Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08

“تو تُو اسے بتا کیوں نہیں دیتا یار” جاسم نے عاجز آ کے کہا ۔جبکہ موبائل کی دوسری جانب موجود فائیق کو اسکی ایک ہی گردان پہ غصہ آیا۔۔!!
” کیسے بتاوں ؟ہاں؟ تو بتا کیسے بتاوں؟ جب بھی اسے ایسا کچھ بتانے کا سوچتا ہوں تو اسکی اتنی معصوم سی صورت دیکھ کے خاموش ہو جاتا ہوں ۔یار اتنی معصوم ہے وہ میرا دل نہیں کرتا میں اسے ایسی کوئی بھی بات بتا کے اسکی معصومیت ختم کروں” ایک ہاتھ سے فون کان کو لگائے دوسرے ہاتھ سے کافی پیتا وہ بے چارگی سے بولا۔۔!!۔
” تو کیا ساری زندگی ہی ایسے گزار دے گا ۔کم از کم اسے کچھ نا کچھ تو ادراک کروا تا کہ کل کو ایسے حالات ہی پیدا نا ہوں جو تیرے لئیے بھی تکلیف کا باعث بنیں اور اسے بھی ازیت پہنچے ۔یا کم از کم اسکے بابا کو ہی اپنا پروپوزل بھیج دے ۔سن رہا ہے نا میری بات؟” جب کافی دیر بھی فائیق نے کوئی بات نا کی تو اسنے اسکی موجودگی کا یقین کرنا چاہا ۔۔!!
“ہاں ہاں سن رہا ہوں ” وہ ہڑبڑا کے بولا جیسے کسی گہری سوچ سے باہر نکلا ہو۔۔!!
” اوکے میں سوچتا ہوں کچھ …ایسے گزارا اب نا ممکن ہو رہا ہے” اسنے کہتے ہوئے کال کاٹ دی ۔پھر تھوڑی کھجاتے ہوئے وہ کسی گہری سوچ میں لگ رہا تھا ۔۔!!
_______________________
گرین کلر کا کورآل پہنے وہ بہت غور سے انسٹرکٹر کی جانب سے دی ہوئی ہدایات سن رہی تھی ابھی کچھ دیر بعد اسکی فلائنگ تھی ۔انسٹرکشنز لینے کے بعد وہ ایل ای سی ٹی روم میں گئی اور جو سوٹ بیگ اور ہیلمٹ پہنا ۔۔!!
پیراشوٹ بیگ اٹھارہ کلو گرام وزنی تھا شروع میں تو انسان کو یہ سب پہن کے عجیب سا فیل ہوتا ہے لیکن اب وہ ان سب کے عادی ہو چکے تھے ۔۔۔!!
آج اسکی مشاق پہ آخری فلائنگ تھی ۔کب انکا اتنا وقت اکیڈمی میں گزرا انہیں کچھ خبر نا تھی ۔کب وہ لوگ اسٹیمولیٹر سے مشاق(ایویشن کیڈٹس کو ابتدائی ٹریننگ اس جیٹ پہ دی جاتی ہے) تک پہنچے یہ بھی وہ جان نا سکے۔۔!!
“مشاک کے پاس پہنچ کے انہوں نے سارا معائنہ کیا پھر انسٹرکٹر کے ساتھ وہ اس میں سوار ہوئی ۔جب وہ اکیڈمی میں آئے تھے تب کی باڈی لینگوئج اور اب کی باڈی لینگوئج میں زمین آسمان کا فرق تھا ۔اب ان سب کیڈٹس کی طبیعت میں ایک خاص قسم کا ٹھہراو تھا ۔۔!!
جہاز نے آہستہ آہستہ رن وے سے ٹیک آف کیا اور فضاوں میں پلٹیاں کھانے لگا ۔اتنی اوپر سے نیچے زمین والوں کو دیکھنا کتنا اچھا لگ رہا تھا ۔وہ کنٹرول ٹاور کی جانب سے دی جانے والی ہدایات اور اپنے انسٹرکٹر کی یدایات پہ عمل کر رہی تھی ۔کچھ دیر ان فضاوں میں رہنے کے بعد انہوں نے لینڈ کیا تھا ۔مشاق سے اترنے کے بعد انسٹرکٹر نے اسے کچھ کہا تھا جسے سن کے اسکے لب مسکرائے تھے ۔اور انسٹرکٹرز کے مطابق رائمہ بے شک انکی موسٹ بریلینٹ اسٹوڈنٹس مئں سے ایک تھی ۔وہ ہر چیز کو بہت جلد پِک کرتی تھی۔۔!!
_____________________
“سر اب میں اسے جا کے بتاتا ہوں..میڈم کب سے گھورے جا رہی ہے” وہ تلملاتا ہوا اٹھنے لگا جب جاسم نے اسکے ہاتھ پہ اپنا ہاتھ رکھ کے تحمل کرنے کا اشارہ کیا۔جاسم،طلحہ اور اسامہ اس ٹائم ریسٹورنٹ میں بیٹھے ڈنر کر رہے تھے انکے ساتھ والے ٹیبل پہ بیٹھی ایک لڑکی اسامہ کو گھورے جا رہی تھی ۔اور وہ بے چارا جو کب سے برداشت کر رہا تھا اب کے بھڑک ہی تو گیا ۔۔!!
“اسامہ کیا ہو گیا ہے؟ دیکھ ہی رہی ہے نا تو دیکھنے دو ..لڑکیوں کی عزت کرنی چاہئیے ۔اس لئیے کسی قسم کی کوئی بدتمیزی نہیں” جاسم نے اسے سمجھایا وہ مخض لب بھینچ کے رہ گیا۔۔!!
“سر لڑکیوں کو اپنی عزت کا خود خیال ہونا چاہئیے …اور اسکی ڈریسنگ سے پتا چل رہا ہے کہ اسے اپنی عزت کا کتنا خیال ہے” وہ سر جھٹکتے ہوئے بولا ۔واقعی اس لڑکی کی ڈریسنگ بہت واہیات تھی ۔۔!!
“اسامہ بی ہیو” جاسم نے اسے تنبیعہ کی ۔۔!!
“ایسے نہیں کہتے ..لڑکیوں کی عزت بہت نازک ہوتی ہے ..اور کسی کے بھی پہننے اوڑھنے سے ہمیں کسی کے کیریکٹر کا اندازہ نہیں ہو سکتا ۔یہ ہر کسی کا اپنا فعل ہے وہ کیا کرتا ہے یا کیا نہیں کرتا ..ہمیں کسی کو بھی ڈس ریسپیکٹ کرنے کا کوئی حق نہیں ” جاسم نے اسکے پشت تھپتھپا کے اسکا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا ۔اسامہ نے برا سا منہ بنا کے اسے دیکھا پھر گہری سانس لے کے ہلکا سا مسکرایا۔جبکہ اس تمام دورانیے میں طلحے اپنی اسپیگیٹیز سے ایسے انصاف کر رہا تھا جیسے اس سے زیادہ ضروری کام کوئی ہو ہی نا ۔۔!!
” سر دراصل اسامہ کو اس بات کی ٹینشن ہے کہ کہیں اس کی بیگم کو پتا چل گیا کہ کوئی لڑکی اس کی جانب دیکھ رہی ہے تو وہ تو ہمارے بے چارے اسامہ کی ہی درگت بنائیں گی نا” واہ طلحہ صاحب بولے بھی تو کیا ۔اسامہ نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا ۔ ۔۔۔!!
” کیوں اسامہ ایسی ہی بات ہے نا؟” جاسم نے مسکراہٹ دباتے ہوئے استفسار کیا ۔ابھی ایک سال پہلے ہی تو اسکی شادی ہوئی تھی ۔ایک تو اس بے چارے کو اس چیز کا بہت غم تھا کہ اس بے چارے کی ارینج میریج ہوئی دوسرا یہ طلحہ اسے اس بات پہ زلیل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتنا تھا۔۔!!
“نو سر ایسی کوئی بات نہیں ..بس اس طلحہ کی ٹھکائی ہونے والی ہے وہ بھی مجھ سے” وہ طلحہ کو دیکھتا چبا چبا کے بولا۔۔!!
“اور تیری بھی ٹھکائی ہونے والی ہے وہ بھی میری بھابھی سے” طلحہ نے بھی بدلہ چکایا تھا اسکی اس بات پہ جاسم کا قہقہہ بے ساختہ تھا ۔جبکہ اسامہ اپنی بے بسی پہ چمچ ٹیبل پہ پٹخ کے سینے پہ ہاتھ باندھے منہ موڑ کے بیٹھ گیا۔۔۔!!
“میری روٹھی محبوبہ” طلحہ نے پھر سے ہانک لگائی تو اسامہ اپنا سر پیٹ کے رہ گیا ۔۔!!
________________
تم ہی سے اے مجاہدو جہاں کا ثبات ہے
تمہاری مشعلِ وفا بروحِ شش جہاد ہے ۔۔۔
“پلیز رائمہ کچھ دیر کے لئیے یہ بند کر دو یار ۔میرا پورا ایک چیپٹر رہتا ہے یاد کرنے والا ۔اور تم ہو کہ کب سے یہ لگائے جھوم رہی ہو” سنیا نے بلآخر بُک ٹیبل پہ پٹخ کے جنجھلا کے کہا ۔۔!!
رائمہ جو کب سے کتاب سامنے رکھے میوزک لگائے جھومنے میں مصروف تھی سنیا کے جنجھلانے پہ ایک دم رک کر اسے دیکھا ۔۔۔!!
“یار سنیا مسئلہ کیا ہے؟ ایک میوزک سننے کی ہی تو اجازت ہے تم وہ بھی بند کروا دو ” لہجے میں خفگی واضح تھی ۔۔!!
“تو میری جان اسکا مطلب یہ تو نہیں نا کہ ہم اپنی سٹڈی کو چھوڑ کے میوزک سنیں ۔اور دوسری بات تمہیں یہ ملی نغمے سن کے جوش بھی بہت آتا ہے” سنیا نے پیار سے اسکے گال پہ ہاتھ رکھا ۔رائمہ اسے دیکھ کے مسکرائی۔۔۔!!
“پہلی بات میں کبھی بھی اپنی سٹڈی پہ کمپرومائز نہیں کرتی ۔اور رہی دوسری بات تو یہ بات تمہاری بالکل ٹھیک ہے ۔یار تم نہیں جانتی میں جب بھی یہ سنتی ہوں نا تو میرا دل کرتا ہے جیٹ چھوڑوں اور بمب اٹھا کے خود ہی ملک دشمنوں کو مارنے چلی جاوں”وہ ہاتھ ہلا ہلا کے جوش سے بول رہی تھی جبکہ سنیا کا قہقہہ بے ساجتہ تھا۔۔!!”
“ہاں ہاں کیوں نہیں ضرور جاو ۔۔مگر پھر وآپس زندہ لوٹ آنے کی امید مت رکھنا ” سنیا نے اسکی پشت پہ دھپ رسید کی ۔کیسی پاگل لڑکی تھی وہ ۔۔!!
“چلو جی یہ کیا بات ہوئی ۔اپنے اس ملک پہ تو دل جان قربان ہے ۔اگر یہ جان ملک کے کام بھی نہیں آ سکتی تو اس جان کا کیا فائدہ؟ وہ کیا شعر ہے ۔۔یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں “
اسکے لہجے میں وطن سے عشق کے جزبے کا عنصر نمایاں تھا ۔سنیا بس اسے دیکھ کے ہی رہ گئی ۔۔!!
___________________
“ہائے اللہ جی آپ میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ۔” انتہائی شاک میں اسکے دل سے یہ صدا نکلی ۔آج قراقرم 8(جیٹ) پہ اسکی پہلی اڑان تھی ۔وہ بڑے جوش سے صبح تیار ہوئی ۔ آج اسکی فائیٹر فلائنگ کی جانب پہلا قدم تھا ۔بریک فاسٹ کے بعد اسکا تعارف اسکے نئے انسٹرکٹر سے کروایا گیا جبکہ رائمہ کو تو زمین آسمان گھومتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے ۔جبکہ مقابل بہت دلچسپی سے رائمہ کے چہرے کے تاثرات جانچ رہا تھا ۔۔!!
“اوکے کیڈٹ رائمہ ۔۔۔یہ آپکے نیو انسٹرکٹر ہیں ۔اور مجھے امید ہے کہ آپکی کارکردگی ادھر بھی متاثر کن رہے گی ” اسکواڈرن لیڈر عمیر تو مسکرا کر کہتے ہوئے چلے گئے جبکہ رائمہ کو اپنی جان خلق میں اٹکتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔!!
“سر کارکردگی کیا متاثر ہونی ہے یہاں تو میں خود پوری کی پوری متاثر ہو گئی ہوں” رائمہ نے کڑھتے ہوئے دل میں سوچا ۔کیونکہ وہ بس سوچ ہی سکتی تھی البتہ کہنے کی ہمت خود میں مفعود پاتی تھی ۔ !!
“اگر آپکی اجازت ہو تو آج کی فلائیٹ پہ بریفنگ شروع کروں؟” فائیق پہلے تو کچھ لمحے اسکے بولنے کا منتظر رہا لیکن اسکو خاموش پا کو بالآخر اسے پوچھنا ہی پڑا ۔رائمہ نے ہڑبڑا کے بے دھیانی میں زور زور سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔!!
فائیق نے سر کو خم دیتی ہوئے اسے وہاں موجود کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود وائٹ بورڈ پہ مارکر کے ساتھ کچھ لکھنے لگا ۔رائمہ بس بے دھیانی میں بورڈ کی جانب دیکھ رہی تھی ۔وہ جو بھی بول رہا تھا وہ رائمہ کے سر سے دو فٹ کے فاصلے پر سے گزر رہا تھا ۔فائیق نے مڑ کے اسے دیکھ کر اس سے کوئی سوال کیا لیکن رائمہ کی بے دھیانی محسوس کر کے وہ ٹھٹھکا ۔۔!!
“ہیلو کیڈٹ رائمہ!آئی ایم آسکنگ یو سم تھنگ۔۔” اسنے اسکے آنکھوں کے سامنے ہاتھ ہلایا ۔رائمہ جیسے ایک دم سے ہوش کی دنیا میں آئی ۔اور اسے دیکھا جو ابرو اچکائے ماتھے پہ تیوری چڑھائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔!!
“کک …کیا ..کیا سر؟” لہجے میں لڑکھڑاہٹ واضح تھی ۔۔!!
” میں آپ سے کچھ پوچھ رہا ہوں لیکں آپ تو نا جانے کونسے جہانوں کی سیر کو نکلی ہوئی ہیں” اسنے سینے پہ ہاتھ باندھتے سنجیدہ نگاہیں اسکے چہرے پہ گاڑھیں ۔رائمہ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا ۔فائیق نے ایک نظر اسے دیکھا پھر مڑ کے ڈائیز تک آیا اور اس پہ رکھا مارکر اٹھایا ۔۔!!
“کوئی بات نہیں ..میں پھر سے بریف کر دیتا ہوں لیکن اب کی بار بی فوکسڈ”
وہ تحمل سے کہتا پھر سے بریف کر رہا تھا ۔ایک ایک پوائنٹ وہ دوبارہ سے ایکسپلین کر رہا تھا ۔رائمہ نے سر جھٹک کر فوکس کرنا چاہا لیکن وہ چاہ کر بھی ایسا نہیں کر پائی ۔اسے صرف فائیق کے ہلتے ہوئے لب نظر آ رہے تھے لیکن اسکے لبوں سے نکلنے والے الفاظ سنائی نہیں دے رہے تھے ۔۔!!
“اب کوئی پرابلم ہے تو پوچھ لیں ” فائیق نے کب بریفنگ حتم کی اور کب اسکے سامنے آکے کھڑا ہوا وہ کچھ بھی دیکھ نا پائی۔اب فائیق کی آواز پہ اسکا دل ایک دم زور سے دھڑکا تھا کیونکہ اب اسے اپنی شامت ہوتی نظر آ رہی تھی۔۔!!
“جج..جی..جی سر یہ یہ حتم بھی ہو گیا” اسکے لہجے میں اتنی بے یقینی نا سمجھی تھی کہ فائیق بے چارا تو گنگ ہی ہو گیا ۔مطلب کے پچھلے آدھے گھنٹے سے وہ فضول میں بول رہا تھا ۔فائیق نے گہری سانس لے کے دائیں ہاتھ کی مٹھی زور سے بھینچی ۔گویا اپنا غصہ ضبط کرنا چاہا ۔ڈائیز پہ مارکر رکھ کے وہ مڑا اور غصے سے سرخ آنکھیں لئیے رائمہ کو دیکھا ۔رائمہ کو اپنی جان نکلتی محسوس ہو رہی تھی ۔وہ سوچ رہی تھی کیا اس سے برا بھی اس کی زندگی میں کچھ ہو سکتا تھا؟؟ اور ضمیر سے بس ایک ہی جواب آ رہا تھا “نہیں”
اسے رونا آ رہا تھا ۔۔!!
“رو لو ..دل کھول کے رو لو..کہیں کوئی حسرت تمہارے دل میں نا رہ جائے میرے سامنے آنسو بہانے کی ” فائیق کا سخت لہجہ ..اور یہاں سچ میں رائمہ میڈم کی آنکھوں سے آنسو نکلتے گال پہ بہنے لگے ۔فائیق نے جنجھلا کے وہاں لگے بورڈ پہ مکا مارا ۔۔!!
” رائمہ آج تم بتا ہی دو تمہیں مجھ سے مسئلہ کیا ہے؟” سوالیہ نگاہیں اسکی جانب اٹھیں تھیں ۔۔!!
“جب بھی تمہارے سامنے آ تا ہوں رونے لگ جاتی ہو ۔تم بتاو میں “جن” ہوں یا میری شکل بھوت سے ملتی ہےجو تمہیں کھا جاوں گا ۔چلو باقی سب چھوڑو ابھی کا بتاو۔۔میں نے تمہیں ابھی کچھ کہا؟” رائمہ نے نفی میں سر ہلایا ۔۔!!
“دوسرے انسٹرکٹرز بھی اسی طرح بتاتے ہیں نا جس طرح میں بتا رہا ہوں ہیں نا؟ تو تم مجھے بتاو میں نے ایسا کیا کر دیا جو تم فوکس ہی نہیں کر پا رہیں ۔دیکھو رائمہ میں اپنے پروفیشن کے معاملے میں کسی بھی طرح کی کوتاہی یا لاپرواہی برداشت نہیں کر سکتا ۔اور اگر تم نے ایسا کچھ کرنے کی کوشش کی تو بیلیو می تمہیں ایک رکھ کے لگاوں گا ۔اب یہ آنسو صاف کرو اور دھیان سے سنو ۔آخری دفعہ بریف کر رہا ہوں دوبارہ نہیں کروں گا ” اسکے سخت لہجے میں تنبیع پہ رائمہ جلدی سے آنسو صاف کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا ۔فائیق اس کے بچوں کے سے انداز پہ رخ موڑ کے مسکراہٹ دبا گیا ۔اور اب وہ ایک دفعہ پھر سے اسے بریف کر رہا تھا ۔۔!!
_____________________
“آر یو ریڈی؟” کاک پٹ میں داخل ہونے سے پہلے فائیق نے مڑ کے رائمہ سے پوچھا ۔۔!!
“یس سر آئی ایم” وہ زرا کانفیڈنس سے بولی ۔لیکن فائیق کو اسکے کانفیڈنٹ ہونے پہ کچھ شک ہوا اس لئیے اسے سمجھانا ضروری سمجھا ۔۔!!
“رائمہ میری بات سنو ۔دیکھو مشاق(جیٹ) پہ کتنے گھنٹے لگائے تم نے؟ ” اسنے اسکی آنکھوں میں دیکھ کے سوال پوچھا۔۔!!
“60 hours sir “
اور ٹی تھرٹی سیون(جیٹ) پہ؟”
“100 hours sir “
رائمہ نے جواب دیا ۔۔!!
“تم نے اب اس پہ صرف 55 سے 60 گھنٹے گزارنے ہیں ۔ اتنی محنت کے بعد ایک زرا سی غلطی تمہارا کیرئیر تباہ کر سکتی ہے ” اسنے زرا سی پہ زور دیا اور رائمہ کا تو دل ہی ہول گیا تھا ۔۔!!
“تم اپنے زہن سے یہ نکال دو کہ میں تمہیں انسٹرکٹ کر رہا ہوں ۔تم فائیق کو بھول جاو۔یاد رکھو تو صرف اتنا کہ میں مخض ایک انسٹرکٹر ہوں ۔اور میرے اتنا سمجھانے کے بعد اگر کسی قسم کی کوئی کوتاہی ہوئی نا تو باقیوں کا تو پتا نہیں لیکن میں تمہیں خود پلین سے اٹھا کے نیچے پھینک دوں گا ۔اور کم از کم اس معاملے میں کسی بھی قسم کی رعائت کی توقع مجھ سے مت رکھنا ” وہ انگلی اٹھا کے اسے سخت لہجے میں وارن کر رہا تھا ۔رائمہ نے فرمانبرادی سے سر ہلایا ۔اور اسکی تقلید کی جو کہ کاک پٹ میں بیٹھ رہا تھا ۔۔!!
“ایویں پھینک دیں گے ۔پھینک کے تو دکھائیں میں بابا کو بھی بتاوں گی” برا سا منہ بنائے دل میں ہی سوچا۔۔!!
“پاگل لڑکی بابا کو تو تب بتاو گی نا جب کچھ بتانے کے لئیے زندہ رہو گی “اسنے اپنے ہی خیال کی تردید کی اور ہر قسم کا خیال اپنے ذہن سے جھٹک کے کوک پٹ میں بیٹھتی اپنا ہیلمٹ سیٹ کر رہی تھی ۔منہ میں کوئی آیت پڑھ کے وہ ایک دفعہ پھر سے کانفیڈنٹ تھی ۔اس ٹائم اسکے ذہن سے بالکل نکل چکا تھا کہ فائیق اسے انسٹرکٹ کر رہا ہے ۔پتا تھا تو صرف اتنا کہ اسے اس ملک کے لئیے اسکے ترقی کے لئیے اپنا بیسٹ دینا ہے۔۔۔!!
_______________________
“ایک تو مجھے یہ سمجھ نہیں آتی رائمہ کہ تم کیوں ہر چھوٹی چھوٹی بات پہ سر پکڑ کے بیٹھ جاتی ہو” وہ ااے ڈپٹ رہی تھی جبکہ رائمہ منہ بنائے سن رہی تھی ۔۔!!
“یار یہ چھوٹی سی بات ہے تمہارے لئیے” اسنے شاک سے سنیا کو دیکھا ۔۔!!
” تمہاری فائیق بھائی تو میری زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئے ہیں ۔جناب کہتے ہیں اگر دھیان نا دیا تو اٹھا کے جیٹ سے ہی زمین پہ پٹخ دوں گا ۔” اسے تو فائیق سے کوئی پرانی دشمنی تھی ۔سنیا بے چاری سر پکڑ کے بیٹھ گئی۔۔!!
“تو رائمہ تمہاری بھلائی کے لئیے ہی کہہ رہے ہیں ۔اور ویسے بھی تم بھائی کو کچھ زیادہ ہی سر پہ سوار کر رہی ہو ۔تم بس اپنا کام کرو ۔اینڈ دیٹس اٹ ۔صرف سے پچپن سے ساٹھ گھنٹے اس جیٹ میں بھائی کے ساتھ گزارنے ہیں نا وہ کسی طرح کمپلیٹ کرو ۔بعد میں وہ اپنے راستے اور تم اپنے راستے ۔ہر چہز کو سائیڈ پہ رکھ کے صرف اپنی ٹریننگ پہ دھیان دو ۔آئی ایم شیور کہ تم نہیں چاہتی ہو گی کہ تمہاری محنت ضائع ہو ہے نا؟” اسے تحمل سے سمجھاتے ہوئے پیار سے کہا ۔رائمہ آنکھیں گھماتے مسکرا دی۔۔!!
“ویسی میری مما والے سارے گٹس تم میں ہیں ۔وہ بھی ایسے ہی ڈانٹتی ہیں” رائمہ شرارت سے بولی جبکہ سنیا اسے آنکھیں دکھاتی چینج کرنے چلی گئی ۔۔!!
_____________________
معاف کریں چا سائیاں بول جمندڑا بولیں
تو ایں بے حد ڈاڈا تے میں ککھوں ہولی
کر دے دور بلاواں صدقہ شاہ مدینہ
اینے جوگی نئیں میں مینوں ازماویں نا
جند بُک بُک روئی
ہور عرض نا کوئی
جھیڑی پل میں تو ہوئی ،مولا معاف کریں ۔۔
تو مولا معاف کریں ۔۔۔
فائیق گراونڈ سے گزر رہا تھا جب اسکے قدم اس آواز پر رکے تھے اسنے سامنے دیکھا تو دو سینئرز اپنے سامنے کھڑے پانچ سینئرز سے یہ کلام سننے میں مصروف تھے فائیق سینے پہ بازو باندھتا ہوا دلچسپی سے انہیں دیکھنے لگا ۔اسے یاد آیا جب وہ بھی نئے نئے سینئرز بنے تھے تب وہ بھی کتنے شوق سے بلاوجہ کا رعب جمانے کے لئیے پاس گزرتے جونئیرز کو کبھی کوئی پنشمنٹ کرتے تو کبھی کوئی رگڑا لگاتے ۔۔!!
کیا حسین دن تھے وہ بھی ۔ایک سولجر کی زندگی کا گولڈن پریڈ وہ ہوتا ہے جو عرصہ اس نے اکیڈمی میں ٹریننگ کے دوران گزارا ہوتا ہے ۔جب بندہ اکیڈمی میں ہوتا ہے تب اسے اس رگڑے پہ رونا آتا ہے لیکن بعد میں وہی بندہ وہ سب رگڑے یاد کر کے ہنستا ہے ۔فائیق کو اس ٹائم ان سینئرز میں اپنا آپ اور جاسم نظر آ رہے تھے ۔۔!!
فائیق کو جاسم کا کہا ہوا ایک فقرہ یاد آیا جو وہ ہمیشہ کہتا تھا ۔۔۔
“رُل تے گئے آں پر چَس بڑی آئی اے” اور فائیق اور جاسم کتنا ہنستے تھے اس فقرے پر ۔۔!!
ان فیکٹ ہر کیڈٹ ہی پاس آوٹ ہونے کے بعد یہ جملہ ضرور کہتا ہے۔۔۔!!
“فائیق نے سامنے دیکھا جہاں وہ دو سینئرز اب ایک دوسرے کے ہاتھ پہ ہاتھ مار کر ہنس رہے تھے ۔فائیق نفی میں سر ہلاتا مسکراتا ہوا آگے بڑھ گیا تھا ۔کیونکہ یہ تو پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان کا معمول تھا ۔۔۔!!
______________________
“مبارکاں مبارکاں مبارکاں سر” طلحہ نے جاسم کو پیچھے سے زور سے گلے لگایا ۔اور وہ جو اپنے دھیان جا رہا تھا اس اچانک افتاد پہ بوکھلا ہی تو گیا ۔۔!!
“کیا ہو گیا ہے طلحہ ؟ پاگل واگل تو نہیں ہو گئے ؟” جاسم نے حیرت سے طلحہ کو دیکھا جو کم از کم جاسم کے سامنے زرا تمیز سے رہتا تھا۔۔!!
“سر پہلے آپ مبارک دیں پھر بتاوں گا کہ ہوا کیا ہے” وہ چہکا اور ساتھ ہی اسامہ کو دیکھا جو مسکراتے ہوئے سر پہ ہاتھ پھیر رہا تھا ۔جاسم کو ان دونوں پہ حیرانی ہو رہی تھی ۔۔!!
“کہیں تم دونوں کی روح تو نہیں ایکسچینج ہو گئی ایک دوسرے کے ساتھ” اسنے کمر پہ ہاتھ رکھ کے تیکھے چتونوں سے ان دونوں کو گھورا ۔وہ دونوں ہنس دئیے ۔۔!!
“اچھا یار بتا بھی دو نا اتنا سسپنس کیوں کرئیٹ کر رہے ہو؟” وہ زچ آ کے بولا کیونکہ وہ دونوں تو کچھ بتا ہی نہیں رہے تھے ۔۔!!
“اوکے اوکے سر بتاتا ہوں بتاتا ہوں” اس سے پہلے کہ جاسم ان دونوں کی کلاس لگاتا طلحہ نے جلدی سے سیز فائر کے انداز میں اپنے ہاتھ کھڑے کئیے پھر اسامہ کو دیکھ کے شرارت سے بولا۔۔!!
“سر یہ جو ہمارے اسامہ صاحب ہیں نا ایک پیارے سے بیٹے کے ابا جان بن چکے ہیں آج” اسنے جوش سے بتایا ۔جاسم نے منہ کھول کے خوشی اور حیرانی سے اسامہ کو دیکھا جیسے یقین کرنا چاہ رہا ہو کہ طلحہ سچ بول رہا ہے یا نہیں ۔اسامہ نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلا کے گویا اسے یقین دلانا چاہا ۔۔!!
جاسم نے آگے بڑھ کر جوش سے اسامہ کو گلے لگایا ۔۔!!
“اتنی خوشی کی بات تم لوگ مجھے اب بتا رہے ہو ” اسنے ان دونوں کے کان کے کان کھینچے تو وہ ہنس دئیے۔۔!!
“سر اب تو تھوڑی سی عزت کر لیں ۔آخر کو اس معاملے میں اب میں آپ سے زرا سینئیر ہوں” وہ بھی اسامہ تھا کیسے باز آتا ۔اسی لئیے اپنا کان چھڑاتے ہنستا ہوا بولا ۔طلحہ نے اپنی مسکراہٹ دبائی ۔جاسم نے اسے آنکھیں دکھائیں ۔۔!!
“شرم کرو اور یہ بتاو کب ملا رہے ہو ہمیں ہمارے چیمپ سے “
“سر جب آپ کہیں ۔کہیں گے تو اسی ویک اینڈ میں چلتے ہیں ۔” وہ اپنا پلان بتا رہا تھا جبکہ وہ دونوں واقعی پرجوش تھے اپنے چھوٹے سے چیمپ سے ملنے کے لئیے ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *