Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06

Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06

فائیق نے بالوں میں ہاتھ پھیر کے گہرا سانس لے کے گویس خود کو کمپوز کیا ۔۔!!
“اوکے آپ روو نہیں ۔میں آئندہ آپکے سامنے نہیں آوں گا ۔مے یو گو ناو” وہ زمین پہ نظریں گاڑے سنجیدگی سے بولا ۔رائمہ نے بے یقینی سے نظریں اٹھا کے اسے دیکھا ۔وہ آج تک اسکا کوئی بھی رویہ نہیں سمجھ پائی تھی ۔اسے لگا وہ ناراض ہو گیا ہے ۔کہیں اسکا بدلہ اکیڈمی میں نا لے اس لئیے گھبرا کے جلدی سے بولی۔۔!!
“آ…آئی ایم سوری سر ! میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔پلیز آپ ناراض نا ہوں” اسکے التجائیہ لہجے پہ فائیق نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
” مس رائمہ ، ناراض وہاں ہوا جاتا ہے جہاں آپکا کوئی رشتہ ہو اور میرا نہیں خیال کے آپ کا میرے سے ایسا کوئی رشتہ ہے کہ میں آپ سے ناراض ہوں “بڑے جتاتے لہجے میں زومعنی انداز میں بولا گیا تھا ۔رائمہ کچھ بھی سمجھے بغیر مخض سر ہلا کے اسے اللہ خافظ بول کے چل دی ۔اسکے جاتے ہی فائیق نے ایک زوردار مکا گاڑی کے بونٹ پہ مار کے گویا اپنا اشتعال کم کیا تھا۔۔!!
_______________
رائمہ وآپس آئی تو جاسم، مصباح اور سنیا اسے دروازے پہ ہی مل گئے ۔مصباح اور سنیا جکدی سے اس تک آئیں جب کہ جاسم فائیق کے رویے سے بری طرح الجھ چکا تھا ۔اور اسکی یہ الجھن بس اب فائیق ہی سلجھا سکتا تھا ۔۔!!
“رائمہ یہ بھائی تمہیں اس طرح کیوں لے کے گئے تھے ؟ اور انہوں نے کچھ کہا تم سے؟” سنیا نے اسکا بازو پکڑتے ہی فکرمنفی سے سوال شروع کر دئیے ۔کیونکہ فائیق کا کچھ پتا بھی نہیں تھا ایویں بلاوجہ ڈانٹ دیا ہو تو پھر۔۔؟
“سنیا میں نے تمہیں بتایا تھا نا ایک ہمارے سینئیر جنہوں نے مجھے بلاوجہ ڈانٹا تھا ” ۔اسنے اسے یاد دلانے کی کوشش کی ۔سنیا کو جیسے ہی یاد آیا اسنے اچنبھے سے رائمہ کودیکھا ۔۔!!
“ڈونٹ ٹیل می ڑائمہ کہ فائیق بھائی ہی وہ سینئیر ہیں” وہ نفی میں گردن ہلاتے ہوئے بولی۔رائمہ نے اسے یقین دلانے کے لئیے اثبات میں سر ہلایا ۔۔!!
“یار بھائی کی باتوں کا برا نا منانا ۔وہ بیت اچھے ہیں پر کبھی کبھی ہائپر ہو جاتے ہیں” سنیا نے اسے گلے لگاتے ہوئے شرمندگی سے کہا ۔رائمہ نے مسکرا کے اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
“اٹس او کے یار، تمہارے بھائی ہیں تو وہ میرے بھی بھائی ہوئے ۔تم ٹینشن نا لو” اسکی اس بات سے سنیا اور مصباح تو مطمئن ہو چکی تھیں جبکہ جاسم کو اس ساری سیچویشن پہ ہنسی آ گئی۔کیونکہ وہ فائیق کی آنکھوں میں رائمہ کے لئیے امڈتے جزبات دیکھ چکا تھا ۔۔!!
“بھئی فائیق تیری تو نئیا چلنے سے پہلے ہی ڈوب گئی” وہ تصور میں فائیق سے مخاطب تھا ۔۔!!
رائمہ اور مصباح کے جانے کے بعد جاسم اور سنیا بھی گھر وآپس آ گئے ۔سنیا اسکے رویے سے الجھی ہوئی تھی ۔لیکن جاسم نے کافی حد تک اسکی الجھنیں سلجھا دیں تھیں اور کافی حد تک اسے اپنی باتوں سے مطمئن کر دیا ۔لیکن اسکی خود کی کیفیت اضطراری ہو رہی تھی ۔وہ اب جلد از جلد فائیق سے مل کے تمام الجھنیں سلجھانا چاہتا تھا ۔۔!!
_________________
وہ اس ٹائم اپنے کمرے میں بیڈ پہ اوندھے منہ لیٹا بائیں ہاتھ سے مسلسل اپنی پیشانی مسل رہا تھا ۔اسنے اپنی زندگی کا صرف ایک ہی مقصد سیٹ کیا تھا اور وہ تھا اپنی اس پاخ سر زمین کے لئیے کچھ کرنے کا ۔وہ چھوٹا سا تھا جب سے اسے جہازوں سے عشق تھا ۔وہ اگر اپنے چھت سے کوئی فائیٹر جیٹ گزرتا ہوا دیکھ لیتا تو کتنی ہی دیر تک اسکی نگائیں آسمان پر رہتیں ۔اسے کلاس میں جب کوئی ڈرائنگ بنانے کا بولا جاتا تو بھی وہ جیٹ ہی بناتا ۔اسنے اپنے روم میں بھئ محتلف جیٹس کی طرح طرح کی ڈرائینگز بنا کر دیواروں سے چپکائیں ہوئیں تھیں ۔ایک دفعہ اسماء بیگم(فائیق کی ماما) نے اسکے روم کی صفائی کے دوران وہ تمام ڈرائنگز اتار کے ردی والے کو دے دیں تو کئی دن تک وہ بیچارہ بخار میں مبتلا رہا ۔کیونکہ وہی تو اسکی دنیا تھی ۔اسکا روم اسکا ڈریم لینڈ تھا ۔اس واقعے کے بعد کبھی کسی نے اسکے روم سے کوئی ڈرائنگ نہیں ہٹائی تھی ۔فائیق کے بابا اضرار صاحب اور انکے بھائی افتخار صاحب کا اپنا لیدر کا بہت وسیع و عریض پیمانے پر بزنس تھا ۔اور اللہ کا کرم کہیں کہ ان دونوں میں اتفاق بہت تھا ۔اور انکے بچوں میں بھی اتفاق بیت تھا ۔اسی لئیے وہ آج تک جائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے تھے ۔جاسم فائیق کا ہم عمر ہی تھا کیونکہ ضرار صاحب کو شادی کے پانچ سال بعد اللہ نے اولاد سے نوارا تھا ۔جاسم اور فائیق شروع سے ہی بیسٹ فرینڈ تھے ۔جاسم اور سنیا میں بھی پی اے ایف میں جانے کا شوق فائیق کے جنون کی وجہ سے ہی پیدا ہوا تھا ۔فائیق نے اپنے اس جنون کو پورا کرنے کے لئیے بہت محنت کی تھی ۔جاسم کا تو سنیا سے نکاح پانچ سال پہلے ہو چکا تھا ۔تب فائیق کو سب نے بہت کہا شادی کرنے کے لئیے لیکن وہ نہیں مانا ۔۔!!
“امی مجھے کوئی شادی وادی نہیں کرنی ۔اچھی بھلی زندگی گزر تو رہی ہے ۔بیوی بچوں کا کھڑاک ضرور بالنا ہے” وہ انکی ایک ہی رٹ پہ جنجھلا سا گیا تھا ۔۔!!
“دیکھو فائیق جاسم کا نکاح بھی ہو چکا ہے ۔وہ بھی تو تمہارا ہی ہم عمر ہے نا ۔تو بیٹا تم بھی مان جاو ، فائیق اگر کوئی پسند ہے تو بھی بتا دو ۔ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہو گا” وہ اسکے بال سہلاتے ہوئے پیار سے بولیں ۔فائیق نے برا سا منہ بنا کے آنکھیں گھمائیں ۔۔!!
” امی مجھے بس ائیر فورس پسند ہے ۔آپ اسی سے میری شادی کروا دیں” سنجیدگی سے کہتے ہوئے آخری جملہ شرارت سے بولا ۔اسماء بیگم سر پکڑ کر رہ گئیں ۔۔!!
اسے کبھی بھی لڑکیوں میں انٹرسٹ نہیں رہا تھا اور ویسے بھی ائیر فورس کی لائف اتنی بزی ہوتی ہے کہ ایسے کاموں کا ٹائم بھی نہیں ملتا ۔اور اسکی اچھی بھلی زندگی میں خلل تو تب پڑا جب اسنے رائمہ کو دیکھا ۔۔!!
۔شروع شروع میں تو اسے خود پہ غصہ آتا کہ وہ انتیس سالہ مرد ہو کے ایسی ٹین ایجرز واکی حرکتیں کر رہا ہے ۔ہاں اسے دیکھنے کے لئیے دل بے قرار رہنا یہ ٹین ایجر والی حرکتیں ہی تو تھیں نا۔لیکن بعد میں اس نے خود سے ہار مان لی تھی لیکن۔۔۔۔۔!!
لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ کوئی لڑکی اس سے اتنا بھی ڈر سکتی ہے کہ رونا شروع کر دے ۔ائیر فورس میں ریتے ہوئے اسکا پالا بہت سی لڑکئوں سے پڑا تھا لیکن کوئی بھی ایسی نہیں تھی کہ اسکے سامنے آتے ہی رونا شروع کر دے ۔۔!!
“شٹ اپ فائیق ضرار، تمہاری فرسٹ پرائیورٹی اپنا ملک ہے ۔اور ویسے بھی وہ ابھی کیڈٹ ہے جب وقت آئے گا تو دیکھا جائے گا۔اس طرح کی تھرڈ کلاس حرکتیں کرنا بند کرو ۔بی میچور یار” وہ آنکھیں بند کر کے ہی بڑبڑایا ۔اسکی آواز میں جنجھلاہٹ کا عنصر نمایاں تھا ۔تبھی اسے اپنے پاس ہی جاسم کا زوردار قسم کا قہقہہ سنائی دیا ۔فائیق نے کیٹے لیٹے ہی آنکھین گھمائی کیونکہ جانتا تھا حساب کتاب کا ٹائم آ چکا ہے ۔۔۔!!
“محترم اپنے خیالوں میں پتا نہیں کیا سوچے جا رہے ہیں اور وہ محترمہ آپکو بھائی بنا چکی ہیں اسکواڈرن لیڈر فائیق ضرار” جاسم نے ہنستے ہوئے اسکا موبائل پکڑا ۔۔!!
اسکی بات پہ فائیق نے ایک جھٹکے سے اٹھ کے اسے اسے کھا جانے واکی نظروں سے گھورا ۔۔!!
“استفر اللہ کیا بکواس کر رہا ہے ” وہ دانت پیستے ہوئے بولا اور اس سے اپنا موبوئل چھپٹا جو کہ جاسم نے بہت شرافت سے اسکے حوالے کر دیا ۔۔!!
“سچ کہہ رہا ہوں ۔یقین نہیں آ رہا تو سنیا سے کنفرم کر لے” جاسم تو آج اسے اچھی طرح زچ کرنے کے موڈ میں تھا۔۔!!
“نا کر یار ، اسکے رونے کی وجہ سے پہلے ہی میرا دل جلا ہوا ہے تو اور جلا ” وہ اپنے اوپر سے چادر ہٹاتا اٹھ کے بیٹھتا ہوا معصومیت سے بولا ۔۔!!
“اتنا پیار کرتا یے اس سے؟” اب کی بار جاسم نے سنجیدگی سے اسکے چہرے کے تاثرات دیکھے ۔فائیق نے اسے دیکھتے ہوئے اپنے پیشانی مسلی۔۔!!
“یار پیار نہیں کرتا ۔بس وہ اچھی لگتی ہے مجھے ۔اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھ کے تکلیف ہوتی ہے ” اسکے لہجے میں بے چارگی تھی ۔۔!!
” تو میرے یار یہ محبت کی ہی نشانیاں ہیں ۔مان جا کے تجھے اس سے محبت ہو گئی ہے” جاسم نے اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھ کے تھپتھپایا۔۔!!
“میں خود کچھ سمجھ نہیں پا رہا یار۔مجھے جب وہ نظر آتی ہے میں ہر چیز بھول جاتا ہوں ۔اسکے علاوہ باقی ہر منظر کہیں پس پشت میں چلا جاتا ہے ۔دکھتی ہے تو بس وہی ” وہ آنکھیں بند کئیے مدھم آواز میں بول رہا تھا ۔۔!!
“ویسے یار میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھے تیرا یہ مجنونانہ روپ بھی دیکھنے کو ملے گا” وہ مسکراہٹ دبائے بڑی سنجیدگی سے بولا تو فائیق نے مسکراتے ہوئے اسکی کمر میں ایک دھموکا رسید کیا۔۔!!
” میں کوئی مجنوں بنا نہیں پھر رہا ۔اگر اللہ نے اسے میرے نصیب میں لکھا ہے تو وہ مجھے ہی ملے گی اور اگر نہیں لکھا تو لاکھ کوششوں کے باوجود بھی میری نہیں ہو سکے گی ۔میں بس اللہ سے دعا ہی کر سکتا ہوں ۔وہ جو بھی کرے گا بے شک بہتر ہی ہوگا”اسنے ہر بات وضاحت سے بیان کی ۔جاسم نے تائیدی انداز میں سر ہلایا ۔اور دل سے اس کے لئیے دعا کی ۔۔!!
“او شٹ کمینے ، میں تجھے بلانے آیا تھا تایا جان بلا رہے ہیں۔تو نے مجھے باتوں میں لگا دیا ۔ جلدی سے آ جا” وہ اسکے بیڈ سے اٹھتا ہوا بولا ۔فائیق نے صوفے سے اٹھا کے شرٹ پہنی اور اسکے ساتھ ہو لیا ۔اور دل میں دعائے خیر کر رہا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر ابو نے بلایا ہے تو کوئی ضروری کام ہی ہو گا ۔۔!!
______
“مصباح رائمہ کو گیٹ پہ ہی ڈراپ کر کے چلی گئی کیونکہ شام ہو رہی تھی ۔رائمہ کے دماغ میں پتا نہیں کیا چل رہا تھا وہ بھاگتی ہوئی لاونج میں آئی ۔عبید صاحب وہیں پہ بیٹھے ہوئے تھے ۔وہ جلدی سے انکے گلے لگ کے رونا شروع ہو گئی ۔عطید صاحب تو اس افتاد پہ ہکا بقا رہ گئے جبکہ کچن سے نکلتی صوبیہ بیگم نے حیرانی سے اسے دیکھا ۔ان دونوں کو جتنا یاد پڑتا تھا انہوں نے کبھی اسے اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھا تھا ۔۔!!
“رائمہ؟ میری جان، میرا بچہ کیا ہوا ہے ؟ آپ تو مصباح کے ساتھ شاپنگ پہ گئی تھی نا ۔ادھر کچھ ہوا ہے؟” وہ تو اسکے رونے پہ ہی بوکھلا گئے تھے ۔اسکے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے پریشانی سے بولے ۔رائمہ بس کچھ بھی کہے بغیر روئے جا رہی تھی ۔۔!!۔
“صوبیہ آپ پانی لائیں ۔بابا کی جان ادھر دیکھو میری طرف” انہوں نے صوبیہ بیگم کو پانی لانے کا بولا پھر اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کے اپنے سامنے کیا ۔۔!!
” با … بابا ..مم..مجھے بھائی چاہئیے ” وہ ہچکیوں میں روتی ہوئی بولی ۔صوبیہ بیگم تو کیا عبید صاحب بھی حیران ہو گئے ۔۔!!
“اچھا آپ پہلے یہ پانی پیو ۔پھر بابا کو بتاو ہوا کیا ہے ” انہوں نے صوبییہ بیگم سے گلاس لے کے اسکے منہ خو لگایا اسنے دو گھونٹ پانی بھر کے پھر ہاتھ سے پیچھے کر دیا ۔۔!!
“بابا دیکھیں مصباح کے بھی بھائی ہیں ۔وہ انکے ساتھ شاپنگ پہ جاتی ہے ۔آج مجھے میری فرینڈ ملی اسکے بھی بھائی ہیں ۔آپکو پتا ہے وہ بھی ادھر اکیڈمی میں ہی ہوتے ہیں ۔میرے بھائی بھی ہوتے تو ہم دونوں بھی ایک ساتھ شاپنگ پہ جاتے ،مزے کرتے” وہ انہیں بتاتے ہوئے پھر سے رونا شروع ہو گئی ۔وہ اس ٹائم بالکل ہی ام میچور بچی لگ رہی تھی ۔۔!!
” او تو میرا بچہ، آپ خود ہی تو کہتی ہو کہ بابا آپ ہی میرے بھائی میرے بیسٹ فرینڈ بھی ہو تو آج کیا ہوا ۔رہی بات شاپنگ کرنے کی اور آئس کریم کھانے کی تو ہم ابھی چلتے ہیں ۔آپ خود کو رو رو کے کیوں ہلکان کر رہی ہو۔اور بابا کو بھی اتنا پریشان کر دیا” وہ اسکا سر چومتے ہوئے شفقت سے بولے ۔رائمہ تو انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھی ۔عبید صاحب اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد ہی تھے اس لئیے رائمہ کے کوئی کزن وغیرہ بھی نہیں تھے ۔۔!!
“آئم سوری بابا جان۔ میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی ۔پتا نہیں کیوں مجھے آج اتنا فیل ہوا” وہ انکے گال پہ بوسہ دیتی ہوئی پیار سے بولی ۔۔!!
“صوبیہ آج ہم باہر ڈنر کریں گے ۔اور اپنے بیٹے کو ڈھیر ساری شاپنگ بھی کروائیں گے ۔اس لئیے جلدی سے تیار ہو کے آجائیں” انہوں نے ادھر ہی بیٹھے ہوئے پلان بنایا ۔صوبیہ بیگم مسکراتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئیں ۔انکا بھی دل چاہتا تھا کہ انکا بھی ایک بیٹا ہوتا لیکن جو اللہ کو منظور۔۔!!
” اور بابا مجھے آپ سے ڈھیر ساری باتیں بھی کرنی ہیں ۔ہم شاپنگ سے وآپس آ کے دیر رات تک باتیں بھی کریں گے” وہ انکے کندھے پہ سر رکھتے ہوئے جوش سے بولی ۔انہوں نے پیار سے اسکا سر چوما۔۔!!
“جیسا میرا بچہ کہے گا ویسے ہی کریں گے ۔پر آج کے بعد میں آپکی آنکھوں میں آنسو نا دیکھوں ” انہوں نے پیار سے کہتے آخر میں مصنوعی خفگی سے اسے تنبیعہ کی تو وہ مسکرا دی ۔۔!!
“بابا آپ دنیا کے بیسٹ بابا ہیں ۔میرے بھائی ،میرے بیسٹ فرینڈمیرا سب کچھ آپ ہیں ۔اور رائمہ آپ سے بہت زیادہ پیار کرتی ہے” وہ انکی گردن کے گرد بازو حمائل کرتے ہوئے “بہت” پہ زور دے کے بولی ۔۔!!
“اور بابا بھی اپنے بچے سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں ہمیشہ خوش رہو” انہوں نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے پیار سے کہا رائمہ سرشاری سے مسکرا دی ۔۔!!
________________
“فائیق اب تمہارا کیا ارادہ ہے ؟” وہ سب اس ٹائم ڈائیننگ ٹیبل پہ بیٹھے ڈنر کر رہے تھے جب ضرار صاحب نے فائیق سے پوچھا ۔وہ سمجھ گیا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہتے ہیں لیکن پھر بھی انجان بنتا ہوا بولا ۔۔!!
“کس بارے میں بابا؟میں کچھ سمجھا نہیں” سنجیدگی سے نا سمجھی کا تاثر دیتے ہوئے پوچھا گیا ۔ضرار صاحب نے کھانے سے ہاتھ روک کر طنزیہ نظروں سے اسکی جانب دیکھا ۔کیونکہ وہ بہت اچھے سے جانتے تھے کہ وہ کیوں اگنور کر رہا ہے انکی بات کو۔۔۔!!
“تم اچھے سے جانتے ہو کہ میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔اگر پھر بھی میرے منہ سے سننا چاہتے ہو تو میں بتا دیتا ہوں۔اپنی عمر دیکھو ،انتیس کے ہو گئے هو….مزید دو سالوں تک بوڑھے ہو جاو گے پھر کون دے گا تمہیں لڑکی” ضرار صاحب کے اتنے اطمینان سے کہنے پر فائیق کو تو شاک لگا ہی تھا جبکہ باقی سب کے چہروں پر دبی دبی مسکراہٹ چھا گئی ۔۔!!
“خدا کا خوف کریں بابا …اتنی جللدی کون بوڑھا ہوتا ہے ۔اور ویسے بھی مجھے کون سا کوئی ایمرجنسی ہے کہ شادی کرنا بہت ضروری ہے ..کر لوں گا شادی بھی جب ٹائم آئے گا” وہ زرا سنبھل کے بولا ۔ساتھ ہی رائمہ کا خیال دل میں آیا ۔کم از کم وہ تین سال تک تو اسکے لئیے اپنا پروپوزل نہیں بھیج سکتا تھا ۔۔!!
“فائیق اس دفعہ مجھے تمہاری ایک بھی نہیں سننی ..سنیا کی رخصتی اسکے پاس آوٹ ہونے کے بعد ہی ہو گی لیکن اس سے پہلے تمہاری شادی کرنا چاہتے ہیں ۔اگر کوئی لڑکی پسند ہے تو بتا دو ۔ورنہ تمہاری امی اور چچی یہ کام خوشی سے کر لیں گی” ضرار صاحب بھی گویا آج اپنی منوانے کے موڈ میں تھے ۔اور فائیق سوچ رہا تھا کون سے گھڑی تھی جب وہ اکیڈمی سے آیا ۔۔!!
“بابا بس دو تین سال انتظار کر لیں ۔پھر میں کوئی بہانہ نہیں کروں گا آئی سوئیر” اسنے گویا التجا کی ۔۔!!
“کوئی وجہ بھی تو ہونی چاہئیے نا انتظار کی، تم فضول میں ہر دفعہ کوئی نا کوئی بہانہ گھڑ لیتے ہو ..اب تک ٹائم ہی لیتے آ رہے ہو ..ٹھیک ہے اگر ہم تمہیں اور دو ،تین سال کا ٹائم دے بھی دیں تو کیا گارنٹی ہے کہ تم تب ہماری مان جاو گے۔تب تمہیں اور تین ،چار سال کا ٹائم چاہئیے ہو گا” فائیق کی ایک ہی ضد پہ وہ جنجھلا سے گئے تھے ۔لہجہ زرا سا بلند تھا ۔فائیق نے التجائیہ نظروں سے جاسم اور افتخار چاچو کو دیکھا ۔ باقی سب کھانے میں مصروف تھے ۔افتخار صاحب نے فائیق کو نظروں ہی نظروں میں گویا حوصلہ دیا تھا ۔افتخار صاحب کا ہمیشہ ہی جاسم اور فائیق سے بڑا فرینڈلی قسم کا ریلیشن ہوا تھا ۔فائیق اور جاسم کو اگر کوئی بھی بات منوانی ہوتی تو وہ افتخار صاحب کا سہارا لیتے۔۔!!
“بھائی صاحب اگر وہ کچھ ٹائم مانگ رہا ہے تو دے دیں ۔ہم زور زبردستی تو نہیں کر سکتے نا”افتحار صاحب نے فائیق کے لئیے آواز بلند کی تھی ۔فائیق دل ہی دل میں انکا مشکور ہوا ۔۔!!
” افتخار تم اچھے سے جانتے ہو اگر اسے ٹائم دے بھی دیا تو بھی اسکا رویہ یہی رہے گا” وہ تحمل سے بولے ۔کیونکہ وہ کبھی بھی افتخار صاحب کی کسی بھی بات سے انکار نہیں کر سکے تھے۔۔!!
” بھائی صاحب میں گارنٹی لیتا ہوں اسکی …آپکو کوئی شکایت نہیں ہو گی..اگر پھر اس نے کوئی آئیں شائیں بائیں کرنے کی کوشش کی تو میں دیکھ لوں گا” پرزور انداز میں التجا کی گئی تو ضرار صاحب کو مانتے ہی بنی ۔فائیق نے مشکور نظروں سے افتخار صاحب کو دیکھا ۔وہ اسکی جانب دیکھتے ہوئے مسکراہٹ دبا گئے ۔۔!!
______________________
“جاسم…بات سنیں” وہ اس ٹائم اپنے کمرے میں بیٹھا لیپ ٹاپ پہ کوئی کام کر رہا تھا جب اسکے پاس آ کے بہت پیار سے بولی۔۔!!
” جی ..بولو” وہ لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹائے بغیر سنجیدگی سے بولا ۔وہ جانتا تھا سنیا کے اتنے پیار بھرے لہجے کے پیچھے ضرور کوئی نا کوئی ڈیمانڈ ہی ہو گی ۔۔!!
“پہلے ادھر میری طرف دیکھیں ..پھر ہی کچھ بول پاوں گی نا…” وہ دائیں ہاتھ سے اسکا چہرہ اپنے طرف موڑتے ہوئے بولی ۔فائیق نے ایک نظر اسے دیکھا پھر مسکراہٹ دبائے دوبارہ سے نظریں لیپ ٹاپ پہ جما لیں ۔۔!!
“یار سنیا جو بھی بولنا ہے پلیز جلدی بولو ۔میں اس ٹائم بہت بزی ہوں” اسکی انگلیاں مسلسل کی بورڈ پہ چل رہی تھیں ۔۔!!
” اوکے ..آپ کر لیں اپنا کام .. میں آپکے فری ہونے کا ویٹ کر لیتی ہوں ” وہ مسکرا کے کہتی ہوئی بیڈکراون سے ٹیک لگا کے بیٹھ گئی ۔گویا آج جاسم کو اسکی بات سننا ہی پڑنی تھی ۔۔۔!!
تھوڑی دیر تو جاسم اپنے کام میں مصروف رہا لیکن پھر اسے اپنا دھیان کام پر سے ہٹانا ہی پڑا کیونکہ سنیا کبھی اسکے بال کھینچ رہی تھی تو کبھی اسکے کان ۔اسے اب سمجھ میں آئی تھی کہ وہ کیوں بڑے آرام سے بیٹھ گئی تھی ۔گویا آج اسکا ارادہ جاسم کو تنگ کرنے کا تھا ۔۔!!
“آآآآ کیا ہو گیا ہے سنیا ..گنجا کرنے کا ارادہ ہے کیا؟” وہ اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتےخونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بولا ۔کیونکہ سنیا نے اسکے بال بہت زور سے کھینچے تھے ۔۔!!
” تو آپ اس گندے سے لیپ ٹاپ کے لئیے مجھے کیوں اگنور کر رہے ہیں ؟” اسنے غصے سے کہتے اسکا لیپ ٹاپ بند کیا ۔جاسم پہلے تو اسے خاموشی سے دیکھتا رہا ۔پھر ایک دم سے ہنس دیا ۔کیونکہ وہ کم از کم”اب” سنیا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔!!
“اوکے.. بولو آپ …کیا ہو گیا ہے ؟”وہ اسکی ناک کی ٹپ کو انگلی سے چھوتا ہوا بولا۔۔!!
” جاسم آپ جانتے ہیں کہ کل ہم وآپس جا رہے ہیں ..اس لئیے مجھے آپ سے کوئی اچھا سا گفٹ چاہئیے” اسکے لہجے میں کتنا مان تھا ۔وہ ایسی ہی تھی ہمیشہ سے ۔خود سے بول کے جاسم اور فائیق سے گفٹ لینے والی ۔۔!!
جاسم نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئیے۔۔!!
” آہاں یہ بات ہے.. تو بتائیے میڈم کیا چاہئیے آپکو؟” اسنے پیار سے کہا ۔سنیا نے سر اٹھا کر نروٹھے انداز میں اسکی جانب دیکھا ۔۔!!
” لوگ دوسری لڑکیوں کو اتنے اچھے اچھے گفٹس دیتے ہیں اور ایک آپ ہیں جاسم…کہ آپکو یہ بھی مجھے ہی بتانا پڑتا ہے کہ آپ اپنی منکوحہ کو کیا گفٹ دیں گے ” وہ غصے سے نان اسٹاپ شروع ہو چکی تھی ۔اور جاسم مسکراہٹ دبائے مسلسل اسے آنکھوں میں اتار رہا تھا ۔۔!!
“یار اب مجھے تھوڑی نا پتا ہے کہ لڑکیوں کو کس طرح کے گفٹس دیے جاتے ہیں” اسکے لہجے میں بھی بے چارگی تھی ۔کیونکہ اس معاملے میں وہ واقعی نکما تھا ۔۔!!
” افففووووو جاسم…آپ..آپ بالکل بھی اچھے نہیں ہیں ۔بندہ کوئی واچ کوئی چاکلیٹ ایون کے ایک فلاور ہی گفٹ کر دیتا ہے ..لیکن نہیں… آپکو کیا پتا کہ دوسروں کا دل کیسے رکھتے ہیں” غصے سے بولتے ہوئے اسکی آواز بھرا گئی تھی وہ اٹھ کے جانے لگی تو جاسم نے سرعت سے اسکا ہاتھ پکڑ کے اسے جانے سے روکا ۔اور اسے اپنے سامنے بیٹھایا۔!!
” کل صبح سے پہلے تمہیں تمہارا گفٹ مل جائے گا لیکن پلیز مجھ سے ناراض نا ہوا کرو۔اِدھر درد ہوتا ہے..بہت شدید” اسنے گھمبیر اور مدھم لہجے میں کہتے اسکا ہاتھ پکڑ کے اپنے سینے پہ دل کی جگہ رکھا ۔سنیا اپنے ہاتھ کے نیچے اسکے دل کی دھڑکن واضح محسوس کر سکتی تھی ۔اسنے ایک نظر اپنے ہاتھ پہ دھرے اسکے ہاتھ کو دیکھا پھر نظریں اٹھا کے اسکے وجیہہ چہرے کو ۔اور یہییں اسکی ناراضگی ایک پل میں ہوا ہوئی تھی۔۔!!
” آئی ایم سو سری جاسم .. پتا نہیں میں آپکے سامنے ہمیشہ ہی ایسے اوورریکٹ کر جاتی ہوں ۔میں چاہتی ہوں آپ بس مجھے سوچیں..جتنا میں آپکو مس کرتی ہوں آپ بھی مجھے اتنا ہی مس کریں ..بس اور مجھے کچھ نہیں پتا” اسکے لہجے میں الجھن تھی جیسے وہ خود بھی اپنے رویے کو سمجھنے سے قاصر ہو ۔جاسم نے اسکے ہاتھ کی پشت پہ اپنے لب رکھ دئیے۔سنیا کو اپنے اندر تک سکون سا اترتا محسوس ہوا ۔۔!!
“اور تمہاری ہر ہر چاہ کو پورا کرنا میں اپنا فرض سمجھتا ہوں”اسکے لہجے میں اتنی محبت اتنا مان تھا کہ سنیا کا ہر گلہ ہر شکوہ اس ایک جملے کی نذر ہو گیا ۔وہ کھل کے مسکرا دی۔۔!!
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *