجسار پہ بہتے چلے گئے ۔۔!!
” سوری کریں یا کچھ بھی سزا تو بھگتنی ہی پڑے گی ۔آخر اتنے دنوں سے آپ نے مجھے تنگ کر رکھا ہے” وہ اسکی حسین آنکھوں میں جھانکتے ہوئے زومعنی انداز میں بولا ۔اسکی بات پہ رائمہ نے آنکھوں میں الجھن لئیے اسکی جانب دیکھا ۔اور ایسے فائیق کی جانب دیکھتے ہوئے وہ فائیق کو اتنی معصوم لگی کہ اسکا دل کیا اس پاگل لڑکی کو اپنے دل ہی ہر بات بتا دے ۔لیکن نہیں ابھی اس سب کا ٹائم ہی تو نہیں آیا تھا نا۔۔اگلے ہی پل اسنے سر جھٹک کر تمام نرم جزبات پہ قابو پایا ۔۔!!
“Turn to that tree”
اسنے بائیں ہاتھ سے وہاں لگے ایک درخت کی جانب اشارہ کیا۔عائمہ بائیں ہاتھ کی پشت سے گالوں پہ بہنے والے آنسو صاف کرتے خاموشی سے درخت کی جانب رخ کرتی ہوئی کھڑی ہو گئی ۔۔!!
” “Now wish that tree”
اگلا حکم جاری کیا گیا تھا ۔رائمہ نے سامنے لگے درخت کو بے بسی سے دیکھا ۔اسے اور بھی بہت سارے سینئیرز سے ایسی ہی پنشمنٹ ملی تھی لیکن تب اسکی کسی نا کسی غلطی کی وجہ سے ملی تھی ۔آج جانے کونسے جرم کی پاداش میں وہ اسے یہ سزا دے رہا تھا ۔۔۔!!
اسنے مری مری آواز میں سامنے موجود درخت کو وش کیا ۔۔!!
” “Say it louder Cadet Raima!”
یہ سمجھیں آپکے سامنے یہ درخت نہیں بلکہ میں کھڑا ہوں”
اسکی گرجدار آواز پہ وہ اپنی جگہ اچھل کے رہ گئی ۔پھر ہمت کرتے ہوئے اونچی آواز میں بولی ۔۔!!
” Assalam o alaikum tree sir”
اور فائیق نے اسکے اس جملے پہ بمشکل اپنا قہقہہ روکا تھا ۔۔!!
” یہ تم نے درخت کو سر کیوں بولا ہے؟” وہ اس سے استفسار کرنے لگا۔۔!!
” سر آپ نے خود ہی کہا ہے کہ میں یہ سمجھوں میرے سامنے درخت نہیں بلکے آپ کھڑے ہیں تو میں آپکو آپ کے نام سے تو نہیں نا بلا سکتی” وہ سوں سوں کوتی ہوئی نظریں جھکائے بولی ۔۔!!
اسکی چہرے پہ اتنی معصومیت اور اتنی پاکیزگی تھی کہ فائیق کو لگا وہ کبھی اسکے چہرے سے نظریں ہٹا نا سکے گا ۔اسنے خود کو کمپوز کوتے ہوئے اسے ہاتھ سے جانے کا اشارہ کیا تو وہ جانے کیوں ایک پرشکوہ نگاہ اس پہ ڈال کے چل دی۔۔!!
“تمہاری اسی معصومیت اور پاکیزگی نے تو اسکاڈرن لیڈر فائیق ضرار کو تمہارا دیوانہ بنا دیا ہے یار ۔ آئی ایم سو سوری میں تم پہ کسی قسم کا غصہ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن کیا کروں میں جب بھی تمہیں دیکھتا ہوں خود کو مکمل طور پر بے بس محسوس کرتا ہوں ۔لیکن وعدہ کرتا ہوں ۔جس دن تم فائیق ضرار کی زندگی میں ایک مختلف مقام ایک مختلف حیثیت سے داخل ہو گی تو فائیق ضرار تم سے اپنے ہر رویے ہر زیادتی کا ازالہ کر دے گا “
اسنے مسکراتے ہوئے خود سے عہد کیا ۔۔۔!!!
_______
“اے رائمہ کیا ہوا ؟ رو کیوں رہی ہو؟” جس ٹائم سنیا روم میں داخل ہوئی تو سامنے ہی اسکی نظر زور و شور سے ہاتھوں میں چہرہ چھپا کے روتے ہوئے رائمہ پر پڑی ۔وہ پریشانی سے اسکی جانب بڑی اور اسے کندھے سے پکڑ کے ہلایا ۔لیکن اسکے رونے کی رفتار میں کمی نا آئی..!!
“فار گاڈ سیک رائمہ! کچھ تو بتاو ۔تمہارے اس طرح روتے رہنے سے مجھے کچھ بھی سمجھ آنے سے تو رہی ” وہ ااکے چہرے سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے غصے سے بولی ۔لیکن شدت گریہ و زاری سے اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ کر نرم پڑ گئی ۔وہ جکدی سے اٹھی اور سائیڈ ٹیبک سے پانی کا گلاس لے کے اسکے لبوں پہ لگایا ۔کچھ دیر بعد اسکے رونے کی رفتار میں کمی آئی تو سنیا نے دوبارہ پوچھا ۔اس سے پوچھنے پر رائمہ نے اپنی اور فائیق کی دونوں ملاقاتوں کا احوال کہہ سنایا ۔جبکہ سنیا یہ سب سن کے حیراں ہوئی۔۔!!
” تو اس میں اتنا رونے والی کیا بات ہے یار ؟ یہ سب ہمارے لئیے کوئی نیا تو نہیں ہے ۔یہ تو پی اے ایف اکیڈمی کا معمول ہے ۔اس لئیے مجھے تمہارے رونے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی ” سنیا اسے دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولی ۔۔!!
“نہیں سنیا تم سمجھ نہیں رہی…مجھے سمجھ نہیں آ رہی تمہیں کیسے سمجھاوں …مجھے ان کی آنکھوں میں اک عجیب سا تاثر دکھتا ہے ۔آج میری کوئی غلطی نا ہونے کے باوجود انہوں نے مجھے پنشمنٹ دی ۔صاف لگ رہا تھا وہ مجھ پہ جان بوجھ کے غصہ کر رہے ہیں “
وہ اپنی بات ٹھیک سے بیان بھی نہیں کر پا رہی تھی ۔اس لئیے بے بسی سے اپنا چہرہ ہاتھوں میں گرا لیا ۔۔!!
” انکا نام کیا ہے؟” سنیا نے کچھ دیر کے توقف کے بعد پوچھا ۔۔!!
” مجھے نہیں پتا یار ، میں کچھ نہیں جانتی
وہ جب بھی سامنے آتے ہیں خوف سے خود کو بھول جاتی ہوں تو نام یاد رکھنا تو دور کی بات ہے”
” کوئی حال نہیں تمہارا رائمہ، کم از کم بندے کو نام تو یاد رکھنا چاہئیے نا” سنیا نے اسکے سر پہ خفگی سے ہلکی سی چپت لگائی ۔۔!!
” چلو یہ سب چھوڑو یہ بتاو کل گھر کس کے ساتھ جا رہی ہے میری جان، میری چندا،میری سویٹ ہارٹ” سنیا اسکا موڈ ٹھیک کرنے کے لئیے ااکے گرد بازو باندھتے ہوئے شرارت سے بولی تو رائمہ کو اسکے انداز پہ ہنسی آ گئی ۔۔!!
“بابا جان لینے آ رہے ہیں اور تم” وہ اسکے طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی۔۔!!
“مجھے تو میرا ہیرو لینے آئے گا” سنیا ایک آنکھ دبا کے آرارت سے بولی تو رائمہ چیخ پڑی ۔۔!!
“واٹ کونسا ہیرو ؟کہان ں کا ہیرو ؟ جلدی بتا سنیا ماجرا کیا ہے؟” وہ جلدی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے بولی سنیا اسکے بے تابی پہ ہنس پڑی۔۔!!
“جب تم ہمارے گھر آو گی تم بتاوں گی ۔نہیں نہیں بلکہ ملواوں گی۔”
” سنیااااا” وہ چلائی تو سنیا ہنس دی ۔کیونکہ اب انکی باتوں کا ایک لمبا سلسلہ چلنا تھا اور سنیا کا اسے جاسم کے یا اپنے نکاح کے بارے میں بتانے کا فلحال کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔!!
_____
فائیق اس ٹائم ڈیلی روٹین مشن کے بعد ابھی ایل ای سی ٹی روم میں پہنچا ہی تھا جب اسکے موبائل پہ کال آنا شروع ہو گئی ۔وہ وہیں سے کوریڈور کی داہنی جانب مڑ گیا ۔اسنے اسکرین پہ بلنک کرتا نمبر دیکھا تو اسکے ہونٹوں پہ اک خوبصورت سی مسکراہٹ چھا گئی ۔اسنے کال ریسیو کر کے موبائل کان سے لگایا ۔۔!!
لوگوں کو بہت گلے شکوے ہیں تم سے ۔جتنی جلدی ہو سکے دور کر لو ۔ورنہ نقصان کرواو گے اپنا ” حال احوال پوچھنے کے بعد اسنے سنیا کے ارادوں کے بارے میں اسے اگواہ کیا تو دوسری جانب جاسم ہنس دیا ۔۔!!
” یار اب تو بھی جانتا ہے سیچویشن کیا ہے ۔ٹائم بہت مشکل سے مینیج ہوتا ہے ۔اور ویسے بھی کل لوگ مجھ سے مل رہے ہیں سارے گلے شکوے ایک آئس کریم کی مار ہیں” جاسم نے مسکراتے ہوئے کہا ۔نظروں کے سامنے ایک دم ہی اس دشمن ِ جاں کا چہرہ لہرایا تھا ۔۔!!۔
“ہاہا ہا بالکل ، شکر کرومیری بہن اتنی اچھی ہے ۔ورنہ تم اسے اگنور کرتے ہو اسکی جگہ کوئی اور ہوتی تو اب تک تمہارے سر پہ ایک بال بھی نا بچتا” وہ ہنستے ہوئے اسکا مذاق اڑانے لگا ۔۔!!
“کمینے تو مل ایک دفعہ پھر تجھے بتاوں گا کہ کیا ہوتا یا کیا نہیں ۔ویسے ایک بات ہے” وہ اسے دھمکاتا آخر میں شریر ہوا۔۔!!
“وہ کیا”
“وہ یہ کہ اگر چل مجھے تو معصوم بیوی مل گئی لیکن میں اور سنیا مل کر دعا کریں گے کہ تجھے کوئی ایسی ہی ملے جو تجھے جلد از جلد گنجا کرے” اب کی بار ہنسنے کی باری جاسم کی تھی ۔جبکہ فائیق نے اپنے دانت کچکچائے ۔تبھی ایک حسین سراپہ اسکے ذہن کے پردے پہ لہرایا۔۔!!
“نا بھئی یہ تیری خواہش تو خواہش ہی رہے گی ۔کیونکہ وہ تو مجھ سے بہت ڈرتی ہے کہاں ڈرانا ۔نا اسکے بس کی بات نہیں” وہ مسکراہٹ دباتے ہوئے رائمہ کو سوچ کے بولا جبکہ دوسری جانب جاسم نے ایک دم سے حیرانی سے آنکھیں سکیڑیں تھیں۔۔!!
“کون؟ کس کی بات کر رہا ہے تو؟” وہ مشکوک ہوتا جلدی سے بولا۔۔!!
“کل مل کے ہی بتاوں گا ابھی کے لئیے اللہ خافظ” دوسری جانب جاسم اسے پکارتا رہ گیا لیکن وہ فون بند کر چکا تھا کیونکہ جانتا تھا کہ اگر اسنے کال بند نا کی تو اسے ابھی ہی سارا کچھ جاسم کو بتانا پڑے گا ۔اور فائیق اور جاسم کو ایک بیماری یہ بھی تھی کہ وہ دونوں کوئی بھی بات ایک دوسرے کو بتائے بغیر نہیں رک سکتے تھے ۔۔۔!!
جاری ہے
