Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11
“میں صدقِ دل سے اللہ کو خاضر ناظر جان کر خلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا خامی و ناصر رہوں گا ” یہ خلف انہوں نے اٹھایا تھا اور اپنے اس عہد پہ ان الفاظ پہ انہیں اپنی آخری سانس تک قائم رہنا تھا ۔۔۔!!
پاسنگ آوٹ تقریب حتم ہونے کے بعد سب آفیسرز(ہاں آج سے وہ سب آفیسرز ہی تو تھے) اپنے گھر والوں سے مل رہے تھے ۔رائمہ بھی اپنے پیرنٹس کے پاس آئی ۔۔۔!!
“ہا بابا فائنلی مجھے میری منزل مل گئی” جوش بھرا لہجہ اسکی خوشی کی عکاسی کر رہا تھا وہ دونوں بانہیں پھیلائے انکے گلے لگی ۔پھر شائستہ بیگم کے ۔انہیں نے اسکا ماتھا چوما ۔ آج انہیں رائمہ پہ اتنا پیار آ رہا تھا کہ حد نہیں ۔۔۔!!
“تو ماما اب بتائیں آپکی بیٹی نے کر دکھایا یا ابھی بھی آپکو میری قابلیت پہ کسی قسم کا کوئی شک و شبہ ہے؟؟” شائستہ بیگم سے پوچھتے اس نے عبید صاحب کی جانب دیکھ کے مسکراہٹ دبائی وہ بھی مسکرا رہے تھے ۔۔!!
“کوئی شک و شبہ نہیں رہا میرا بچہ ، ہمیشہ خوش رہو ” انہوں نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کے صدق دل سے دعا دی ۔۔!!
وہ ابھی ان سے باتیں کر رہی تھی ج سنیا اسے ڈھونڈتے ہوئے اس تک پہنچی ۔اس نے اپنے ماما بابا سے سنیا کا تعارف کروایا ۔جبکہ سنیا تو اس کے والدین کو دیکھ کے حیران ہو رہی تھی وہ تو دونوں اتنے ینگ تھے ۔۔!!
“آنٹی مجھے تو لگا آپ رائمہ کی سسٹر ہیں ۔آپ تو کہیں سے بھی اسکی ماما نہیں لگتیں” اس نے حیرانی سے شائستہ بیگم سے کہا ۔اسکی تو حیرانی ہی حتم ہونے میں نہیں آ رہی تھی ج کہ وہ تینوں ہی ہنس دئیے ۔۔!!
“شرم کرو سنیا کی بچی کیا بولے جا رہی ہو ماما ہیں میری ” رائمہ نے اسے مصنوعی گھورا وہ مسکراہٹ دبا گئی ۔۔!!
“ہائے کاش میرے مما بابا بھی اتنے ہی ینگ ہوتے” اس نے مصنوعی آہ بھری ۔رائمہ کی تو ہنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی اسکی اول فول باتوں پہ۔۔!!
“تو بیٹا ہم بھی آپکے ماما بابا ہی ہیں” عبید صاحب نے شفقت سے اسکے سر پہ ہاتھ رکھا وہ تشکر سے مسکرا دی ۔۔!!
“تھینک یو سو مچ انکل “
“تم ادھر میرے ساتھ آو تمہیں کسی سے ملوانا ہے ۔انکل،انٹی ہم ابھی آتے ہیں” وہ اسے اپنے ساتھ گھسیٹتی ہوئی لے گئی ۔۔!!
“ارے ارے رکو پاگل کدھر گھسیٹ رہی ہو مجھے” وہ اسکے ساتھ تقریباا بھاگ رہی تھی ۔۔۔!!
“ارے چپ کرو پہلے ماما بابا اور چچا چچی سے ملواتی ہوں پھر کسی اسپیشل ون سے ملوانا ہے” وہ اسے اپنے ساتھ لے گئی اور اپنے گھر والوں سے اسکا تعارف کروائے ۔رائمہ کو بھی اسکے ماما بابا اور چچا چچی بہت اچھے لگے تھے ۔انہوں نے بہت پیار سے بات کی ۔۔!!
پھر سنیا اسے کچھ فاصلے پہ کھڑے فائیق اور جاسم کی جانب لے جانے لگی ۔۔!!
“اگر تیرا ارادہ فائیق سر سے ملوانے کا ہے تو بہت مہربانی مجھے نہیں ملنا ان سے ” وہ اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑاتی آہستہ آواز میں بولی ۔یہ آہستہ آواز بھی فائیق کے کانوں تک پہنچ چکی تھی کیونکہ وہ انکے بالکل پاس پہنچ چکے تھی ۔مجبواا اسے فائیق کو سلام کرنا پڑا ۔جبکہ وہ جاسم سے بہت خوشگوار انداز میں ملی تھی ۔۔!!
“مجھ سے بات کرتے تو جان جاتی ہے محترمہ کی جیسے میں تو انہیں کھا جاوں گا ” فائیق نے گلاسسز ٹھیک کرتے کڑھ کے سوچا ۔جاسم نے داڑھی کھجانے کے بہانے اسکے تاثرات دیکھے ۔پھر رائمہ کی کسی بات کا جواب دیا ۔۔!!
” اچھا ان سےملو یہ ہیں میرے شوہر جاسم افتخار” وہ جو بڑا مسکراتے ہوئے دیکھ رہی تھی سنیا کی اس بات پہ ایک جھٹکے سے گردن موڑ کے اسے دیکھا ۔جیسے یقین کرنا چاہ رہی ہو کہ کیا وہ واقعی سچ کہہ رہی ہے یا مزاق کر رہی ہے ۔سنیا نے نچلا لب دانتوں تلے دبائے اثبات میں سر ہلا کہ جیسے یقین دلایا ۔۔!!
“سنیا کی بچی تمہیں تو میں بعد میں بتاوں گی تین سال سے مئرے ساتھ ہو اور اتنی اہم بات بتانا ضروری نہیں سمجھا ” وہ اس خبر کے شاک کے زیرِ اثر اس ٹائم بھول چکی تھی کہ فائیق اور جاسم بھی پاس ہی کھڑے ہیں ۔ اسکے ان ہونک تاثرات پہ ان دونوں نے بمشکل اپنا قہقہہ روکا ۔۔!!
“یار بس نکاح ہوا ہے شادی تو ابھی ہونی ہے ۔تمہیں اس لئیے بتا رہی ہوں کہ تم نے پورا ایک ماہ پہلے ہمارے گھر آ جانا ہے ” سنیا نے اسے زرا ریلیکس کرنا چاہا ۔۔!!
” میں کوئی نہیں آ رہی تمہاری شادی پہ ۔تم نے مجھے بتایا ہی نہیں” وہ سینے پہ ہاتھ باندھ کے منہ موڑے کھڑی ہو گئی ۔۔!!
“ہاہاہا اتنا غصہ” اسنے اسکے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھ کے اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔۔!!
“آفیسرز لڑنا بند کریں آپ ابھی اکیڈمی میں ہیں مینرز مت بھولیں ” فائیق صاحب اور چھوٹا موٹا ہارٹ اٹیک نا دیں ہو ہی نہیں سکتا تھا ۔اسکی بات پہ وہ دونوں طریقے سے کھڑی ہوئیں ۔رائمہ نے خفگی سے اسے دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا اسنے جلدی سے اپنی نظریں اس ہٹلر سے ہٹائیں پھر یہ سوچ کے مسکرا دی کہ اب کون سا فائیق سے پالا پڑنا تھا ۔آج وہ بس فائیٹر پائیلٹ بننے کی خوشی سیلیبریٹ کرنا چاہتی تھی ۔۔!!!
_______________________
“مجھے نہیں پتا رائمہ تم آ رہی ہو میری شادی پہ ، وہ بھی ایک ماہ پہلے” وہ اپنی بات پی زور دئیے بولی ۔رائمہ کی پوسٹنگ میانوالی بیس پہ ہوئی تھی اور سنیا کی سرگودھا بیس پہ ۔ انہیں ڈیوٹی جوائن کئیے پانچ ماہ ہو چکے تھی ۔!!
رائمہ جو کہ اپنی ڈیوٹی پہ جانے کے لئیے تیار ہو رہی تھی سنیا کی بات پہ سر پکڑ کے رہ گئی ۔۔!!
“یار سنیا مجھے لیو نہیں ملے گی سمجھو نا ” اسکے لہجے میں بے چارگی تھی ۔۔!!۔
“میں کچھ نہیں جانتی ۔میں بتا رہی ہوں رائمہ اگر تم نے عین بارات والے دن آنا ہے تو نا آو تم ” وہ بھی خفگی سے بولی ۔رائمہ جو کہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی کور آل پہنے ایک ہاتھ سے موبائل کان سے لگائے دوسرے ہاتھ سے کورآل پہ بیج لگا رہی تھی اپنی بے بسی پہ ہنس دی ۔۔!!
” ٹھیک ہے میں اپنی پوری کوشش کروں گی پر میں وعدہ نہیں کر سکتی یار ۔کیونکہ لیو لینا میرے بس میں تھوڑی نا ہے ” وہ جھک کے شوز پہنے ۔۔!!
” پرامس کرو” سنیا کی آواز پہ اسنے گہری سانس لی۔۔!!
“پرامس ،پرامس پرامس۔اب کیا جان لو گی میری” فون کندھے اور کان کے بیچ میں اٹکائے وہ منہ بنائے بولئ ۔۔!!
“ہاہاہا اچھا ٹھیک ہے ۔پر یار مسنگ یو بیڈلی” وہ اداسی سے بولئ ۔کتنا ٹائم انہوں نے ایک ساتھ گزارا تھا اور اب وہ اتنا دور تھیں ۔۔!!
” آآآآ میں بھی تمہیں بہت مس کر رہی ہوں ۔ آج میں ویک اینڈ پہ جا رہی ہوں گھر تم بھی آ و گی یا نہیں ” اسنے اسے اپنے ارادے سے آگاہ کیا۔۔!!
“نہیں یار میں ابھی کچھ ہی دن پہلے گئی تھی ۔اور روز روز کی لیو ہمارے نصیب میں کہاں” اسنے ہنستے ہوئے کہا ۔۔۔!!
“ہاہاہا یہ تو ہے ۔چلو میں پھر بعد میں بات کرتی ہوں انجینئر صاحبہ” وہ اسقارف باندھ رہی تھی اب۔۔!!
” اوکے اللہ خافظ فائیٹر پائیلٹ صاحبہ ” وہ بھی اسی طرح بولی تو اسنے مسکراتے ہوئے کال بند کر دی ۔اب اسے جلدی سے ڈیوٹی پہ پہنچنا تھا ۔۔۔!!
____________________
“بابا چلیں نا پہلے آپکی شاپنگ کرتے ہیں بعد میں میری اور ماما کی کریں گے” وہ گھر آئی ہوئی تھی اب اپنے بابا کے ساتھ مال میں شاپنگ کرنے آئی ہوئی تھی ۔سنہری آنکھیں۔لائٹ براون لیئرز میں کٹے بال جو اس ٹائم کندھوں پہ بکھرے ہوئے تھے ، نازک سے سرخ ہونٹ ، گلابی عارض ، بلیو کلر کی جینز پہ بلیک کلر کی سمپل لانگ ٹخنوں تک آتی قمیض ، پیروں میں بلیک کلر کی نفیس سے چپل پہنے ، گلے میں بلیک کلر کا اسقارف مفلر کی طرح لئیے اپنے بابا کے بازو میں بازو ڈالے وہ چلتے ہوئے ایک نازک سی گڑیا ہی لگ رہی تھی ۔۔!!
” میری گڑیا پہلے آپکی شاپنگ کرتے ہیں۔میں بعد میں کر لوں گا” بریگیڈئیر عبید جہانزیب نے اپنی لاڈلی بیٹی کی جانب دیکھتے ہوئے پیار سے کہا۔۔!!!
“بالکل بھی نہیں بابا۔مجھے ماما بتا رہی تھیں میری غیر موجودگی میں آپ اپنا زرا سا بھی دھیان نہیں رکھتے ۔صرف اپنے کاموں میں ہی بزی رہتے ہیں” وہ انکے لاکھ منع کرنے کے باوجود انکا بازو تھا مے ایک جینٹس برانڈ کی شاپ میں داخل ہوئی وہ ادھر ادھر نظریں گھما رہی تھی جب اسکی نظر اس پہ پڑئ جو سامنے ریکس سے ٹی شرٹس چیک کر رہا تھا۔ کالی آنکھیں ستواں ناک، عنابی لب ، چہرے پہ ہلکی ہلکی بئیرڈ جو اسکی دلکشی میں اور اضافہ کرتی تھی براون کلر کی جینز پہ وائٹ کلر کی چیک شرٹ پہنے آنکھوں پہ گاگلز لگائے وہ ہمیشہ سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا مگر ادھر پرواہ کسے تھی۔۔!!
“اوووو خدایا” اسنے ایک دم سے باپ کے سینے میں منہ چھپایا۔وہ اسکے ری ایکشن پہ حیران ہوئے۔۔!!
” کیا ہوا میری جان؟؟” انہوں نے اسکے کندھے کے گرد بازو کا گھیرا پھیلاتے حیرت سے استفسار کیا۔۔!!
“بابا وہ سامنے دیکھیں” اسنے انہیں اشارے سے ادھر دیکھنے کا کہا جہاں وہ کھڑا تھا انہوں نے ایک نظر اسے دیکھا اسکی انکی جانب پشت تھی اس لئیے وہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پائے تھے پھر اپنی لاڈلی کی طرف دیکھا۔۔!!
” کیا ہوا بابا کی جان؟ اسنے کچھ کہا ہے کیا؟” انہیں ایک دم سے غصہ آیا تھا بھلا کوئی انکی بیٹی کو کچھ بول کے تو دکھائے۔۔۔!!
” نہیں بابا وہ ہمارے سینئیر ہیں۔اسکوارڈن لیڈر فائیق ضرار ۔ ہٹلر ہیں پورے قسم سے” اسنے سرگوشی کے سے انداز میں کہا ۔تو وہ مسکرا پڑے۔۔!!
“تو میری گڑیا اس میں گھبرانے والی کیا بات ہے۔آپکو تو ان سے سلام لینی چاہئیے ۔چلو آو شاباش”
“نو بابا وہ میری جان نکال دیں گے ۔میں اس ٹائم یونیفارم میں نہیں ہوں”(حجاب میں نہیں ہوں) وہ کہنا تو یہ چاہتی تھی پر یونیفارم کا کہہ دیا ۔ بریگیڈئیر عبید صاحب اسکا ہاتھ تھامے اس طرف جانے لگے جب وہ اختجااا چیخی۔اسے آج بھی یاد تھا ایک دفعہ اسکے شوز کے لیسسز نہیں بند تھے۔ اس دن فائیق نے اسکی کتنی انسلٹ کی تھی اسکے بعد سے آج تک وہ سب سے پہلے شوز کے لیسسز بند کرتی تھی۔یہ الگ بات تھی کہ وہ بند نہیں ٹھیک ہوتے تھے ۔۔!!
“بیٹا کیا ہو گیا ہے آپ اس ٹائم ڈیوٹی پہ نہیں ہو ۔اس لئیے گھبراو نہیں اور چپ چاپ میرے ساتھ چلو” انہوں نے اس دفعہ زرا ڈپٹنے والے انداز میں کہا تو وہ منہ بناتی انکے پیچھے چل پڑی ۔۔!!
“اسلام و علیکم بیٹا” انہوں نے اسکے پاس جا کے کہا تو وہ جو اپنے دھیان میں شرٹس چیک کر رہا تھا اس آواز پہ چونک کے مڑا ۔اور سامنے دیکھا جہاں رعب دار سے انکل اسے ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔!!
“وعلیکم اسلام ! سوری سر میں نے شاید آپکو پہچانا نہیں ہے” وہ خجالت سے کہتا ہوا انکی جانب دیکھنے لگا۔۔!!
“بیٹا میں بریگیڈئیر عبید جہانزیب ہوں” اس سے پہلے وہ کچھ اور بھی کہتے فائیق نے جلدی سے ان سے مصافحہ کیا۔وہ اسکے انداز پہ مسکرا پڑے۔۔!!
” سر آپ مجھے جانتے ہیں؟” اسنے حیرت سے پوچھا۔۔!!
” بیٹا جی میں تو نہیں جانتا تھا لیکن میری بیٹی بتا رہی تھی کہ آپ اسکے سینئیر ہیں ” انہوں نے ساتھ ہی اپنے پیچھے کھڑی روائمہ کا ہاتھ تھام کے سامنے کیا ۔اور وہ تو اسے یہاں دیکھ کے ہی حیران رہ گیا تھا ۔وہ اتنی حسین تھی۔رومیسہ نے ڈرتے ڈرتے اسے دیکھا جو اسے ہی حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔!!
” اسلام و علیکم سر” اسے کچھ سمجھ نا آئی تو جلدی سے بلند آواز میں کہتے زور و شور سے اسے سلیوٹ کیا (ہائے رائمہ تمہاری معصومیت) کئی لوگوں کی حیران نظر اس لڑکی کی طرف اٹھی تھی ۔عبید صاحب نے حیرانی سے اسکا بیہیوئیر دیکھا ۔جبکہ فائیق نے بمشکل اپنے قہقہے کا گلا گھونٹا تھا ۔۔!!
“وعلیکم اسلام فلائنگ آفیسر رائمہ عبید صاحبہ” اسنے بھی اسی انداز میں جواب دیا پھر بولا۔۔!!
“ڈونٹ بی فارمل رائمہ ! آپ ڈیوٹی پہ نہیں ہیں۔” وہ مسکراتے ہوئے اسے ہی دیکھ رہا تھا روائمہ کو بھی احساس ہوا کہ یہ تو پبلک پلیس ہے ۔(افف ایک تو اس ہٹلر کے سامنے مجھے الٹے کام ہی سوجھتے ہیں) اسنے کوفت سے سوچا ۔۔!!
“سوری سر !اصل میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب آپکو سلیوٹ نا کیا ہو تو اسی لئیے۔۔۔” وہ بمشکل مسکراتے ہوئے شرمندگی سے بولی ۔فائیق کو اس پہ سے نظریں ہٹانا مشکل ہو رہا تھا لیکن عبید صاحب کا خیال کر کے وہ نگاہ پھیر گیا۔۔!!
“اٹس اوکے مس ۔ہو جاتا ہے کبھی کبھی ایسا” اسنے ہاتھ اٹھا کے رسانیت سے کہتے اسے گویا شرمندگی سے نکالنا چاہا ۔۔!!
” چلیں بابا اب چلتے ہیں” وہ عبید صاحب کو دیکھتی ہوئی بمشکل بولی ۔۔!!
” نائس ٹو میٹ یو فائیق بیٹا! آپ ہمارے گھر ضرور آئیے گا ۔ہمیں بہت خوشی ہو گی” عبید صاحب نے پیار سے کہتے اسکا کندھا تھپتھپایا۔پتا نہیں کیوں انہیں یہ سوبر سا فائیق بہت اچھا لگا تھا ۔ وہ مسکرا دیا جبکہ رائمہ کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے ۔اس ہٹلر کو گھر آنے کی دعوت دینے سے اچھا ہے بندہ نہر میں چھلانگ لگا لے ۔۔!!
“جی جی سر کیوں نہیں ان شاء اللہ ضرور ۔” اسنے تابعداری سے کہتے سر خم کیا ۔تو انہوں نے مسکرا کے اسے گلے لگایا ۔۔!!
” ان شاء اللہ بیٹا جی ۔یہ میرا فون نمبر ہے اللہ خافظ بیٹا ” انہوں نے اسے اپنا فون نمبر لکھوایا ۔ پھر رائمہ کا ہاتھ تھام کے شاپ کے بیرونی دروازے کی جانب مڑ گئے۔
انکے جانے کے بعد اسنے اپنے چہرے پہ ہاتھ پھیر کے گویا خود کو کمپوز کرنا چاہا ۔۔۔!!
“اففف یہ مس رائمہ تھیں بالکل کانچ کی گڑیا جیسی۔پاگل لڑکی کو کہا بھی تھا کہ حجاب لیا کرو ۔” اسنے بے احتیار آنکھیں بند کر کے سوچا
“مس رائمہ اب تو آنا ہی پڑے گا آپکے گھر ۔” وہ اسے اس دن سے ہی پسند کرتا تھا جس دن سے اسے دیکھا تھا لیکن کبھی کہہ نہین سکا ۔ اب تو اسکے بابا سے بھی مل لیا تھا ۔اب اسکا دل کر رہا تھا جلدی سے اپنے بابا سے بات کر کے نہیں اسکے گھر بھیجے ۔ وہ اسکے ایکسپریشنز یاد کر کے ہلکا سا ہنسا پھر خود بھی بیرونی دروازے کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔!!
کیونکہ اس دفعہ جانے سے پہلے وہ اسے اپنے نام کرنا چاہتا تھا ۔۔!!
_________________
(پاسنگ آوٹ کے بعد کچھ عرصہ تک آفیسرز کو شادی کی پرمیشن نہیں ہوتی مجھے چونکہ ناول حتم کرنا ہے اس لئیے لکھ رہی ہوں )
اور اگلا ہی دن رائمہ کی زندگی کا سب سے شاک والا دن تھا ۔وہ اپنے روم میں سوئی ہوئی تھی جب شائستہ بیگم نے اسے جگا کے جلدی سے تیار ہو کے باہر آنے کا بولا ۔وہ تیار ہو کے لاونج میں آئی تو حیرانی سے سامنے کا منظر دیکھا جہاں موجود صوفوں پہ سنیا کے ماما ،بابا ،چچا ،چچی اور جاسم بیٹھے ہوئے تھے ۔رائمہ کو کچھ عجیب لگا لیین پھر مسکرا کے ان سے سلام لی ۔سنیا کی ماما نے اسے اپنے پاس بیٹھا کے اسکے ماتھے پر پیار کیا ۔پھر اسکے ہاتھ پہ کچھ پیسے رکھے ۔اسنے عجیب سی نظروںسے انہیں دیکھا پھر اپنی ماما اور بابا کو ۔وہ دونوں ہی بہت ایکسائیٹڈ نظر آ رہے تھے ۔رائمہ کا دل کسی انہونی کی پیش گوئی کر رہا تھا پر وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔ان کے جاتے ہی وہ صوبیہ بیگم کے سر ہو لی ۔۔۔!!
“ماما واٹ واز دیٹ؟ آنٹی مجھے کیوں اتنے پیسے دے کے گئی ہیں اور آپ نے انہیں منع کیوں نہیں کیا؟” صوبیہ بیگم جو ٹیبل سمیٹ رہی تھیں اسکی حیران سی آواز پہ چونکی پھر اپنے کام لگ گئیں۔۔!!
“میں کیوں منع کرتی ۔اپنی ہونے والی بہو کو دے کے گئیں ہیں ” انہوں نے کندھے اچکاتے نارمل سے انداز میں بتایا جبکہ رائمہ پہ تو حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹے ۔۔!!
“واٹ ڈو یو میں ماما؟ کونسی بہو ؟ کیسی بہو؟ بات کیا ہے مجھے صاف صاف بتائیں ورنہ میرا دل رک جائے گا” اسکا دل جو کسی انہونی کی پیش گوئی کر رہا تھا وہ بے کار نہیں تھی ۔۔!!
“وہ اپنے بیٹے فائیق کا پرپوزل لے کے آئے تھے تمہارے لئیے ۔تم تو جانتی ہو گی اسے ۔جاسم بتا رہا تھا اکیڈمی میں تمہارا انسٹرکٹر رہ چکا ہے وہ ” وہ بات کر رہی تھیں اور رائمہ کی نظروں کے سامنے جیسے زمین و آسمان مل رہے تھے ۔اسنے شاکی نظروں سے عبید صاحب کو دیکھا وہ ان کے جانب ہی متوجہ تھے ۔۔۔!!
“بابا یہ ماما کیا کہہ رہی ہیں ؟ اور آپ نے مجھ سے پوچھنا تو دور کی بات بتانا تک بھی گوارا نہیں کیا ” صدمہ اسکی آواز سے واضح تھا ۔عبید صاحب نے آگے بڑھ کے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔۔!!
“رائمہ بیٹا پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے ۔آپ ایک دفعہ سنجیدگی سے سوچو تو سہی اس پروپوزل کے بارے میں ۔ آپ کو ہر لخاظ سے اچھا لگے گا ” انہوں نے اسےسمجھانا چاہا ۔۔!!
“اچھا؟؟ بابا کیا اچھا ہے اس میں ؟ آپ لوگ ابھی فائیق سر کو جانتے نہیں ہیں ۔اکیڈمی کے شروع دن سے لے کر آج تک انہیں مجھ سے پتا نہیں کیا دشمنی رہی ہے ۔ہر بات پہ ڈانٹنا انکا معمول ہے ۔آپ چاہتے ہیں میں ساری زندگی ان کی ڈانٹ سنتے ہی گزار دوں نو نیور ۔۔۔دوسری بات ایک دفعہ ان سے تو انکی مرضی پوچھ لیں ۔مجھے پکا یقین ہے کہ اگر انہیں پتا ہوتا اس پروپوزل کا تو وہ خود ہی منع کر دیتے۔اتنا ہی نا پسند کرتے ہیں وہ مجھے” اسکا دل کر رہا تھا کاش کہ یہ سب خواب ہوتا۔کیونکہ اتنی خوفناک سیچویشن صرف خواب میں ہی ہو سکتی ہے ۔۔۔!!
“رائمہ اس کے مرضی بھی شامل ہے اس رشتے میں ۔اور دوسری بات وہ کیوں ڈانٹے گا بلاوجہ تمہیں ۔شادی کے بعد سب بدل جاتے ہیں ۔اور فرض کرو آج ہم یہ پرپوزل ایکسیپٹ نہیں کرتے تو کل کو کسی نا کسی سے تو شادی کرنی ہی ہے نا ۔تو یہ اچھا نہیں کہ اسی پرپوزل کو ایکسیپٹ کر لیں ۔وہ بھی ائیرفورس میں ہے تم بھی ائیرفورس میں ہو تو کوئی مسئلہ بھی نہیں ہو گا ۔جبکہ دوسری جانب ایک سویلین، ملٹری لائف کے تقاضے نہیں سمجھ سکتا تو کیا کرو گی کل کو تم ۔ اتنی محنت اس لئیے کی ہے کہ گھر بیٹھ جاو؟” اور یہ بات رائمہ کے دل کو لگی تھی ۔وہ کبھی بھی اپنی منزل کے اتنا قریب پہنچ کے وآپس نہیں جا سکتی تھی ۔اس کے لئیے چاہے اسے کچھ بھی کرنا پڑتا ۔فائیق سے شادی تو بہت معمولی سی بات تھی ۔لیکن اسکے دل کے کسی کانے میں ابھی بھی فائیق کا ڈر پورے کروفر سے براجمان تھا ۔۔!!
“کیا سوچ رہی ہیں بیٹا جی؟” اسے کسی گہری سوچ میں گم دیکھ کے عبید صاحب نے پوچھا تو وہ ایک دم چونکی ۔۔!!
“بابا ،ماما ٹھیک ہے میں آپ لوگوں کی بات مان لیتی ہوں ۔لیکن کل کو اگر انہوں نے مجھے ڈانٹا نا تو پھر میں کبھی انکے پاس نہیں جاوں گی” اسے خود سمجھ نہیں آ رہی تھی وہ یہ پرپوزل ایکسیپٹ کر کے ٹھیک کر رہی ہے یا نہیں ( بھلا ضرورت ہی کیا تھی انہیں میرے لئیے یہ پرپوزل لانے کی ۔نا ماما بابا کا دھیان اس طرف جاتا اور نا ہی میری آنے والی زندگی اس قدر مشکل ہوتی ) وہ صرف یہ سوچ ہی سکی ۔۔!!
“نہیں ڈانٹے گا میرے بیٹے کو بیلیو می۔اپنے دل سے ہر طرح کے وہم نکال دو ۔اور بس اپنی جاب پہ دھیان دو” صوبیہ بیگم نے فرط مسرت سے اسکا ماتھا چوما پھر عبید صاحب نے شفقت سے اسکے سر پہ پیار کیا ۔وہ زبردستی مسکرا کر رہ گئی ۔۔۔!!
_____________________
“جہاں تک مجھے یاد ہے کسی نے کبھی مجھے بہت وثوق سے بولا تھا (میں تو کسی ڈاکٹر یا بزنس مین سے ہی شادی کروں گی۔) اور اب کیا ہوا میرے بھائی کا پرپوزل اتنی جلدی ایکسیپٹ کر لیا ۔اگر اتنے ہی پسند تھے میرے بھائی تو پہلے بھی بتا سکتی تھی ” سنیا کی دبی ہوئی مسکراہٹ میں طنز کا عنصر نمایاں تھا ۔رائمہ وآپس آ چکی تھی ۔وہ شام کے ٹائم آفیسرز میس میں کچھ آفیسرز کی وائفز کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب سنیا کی کال آئی ۔وہ ان سے ایکسکیوز کرتی اٹھ کے باہر آ گئی ۔اور اب سنیا کی اس فضول سی بکواس پہ اسکا دماغ گھوم گیا تھا ۔۔!!
“بکواس نہیں کرو سنیا ۔پہلے ہی میں اتنی ٹینس ہوں تم مجھے اور ڈپریسڈ کر رہی ہو” وہ جنجھلا کے بولی ۔جبکہ دوسرے ہاتھ کی دو انگلیوں سے ماتھا مسلا ۔وہ واقعی ٹینس تھی ۔۔!!
” ارے یار ابھی سے اتنا ڈپریسڈ ہو ؟۔۔بیلیو می میرے بھائی انسان ہو گز نہیں کھاتے جو تم ٹینشن لے لے کے ہی ختم ہو رہی ہو “
“ہاں انسان نہیں کھاتے وہ لیکن دوسروں کا خون پینے کا انہیں خوب فن حاصل ہے ۔” وہ کوئی بات سننا نہیں چاہتی تھی جب کہ دوسری جانب سنیا نے قہقہہ لگایا ۔۔!!
“اوکے ریلیکس یار ، تم مجھے یہ بتاو میں تمہاری کس طرح ہیلپ کر سکتی ہوں ۔کیا کروں ایسا کہ تمہاری ٹینشن ریلیز ہو ۔میری کسی بات پہ تو تمہیں یقین نہیں آ رہا اب تم ہی بتاو میں کیا کروں؟”
” تم فائیق سر کو بولو یہ سارا میس جو انہوں نے کرئییٹ کیا ہے یہ سمیٹیں ۔نا وہ پرپوزل بھیجتے نا یہ سارا میس کرئیٹ ہوتا ۔” اسے تو رہ رہ کے فائیق پہ غصہ آ رہا تھا ۔۔!!
“اور تمہیں لگتا ہے میرے کہنے سے وہ مان جائیں گے ۔اگر ویسے بھی انہوں نے بعد میں منع ہی کرنا ہوتا تو وہ پہلے ماما بابا کو کیوں تمہارے گھر بھیجتے ۔میرے خود ان سے بات ہوئی ہے وہ تو بہت خوش تھے ۔اگر تمہیں اتنا مسئلہ ہو رہا ہے تو خود کیوں نہیں بات کر لیتی ان سے ؟” سنیا تو صاف اپنا دامن بچا گئی ۔وہ تو حیران رہ گئی تھی جس دن جاسم نے اسے بتایا کہ ہم کل رائمہ کے گھر جا رہے ہیں فائیق کا پرپوزل لے کر ۔پھر اسکی فائیق سے بھی بات ہوئی تھی وہ تو کتنا خوش تھا ۔۔!!
” میں ان سے بات کر بھی لوں تو کیا ہو گا ؟ پہلی بات وہ تو مجھے شوٹ کر دیں گے کیونکہ وہ تو ہر چیز اپنی مرضی کے مطابق چاہتے ہیں دوسرا کیا چاہتا ہے اسکے کیا جزبات ہیں انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ” اسکے نم آواز پی سنیا کو واقعی سیریس ہونا پڑا ۔وہ واقعی نہیں جانتی تھی کہ رائمہ اس بات پہ رو سکتی ہے ۔۔۔!!
“رائمہ پلیز لسن ٹو می ، ایسی کوئی بھی بات نہیں ہے ۔تم سے بھائی کی جتنی بھی ملاقاتیں ہوئیں ہیں وہ واقعی اتفاقیہ اچھی نہیں رہیں ۔مگر یقین مانو کل کو تم ہی ہو گی جو اپنی خوش قسمتی پہ ناز کرے گی ۔اگر وہ تمہیں ڈانٹتے بھی رہے ہیں تو یقین کرو تمہارے لئیے بہت پوزیسسو ہوں گے ۔وہ اپنے سے ہر جڑے رشتے کا حد سے زیادہ خیال رکھتے ہیں ۔انکی زندگی میں آو گی تو تمہیں پتا چلے گا وہ جیسے نظر آتے ہیں ویسے بالکل بھی نہیں ہیں ۔” سنیا کے کافی دیر سمجھانے پر اسکئ ٹینشن زرا سی ریلیز ہوئی تھی جب کہ دوستی جانب سنیا نے سوچ لیا تھا کہ وہ فائیق کو بولے گی کم از کم وہ ایک دفعہ رائمہ سے بات کر کے اسکی غلط فہمیاں دور کرے ۔۔!!
جاری ہے
