Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq NovelR50803 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05
No Download Link
787.7K
13
Rate this Novel
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode01 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode02 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode03 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode04 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05 (Watching)Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode06 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode07 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode08 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode09 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode10 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode11 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode12 Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Last Episode
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05
Faqat Zauq E Parwaz Hai Zindagi by Habiba Ashfaq Episode05
“ماما “وہ جلدی سے گاڑی کھول کے صوبیہ بیگم تک پہنچی ۔انکا یہ ویک اینڈ آف تھا ۔آج وہ عبید صاحب کے ساتھ گھر آئی تھی ۔صوبیی بیگم سامنے لان میں ہی انکا انتظار کر رہیں تھی ۔وہ جلدی سے صوبیہ بیگم تک پہنچی ۔انہیں نے بڑی بے چینی اور بڑے پیار سے اسے گلے لگایا پھر اسکا منہ چوما۔۔!!
“کیسا ہے میرا بچہ؟ دیکھو تو رنگت کتنی ڈل ہو گئی ہوئی ہے” اسکا چہرہ پیار سے ہاتھوں میں تھامے وہ فکرمندی سے کہہ رہیں تھی ۔جبکہ وہ باپ بیٹی انکی اتنی فکر پہ مسکرا ہٹ روک رہے تھے ۔لیکن یہ بات بھی تو ٹھیک تھی کہ اسے جتنا مرضی ڈانٹتی تھیں لیکن تھیں تو ماں ہی نا ۔اور آج کتنے دنوں بعد رائمہ انکے روبرو تھی تو انکی فکر اور پیار تو فطری تھا ۔۔!!
“ارے ماما کب کوئی ڈل ہو رہی ہوں ۔دیکھیں تو ویسی کی ویسی ہی ہوں ، ہاں بس اسٹرانگ زرا پہلے سے زیادہ ہو گئی ہوں ” وہ انکی فکر دور کرنے کے لئیے فرضیہ کالر جھٹکتے ہوئے بولی ۔وہ دونوں ہنس دئیے۔۔!!
” میں سوچ رہی تھی کہ پی اے ایف اکیڈمی میں رہ کر کچھ سدھر جاو گی لیکن نا ، تم تو ابھی تک وہیں کی وہیں ہو” وہ اسے دیکھتیں مصنوعی غصے سے بولیں ۔۔۔!!
” ارے صوبیہ اسے سانس تو لے لینے دیں بھئی، آپ نے تو ابھی سے میری بچی کو ڈانٹنا شروع کر دیا ” عبید صاحب اسے اپنے ساتھ لگاتے ہوئے بولے ۔۔!!
” یہ آپ کی بچی بھی نا بس…..چلیں باتیں تو بعد میں ہوں گی، ابھی آپ دونوں فریش ہو کے آ جائیں میں کھانا لگاتی ہوں ” وہ ان کو بولتی اندر کی جانب بڑھ گئیں ۔تو وہ دونوں بھی مسکراتے ہوئے اندر کی جانب چل دئیے۔آج کتنے دنوں بعد رائمہ خود کو ریلیکس فیل کر رہی تھی۔۔۔!!
——
وہ بڑے آرام سے لاونج میں بیٹھی ٹی وی پہ کوئی مووی دیکھ رہی تھی ۔اور ساتھ ساتھ منہ بھی مسلسل چل رہا تھا ۔وہ بڑے مگن انداز میں ٹی وی دیکھ رہی تھی جیسے اس سے ضروری کام تو اور کوئی ہو ہی نا ۔چونکی تو تب جب کسی نے اسکے ساتھ صوفے پہ بیٹھتے ہوئے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ اچکا ۔سنیا نے ٹی وی سے نظریں ہٹا کر اپنے ساتھ بیٹھے وجود کو دیکھا ۔جاسم مسکراہٹ دبائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔!!
وہ لوگ کل سے آئے ہوئے تھے لیکن سنیا ایک دفعہ بھی اسکے سامنے نہیں آئی تھی ۔ابھی بھی وہ باہر کوئی کام کر کے آ رہا تھا جب سنیا کو لاونج میں بیٹھے دیکھا تو اا جانب چلے آیا کیونکہ اسے یہ ہی سب سے بہترین چانس لگا تھا اسے منانے کا!!
سنیا نے ایک نظر اسے دیکھا پھر اسکے ہاتھ سے چپس کا پیکٹ لینے کی کوشش کی جو کہ جاسم نے بہت پھرتی سے پیچھے کر لیا ۔سنیا اسے بلانے سے گریز کر رہی تھی اور وہ کسی بھی طرح اسکے منہ سے کچھ نا کچھ سننا چاہتا تھا ۔خیر جب کسی بھی طرح چپس لینے میں ناکام ہو گئی تو اسے بولنا ہی پڑا ۔۔!!
” جاسم میری چپس وآپس کریں ” بہت ہی چبا چبا کے بولا گیا تھا ۔۔!!
” تو لے لو یار ، میں نے کونسا منع کیا ہے ” وہ اپنی مسکراہٹ روکتا ہوا ڈھٹائی سے بولا ۔سنیا نے پھر سے اسکے ہاتھ اے چپس کا پیکٹ پکڑنا چاہا تو اسنے اب کی بار اپنا ہاتھ اوپر اٹھا کے پیکٹ اونچا کر دیا ۔اس دفعہ تو سنیا کو سہی طور پہ غصہ آیا !!
“جاسم” وہ مٹھیاں بھینج کے چلائی۔ورنہ بس نہیں چل رہا تھا کہ کیا کر جائے۔۔!!
“جی جاسم کی جان” اسنے بہت سنجیدگی سے کہا حالانکہ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔سنیا کا دل کیا سامنے پڑے ٹیبل پہ اپنا سر دے مارے۔۔!!
“اس سے تو اچھا ہے کہ میں یہاں سے اٹھ کے چلی ہی جاوں” وہ غصے میں بولتی صوفے سے اٹھ کے جانے ہی لگی جب جاسم نے اسکی کلائی پکڑ کے اسے وآپس بٹھایا ۔۔!!
” اب کب تک ہونہی ناراض رہنے کا ارادہ ہے؟ ” وہ اسکی غصیلی آنکھوں میں دیکھتا ہوا معصومیت سے بولا ۔۔!!
“جاسم میرا ہاتھ چھوڑیں ” اسنے اسکے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا ۔لیکن دوسری جانب گرفت اور مضبوط ہو گئی ۔اسکی اتنی معصومیت پہ سنیا کا دل پگھل رہا تھا لیکن باہر سے بے حس بنی رہی ۔۔!!
” نہیں چھوڑتا کیا کر لو گی” اسے بھی اسکی بلاوجہ ضد پہ غصہ آنے لگا تھا اس لئیے است تھوڑا سا اپنی جانب کھینچتا ہوا بولا ۔سنیا تو اپنی جگہ پہ سٹپٹا سی گئی ۔۔!!
“آپکے لئیے یہ ہی اچھا ہو گا کہ آپ میرا ہاتھ چھوڑ دیں ورنہ………” وہ بھی سنیا تھی کسی سے نا ڈرنے والی ۔ابھی بھی پھر سے مزاحمت کرتے ہوئے غصے سے بولی ۔۔!!
“ورنہ کیا۔۔۔۔؟ ہمممم؟بولو؟؟آج بتا ہی دو کہ اگر میں نے تمہارا ہاتھ نا چھوڑا تو کیا کر لو گی؟” وہ سنجیدگی سے اسکے سندر چہرے کو دیکھتا ہوا بولا ۔جب کہ سنیا تو روہانای ہو گئی۔۔!!
“جاسم ایک تو میں آپ سے ناراض ہوں اور آپ ہیں کہ مجھے منانے کی بجائے غصہ کرتے جا رہے ہیں” وہ بچوں کی طرح بہت معصومیت سے بولی ۔اور یہاں جاسم کا غصہ اڑن چھو ہوا ۔۔!!
“یار منا ہی تو رہا ہوں تمہیں، اب تم مان ہی نہیں رہیں تو کیا ہاتھ جوڑوں” وہ چپس کا پیکٹ اسکے ہاتھ میں دیتا ہوا بولا ۔۔!!
“اففووووو جاسم ایک تو آپکو کای کو منانا بھی نہیں آتا ” وہ ہنستی ہوئی بولی ۔۔!!
” تو کبھی کسی کی اتنی ہمت بھی تو نہیں ہوئی نا مجھ سے ناراض ہونے کی ۔اور ایک آپ ہو جنہیں مناتے مناتے میری آدھی زندگی گزر گئی ہے” وہ صوفہ پہ ٹیک لگائے بازو سینے پہ باندھتے ہوئے بے چارگی سے بولا۔۔!!
” تو ناراض بھی تو آپ ہی کرتے ہیں نا ۔اتنے اتنے دن بھول ہی جاتے ہیں مجھے”
“یار آج تو مان جاو نا ، آئندہ ایسا نہیں ہو گا ۔”ہائے کیسی بےچارگی تھی لہجے میں ۔۔!!
“آپ ہمیشہ ہی ایسے کہتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں” وہ بھی آج اپنے سارے بدلے لینے پہ تلی ہوئی تھی ۔۔!!
“آئندہ نہیں بھولوں گا نا یار ۔کہو تو لکھ کے دے دیتا ہوں ” وہ کسی بھی طرح اسے منانا چاہتا تھا کیونکہ ایک سنیا کی ناراضگی ہی تو تھی جسے وہ کسی بھی طور پہ برداشت نہیں کر پاتا تھا ۔۔!!
“اوکے سوچا جا سکتا ہے اگر آپ مجھے زیادہ ساری آئس کریم کھلانے کا وعدہ کریں تو” وہ اپنے بال جھٹکتے ہوئے بڑی ادا سے بھولی ۔گویا بہت ہی بڑا احسان کیا ہو ۔وہ اسکی ادا پہ مسکرا دیا ۔۔!!
“اوکے ڈن تم جلدی سے چینج کر کے آ جاو پھر چلتے ہیں” وہ اسکا ہاتھ چھوڑا ہوا بولا۔۔!!
“آاااااا میرے پیارے سے جاسم” وہ دونوں ہاتھوں سے ااکے بال بگاڑ کے کھلکھلاتی ہوئی اپنے روم کی جانب بھاگ گئی ۔جبکہ وہ مخض چلا کے رہ گیا ۔۔!!
——
رائمہ اس ٹائم اپنے روم میں بہت سکوں سے خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔جب اسے لگا سیلاب آ گیا ہو ۔وہ ہڑبڑا کے اٹھی ۔پہلے تو اسے کچھ سمجھ نا آئی کہ اس بے چاری کے ساتھ ہوا کیا ہے پھر جیسے ہی اسکی نظر سامنے پڑی تو وہ سارا معاملہ سمجھ گئی ۔کیونکہ مصباح سامنے ہی پانی کا جگ ہاتھ میں لئیے شرارتی مسکراہٹ چہرے پہ سجائے کھڑی تھی ۔۔!!
“اففف مصباح کی بچی ، پہلے ہی زندگی میں کیا کم جلاد ہیں جو تم بھی بن گئی ہو” وہ ہاتھوں سے چہرہ صاف کرتے ہوئے جنجھلا کے بولی تو مصباح نے جگ میں بچا باقی کا پانی بھی اسکے چہرے پہ اچھال دیا ۔۔!!
” مصباح کی بچی اب تم مجھ سے بچ کے دکھاو ” وہ چیختی ہوئی اٹھی تو مصباح بھاگ کے بیڈ کی دوسری جانب چلی گئی ۔۔!!
” یہ تمہاری سزا ہے مجھے بتائے بغیر اکیڈمی جانے کی ” وہ پیٹ پہ ہاتھ رکھ کے ہنستی ہوئی بولی ۔رائمہ نے رک کے روہانسی ہو کے اسے دیکھا ۔۔۔!!
“یار اور بھی ہزار طریقے ہوتے ہیں بدلہ لینے کے ،لیکن ایسے ہارٹ اٹیک دینے کا مطلب؟” وہ منہ بناتی ہوئی بیڈ پہ ہی بیٹھ گئی ۔مصباح بجائے ااکی بات کا جواب دینے کے ماتھے پہ تیوری چڑھائے غور سے اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔!!
“کیا؟” رائمہ نے ابرو اچکا کے پوچھا ۔۔!!
“میں دیکھ رہی ہوں تمہاری آنکھوں کا کلر کچھ چینج سا نہیں ہو گیا ؟” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بڑے پرسوچ طریقے سے بولی ۔رائمہ نےجلدی سے اٹھ کے ڈریسنگ ٹیبل کے آئینے میں اپنی آنکھیں دیکھیں کہ مصباح کہیں سچ ہی نا کہہ رہی ہو کیونکہ اب تو انہیں ٹھیک سے آئینہ دیکھنے کا ٹائم بھی نہیں ملتا تھا ۔۔!!
“نہیں تو ، ویسے ہی ہے جیسا پہلے تھا ” اسنے ایک نظر آئینے میں اپنی آنکھوں کو دیکھا پھر مڑ کے مصباح کو کہا۔۔!!
“نہیں مطلب کہ ان میں چمک کچھ زیادہ ہی نہیں بڑھ گئی ۔جب کسی کو کسی سے پیار ہو جاتا ہے نا تو انکی آنکھوں میں بھی ایسی ہی چمک ہوتی ہے۔تم بتاو تمہارے ساتھ تو کوئی ایسا حادثہ نہیں ہو گیا؟ ” وہ بیڈ کراون سے ٹیک لگا کے بڑے لاپرواہ انداز میں بولی ۔جبکہ رائمہ نے ہونقوں کی طرح اسے دیکھا ۔۔!!
“ہاں بالکل پیار تو مجھے واقعہ ہو گیا ہے کسی سے ۔وہ بھی بہت زیادہ” اب کی بار رائمہ بالوں کو ٹاول سے خشک کرتی بہت سنجیدگی سے بولی ۔جبکہ اسکی بات پہ مصباح منہ کھولے اسے دیکھے گئی ۔۔!!
” واٹ ڈو یو مین؟ جلدی بتاو کون ہے وہ ؟ کہاں سے ہے؟ کیا کرتا ہے؟ کیسا ہے؟ دیکھ پیارا ہونا چاہئیے میں پہلے ہی بتا رہی ہوں تجھے ” وہ ہوش میں آتے ہی ایک سے ایک سوال کرتی اسے دھمکی بھی دے گئی ۔۔!!
رائمہ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ روکی ۔۔!!
“یار مجھے پی اے ایف اکیڈمی سے پیار ہو گیا ہے وہ بھی بہت پکا والا ” وہ اسکی جانب جھکتی بڑے رازدارانہ انداز میں بولی ۔اور وہ جو بڑے اشتیاق سے اسے سن رہی تھی ایک دم بدمزہ ہوئی ۔۔!!
“رائمہ کمینی تم ہو ہی ڈفر” مصباح جل کے بولی ۔۔!!
” تو تم سوال ہی ڈفروں والے کرتی ہو تو میں جواب بھی ایسے ہی دوں گی نا”
“چلو اب زیادہ کھی کھی نہیں کرو تم میرے ساتھ شاپنگ پہ چل رہی ہو اس لئیے جلدی سے چینج کر کے آو” وہ جلدی سے اٹھتے ہوئے بولی ۔اور رائمہ تو اسکی شاپنگ والی بات پہ ہی بدک گئی ۔کیونکہ شاپنگ سے تو رائمہ کی جان جاتی تھی ۔۔!!
“نو وے یار ، میں کہیں نہیں جا رہی ۔تم جاو” وہ صاف دامن بچانا چاہ رہی تھی لیکن مقابل بھی مصباح تھی ۔۔!!
” تو چل رہی ہے اس لئیے چپ چاپ چینج کر کے آ جا ۔اور ایک بات اور یہ تیری سزا ہے تا کہ آئندہ تجھے یاد رہے کہ مصباح کو انفارم کر کے جانا ہے” وہ وارڈروب سے اسکا ڈریس اٹھا کے اسکے ہاتھ میں تھماتی ہوئی بولی۔۔!!
” تم تو ہو ہی جلاد ” رائمہ نے کڑھتے ہوئے اسکے ہاتھ سے ڈریس لیا اور چینج کرنے چلی گئی کیونکہ جانتی تھی یہاں تمام مزاحمتیں بے کار ہی جانی ہیں۔۔!!
_______
“جاسم اگر اب آپ نے اپنی نظریں مجھ پر سے نا ہٹائیں نا تو میں یہ ساری آئس کریم آپکے منہ پر لگا دوں گی” وہ اس ٹائم آئس کریم پارلر میں بیٹھےآئس کریم سے لطف اندوز کو رہے تھے جب سنیا نے جاسم کو ٹوکا کیونکہ جاسم آئس کریم کھانے کی بجائے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔!!
“ہاہاہا یار تو آپ کھاو اپنی آئس کریم ، میں آپکو تو کچھ بھی بول نہیں رہا” وہ ہنستے ہوئے بولا ۔ہاں اتنے دنوں بعد تو وہ اسے رہا تھا ۔۔!!
” اس سے تو اچھا ہے کہ آپ باتیں ہی کر لیں کم از کم نظروں سے تو نہیں نگلیں نا ” وہ آئس چھوڑ کے اسے خفگی سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔!!
” اوکے آپ کھائیں اب میں نہیں دیکھوں گا آپکو”وہ ناراضگی سے بولتا ہوا اپنی آئس کریم کی جانب متوجہ ہو گیا ۔سنیا نے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبا کے اسکا خفا سا روپ دیکھا ۔وہ ہمیشہ ہی اسکے ایسے رویے پہ پریشان ہو جاتی تھی ۔۔!!
” اچھا یہ بتائیں بھائی کب آ رہے ہیں؟” اسنے موضوع بدلنا ہی مناسب سمجھا ۔جاسم نے ایک نظر اسے دیکھا پھر نظریں گھما کے چہرہ زرا سا دوسری جانب کر لیا ۔۔!!
“آ رہا ہو گا پانچ منٹ تک” وہ بے دھیانی میں ہی ان سے کچھ فاصلے پر ٹیبل پہ بیٹھی ہوئی لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا ۔سنیا نے اسکی نظروں کی تقلید میں دیکھا تو اسے تو گویا آگ ہی لگ گئی ۔وہ آئس کریم ٹیبل پہ پٹخ کے اٹھی اور اگلے ہی لمحے وہ ان لڑکیوں کے سر پہ کھڑی تھی جبکہ جاسم بےچارہ اپنا سر پیٹ کے رہ گیا۔۔!!
“ایکسکیوزمی” سنیا نے بھینچی ہوئی آواز میں ان دونوں کو اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا ۔اسکی آواز پہ ان لڑکیوں نے سر اٹھایا تو سنیا نے حیرت اور خوشی کے ملے جلے اثرات سمیت اسکی جانب دیکھا ۔مقابل کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔۔!!
“ارے رائمہ یہ تم ہی ہو نا” سنیا نے یقین کرنا چاہا ۔رائمہ جلدی سے اٹھ کے اسکے گلے لگی ۔جبکہ مصباح اور جاسم حیرانی سے انکا یہ ملن دیکھ رہے تھے ۔۔!!
“آئی کانٹ بیلیو سنیا کہ یہ تم ہی ہو” رائمہ اس سے علیحدہ ہوتی بہت جوش سے بولی تو سنیا ہنس دی ۔رائمہ نے مصباح کا تعارف بھی سنیا سے کروایا وہ دونوں بھی ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئیں تھیں ۔کیونکہ تقریباا دونوں کی نیچر ہی ایک جیسی تھی ۔۔!!
“چلو یار تم لوگ ہمیں جوائن کرو ۔اور آو میں تم لوگوں کو کسی سے ملواتی ہوں” سنیا نے جلدی سے ان دونوں کو بولا ۔اور پھر ان کے لاکھ منع کرنے کے باوجود بھی انہیں لے کے ہی گئی۔۔!!
“ان سے ملو یہ ہیں جاسم ، میرے بہتتتتتت ہی اسپیشل کزن پلس بیسٹ فرینڈ” اس نے جاسم کا تعارف اتنے جوش سے کروایا کہ جاسم اندر تک سرشار ہو گیا ۔۔!!
“اور جاسم یہ ہیں میری فرینڈز ،رائمہ اور مصباح ۔رائمہ تو ادھر اکیڈمی میں میرے ساتھ ہی ہوتی ہے اور مصباح سے ابھی ابھی فرینڈ شپ ہوئی ہے”
جاسم نے خوش اخلاقی سے انکا حال احوال معلوم کیا ۔وہ دونوں جانا چاہ رہیں تھیں لیکن سنیا اور جاسم کے اصرار پہ انہی کے ٹیبل پہ بیٹھ گئیں۔۔!!
وہ سب بیٹھ کے باتوں میں مصروف تھی جب فائیق دروازہ دھکیلتا اندر داخل ہوا ۔وہ دور سے ہی ان لوگوں کو دیکھ چکا تھا ۔البتہ زرا حیران بھی تھا کہ انکے ساتھ وہ دو لڑکیاں کون تھیں ۔ رائمہ اور مصباح کی اسکی جانب پشت ہی تھی ۔۔!!
“ہیلو ایوری ون” اسنے جا کے انہیں اپنی جانب متوجہ کرنا چاہا ۔اور یہاں لگا رائمہ خو چار سو چالیس واٹ کا جھٹکا ۔یہ آواز تو وہ لاکھوں میں بھی پہچان سکتی تھی ۔بقول اسکے جلاد سر کی آواز ۔۔!!
“ارے فائیق بھائی آپ ، آئیں آپکو اپنی فرینڈز سے ملواوں ” سنیا نے اسے اپنے ساتھ آ کے بیٹھنے کا اشارہ کیا تو وہ ان کی سائیڈ پہ چلا گیا ۔اور رائمہ نے اسکا چہرہ دیکھا تو ایک منٹ میں اسکا رنگ پھیکا پڑا تھا ۔آئس کریم کڑوی لگنا شروع ہو گئی تھی ۔ابھی تک فائیق کی نظر اس پہ نہیں پڑی تھی کیونکہ اسکے بال کھلے ہونے کی وجہ سے اسکا چہرہ زرا ڈھانپا ہوا تھا ۔اور اب تو وہ لاشعوری طور پر خود کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔!!
“فائیق مسکراتے ہوئے بیٹھا تو سامنے ہی اسکی نظر رائمہ پہ پڑی ۔اسے لگا اسکا وہم ہے کیونکہ فائیق نے اسے ہمیشہ ہی یونیفارم میں دیکھا تھا ۔۔!!
رائمہ تو جل تو جلال تو کا ورد کر رہی تھی ۔۔!!
“رائمہ یہ ہیں میرے بھائی فائیق ۔یہ بھی ادھر اکیڈمی میں ہی ہوتے ہیں شاید تم نے دیکھا ہو” رائمہ کے نام پہ فائیق کا دل ایک دم سے دھڑکا تھا اور نظر اسکے معصوم کنفوز سے چہرے پہ ٹھہر سے گئی ۔۔!!
رائمہ نے کھڑے ہو کے آہستہ سے اسے وش کیا ۔فائیق کو لگ رہا تھا وہ ابھی رو دے گی ۔براون زلفیں کھلی ہوئی تھیں ، وائٹ جینز پہ لائٹ گرین کلر کی گھٹنوں تک آتی کاٹن کی شرٹ پہنے، اور وائٹ کلر کا اسقارف گلے میں باندھے وہ ایک چھوٹی سی گڑیا ہی لگ رہی تھی ۔فائیق نے اسکی سلام کا کوئی جواب نا دیا جبکہ جاسم بہت گہرائی سے فائیق کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔۔!!
“بھائی کہاں کھو گئے؟” سنیا نے اسکی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہرایا تو وہ ہڑبڑا کے ہوش میں آیا ۔۔!!
“سنیا مجھے جانا ہے بابا آنے والے ہوں گے”اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا رائمہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی ۔فائیق اسکی حالت سمجھ رہا تھا ۔۔!!
“یار رائمہ ابھی تم کہیں نہیں جا رہی ۔بیٹھو ابھی بھائی سے تو مل لو” سنیا کی بات پہ رائمہ کا دل کیا کہہ دے تمہارے بھائی کی وجہ سے ہی جا رہی ہوں۔۔!!
“پلیز سنیا مجھے جانا ہے” وہ فائیق کی نظروں سے خائف ہوتی ہوئی التجائیہ بولی ۔۔۔!!
“کیڈٹ رائمہ سٹ ڈاون” سنیا کچھ بولنے ہی والی تھی جب فائیق کی رعب دار آواز گونجی اقر ادھر ہی رائمہ کے آنسو بہنا شروع ۔وہ سب حیران پریشان سے اسے دیکھنے لگے ۔۔!!
[ ] فائیق بے چارہ تو خود ہڑبڑا گیا تھا کیونکہ وہ بھی نہہ جانتا تھا کہ وہ اس سے اتنا ڈرتی تھی ۔اور دوسری طرف رائمہ بھی نہیں جانتی تھی کہ اسے صرف فائیق کے سامنے ہی اتنا رونا کیوں آتا تھا ۔۔۔!!
“رائمہ رائمہ کیا ہوا ؟ کیوں رو رہی ہو ؟” وہ جو منہ پہ دونوں ہاتھ رکھے ہچکیوں سے رو رہی تھی مصباح کے پوچھنے پہ بھی اپنے کام میں مصروف رہی ۔اور اسکے یہ آنسو فائیق سے برداشت نہیں ہو رہے تھے ۔اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور رائمہ کا بازو پکڑ کے اسے کھینچتا ہوا باہر لے گیا ۔سنیا تو سنیا ں جاسم بھی اپنی جگہ پہ ہکا بکا ہو کے رہ گیا ۔۔!!
فائیق نے پارکنگ میں آ کے اسکا ہاتھ چھوڑا کیونکہ یہاں رش کم تھا ۔وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا جو ابھی بھی منہ نیچے کیا رونے میں مصروف تھی ۔۔!!
” رائمہ کیوں رو رہی ہیں؟ پلیز مت رویا کریں ” کیا نہیں تھا اسکے لہجے میں عاجزی،التجا،درخواست یا کچھ اور۔۔۔!!
“پلیز یار کچھ تو بتا دیں ۔ میں نے ایسا تو کچھ نہیں تھا کہا آپکو کہ آپ اتنا رو رہیں ہیں” وہ عاجزی سے بولا ۔اسکی آنسو فائیق کو تکلیف میں مبتلا کر رہے تھے ۔۔!!
” مم..مجھے مجھے آپ سے ڈر لگتا ہے ۔مم..میں خود نہیں جانتی کیوں ” بلآخر اسکی چپ ٹوٹی تھی اور اسکے لہجے میں اتنی بے چارگی تھی کہ فائیق کا دل کیا ہر چیز بھول کے اسے خود میں سمیٹ لے ۔۔!!
جاری ہے
